مجھے خوشی ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین نے پاکستان بھر سے ادیبوں کا اجتماع لاہور میں کیا ہے اور ان کو ‘ترقی پسند ادب کے نئے افق اور امکانات’ پہ اظہار خیال کرنے کی دعوت دی ہے۔ جن لوگوں کے نام مقررین کی فہرست میں شامل ہیں، ان سب کو میں اپنے سے کہیں زیادہ پڑھا لکھا، باریک بین اور مشاہدے و تجربات سے لبریز خیال کرتا ہوں۔

 

No photo description available.
کچھ حضرات نے مجھ سے پہلے اظہار خیال کیا اور کچھ میرے بعد کرنے والے ہیں۔ اور وہ سب مجھ سے کہیں بہتر بات کرکے جائیں گے۔ مجھے لکھنے سے کہیں زیادہ پڑھنے سے دلچسپی ہے۔ اور میں ظاہر سی بات ہے کہ ایک ترقی پسند قاری ہوں تو توقع بھی زیادہ سے زیادہ ترقی پسند ادب پڑھنے کی کرتا ہوں۔
میری ترقی پسندی کا معیار کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ کون ‘انجمن’ کا رکن ہے اور کون نہیں ہے۔ بلکہ میں یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس کی ادبی تحریروں میں کیا لکھا گیا ہے۔ اگر تو اس کی تحریر حقیقت کی آئینہ دار ہو، اور وہ اصلاح، تبدیلی اور انقلاب آفرین ہو یا حقیقت کی عکاسی ایسے کرے کہ خودبخود تبدیلی کا جذبہ قاری کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ تحریر ترقی پسند ہے اور محرر یعنی لکھنے والا بھی ترقی پسند ہے۔

اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا پاکستان کے اندر ترقی پسند ادب لکھا جارہا ہے؟
تو اس سوال کا جواب ہاں میں ہے ۔
اور اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ؟

اور اگر لکھا جارہا ہے تو اس کے افق کیا ہیں؟ اور کیا وہ افق اپنی ہئیت کے اعتبار سے نئے ہیں یا پرانے ہیں؟
میرا خیال ہے کہ ترقی پسند ادب جو لکھا جارہا ہے وہ نئے اور پرانے دونوں افق کا امتزاج ہے۔

ایک افق تو ترقی پسند ادب کا وہ ہے جس میں روایتی معکوس مساوات بنائی جاتی ہے اور وہ ہے
ملائیت بمقابلہ آزاد خیالی
اس افق پہ تو بہت بھیڑ ہے۔ اور بہت کچھ منظر عام پہ آرہا ہے۔

