چپڑاسی نے آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر اندر داخل ہوگیا خوبصورت انداز سے سجے ہوئے دفتر میں شیشے کی میز کے پیچھے بیٹھا ہوا شخص ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اس کے انداز میں بے پناہ غصہ تھا مگر اندر آنے والے کو دیکھ کر اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے –
“آئیے آئیے سعدی صاحب کیسے آنا ہوا -” اس نے ہاتھ آگے بڑھایا –
“آپ پچھلی بار سے زیادہ موٹے نظر آرہے ہیں -“
نووارد نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا –
“ہاہاہا ___سعدی صاحب مذاق اچھا کرلیتے ہیں ، اچھا بیٹھیں تو سہی ، چائے منگواؤں یا ____” اس نے ایک آنکھ دبا کر پوچھا –
“کریم صاحب یہ اس دفتر میں میرا تیسرا چکر ہے ، آپ نے وعدہ __”
“ارے جناب ہم پر بھروسہ نہیں ہے کیا ؟ چلیں بس اگلا افسانہ دے دیجئے ایک دو دن میں پرچہ پریس میں چلا جائے گا ، بس اس کے نکلتے ہی پچھلی اور اگلی رقم ادا کردیں گے -“
“چلیں میں چلتا ہوں ___” سعدی نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا –
“بیٹھیئے تو سہی،ہمیں خدمت کا موقع تو دیں -“
سعدی نے کوئی جواب نہیں دیا اس کی نظریں کریم کے پیٹ پر جمی ہوئی تھیں –
“کیا ہوا کیا دیکھ رہے ہیں ؟”
اس نے سعدی کی نظروں کا زاویہ محسوس کیا تو پوچھ بیٹھا –
آپ کا پیٹ دیکھ رہا ہوں اس میں کتنے لکھنے والوں کا خون جمع ہے کتنے لفظوں کو روزانہ ہضم کر جاتے ہیں کہ یہ پھولتا ہی جارہا ہے -” سعدی نے ٹھہرے ہوئے نرم لہجے میں کہا –
کریم آہستہ قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا ، یہ جو ہم جیسے لوگ آپ کو صاحب صاحب کہہ کر بلاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں کھڑے ہوکر اس طرح بات کر رہے ہیں ___ ورنہ دو ٹکے کے لکھنے والے کی اوقات ہی کیا ہے ،یہ نام ، یہ شہرت اس لئے ہے کہ ہم آپ کو چھاپتے ہیں -“
“کل آپ کو افسانہ مل جائے گا-“
سعدی نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کہا-
کریم فاتحانہ انداز میں اپنی نشست پر آکر بیٹھ گیا-
سعدی نے سب کاغذٹائپ کئے اس کے بعد تمام کاغذوں کو اکٹھا کر کے برابر کیا تو پہلے صفحے پر اس کی نظر پڑی –
” عنوان تو میں نے لکھا تھا
“خالی کاُغذ” وہ کاغذ کو حیرت سے تکتے ہوئے عنوان لکھنے لگا اس کے ہاتھ کے نیچے لکھے ہوئے لفظ ایک ایک کر کے مٹ رہے تھے -وہ خوفزدہ سا پیچھے ہٹا ،ایک کے بعد ایک لفظ باری باری غائب ہورہےتھے- اس کے ذہن میں کریم کا سراپا گھوم گیا ، اسے لگا کہ یہ سارے لفظ اس کے پیٹ میں جارہے ہیں -وہ لفظوں کوروکنے تھامنے کی کوشش کرتا رہا مگر بے سود !
وہ تھک کر کرسی پر گر گیا-
اگلے دن وہ پھر کریم کے دفتر میں موجود تھا –
” آگئے سعدی صاحب بڑی عمر پائی ہے ___ بس آپ کے افسانے کے لئے ہی پرچہ روک رکھا ہے ، امید ہے ہر بار کی طرح اس بار بھی کچھ تہلکہ مچا دینے والا لکھا ہوگا -” اس نے حریص نظروں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے کاغذوں کے پلندے کو دیکھا –
سعدی نے کچھ کہے بنا پلندہ اس کی میز پر رکھ دیا -کریم نے جلدی سےاٹھا کر اسے دیکھا تو پہلا صفحہ خالی تھا ، دوسرا ، تیسرا پھر چوتھا بھی ، اس نے سب صفحات دیکھ لئے وہ سب خالی تھے-
“یہ کیا غلطی سے کچھ اور تو نہیں اٹھالائے افسانہ کہاں ہے ؟ ” اس نے حیرت سے پوچھا –
” کل جب آپ کو دیکھ کر یہاں سے گیا تھا ، تو سوچتا رہا لفظوں سے پیٹ کیسے بھرتا ہے – مجھے بھوک لگی ہوئی تھی میں بھی سب لفظ کھا گیا ، اب آپ ان خالی کاغذوں کو چھاپ کر مجھے نام اور شہرت دیں اور اپنا پیٹ بھر لیں – “
***

ھما فلک جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد فکشن رائٹر ہیں۔ ان کی افسانوں کی ایک کتاب ‘روح دیکھی ہے کبھی’ شایع ہوچکی ہے۔ یہ افسانہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ ان کی وال پہ ظاہر ہوا، جہاں سے لیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here