نوٹ: سخاوت حسین فکشن لکھنے والوں میں نئی نسل کے نمائندے ہیں، ان کی کہانیوں اور افسانوں میں دن بدن نکھار آرہا ہے۔ ان کے موضوعات بھی تنوع لیے ہوئے ہیں۔ ‘ گمشدہ شہر’ ان کا تازہ افسانہ ہے۔ اس کی کئی تہیں ہیں، اور ایک تہہ ماحول دشمن ، اینٹی ایکولوجیکل سرمایہ دارانہ ترقی ہے۔ یہ کیسے ایک پورے شہر اور اس کی تہذیب کو برباد کرڈالتی ہے۔ یہی اس کہانی کا موضوع ہے۔ ترقی پسند نئے لکھاریوں میں سخاوت حسین نمایاں مقام رکھتے ہیں اور ایک دن وہ اردو فکشن کا بڑا نام ثابت ہوں گے۔ ایڈیٹر ایسٹرن ٹائمز

اس کی سانسیں پھول رہی تھیں۔ آنکھوں میں درد نے جیسے گھر کیا ہوا تھا۔ چہرہ خزاں رسیدہ پتوں جیسا ہوچکا تھا۔ آنکھیں جیسے وحشت سے باہر نکل رہی تھیں۔ لب ہلتے تھے مگر نقاہت سے کچھ بول ہی نہیں پاتا تھا۔
“کیا ہوا؟”
ڈاکٹر نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
“ڈاکٹر صاحب! انہیں سانس کا مسئلہ پیش آرہا ہے۔ یہ صحیح طرح سانس نہیں لے پار ہے۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے کوئی تیز آری ان کا حلق چیر رہی ہو۔”
’اوہ میں دیکھتا ہوں۔‘ڈاکٹر نے کچھ دیر اس کا بغور معائنہ کیا۔ کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئے۔ جب ٹیسٹ کے رزلٹ آئے توبتایا گیا کہ اسے دمے کا مرض ہوچکا ہے۔
“دمے کا مرض”، وہ حیرانی سے بولا۔ مجھے کیسے ہوسکتا ہے۔
جب اسے بتایا گیا کہ شدید آلودگی اور مٹی کی وجہ سے ایسے امراض جنم لیتے ہیں تو اسے شدید حیرانی ہوئی۔ بھلا اونچی بلڈنگز اور پتھروں کے پلوں سے خوب صورت کوئی شے ہے۔ یہ تو انسان کو صحت دیتے ہیں ڈاکٹر صاحب!ان سے انسان مریض کیسے بن سکتا ہے؟
اس کی بات سن کر ہسپتال کا عملہ ہنسنے لگے۔
’”دیکھئے محترم! اونچی دیواروں کے پار کیا نظر آتا ہے۔ اونچے پہاڑ دوسری جانب موجود آبادی کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ پتھر کب انسان کے دوست رہے ہیں۔ یہ اونچے پل درختوں کی قربانی کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ یہ بلڈنگز کھیتوں کو ویران کرکے بنائی گئی ہیں۔ ہم ابھی بھی نہیں سوچ رہے اور ہم کبھی نہیں سوچیں گے۔ “
جب اسے نسخے میں’ انہیلر‘ لکھ کر دیا گیا تو وہ جیسے جیتے جی مرگیا۔ وہ انہیلر کو گھریلو مریضوں کا ’وینٹی لیٹر‘ کہتا تھا مگر یہی وینی لیٹر اب اس کی قسمت میں تھا۔
اس واقعے کو کتنے سال ہو چکے تھے۔ وہ جلد ہی بیماری کی وجہ سے مرگیا تھا۔ حیات نے اسے دوام بخشنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب اس کی لاش کو ہسپتال کے ایمبولینس میں گھر لے جایا جارہا تھا تب اس کے پسندیدہ پل پر ایمبولینس کے پہنچتے ہی ورثا چیخ پکار کر رہے تھے۔ اس کا بڑا بیٹا سب سے زیادہ رو رہا تھا۔