اس محاذ پہ ہمیں سب سے زیادہ سرمایہ داری نظام میں مستحکم بالائی درمیانہ طبقہ متحرک نظر آتا ہے اور ایسے فکشن رائٹر ان کو بہت پسند آتے ہیں جو اس باب میں ‘مثالیت پسند لبرل ‘ ہیں۔ ان کے نزدیک سماج کی ساری پسماندگی اول و آخر صرف اور صرف مذہب نے پھیلائی ہوئی ہے۔ اور ان میں ایسے فوب زیادہ ہیں جن کے خیال میں ساری جہالت و پسماندگی ، ذہنی افلاس کا سبب بس مذہب ہی ہے۔ اس لیے وہ مذہب کی پرچھائیوں سے جنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس خیال کے لبرل ترقی پسند لکھاری ملّا چاہے وہ جہادی ہو یا تبلیغی ، پیر چاہے وہ جاگیردار ہو یا ملنگ یا تعویز گنڈے کرنے والا وہ ان سب کرداروں کو بے نقاب کرنے کے نام پہ جو ادب لکھ رہے ہیں،ان کے خیال میں اس سے کوئی چیز مسنگ نہیں ہے۔
حال ہی میں کچھ ناول، کہانیاں اور افسانے سامنے آئے ہیں، جو کہیں نہ کہیں مدارس، دربار و مزارات و خانقاہوں، جہادی و غیر جہادی تنظیموں کے پھیلے ہوئے بڑے نیٹ ورکس اور ان کے بتدریج پھیلاؤ کو لیکر چلتے ہیں۔ اور ان سارے پھیلاؤ کے اندر وہ جہادیوں اور غیر جہادی مولویوں اور پیروں کے کردار کو دکھاتے ہیں کہ کیسے وہ مذہبی اقلیتوں کے قتل عام میں، ان کو دوسرے درجے کا شہری بنانے میں، ان کی عورتوں اور بچیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرواکے اپنے نکاح میں لے آتے ہیں، چھوٹے بچوں سے مدارس میں جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث مولویوں کے خلاف زبردست ردعمل دکھاتے ہیں۔ اور ایسا سارا ترقی پسند ادب ہمیں بہرحال ‘مذھب بمقابلہ ترقی پسندی’ کی ایک معکوس مساوات بناکر دیتا ہے اور اگر آج کے سوشل میڈیا پہ ہم دیکھیں تو یہ ٹرینڈ سب سے اوپر نظر آتا ہے۔
دوسرا ترقی پسند ادبی افق ہمیں مرد و عورت کے باہمی تعلق اور اس سے جڑے سوالات بعنی سیکس،محبت اور دیگر معاملات کے گرد ابھرتا نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی بالائی درمیانہ طبقے کی لبرل پرت ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھی ہوئی ہے۔ اس نے ادب میں اس افق پہ اپنے ہر قسم کے اظہار کے لیے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو اپنی ڈھال بنایا ہوا ہے۔ اور یہاں بھی عورت اور مرد تجریدیت کی حدوں کو چھوتی ہوئی اصطلاحیں ہیں اور یہاں بھی عورت کی آزادی کے خلاف سب سے بڑی سازش اس طبقے کو بھی مذہب ہی کرتا نظر آتا ہے۔
ترقی پسند ادب کا ایک تیسرا افق بھی ہے۔ اور یہ افق ہماری ریاست کے مخصوص ارتقاء اور اس ارتقاء میں ایک مدت سے چلی آرہی منتخب و غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے درمیان چلی آنے والی بیک وقت ‘پیار اور نفرت’ کے باہمی رشتے کو بیان کرنے کے لیے ایک بڑا بیانیہ تعمیر کرنے کی کوشش ہے۔

اردو ادب میں ترقی پسند ناول یا ناولٹ یا طویل کہانی یا نظم لکھنے والوں کے ہاں عمومی طور پہ انگریزی میں لکھنے والے کچھ ادیبوں کے ہاں پایا جانے والا لبرل بیانیہ ہی فالو کیا جارہا ہے۔
یہ لبرل بیانیہ ڈومیسٹک اسٹبلشمنٹ کے اندر پائی جانے والی کسی تقسیم کو نہیں مانتا، نہ ہی حکمران طبقات کی باہمی کشاکش کو مانتا ہے اور عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ اسٹبلشمنٹ کا تو ذکر کرنا ہی اسے ‘مارکسی ملائیت’ لگتا ہے۔

انگريزی میں لکھنے والا محسن حامد ہو یا محمد حنیف ہو یا پھر کامیلا شمسی ہو یا کوئی اور ہو یہ سب کے سب سمجھتے ہیں کہ مقامی بوٹ والے ہیں جو ساری بیماریوں کی جڑ ہیں۔اور وہ ان کے دیگر گروہوں سے چاہے وہ مقامی حکمران طبقات ہوں یا عالمی و علاقائی حکمران طبقات ہوں رشتہ داری اور تعلقات کا سوال گول کرکے اپنے ناول، کہانی، افسانے میں ایک ہی ولن تلاش کرتے ہیں۔ اور اس طرح سے ہم کبھی محص ضیاء الحق کو گالی دیتے ہیں، تو کبھی اپنا غصّہ حمید گل، اختر عبدالرحمان تو کبھی نصیر اللہ بابر پہ نکالتے ہیں،ان میں سے کچھ ہربار اپنا مخصوص اور محدود طیش ذوالفقار علی بھٹو پہ نکال دیتے ہیں۔ یا صرف جرنیل ہمارے غیظ و غضب کا نشانہ بنتے ہیں۔
اس ترقی پسند ادبی منظرنامے میں ہمیں لبرل بلکہ نیو لبرل افق ہی غالب دکھائی دیتے ہیں اور یہ سارے افق حکمران طبقات،محکوم طبقات، مظلوم و محکوم اور لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بننے والی مظلوم و محکوم نسلی و مذہبی اقلیتوں اور ریاستی و غیر ریاستی کرداروں کی جملہ تشدد پسندی کا منڈی کی معشیت سے، کارپوریشنز، سامراجی مداخلتوں سے، سرمایہ کی نئی اشکال سے رشتہ دکھانے اور ان کے درمیان تعلق کی نوعیت کو ہم پہ کھول کر رکھ دینے سے قاصر ہیں۔

