نوٹ: ہالووین یورپ کی صدیوں پرانی ایک مقامی اسطورہ کے گرد گھومنے والا تہوار ہے۔31 اکتوبر کو یہ تہوار منایا جاتا ہے۔اور اسطور یہ ہے کہ اس دن زندوں اور مردوں کے درمیان پردہ اٹھادیا جاتا ہے اور مردے زندوں کے سامنے ظاہر ہوجاتے ہیں۔ سہیلہ بورزق نے اسی عنوان کو لیکر ایک بے وفا شوہر کے انجام کی کہانی بنی ہے، جو اپنی مالدار بیوی کا قاتل ہے۔ سہیلہ بورزق الجیریا میں پیدا ہوئیں، وہیں پہ تعلیم پائی اور الجیریا میں انھوں نے بطور صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ آج کل وہ واشنگٹن امریکہ میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ وہ اسکول میں اپنے کمرہ جماعت کی کھڑکی سے صحن کو دیکھ رہی تھیں تو ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ایک دن آئے گا جب وہ اپنی والدہ کی کہانی لکھیں گی۔ اس وقت ان کی عمر یہی کوئی بارہ سال کی ہوگی۔

 

ان کی والدہ نے ایک بار ان کے بارے میں کہا تھا

وہ ان لاکھوں عورتوں کی کہانیوں کا عکس ہے جو خوابوں کی خاموشی میں جنم لیتی ہیں۔ اور اپنی تقدیر سے ملتی ہیں حالانکہ اس میں ان کا اختیار بس آدھا ہی ہوتا ہے اور وہ حیات کامل کے پورے کھیل کو اکثر ایسے کھیلتی ہیں کہ وہ اس میں غیر موجود کی طرح شامل ہوتی ہیں مگر منظرنامے میں ان کی تصویر ہمیشہ مرکز میں ہوتی ہے۔

……………………….

نتيجة بحث الصور عن سهيلة بورزق

سہیلہ بورزق کی تحریریں اس سرد مقام سے منظرعام پہ آئیں جہاں پہ زندگی کی کشاکش میں کسی بھی زمانے میں عورت کی اہلیت و قابلیت ہمیشہ سے انکار ہی ہوا۔ وہ ہمیشہ سے مردوں کے تسلط کے علاقے میں حرف نفی کی طرح رہی ہے۔ عامر حسینی نے عراق اسٹوری ڈاٹ کوم سے سہیلہ بورزق کی کہانی کو عربی متن سے ایسٹرن ٹائمز کے پڑھنے والوں کے لیے ترجمہ کیا ہے۔ یہ کہانی ان کی کہانیوں کے مجموعے ‘کاس بیرۃ۔۔۔ بیئر کا پیالہ۔۔۔ میں شامل ہے۔ ایڈیٹر  

اس نے اپنا سرمئی رنگ کا پستول اٹھایا اور میرے سر پہ اسے تان دیا اور پھر گولی چلادی

میں زمین پہ گرپڑی ایسے کہ میرے ہاتھ خلاء میں پھیلے ہوئے تھے

کچھ بھی تو نہیں، بس یونہی بھولے بسرے بچپن کے بے ترتیب عکس

میری موت کے بعد بہت سے معاملات کو بدلنا ضروری تھا

جیسے میری موت کے تیسرے روز،میرا شوہر اپنی روسی داشتہ کے ساتھ تھا اور وہ اس دوران میری کمپنی کے وکیل البرٹو کو فارغ کرنے کی سوچ رہا تھا اور میری طرف سے ہر قسم کے خیراتی کاموں کو بند کرنے کی سوچ پال رہا تھا۔

میں نے چشم تصور کو زرا آواز دی اور یہ فرض کرلیا کہ وہ ایک ماہ میں ایک بار تو میری قبر پہ آئے گا اور ساتھ ہی ںرگسی پھولوں کی چادر لائے گا، جن سے مجھے عشق تھا۔

لیکن یہ کیا، وہ تو میرے جنازے کے ساتھ بھی نہ چلا، اور اپنے کاروبار کی ایک اور شاخ کھولنے میکسکو جاپہنچا تھا۔

جب انھوں نے مجھے لحد میں اتار دیا اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میں نے چند میٹر دور سے آتی ہوئی ایک گرم جوش آواز سنی : آپ کی خوشبو تو بہت حسین ہے سیدانی

کون ہو  تم ؟

معافی چاہتا ہوں، کیا میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہوں؟

کون ہو تم ؟

میرا نام حبیب ہے، مجھے یہاں دفن ہوئے دو سال سے زیادہ ہوگئے اور آپ؟

کیا آپ مردہ ہو یا زندہ؟

میں دنیا کے لیے تو مرچکا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ بھی میری طرح دیکھ اور سن سکتی ہیں؟