“سنئے بابا! آپ کا پسندیدہ پل آیا ہے۔ وہی سڑک جہاں انسان گاڑیوں میں پھرتے تھے۔ آج وہی سڑکیں ہیں مگر انہیں دیکھنے والی آنکھیں سونی ہوگئی ہیں۔ایک دفعہ دیکھئے ۔ وہی پل ہیں جو آپ نے تعمیر کئے تھے مگر دیکھنے کے لیے آج آپ نہیں ہیں بابا۔ “
کتنے ہی دن سب اس کے کفن دفن میں مصروف رہے۔ لوگ آتے رہے۔ لمحے بدلتے رہے۔ غم وقت میں گم ہوتا رہا۔ وہ یادوں کے ڈیسک پر بیٹھی کسی حسین دوشیزہ کی طرح ہوگیا جس سے نئے آنے والے رہنے والوں کی معلومات لیتے ہیں۔ اس کی جائیدادیں تقسیم ہوگئیں۔ اولاد تقسیم ہوگئی۔ محبتیں بٹ گئیں۔ گھر الگ ہوگئے۔ جس گھر کو اس نے محبت اور خلوص سے تعمیر کیا تھا اب وہاں اونچے اونچے پتھروں کا پلازہ زیر تعمیر تھا۔ “کمرشل بلڈنگ ” کے عنوان سے گھر کو توڑ کر پلازے میں بدل دیا گیا تھا۔
اس کے سب سے بڑے بیٹے کو اس کی زندگی میں ہی گورنمنٹ ملازمت مل گئی تھی۔ حکمران جماعت نے زیادہ تر بجٹ ترقیاتی اخراجات کی نذر کئے تھے۔ اس کے علاقے میں چند نئے پل بن رہے تھے۔ تبھی اس نے تعلقات کی بنیاد پر اس پل کا ٹھیکہ خود لے لیا تھا۔ وہ اے کلاس کا ٹھیکیدار تھا اور اس کی حکمران طبقے میں اچھی خاصی پہچان تھی۔ لہذا تعلقات اور سفارش کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بیٹے کو پلوں کا ہیڈ انجننئر لگوایا تھا۔
پلوں کو بننے میں کافی عرصہ لگا۔ اس عرصے میں کثیر تعداد میں درخت کاٹے گئے۔ درخت شکایت نہیں کرسکتے مگر وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں۔ اس نے کٹے ہوئے درختوں سے بھی اچھا خاصا کمیشن بنا لیا تھا۔ پورے علاقے کو ویران کرکے چند رابطے کے پل بنائے گئے تھے اور ایک دو جگہوں پر جہاں پل کی قطعا ضرورت ہی نہیں تھی وہاں بھی پل بنا دئے گئے تھے۔ جب وہ دوستوں میں بیٹھتا تب پورے وثوق سے یہی کہتا تھا۔
“گلوبل وارمنگ، ڈھکوسلاہے انگریزوں کا، یہ اپنے علاقوں سے گرین ہاوس گیسوں کا خاتمہ نہیں کرتے اور ہم پل بناتے ہیں تو نصیحت کرنے پہنچ جاتے ہیں۔”
وہ دوستوں کو ترقیاتی کاموں کی توجیہ دیتا رہتا تھا۔ پچھلے دنوں جب اس کی لاش انہی پلوں اور انڈر پاسز سے گزررہی تھی اور اسے دفنانے کے لیے آبائی گاوں لے جایا جار ہا تھا تب اس کے ورثا ایمبولینس میں ساتھ تھے۔ جب وہ گاوں میں پہنچے تو شام ہوچکی تھی۔ سبز سبزہ، لہلاتے کھیت اور پگڈنڈیوں کے کنارے بڑے پھل دار درخت ، شدید گرمی میں بھی فرحت بخش احساس پیدا کرر ہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس ماحول میں ایک سکون سا ہے۔ جیسے چلنے والی ہوائیں روح میں اتر رہی ہیں۔ جیسے دل کو کتنے سالوں بعد صاف ہوا پہنچ رہی ہے۔ لاش کی تدفین کے کچھ دنوں بعد وہ واپس شہر کی طرف آرہے تھے۔