ان ادبی افق میں پاکستان میں ریاست کی جو نیولبرل ازم سے ہم آہنگی میں جو سٹرکچرل اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور اس کا اثر پاکستان کی شہری اور دیہی غریب آبادی، شہروں اور دیہاتوں میں سروسز سیکٹر سے جڑی ورکنگ کلاس کی پرتوں پہ کیا ہوئے ہیں، اس سب کو اپنے ناولوں، کہانیوں اور شاعری میں زیربحث لانے میں بڑی حد تک مین سٹریم میں موجود ترقی پسند کہلانے والے ادبی افق قاصر ہیں۔
کیا ہمارا ترقی پسند فکشن نگار کان کنی کی صعنت سے وابستہ محنت کشوں، بندرگاہوں پہ کام کرنے والے مزدوروں، لاکھوں ہزاروں کلومیٹر تک بننے والی شاہراہوں کی تعمیر میں کام کرنے والے ہزاروں محنت کشوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پراڈکسٹس کی سپلائی چین سے جڑے سیلزمینوں سے لیکر ایریا مینجرز تک اور ان کے دفاتر میں کلیریکل کاموں سے جڑے اور ان کی حفاظت کے نام پہ ہائر کیے جانے والے سیکورٹی گارڈز اور آفس بوائے سے لیکر دیگر کئی معمولی کاموں پہ ملازمت کرنے والوں ، ایسے ہی ہماری ہوزری، شوز، ٹیکسٹائل سیکٹرز کے اندر کام کرنے والے محنت کش مرد و عورتوں اور ایسے ہی بیوریجز جن میں نیسلے، پیپسی کولا، کولا کولا وغیرہ بڑے نام ہیں کے اندر کام کرنے والے محنت کش مرد اور خواتین کی زندگیوں پہ اس سارے نظام کے اثرات کہانیوں کا موضوع بناپائے ہیں؟

