جس نے بابا سے چھڑائے تھے اسیر
بن کے آئی اسیر ہے بازار میں زینب
شاید جنوری کا دوسرا ہفتہ تھا۔ اور میں شام ڈھلے کیفے خانہ بدوش حیدرآباد سندھ میں ایک میز پہ بیٹھا ہوا تھا اور میرے سامنے امر سندھو بیٹھی تھی۔ میں اس سے نجانے کیا بات کررہا تھا کہ اچانک اس نے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ ابتدائی اسلام کی تاریخ کے چند نسائی کرداروں کو ریڈیکل فیمنسٹ پوائنٹ آف وویو سے ازسرنو پینٹ کرے۔ اور مادیت و روحانیت کو ایسے باہم ملتبس کرے کہ آسانی سے ان کرداروں سے ان دونوں کو الگ نہ کیا جاسکے۔
امر سندھو نے بطور خاص حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق اور زینب بنت علی المرتضی کا نام لیا تھا۔ میں اس کے بعد ان کی کسی اور بات پہ سرے سے دھیان ہی نہ دے سکا اور میرے ذہن میں بس ان کے یہی فقرے گونجتے رہے۔
کہانی کار عالم واقع میں رہتے تو ہیں لیکن وہ اپنے دماغ میں ایک عالم بسیط بھی بسائے پھرتے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے اسماء عدیل نے مجھے وٹس ایپ پہ ایک ریکارڈ وائس میسج بھیجا۔ اس میں انھوں نے کہا کہ ہم کسی ایک واقعہ کی نیریشن کو جب جب احاطہ تحریر و کلام میں لاتے ہیں تو وہ نیریشن ہمیشہ ہمارے ذہن کی اس وقت کی کیفیت سے مشروط ہوتی ہے اور ہر بار وہ ٹرانسفارمیشن کے عمل سے گزر کر کچھ تغیرات کا شکار ہوتی ہے۔ اس تغیر کو جھوٹ نہیں کہا جاسکتا۔ اور امر سندھو ابتدائی اسلام کی تاریخ کے جن کرداروں کو ریڈیکل فیمنسٹ پوآئنٹ آف وویو سے ری پینٹ کرنے کی بات کررہی تھیں، وہ مجھے خاص سٹیٹ آف مائنڈ کے ساتھ عالم واقع اور عالم بسیط کو باہم ملانے کی کوشش لگا تھا۔ اور یہ نیریشن ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو عجیب لگے۔ لیکن ہوگی وہ بہرحال عکس حقیقت۔
ماڈرن سٹیٹ آف مائنڈ کے ساتھ اہل بیت اور ان کا ساتھ دینے والے کرداروں پہ فنتاسی اور حقیقت کو باہم ملانے اور ان کرداروں کو ماڈرن لباس میں ملبوس کرنے کی کامیاب کوشش، میرے نزدیک سب سے پہلے، ایرانی مفکر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر علی شریعتی نے کی تھی۔ ان کے لیکچرز ‘علی ایک دیو مالائی سچ’، ‘علی امین وحدت’، ‘علی اور تنہائی’، ‘فاطمہ فاطمہ است’ ، ‘ ابو زر،غریب ربذہ’ ‘صحیفہ سجادیہ کا علی بن حسین’ اسی طرح کی کوشش تھے۔ اور جہاں انہوں نے فاطمہ کا ذکر کیا،وہاں ساتھ ساتھ انہوں نے زینب کا ذکر بھی کیا۔
زینب بنت علی المرتضی ماڈرن سٹیٹ آف مائنڈ میں ایک ایسی مہان عورت کے روپ میں سامنے آتی ہے، جو اس وقت قیادت اور سیادت کا منصب سنبھالتی ہے، جب حق گو مردوں کو مصلوب کردیا جاتا ہے، نیزوں کی انّیوں پہ ان کے سرسجادیے جاتے ہیں، اور بظاہر ایک بڑی بغاوت کو بری طرح سے کچل دیا جاتا ہے۔ اور ظالم و جابر رجیم فخر و تکبر کے ساتھ عام لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ دیکھ لو جب اتنے بڑے لوگوں کا یہ حشر ہوا ہے تو تم کس کھیت کی مولی ہو،جن کو کھیت نہ کیا جاسکے۔
زینب ایک ایسے کردار کی ترجمانی کرتی ہے جو نہ صرف باہر دشمنوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہے،بلکہ وہ اپنے گھر کے اندر اتنے بڑے سانحے کے بعد غم و اندوہ میں ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجانے والے لوگوں کو بھی حوصلہ دیتی ہے۔ اور اپنے گھر کے بچ جانے والے واحد نوجوان مرد کو اپنے ہی گریہ اور اپنے ہی مسلسل آہ و بکا کے ہاتھوں ختم ہوجانے کے خطرے کے شکار کو اعتماد دلاتی ہے اور اس کی ڈھارس بن جاتی ہے۔ اور اسے سکھاتی ہے کہ کیسے وہ اپنی مناجات کو ایک نئی طرز کی مزاحمت میں بدل سکتا ہے۔ اور جیسا کہ وہ نوجوان بعد میں ایسا کرتا بھی ہے۔
زینب بنت علی المرتضی کو تاریخ و سیرت کی کتابوں میں بہت سے القاب کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اور ان القاب میں سے ایک لقب ایسا ہے،جو اوپر درج کی گئی بات کی عین تصدیق کرتا ہے۔ اور وہ لقب عقیلہ ہے۔ اور معروف عربی دان ابن منظور نے کہتا ہے ، عقیلۃ القوم کا مطلب ہے ‘سیدھم۔۔۔ قوم کی سردار’ اور اس کا مطلب سب سے زیادہ عزت و تکریم اور رہنماء عورت۔ اور اس کا ایک معنی سب سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھنے والی بھی ہے۔