’بابا!!!،یہ دیہات اتنے شفاف کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں کی ہوا اتنی خالص کیسے ہے۔ ‘جب اس کے بڑے بیٹے سے اس کے چھوٹے بیٹے نے پوچھا تو کتنی دیر بڑا بیٹا حیرت سے درختوں کو دیکھتا رہا۔
’شہرمیں اتنی خالص ہوا کہاں ملتی ہے بیٹا۔۔۔۔۔یہاں سبزہ ہے نا، درخت ہیں اور آپ کو پتہ ہے نا درخت تازہ آکسیجن دیتے ہیں۔‘
’مگر بابا ہمارے علاقے کے سارے درخت آپ اور دادا نے مل کر کاٹے ہیں۔‘
شاید وہ اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ منظر تبدیل ہورہا تھا۔ نئی نسل سوال کر رہی تھی۔ وہ اپنا حق مانگ رہی تھی۔ نئی نسل جسے آلودگی کے سمندر میں دھکیل دیا گیا تھا۔ جس سے سانسیں چھینی جارہی تھیں۔ مگر یہاں کس کو پرواہ تھی۔دو تین سالوں سے ملک کبھی سیلاب کی زد میں تھا۔ کبھی شدید بارشوں ، زلزلوں، طوفانوں اور دیگر آفات کی زد میں تھا مگر مولوی صاحبان ہمیشہ کی طرح لو گوں کو توبہ کا مشورہ دیتے تھے۔لوگ روز مسجدوں سے توبہ کرکے نکلتے۔ پچھلے چند سالوں سے نومبر میں سموگ آفت بن کر آتی تھی جیسے کالے دیو کی طرح، ہر شخص کو نگلنے کو تیار۔ روز صدقے دئے جاتے۔ روز دعائیں کی جاتیں۔ روز آنسووں کے دریا بہائے جاتے۔ ان دعاوں میں کتنے ہاتھ وہ بھی تھے جو نئی نسل کے ہاتھوں کو کاٹ رہے تھے۔ کتنی آنکھیں وہ بھی تھیں جنہوں نے مستقبل کی آنکھیں ویران کردی تھیں۔ کتنے لب وہ بھی تھے جنہوں نے مستقبل کے معماروں کی قوت گویائی چھین لی تھی۔ کتنے پلوں کے ٹھیکیدار تھے تو کئی لکڑی خریدنے والے بیوپار، کہیں کوئی ہاتھ دعا کے لیے اٹھ رہا تھا تو اس کے ساتھ بیٹھا شخص حکومت کا وہ اہلکار تھا جس نے نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے درختوں کے قتل عام کا حکم صادر کیا تھا۔ مگر عبادت خانوں میں سارے ہاتھ ہی دعا کے لیے اٹھے رہتے تھے۔ قاتل کے بھی مقتول کے بھی،ظالم کے بھی مظلوم کے بھی،ہر کوئی قدرت کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا۔
شہر میں ایک شخص تھا۔ اسے سب آدھا پاگل یا کچھ افراد سائیں کہتے تھے۔ وہ روزانہ سڑک کنارے لوگوں کے درمیاں کھڑا ہوتا اور کسی پل پرچڑھ کر گاڑیوں کو روکتے ہوئے ،کبھی روتے اور کبھی ہنستے ہوئے مختلف جملے بولتا۔
’دیکھوعنقریب تم سب مر جاو گے۔ سب دھواں دھواں ہوجاو گے۔ تمھاری سانسیں چھین لی جائیں گی۔ کالا دیو آئے گا تمھیں مار ڈالے گا۔‘
کچھ لوگ گاڑیوں سے اتر کر اس کی ویڈیو بناتے۔ کچھ گاڑی میں بیٹھ کر اس کا مزاق اڑاتے۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ موسم بدلتا رہا۔ پاگل یونہی چیختا رہا۔ نئے پل بنتے رہے۔ دھیرے دھیرے پورے شہر کی آبادی بڑھتی رہی۔ کھیت ویران ہوتے گئے۔ درخت روز کٹتے رہے۔ روز درخت کی قیمت پر پتھر کی عمارتیں تعمیر ہوتیں رہیں۔ حکمران جیسے ابدی نیند کی گولیاں کھا کر سوئے ہوئے تھے۔ اس شہر میں خبردار کرنا بھی جرم ٹھہرا تھا۔