نیو لبرل ازم کیسے مذہب کی اقدار کو اپنی سرمایہ دارانہ اقدار سے ملاکر تقدیس کا روپ دھارتا ہے اور کیسے پھر ملّا،پیر، سماجی اشرافیہ کو اپنے ساتھ ملاکر محنت کی لوٹ کھسوٹ کرتا ہے اور وہ کیسے ریاست کو پینے کے صاف پانی، تعلیم سمیت سماجی خدمات کی فراہمی سے دست بردار کرکے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانے کے لیے سارے نظام کو یرغمال بناتا ہے اور وہ ریاست کی سماجی خدمات کی فراہمی سے دست برداری کا متبادل چئیریٹی نیٹ ورک کو دکھاتا ہے، کیا یہ کہانی ہمارا موجودہ ترقی پسند فکشن پیش کررہا ہے؟
نیولبرل سماج جس کا حصّہ ہمارے اشراف مولوی، پیر جاگیردار، پیر بزنس مین، مولوی بزنس مین سب ہی ہیں۔ اور وہ حکمران طبقات کے کلب کا ایک حصّہ ہیں وہ سب کے سب نیولبرل سرمایہ داری اور جنگوں ،فوجی آپریشن اور ان سے جڑے سارے عذابوں کی باہمی رشتہ داری اور تعلق ماننے سے انکاری ہیں۔ کیا ان کے انکار اور ترقی پسندی کا دعوی کرنے والے نیولبرل ادیبوں کے انکار میں مماثلت اتفاقیہ ہے یا کسی بنیادی آئیڈیالوجی کے اشتراک کے سبب سے ہے؟
کیا ہمارے ذہنوں میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان میں مدرسوں کا بڑا نیٹ ورک ایک زمانے میں تو سوویت یونین کو توڑنے کے لیے جاری سرد جنگ کے حاشيے کے طور پہ پیدا ہونے دیا گیا، پھر دوبارہ اتنے بڑے نیٹ ورک کو باقی رکھنے اور پھیلتے رہنے کا سب سے بڑا سبب یہ نہیں ہے کیا کہ ہماری ریاست جو نیولبرل سرمایہ داری کی ریاست ہے اس ملک کے اندر سب بچوں کو تعلیم، خوراک،کپڑے دینے کی ضمانت نہیں دیتی اور اسی ضمانت کے میسر نہ آنے سے بچوں کی ایک بڑی تعداد مدرسوں میں جاتی ہے، ایک بڑی تعداد چائلڈ لیبر بنتی ہے، ایک بڑی تعداد سیکس لیبر بنتی ہے، اور ایک بڑی تعداد مجرم بنتی ہے اور پھر جو ورکنگ کلاس دیہی و شہری ہے جو اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں نہیں بھیج پاتی وہ ان کو تباہ حال سرکاری اسکولوں میں بھیجتی ہے جہاں وہ مشکل سے میٹرک اور بہت زور لگایا تو ایف اے اور اس کے بعد ان میں ایک معتدبہ تعداد کلیریکل نوکریاں اور ایک اور تعداد ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹس میں چھوٹے موٹے ہنر حاصل کرکے سرمایہ داروں کے لیے محنت کرنے والی مشین بن جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ لاکھوں بے روزگاروں کی فوج ہر قسم کے مہم جو نیٹ ورکس کے لیے دستیاب ہوتی ہے۔