میں تو چلتا پھرتا ہوں اور اپنے خاندان والوں کو دیکھ بھی آتا ہوں

کیا میں واقعی اپنے خاندان کو دیکھنے کی استطاعت رکھتا ہوں؟

اے سیدانی، یہاں ہم زندہ ہيں۔

اور کیا تم چاہتی ہو کہ تم دیکھی جاؤ

دائیں طرف ہاتھ کو آگے بڑھاؤ اور ایک بار آپ نے مجھے چھولیا تو مجھے دیکھ سکوگی ۔

میں واقعی تمہیں دیکھ پاتا ہوں۔ پہلے تو میرا گمان تھا کہ میں ہی بس یہاں دفن ہوں اور جلد ہی ہر شئے اپنے انجام کو پہںج جائے گی۔

کیا تم یہاں سے نکل کر میرے ساتھ پکنک منانے چلوگی ؟

اچھا

تم کون ہو؟

میرا نام باربرا ہے

تمہارے ساتھ کیا ہوا؟

مجھے کسی نے قتل کردیا۔

کس نے؟

اس کی آب کوئی اہمیت نہیں ہے، تم بس میری اتباع کرو

پلک چھپکنے میں وہ ایک محل کے سامنے کھڑے تھے۔ وہاں مکمل خاموشی کا راج تھا۔

اے حبیب، دیکھو، یہ میرے بیٹے ماکس کا کمرہ ہے۔ اگر وہ موجود ہوا تو ہمیں نظر آئے گا  کہ وہ پہلو میں اپنی ماں کی تصویر رکھے لیٹا ہوگا۔

باربرا رونے لگی، حبیب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور نیچے بٹھا لیا۔ وہ تھوڑا سا جھکی۔ اور اپنے بیٹے ماکس کی پیشانی کو اپنے سے چمٹالیا اور بالوں میں مسح کیا۔ اس میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس نے اپنے جسم میں گرمی محبت محسوس کی۔ اس نے اپنی ماں کی تصویر اٹھائی اور اسے گلے لگایا اور پھر سوگيا۔

نیریما کا کمرہ، اس کا کی درمیان والی بیٹی، وہ اپنی والدہ کا نائٹ گآؤن پہنے بیڈ پہ پڑی سورہی پھے۔ اور اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے باربرا بیڈ کے کنارے پہ بیٹھ گئی۔ نیریما نے اس کی پیشانی کو چوما۔ اور اس کے کانوں میں سرگوشی کی،’نرما،میں تمہارے نزدیک ہوں۔

نریما نے اپنی آنکھیں کھولیں: ماما کیا تم یہاں ہو۔ ابھی وہ رونے کو تھا تو وہ بھی رونے لگیں۔ حبیب نے باربرا کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے چل دیا۔

آخر کار اسے اپنی چھوٹی بیٹی انطوان پہ ہی مطمئن ہونا پڑا، وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی، لیکن اسے وہآن نہ پایا، محل کے سبھی کمروں میں اس کا وجود نہیں تھا۔ اسے اپنے بیڈروم کا خیال آیا، اس نے اسے کھولا تو اسے اپنے آنسوؤں میں ڈوبا ہوا پایا۔ وہ اس کے قریب گئی اور ممکن تھا کہ وہ اسے اپنی گود میں لیکر اپنے آپ سے لپٹا لیتی لکن حبیب نے قوت سے اسے اپنے ساتھ کھینچا اور دوسری جگہ لیکر اڑگیا۔

باربرا کی خواہش تھی کہ اس کی اولاد ایک بار ہی کے لیے سہی اس کے سامنے ظاہر ہو ، تاکہ وہ ان کو ایسے اپنی آغوش میں سموئے جیسے پہلے کبھی نہ سمویا ہو۔

اس نے حبیب سے پوچھا، ‘ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بار پھر میں ان کے سامنے جاؤں؟

حبیب: میں سب کچھ نہیں جانتا۔ میرے پیچھے آؤ ہم موت کے فرشتے سے پوچھتے ہيں۔

موت کا فرشتہ ابہام کا لباس پہنے تھا اور خوشبوؤں میں بسا ہوا تھا۔

باربرا نے اس سے پوچھا،” ہمیں معاف کرنا سیدی، کیا آج آپ نے کہیں جانے کا وعدہ کیا ہے؟

ہاں، آج میں نے ایک نوے سال کی بوڑھی روح کو قبض کرنا ہے۔

کیا آپ میرا ایک سوال سنیں گے؟

جلدی سے سناؤ

کیا مجھے یہ اختیار ہے کہ میں اپنی اولاد کے سامنے ظاہر ہوجاؤں؟

………………………………..

