برنس روڈ شہرِ کراچی کے قریباً وسط میں صدر کے ایریا میں واقع ہے. اس روڈ کا نام برطانوی ڈاکٹر جیمز برنس کے نام پر رکھا گیا. جبکہ پاکستان بننے کے بعد اس روڈ کا نام محمد بن قاسم روڈ رکھ دیا گیا لیکن برنس کے نام سے شہرت رکھنے والے روڈ کے اس نام کے بارے میں کراچی کے لوکل لوگوں کو بھی بہت کم علم ہے.

اس روڈ کی وجہِ شہرت یہاں پر موجود لوکل لذیز طرز کے پکوان ہیں. بلاشبہ ہم اسکو کراچی شہر کی سب سے پرانی فوڈ سٹریٹ کہہ سکتے ہیں. اس فوڈ سٹریٹ کو اور یہاں کے مشہور پکوان اور لذیز کھانوں کو لے کرکے بہت سے پروگرام ہوئے اور بہت کچھ لکھا بھی گیا. میرا گزشتہ دو سال سے کراچی شہر سے علمی و ثقافتی رشتہ جُڑا ہے. میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جہاں ثقافتی ورثے کی بات کی جائے وہاں پر روایتی پکوانوں کا ذکر بھی کیا جانا چاھیے.
اس تناظر میں بہت عرصے سے یہ سوچ رہا تھا کہ برنس روڈ کے بارے میں اپنے قارئین کو بتلاؤں.
برنس روڈ کو میں پاکستان کی چند ابتدائی اور قدیم فوڈ سٹریٹس میں سے ایک سمجھتا ہوں۔
قدیم طرز کے انفراسٹرکچر میں گِھرا یہ روڈ یہاں کے لذید کھانوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے. یہاں پر آپ کو کراچی شہر کے مقامی کھانوں کے ذائقے آج بھی بہت حد تک اپنے اصلی انداز میں ملیں گے اور یہ میرا مشاہدہ رہا ہے کہ جتنا لطف آپکو کسی بھی تاریخی شہر کے سنگم میں بیٹھ کر اس شہر کے اپنے کھانوں کے ذائقے چکھنے میں آتا ہے وہ اپنی ایک علیحدہ پہچان اور یگانگت رکھتا ہے.
کراچی شہر کے اس روڈ پہ جہاں آپ کو کراچی کی قدیم اچھوتی طرزِ تعمیر دیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں آپ یہاں کے عمدہ کھانوں کے ذائقوں سے بھی بیک وقت لطف اندوز ہوسکتے ہیں. اس کے علاوہ برنس روڈ پر ہندوستانی کھانوں کی بھی ایک کثیر تعداد ملے گی. یہاں کے چند مشہور پکوان کی مختصرا تفصیل ذیل میں اس یقین کے ساتھ دی جارہی ہے کہ اچھے کھانوں کے شوقین یہاں کا ضرور وزٹ کریں.

دہلی ربڑی ہاؤس
راقم الحروف آغاز میٹھے سے کررہا ہے. یہ مشہورِ زمانہ ربڑی ہاؤس ستر سال سے بھی زیادہ پرانا ہے. آپ بھلے کچھ بھی ڈنر یا لنچ میں کھائیے مگر یہاں کی پستہ والی ربڑی جوکہ مٹی کی چھوٹی چھوٹی پلیٹوں میں ملتی ہے کھائے بغیر آپ کا برنس روڈ کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے. سپیشل ربڑی دودھ اور کھوئے میں بنی ہوئی منہ میں جاتے ہی ایسے گُھل جاتی ہے کہ آپ عش عش کر اٹھتے ہیں. اسکے علاوہ یہاں کا گاجر کا حلوہ بھی بہت لذیز اور کھانے کے لائق ہے.

وحید کباب
یہ شاید برنس روڈ کا سب سے پرانا باربی کیو پوائنٹ ہے. میرے لیے یہاں کا ملائی کباب اور دھاگے والا کباب (دھاگوں میں لپٹا ہوا) میدے کے باریک پراٹھوں کے ساتھ مزیدار ترین تجربہ تھا. سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر آپ خوش خوراک ہوں اور اوور ایٹنگ کرنے پر مجبور نہ ہوجائیں.