کیا ہمارا فکشن یا شاعری اتنا بڑا کینویس کے ساتھ دنیا کی عالمگیریت کو منعکس کررہا ہے؟
ترقی پسند ادب کا ایک اور افق ہے جس پہ قوم پرستوں کا غلبہ ہے۔ اور اس غلبے کی سب سے درست وجہ تو یہ ہے کہ ترقی پسند ادیبوں نے نسلی اور قومیتی بنیادوں پہ ہونے والے استحصال، ظلم، فوجی آپریشنوں، جنگوں اور تباہی و بربادی کی ماں ریاست کے ترقیاتی ماڈل کی ناہمواریت کی نیو لبرل بنیادوں کو اپنے فکشن کا حصّہ نہیں بنایا۔ وہ ابتک سردار، جاگیردار، وڈیرہ اور خوانین جیسی ثانوی اصطلاحوں کو لیکر نیولبرل عہد کی تصویر کشی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور اسی لیے بلوچ،سندھی،پشتون، سرائیکی، گلگتی بلتی سوالوں کو خاص طور پہ بندوبست پنجاب کے ترقی پسندوں کے ہاں ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو نظر اپنے آخری تجزیہ میں حکمران طبقات کی بربریت کے کہیں نہ کہیں یا تو جواز سے ملتی ہے یا پھر خاموش ہوجاتی ہے یا پھر کچھ نظر ہے جس سے جب فکشن یا شاعری سامنے آتی ہے تو پتا ہی نہیں چلتا ہے ادب ترقی پسندانہ ہے یا پھر قوم پرستانہ شاؤنزم کی تائید کرنے والا ہے۔
ترقی پسندی کا انقلابی افق جو اس سماج کے کام کرنے والوں کی زندگیوں کا عکاس ہو اور وہ نیولبرل ازم کے ساتھ ریاست و سماج کی باہمی رشتہ داری کو بڑی حد تک بے نقاب کرنے والا ہو،وہ افق اردو فکشن میں مجھے تاحال کہیں نظر نہیں آتا۔ میں نے اردو فکشن اس لیے کہا کہ انگریزی میں کئی بڑے لکھنے والے ہیں یا انگریزی میں کئی دوسری زبانوں سے ایسا ادب تخلیق ہوا ہے جس نے نیولبرل ازم ، ریاست و سماج کی باہمی رشتہ داری کو کسی حد تک کھول کر رکھ دیا ہے۔
ہمارے پڑوس میں اردون دھتی رائے نے ‘ دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس ‘ لکھی ہے اور اس نے اپنے کرداروں سے ہندوستانی نیشنلزم اس کی نیولبرل ازم سے رشتہ داری اور ساتھ ساتھ براہمن واد سے ٹانکا جڑنے سے پیدا صورت حال سے جو اتنی بڑی منتشر صورت حال ہے جسے وہ
Shatter story
کہتی ہے اور جس میں وہ کہتی ہے کہ
Slowly becoming everyone
Slowly becoming every thing
کا بیان ہو، ایسا افق اردو فکشن میں ہمیں بہت نایاب نظر آتا ہے۔ اور ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ ایسا فکشن تخلیق کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ ہندوستان میں کسی خطرے سے خالی نہیں ہے تو ہمارے ہاں تو یہ اور بھی خطرناک ہے۔ اور انگریزی کی بجآئے اردو میں لکھنا تو شاید موت کو دعوت دینے کے۔ لیکن کیا ہمارا فکشن رائٹر
Shatter story of Pakistan
بیان کرنے کا اہل بھی ہے؟
معذرت کے ساتھ میں یہ سوال اس لیے اٹھارہا ہوں کہ مجھے اس بارے میں کافی حد تک شکوک و شبہات ہیں۔ ہمارا فکشن پاکستان میں نائن الیون کے بعد 75 ہزار افراد کے مارے جانے، اس کے کئی علاقوں میں فوجی آپریشنوں سے اور وہاں پہ نسل کشی کی ایک بڑی لہر کے پیدا ہونے، جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، جمہوریت و صحافت کو پابند سلاسل کرنے پہ اتنی کہانیاں اور ناول نہیں لکھ پایا جتنی کہانیاں اور ناول ہم نے دوسرے ہماری جیسی صورت حال کا شکار علاقوں سے نمودار ہوتے دیکھیں۔ کیا وجہ ہے ہم اپنے ہاں کی سماجی حقیقت کا عکس دیکھنے کے لیے ہمسایہ ممالک اور دوسرے براعظموں سے آنے والے فکشن کے تراجم کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں؟
ہمارے ہاں تو صورت حال اتنی خراب ہے کہ بے نظیر بھٹو کے مرڈر کے تناظر کو لیے اور اس کے ساتھ ساتھ شیعہ نسل کشی اور احمدیوں کو کمتر بنائے جانے کے پس منظر کے ساتھ لکھا جانے والا عباس زیدی کا انگریزی ناول ‘ان فیڈلز آف مکّہ’ کا اردو ترجمہ کرنے سے مترجم ڈرے ہوئے ہیں تو ایسے میں اوریجنل اردو زبان میں ناول کیسے لکھا جائے؟
تو میرے نزدیک پاکستانی سماج کی بکھری ہوئی کہانی کو ایک کینویس پہ پینٹ کرنے کا امکان موجود ہے ۔ اور یہ امکان اب اس لیے اور زیادہ نظر آرہا ہے کہ ہمارے ہاں جو دیسی جدیدت کے زیر ثر اردو کہانی میں سماجی حقیقت نگاری سے فرار اختیار کی گئی تھی، اب ادیبوں کی اکثریت اس سے ہٹ رہی ہے۔سماجی حقیقت نگاری کو پھر سے اہمیت مل رہی ہے۔ اور بہت سے نئے اور کئی ایک پرانے لکھنے والے اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی دو روزہ کانفرنس منعقدہ لاہور کے دوسرے روز مورخہ 20 جنوری 2018ء کے سیشن میں پڑھا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here