جو خبردار کرتا اسے پاگل قراردے دیا جاتا۔
ایک دن شہر میں شدید طوفان آیا۔ ہوا کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کمزور نہیں سہہ سکے۔ اس طرح کا طوفان پہلی دفعہ آیا تھا۔ بہت سے لوگ مارے گئے۔ چھتیں گر گئیں۔ مکان ڈھ گئے۔ بچے لاپتہ ہوگئے۔ اس دن ٹیلی و یژ ن پر چند دانشوروں نے اس واقعے پر اظہار خیال کیا۔ شاید چالیس منٹ کے پروگرام میں اس سانحے کو صرف بیس منٹ دئے گئے۔ باقی وقت حکومت وقت کو الزام دینے میں ضائع کئے گئے۔
اگلے چند برس شدید زلزلے اور طوفان آتے رہے۔ لوگ مرتے رہے۔ قبرستان لاشوں سے بھر گئے مگر جتنے لوگ مرتے نئے پیدا ہوتے۔ آبادی اسی حساب سے بڑھتی رہی۔
حکومتوں کو ووٹ پلوں کے نام پر دیا جاتا۔ پکے گھروں میں رہنے والے کچی زہنیت کے لوگ چند روپوں کے عوض ووٹ بیچ آتے۔ مولوی صاحبان سمیت اکثر پڑھے لکھے لوگ گلوبل وارمنگ کا مزاق اڑاتے۔ وہ اسے انگریزوں کی سازش قرار دیتے۔ پڑھا لکھا طبقہ بھی کبھی ان کا ہمنوا بنتا اور کبھی اس موضوع پر کچھ نہ کچھ اظہار خیال کرتا رہتا۔ نئے الیکشن قریب تھے۔ سب سے مضبوط پارٹی کا منشور تھا کہ وہ قبرستان کے لیے مفت جگہ فراہم کرے گی۔ حادثات میں مرنے والوں کو پیسے بھی دئے جائیں گے۔حکومتی دانش کا منہ بولتا ثبوت اس کا منشور تھا۔زندوں کے بجائے مردوں کے لیے منصوبے بنائے جارہے تھے۔ انسانیت شرمندہ تھی۔ نااہل مسند پر تھے۔ عوام سسک رہی تھی۔ لوگ بلک رہے تھے۔ امیدیں دم توڑ رہی تھیں۔ شہر دل میں بے یقینی کے کتنے سوراخ ہوچکے تھے۔
کافی سال ہوگئے۔ شہر میں رقبے کے لحاظ سے ایک فی صد بھی درخت نہیں بچے تھے۔اب شہر میں درخت شاید کتابوں میں ہی دیکھے جا سکتے تھے۔ بچے سکولوں میں کاپیوں پر درختوں کی تصاویر بنا کر لے جاتے تھے۔ ماضی مستقبل کے سامنے شرمسار تھا۔ حال نے مستقبل کے کاندھے ادھیڑ دئے تھے۔ شہر کے ہسپتال دمے کے مریضوں سے بڑھ چکے تھے۔ ہر گلی اور ہر محلے میں صرف مریض نظر آتے تھے۔ لوگ مر رہے تھے اور اس بار بری طرح مر رہے تھے۔ پہلی بار گرمیوں میں درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا۔ شدید گرمی ہوری تھی جس کا علاج لوگوں نے جدید قسم کے اے سیوں میں ڈھونڈا تھا۔ جدید قسم کے اے سی گھروں میں لگائے جارہے تھے۔ دن کو شاید گنے چنے افراد سڑکوں پر نظرآتے تھے۔ شہر کے جدید رکشوں میں بھی اے سی لگ چکے تھے۔ لوگ خوش تھے۔ اپنی دانست میں انہوں نے مسئلے کا حل نکال لیا تھا۔