ان کا ایک لقب کتب تاریخ میں ‘سیر ابیھا’ بھی ہے۔ یعنی راز دار_علی المرتضی اور ایک لقب ‘ام المصائب’ ہے۔ اگر ہم ان دو القاب کو اکٹھا کریں تو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ تاریخ کے ایک دیومالائی سچ رکھنے والے انسان کی راز دار اور اپنے وقت میں سب سے زیادہ مصائب کا سامنا استقامت اور پورے وقار کے ساتھ کرنے والی خاتون کو ہی عقیلۃ القوم ۔۔۔ کہا جاسکتا تھا۔ اور اسی لیے اس دنیا میں جو بھی عورت ظلم وستم کے خلاف جدوجہد میں اپنی استعداد اور قوت کے مطابق رہنماء کردار ادا کرتی ہے تو بے اختیار لوگ زینب بنت علی المرتضی کو یاد کرنے لگتے ہیں اور اسے کار زینبی کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ محض تمثیل جزوی ہوا کرتی ہے۔
ایسا کردار جس کو بار بار عالم بسیط و عالم واقع کے اندر ملبوس دکھایا جاتا ہو اور اس کے کردار کو بار بار میٹافزیکل ٹچ ملتا ہو تو اس کی تفہیم سے بار بار گزرا جاتا ہے اور ایسے میں عالم واقع میں اپنے نفس کے غلام بن جانے والے، جن کی عقل نفسانیت سے الگ ہونے سے انکاری ہوتی ہے، ان کو زینب کی کارگزاری میں کامیابی کا عنصر مفقود نظر آتا ہے تو اس میں اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ یہ یزیدیت کی آنکھ سے چیزوں کو دیکھنے کا منطقی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حرماں نصیبی کی حالت میں ان کو چھوڑ دینا ہی ان کی اصل سزا ہوا کرتا ہے۔
جب کوئی نابغہ عورت ظلم و جبر میں اپنی قوم کی عقیلہ بنتی ہے تو اس کا سفر جہاں سے شروع ہوتا ہے اور جہاں پہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اس سارے راستے میں اس نابعہ کے وجود کی مہک پھیل جاتی ہے اور یہ زمانوں اور مکان کے سارے دائروں کو محیط ہوا کرتی ہے۔ اور بار بار ادیبوں کے ذہنوں پہ چھا جاتی ہے اور ان کے دماغ اس نابعہ کی کہانی نئے طرز سے لکھنے کی آرزو سے بھرے رہتے ہیں۔ اور ہر انسان دوست مصور اسے ری پینٹ کرنے کی خواہش میں سلگتے رہتے ہیں، شاعر اسے ہر بار نئے انداز سے منظوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ مہک ان کو اپنے سحر میں لیے رکھتی ہے۔
تنگ ذہن اور کٹھ ملائیت والے دماغ ایسی عقیلۃ القوم کو فرقوں اور گروہوں کی تنگ گھاٹیوں میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یزیدیت کی بدبو ان کو اس کی آفاقی مہک کو سونگھنے سے محروم رہتے ہیں اور تو اس نام سے چڑنے لگتےہیں۔ ان کے سینے غیظ و غضب میں جلنے لگتے ہیں اور کچھ تو بارود کی بو سے اس آفاقی مہک کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس مہک کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ گلیوں اور کوچوں میں ہی نہیں، عالم واقع میں ہی نہیں بلکہ عالم بسیط تک پھیلی ہوتی ہے۔ یہ تجسیم سے آگے بڑھ کر ‘دیومالائیت’ میں ڈھل چکی ہوتی ہے اور دیومالائیت کو کوئی ختم نہ کرسکا اور نہ کرسکے گا۔

“اے یزید! اگرچہ حادثات زمانہ نے ہمیں اس موڑ پہ لاکھڑا کیا ہے اور ہمیں قیدی بنالیا گیا ہے۔لیکن تجھے پتا ہونا چاہئیے کہ تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم، میں خدا کے سوا کسی سے ڈرتی نہیں ہوں۔ اور اس کے سوا میں کسی اور کے آگے اپنی مناجات کرنے والی نہیں ہوں۔ تم مکر اور حیلوں سے سے ہمارے ساتھ جتنی دشمنی کرسکتا ہے کرلے۔ اور جتنی سازش کرسکتا ہے کرلے۔ لیکن خدا کی قسم تو ہمارے ناموں کو لوگوں کے دل سے نہ مٹا سکے گا اور نہ ہی تاریخ سے ہمارے تذکرے کو غائب کرپائے گا۔ تم سے چراغ وحی بجھنے والا نہیں۔ تو ہماری زندگیوں سے جڑے افتخار اور اعزاز کو نہیں چھین سکتا۔ اور تو اپنے دامن پہ لگے ننگ و عار کے بدنما داغ بھی مٹا نہیں سکے گا۔خدا کی نفرت اور لعنت ظالموں اور ستمگروں کے لیے لازم ہوگئی ہے۔”
حضرت زینب بنت علی کا دربار یزید میں دیا گیا خطبہ سے ایک اقتباس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here