حاجی احمد بَن کباب
برنس روڈ پر واقع یہ حاجی احمد بن کباب کا ٹھیلا دیکھ کر میرے دل میں برنس روڈ پر تحریر لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی. برنس روڈ کے ایک کارنر پر فریسکو بیکرز کے سامنے یہ چھوٹا سا بن کباب سینٹر اتنا لذیز ہوگا یہ میں نے نہیں سوچا تھا. یہاں پر فیملیز کا ہجوم دیکھ کر جب میں نے یہ بن کباب کھایا تو ایک لمحے کیلیے مجھے اپنی ڈائیٹنگ بھول گئی. یہ بن کباب آج کے برگر کی پرانی شکل ہے. ایک بڑے سے توے پر دو بن کو گھی میں تل کر درمیان میں شامی کباب رکھ کر ایک قدیم ڈیزائن کی سٹیل کی پلیٹ میں ایک سپیشل چٹنی اور باریک کٹے پیازوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور کھانے والا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے.

دل بہار دہی بڑے
ہمارے پنجاب میں دہی بھلے کے نام سے پسند کیے جانے والی یہ ڈش برنس روڈ کی پہچان ہے. یہ یہاں پر مٹکے والے دہی بڑے کے طور پر بھی شہرت رکھتی ہے. نصف صدی سے زائد پرانے یہ دہی بڑے نہایت ہی مزیدار ہیں. ایک سرخ رنگ کے بڑے مٹکے میں جو دکان کے باہر فکسڈ ہے اور جس کے پاس بیٹھ کر دکاندار یہ بیچتا ہے. اس روایتی اندازکو دیکھنے میں بھی لطف محسوس ہوتا ہے.

فریسکو سویٹس
فریسکو کا ذکر کیے بغیر برنس روڈ پر لکھی تحریر راقم کی نظر میں ادھوری ہے. برنس روڈ کے سنگم میں واقع فریسکو کراچی کے کچھ خاص انداز کے پکوان کیلیے مشہور ہے. آپ نے سموسے تو کھائے ہونگے مگر یہاں کے سموسے, کچوری, دہی پھلکی اور پھینیاں ذائقے کے بادشاہ ہیں. فریسکو کا اصل تیار کردہ اپنا گھی اور اچھوتی ریسیپیز قدیم کراچی کے ذائقوں کا احساس پیش کرتے ہیں. ایک خاص بات یہ کہ یہاں کی نمکو اور رس اپنے ساتھ ضرور لے جائیں اور خوبصورت مزیدار سی چائے کے ساتھ لطف دوبالا کریں.

برنس روڈ آئے اور یہاں کے کھانے کھائے بغیر کراچی کے بارے میں یوں سمجھیے آپکا ٹور ہوا ہی نہیں. اس کے علاوہ ملک نہاری, کیفے لذیز, بابو بھائی کے بن کباب, فرائی مچھلی, گولا گنڈا کے ٹھیلے, میٹھے پان کی دکانیں, لسی, گلاب جامن اور پشاوری آئس کریم وغیرہ اس فوڈ سٹریٹ (برنس روڈ) کے ذائقوں کو چارچاند لگاتے ہیں. راقم کی نظر میں یہاں کی قدیم عمارات اور کھانے دونوں میں ایک خاص طرح کا لطف ہے اور یہاں ایک بار آنے کے بعد آپکے دل میں پیدا ہونے والے لطیف احساسات کو من و عن صفحہ قرطاس پر اتارنا ایک کٹھن کام ہے.

Image may contain: 2 people, beard

‎سید زوھیب حسن بخاری نے تاریخ اور ارضیات میں ماسٹرز کررکھا ہے. سیکھنے سکھانے کے عمل کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے. نیسپاک میں سائینٹسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علاقائی ثقافت, زبانیں, رسم و رواج دیکھنے اور ان کو سمجھنے کے شوقین ہیں. آپ ان کو ٹریول بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here