جب عالمی میڈیا انہیں خبردار کرتا تو وہ ہنستے۔ درخت کی بات کرنا گویا شہر میں جرم تھا۔ حاکموں کے پاس حوالے کے لیے پتھر تھے۔ انسان کی قیمت چند پتھرمقرر تھے۔ مٹی کا بنا انسان سخت پتھروں پر جان دے رہا تھا۔ اس سال کتنی اموات ہوئیں۔ کتنے لوگ مارے گئے۔ صرف ہسپتال کے رجسڑ اور کمپیوٹر ہی ریکارڈ رکھ سکے۔ روز ہی ہسپتال سے کوئی آلودگی کی وجہ سے مر جاتا ۔ شدید لو کی وجہ سے موتیں واقع ہوتیں اور اسے اب معمولی واقعہ سمجھا جاتا۔ نہ حکومتی سطح پر اور نہ ہی عوامی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں کی جارہی تھیں۔ لوگ حال میں خوش تھے۔
اگلے سال شاید جدید وائرسوں کا تھا۔نئے نئے وائرسوں کے نام سامنے آرہے تھے۔ کوئی وائرس سردی میں حملہ کرتا تھا اور کوئی گرمی میں۔۔۔۔لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ وہ ناکافی سہولیات پر رو رہے تھے۔ ٹی وی چینلز لوگوں کی آواز بن کر ان کی ترجمانی کرر ہے تھے۔ کوئی اینکرکہہ رہا تھا:
’ کہ حکومت کو چاہئیے کہ نئے ہسپتال بنائے۔ مریض بڑھ چکے ہیں۔ مریضوں کو مفت علاج کی سہولت مہیا کی جائے۔ دمے اور سانسوں کے مریضوں کے لیے الگ سے ہسپتال بنائے جائیں۔ ‘
شام کو بڑے اینکر مل بیٹھ کر حکمران کو درس دیتے رہتے تھے اور انہیں سمجھاتے رہتے تھے کہ انہیں غریبوں کا خیال رکھنا چاہئیے اور ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی شکایت کا آزالہ ہونا چاہئیے۔شاید سب نے مل کر مسئلے کا یہی حل ڈھونڈا تھا۔
زندگی اسی رفتار سے چل رہی تھی تھی۔ سب بے ہوش تھے۔ سب مدہوش تھے۔ سب خطروں سے نا آشنا تھے۔ سب فکر کی قید سے آزاد تھے۔ شہر کی آبادی میں کافی حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔لوگ کثیر تعدار میں مر رہے تھے مگر آبادی دوگنی رفتار سے بڑھ رہی تھی۔ شہر کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے مضافاتی علاقوں کو بھی شہر کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ مضافاتی علاقے جو دیہاتوں پر مشتمل تھے، اب بڑے بڑے پتھروں کی بلڈنگز اور نت نئے ڈیزائن کے گھروں اور کمرشل پلازوں میں بدل چکے تھے۔ سب کہتے تھے اس علاقے نے مثالی ترقی کی ہے۔ اس شہر نے ترقی کی معراج کو پا لیا ہے۔
’یہاں جابجا پل ہیں۔ سڑکیں ہیں۔ امیر لوگ رہتے ہیں۔بڑے بڑے پلازے ہیں۔ ہر گھر میں اے سی کی سہولت میسر ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں۔ لوگوں کے پاس بے تحاشا پیسہ ہے۔
‘میڈیا میں اس شہر کا یہی تاثر دیا جاتا تھا۔ یہاں سے حکومت کو ٹیکس بھی اچھا خاصا ملتا تھا۔ شہر کی’ ڈویلپمنٹ اتھاڑتی ‘نے کئی نئے’ ہاوسنگ سکیمز ‘کی منظوری دے دی تھی۔ نئے ہاوسنگ سکیمز بن رہے تھے۔ لوگ دیہاتوں سے نقل مکا نی کر کے اس شہر کی طرف آرہے تھے۔
وہ پاگل آج بھی شہر کی سڑکوں پر چند مہمل جملے دہراتا رہتا تھا اور اس کا اسی طرح مزاق بھی اڑایا جاتا تھا۔یہ فیصلہ کوئی نہیں کر پارہا تھاکہ وہ پاگل تھا یا شہر کے لوگ نارمل نہیں تھے۔ وہ سائیں تھا یا مستقبل سے بے خبر افراد۔ وہ سب کو خبردار کرتا تھا۔
’جاگو لوگو!!!،ابھی بھی وقت ہے۔ جاگو ، ورنہ سب خاک ہوجاو گے۔ تم سب خاکی ہو مگر خاک میں جانے کے لیے تم لوگ اتنے بے چین کیوں ہو۔؟تم سب سوئے ہوئے ہو۔ تمھارا بادشاہ نیند بیچ رہا ہے۔ تم لوگ اس سے خواب خرید تے ہو۔ وہی پہنتے ہو۔ وہی اوڑھتے ہو۔ خواب تمھاری ماں ہے۔ خواب تمھارا باپ ہے۔ نیند تمھاری شہہ رگ ہے۔ غفلت تمھارا اثاثہ ہے۔ سنو اب بھی تم لوگ سوئے رہے تو کبھی نہیں جاگ سکو گے۔‘
کبھی کبھار سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل ہوجاتی۔ لوگ اسے دیکھتے اور ہنستے۔ اسے وہ ’انٹر ٹینمنٹ ‘کہتے تھے۔ اس کا خوب مزاق اڑایا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ٹی وی چینلز پر بھی ’پاگل کی باتیں ‘ کے عنوان سے اس کی ویڈیو دکھائی جاتی رہی اور لوگ ہنستے رہے۔
ایک دفعہ پاگل نے گھروں کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کئے، وہ لوگوں سے سوالات کرتا تھا؛ایسے سوالا ت جن کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ لوگوں سے مختلف سوالات کرتا اور کبھی اسے عجیب و غریب جوابات ملتے اور کہیں سے اسے ذلیل کرکے نکالا جاتا۔
’اگر طوفان آجائے کیا کرو گے۔‘
لوگ مزاق میں جواب دیتے تھے۔
’ہمارے پتھر کے گھر طوفان کو روک لیں گے۔‘
’اگر سیلاب آئے۔‘
’ہمارے طاقتور گھر سیلاب کو بھی روک سکتے ہیں۔‘
’اور اگر خطرناک زلزلہ آئے۔‘
’تم پاگل ہو۔ دفعہ ہوجاو۔‘ اسے ڈانٹ دیا جاتا۔ ہمارے گھر شدید زلزلے کو بھی روک سکتے ہیں۔
ھاھا جیسے پہلے کے زلزلوں کو روکا تھا نا۔۔۔وہ ہنستے ہوا کہتا اور لوگ ہنستے ہوئے اس کی باتوں کا مزاق اڑاتے۔
وہ ہنستا،لوگوں کا مزاق اڑاتا۔ لوگ ہنستے اور اس کا مزاق اڑاتے۔ وہ لوگوں کو پاگل اور لوگ اسے پاگل کہتے تھے۔ وہ کہتا تھا کہ لوگوں کا دماغ کام نہیں کر رہا۔ یہ بھٹک گئے ہیںاور لوگ اسے بھٹکا ہوا سمجھتے تھے۔لوگ اسے راہ سے ہٹا ہوا سمجھتے تھے۔
’دیکھو جب طوفان آئے گا تمھارے گھر اس طوفان میں اڑجائیں گے۔ تم روئی کی طرح اڑو گے۔ سب ختم ہوجائے گا۔‘
اس کی عجیب و غریب باتیں سن کر بچے اس کے پیچھے دوڑتے۔ کوئی پتھر مارتا اور کوئی سائیں کہہ کر اسے کھانا یا پینے کی چیزیں دے دیتا۔ اکثرلوگ اس سے ڈرتے بھی تھے۔ بہت سے لوگ سمجھتے تھے سائیں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ کوئی اسے سائیں کہتا تھا اور کوئی اسے پاگل۔۔۔۔
شہر اسی طرح پھیلتا جا رہا تھا۔ سال دن میں اور دن لمحوں میں بدل رہتے تھے۔وہ رات سال کی آخری رات تھی۔ اگلے دن لوگوں نے نئے سال کے سورج کو دیکھنا تھا۔ سڑکوں کے کنارے گہما گہمی اسی طرح تھی جیسے ہر سال ، سال کی آخری رات کو ہوتی تھی۔ نوجوان سڑکوں پر جشن منا رہے تھے۔ شہر بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔ روشنی جو دوام بخشتی ہے۔ روشنی جو شہر کو خوب صورت نام بخشتی ہے۔ پورا شہر نور کے ہالے میں جیسے رقص کر رہا تھا۔ پاگل بھی سڑکوں پر پھر رہا تھا۔ آج وہ زیادہ وحشت ناک لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے وحشت برس رہی تھی۔ آج وہ بالکل بھی نہیں ہنس رہا تھا۔ موٹر بائیک پر ساری رات منچلے سڑک کنارے نعرے لگاتے اور آوازیں کستے پھر رہے تھے۔
لڑکوں کا ایک گروپ پا گل سائیں کو چھیڑ رہا تھا۔
’دیکھو بھاگ جاو یہاں سے بھاگ جاو۔ کل تم بھاگ نہیں سکو گے۔ سب بھاگ جاو۔ سب دھندلا ہوجائے گا۔ تم لوگ مٹ جاو گے۔ وہ دیکھو وہ آرہا ہے کالا دیو دور سے۔ ‘
آج اس کا خصوصی مزاق اڑایا جارہا تھا۔ شاید نئے سال کا جشن اسی طرح منایا جارہا تھا۔
اس رات سڑک کنارے چند مصنوعی درخت لگائے گئے تھے۔ شہر میں شاید ہی کہیں کوئی بڑا درخت بچا تھا سوائے چند گھروں کے جہاں چھوٹے چھوٹے پھل دار درخت صحن کے آنگن میں لگائے گئے تھے۔
سب جشن منا رہے تھے۔ یہ شہر سب سے ترقی یافتہ کہلایا جاتا تھا۔ شہر کے زیادہ تر حصے پر آبادی کا قبصہ تھا۔ لوگوں نے سبزے سے مکمل جان چھڑالی تھی۔ نئے پلازے، ہاوسنگ کالونیز ، بڑے بڑے شاپنگ مالز شہر کی رونق بڑھا رہے تھے اور ان پلازوں کے اندر مصنوعی درخت لگائے گئے تھے جو مختلف رنگوں کی روشنی سے رات کو مکمل جگمگا اٹھتے تھے اور لوگ اس کے سائے میں پلازوں میں گھومتے ہوئے آن بیٹھتے تھے۔
رات جشن میں گزر چکی تھی۔صبح کے آٹھ ہوچکے تھے۔ آج فضا کافی گدلی تھی۔ کالے بادلوں نے آسمان کو گھیر رکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد آسمان کا رنگ سرخ ہونا شروع ہوا۔ تبھی شدید کالے بادلوں نے آسماں کا رخ کیا اور دس بجے کے قریب شہر جیسے اندھیرے میں ڈوب گیا۔
لوگوں نے چھتوں سے کپڑے اتار لیے تھے۔ کوئی دعا کر رہا تھا۔ کوئی ڈر رہا تھا۔ اتنا گھپ اندھیرا ، شدید اندھیرا، تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ دھیرے دھیرے ہواوں کی رفتار بڑھ رہی تھی۔ پھر اچانک شدید قسم کی آندھی چلنے لگی۔
شدید قسم کی آندھی،سب مروگے ۔ کئی دروازوں پر اس کے ہاتھ کے ساتھ صدا گونج رہی تھی۔ شدید طوفان نے شہر کا رخ کر لیا تھا۔ پاگل بری طرح دروازے کھٹکھٹا رہا تھا۔ شاید کسی گھر میں اسے پناہ مل ہی گئی تھی۔
ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا۔ لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔ چھتیں ڈھ گئی تھیں۔ شہر میں شدید قسم کا طوفان آیا تھا۔ کتنے گھر اس طوفان کی زد میں آئے تھے۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ حکومت نے شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔ تیز بارشیں ہورہی تھیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے شدید بارشیں ہوری تھیں مگر آج لگ رہا تھا جیسے آسماں سے پانی آبشار کی صورت برس رہاتھا۔ اگلے دو دنو ں میں دو ہزار ملی لیٹر بارش ہوئی تھی۔ پورا شہر جیسے اس بارش میں ڈوب گیا تھا۔پہلے شدید طوفان اور بارش ۔۔۔۔
تبھی استاد کی آنکھیں بھر آئیں۔
بچو یہ تھی اس شہر کی کہانی، شروع سے آخر تک کی کہانی، یہ شہر کبھی لوگوں سے آباد تھا۔ تاریخ کہتی ہے کہ چند ٹھیکداروں کے ذاتی مفاد، حکمرانوں کی ناا ہلی اور عوام کی بے شعوری اور قدرت سے لڑائی کی وجہ سے یہ شہر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ آج یہاں صرف پتھر ہیں۔ کھنڈرات ہیںاور مرے ہوئے انسانوں کی بوسیدہ ہڈیاں۔۔۔اور شاید انسانوں کے شعور کی لاشیں۔۔۔۔۔
’سر اس شہر کی آبادی کیا تھی اور اس طوفان میں کتنے لوگ مارے گئے تھے۔‘
’دیکھو بچو وہ لوگ تو اسی دن مارے گئے تھے جب انہوں نے شہر سے درختوں کا قتل عام کیا تھا۔ پورے شہر کو پتھروں میں بدل دیا تھا۔ انہوں نے قدرت کے نظام کو بدل دیا تھا۔ انہوں نے خود طوفان کو دعوت دی تھی۔ کہتے ہیںطوفان اور بارشوں کے نتیجے میں چند لوگ ہی بچے تھے۔ جنہیں دوسرے شہر منتقل کیا گیا تھا۔‘
’تمھیں سب سے دلچسپ بات بتاوں۔‘
’جی بتائیے سر۔
’ جن لوگوں کو نئے شہر منتقل کیا گیا جہاں پتھر کے مکانات تھے۔ ہوبہو ان کے شہر جیسا ہی دوسرا شہر تھا ۔جانتے ہو انہوں نے وہاں منتقل ہونے سے انکار کردیا اور اس شہر کے بارے میں یہ کتاب بھی اانہی لوگوں میں سے ایک نے لکھی تھی جو اس سانحے کے بعد بچ گیا تھا۔
’ کیوں سر ایسا کیوں کیا انہوں نے ، آخر کار انہیں ویسا ہی شہر ملا تھا جس کی تمنا وہ کرتے رہتے تھے ؟‘
’کیوں کہ وہ بھی شہر کے باقی باشدوں کی طرح طوفانی تاریخ کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ انسان کی بقا کس میں ہے اور اس کے لیے کیا ضروری ہے۔ ‘
سورج غروب ہورہا تھا۔ پتھروں کا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جب کہ بچے استاد کے ساتھ جلدی جلدی وہاں سے نکل رہتے تھے کہ مبادا ان پر کوئی عذاب نازل نہ ہو جب کہ پاگل سائیں کی ہنسی انہی کھنڈرات میں کہیں گونج رہی تھی۔گمشدہ شہر کا قصے ہواؤں میں کہیں گونج رہا تھا۔

 

Sakhawat Hussain's Profile Photo
سخاوت حسین کا آبائی تعلق گلگت بلتستان کے شہر سکردو سے ہے اور وہ آغا خان یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔آج کل لاہور میں مقیم ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here