تم ایسا نہیں کرسکتیں

زندوں کے سامنے (مردہ) کا ظاہر ہونا شیطان کا کام ہے۔۔۔۔ تمہارا اپنی اولاد کے سامنے آنا ان میں کئی ایک نفسیاتی عارضے پیدا کرسکتا ہے۔

میں سمجھ سکتی ہوں سیدی ملک الموت ،لیکن مجھے تو اچانک سے مار دیا گیا، جیسا کہ تم جانتے ہو۔

میں نے کہا نا کہ یہ محال ہے۔

اور موت کا فرشتہ اڑتا ہوا بہت دور چلاگیا۔

باربرا کو محل کی طرف پلٹنا پڑا تاکہ وہ کئی اور امور کو دیکھ سکے۔ حبیب اس کو وہاں لے گیا۔ اس نے اپنے شوہر کو ایک شاندار کار سے اترتے دیکھا۔ اس کی روسی بیوی ماریا اس کے ہمراہ تھی، وہ دونوں محل میں داخل ہوگئے، باربرا کا شوہر ماریا کے پچھواڑے کو سہلارہا تھا اور اس نے اس سے کہا کہ ایک روسیا کا پچھواڑا مستحق اہتمام ہوتا ہے اور میں رات کو اس کا اہتمام کروں گا ۔۔۔۔ اور اس نے زور دار قہقہہ لگایا۔

باربرا اس کے پچھواڑے کو دیکھنے کے لیے مڑی تو حبیب نے اس سے کہا

اس کی فکر چھوڑو،تمہارا پچھواڑا بھی ایسے ہی مستحق اہتمام ہے اگر تم چاہو تو

بری بات ہے اے حبیب ہم مرچکے ہیں۔ ۔۔۔ پھر اگر تم بھی ایسے میرے پچھواڑے کو دیکھوگے تو  میں اس کی اجازت نہیں دوں گی۔ ۔ہم یہاں فقط انسانی مشن پہ ہیں کیا آپ سمجھتے ہو اس بات کو؟  

حبیب نے پھر بھی اس کے پچھواڑے کو دیکھ کر شہوت سے رال ٹپکانا بند نہ کی

میں نے تو تمہارے جسم کو دیکھا ہی نہیں جو اسقدر حسین ہے کہ میں اسے چومے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یہ تو مردہ حقیر ہے،تم اس سے کیا کروگے؟ جاؤ ابھی کے ابھی اپنی قبر میں لوٹ جآؤ ۔۔۔مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

 مجھے افسوس ہے لیکن تم واقعی زھد شکن حسینہ ہو۔

بکواس بند کرو، میں نے کہا نا چپ ہوجاؤ

دیکھو۔۔۔ تمہارا شوہر اپنی دلہن کے ساتھ بیڈروم میں جارہا ہے، ویسے اس کا نام کیا ہے؟

اس کا نام رابرٹ ہے

آؤ، جلد ہی پچھواڑے والی فلم شروع ہوجائے گی

میں نے کہا نا بکواس بند کرو

روبرٹ اپنی پہلی اولاد پہ اکتفاء کیوں نہیں کررہا؟

وہ بس میرے بچے ہیں  

اوہ یعنی وہ تو بس ان بچوں کی ماں کا شوہر ہے

احمق

میں ٹھیک ہوں

………………..

تمہیں اب کس بات کی چنتا ہے؟

میں اس کا بستہ چیک کرنا چاہتی ہوں

لیکن بستہ تو بیڈروم میں ہے

تو تم اندر داخل ہوجاؤ

واقعی؟

یہاں ابتک جو ہوا اس سے تمہیں کچھ لینا دینا نہیں ہے

پچھواڑے کی تفصیل کا قصد ہے تمہارا؟ بلکہ وہی اصل معاملہ ہے۔۔۔ تو جلد ہی اس بستے اور اس کے صاحب کا پتا چل جائے گا اگر تم چاہو تو۔ جلدی کرو دیر مت کرو

حبیب نصف گھنٹے سے کچھ دیر تک غائب ہوا اور پھر لوٹ آیا

اس قدر دیر کیوں لگائی

مجھے نہیں پتا تھا کہ اس روسی عورت کے پچھواڑے میں اتنی لذت ہوگی

حبیب نے باربرا کے پچھواڑے کی طرف نظر کی

تمہارا پچھواڑا تو امریکی لگتا ہے ، اس کے لیے تو کسی بھاری بھرکم بازو کی ضرورت پڑے گی

تم بکواس بند کروگے کہ نہیں ؟

کیا تم امریکن ہو؟

اے اللہ، اب یہ کیا مصیبت ہے

مجھے پریشان مت کرو،۔۔۔۔۔۔ براہ کرم باربرا

اچھا۔۔۔ اب یہ بستہ کھولو

دیکھو، یہ میری کمپنی کے معاہدے ہیں

اس کا کیا مطلب ہے؟

چھوڑو مجھے پہلے ان کاغذات کو پڑھنے دو

تمہارے چہرے کے تاثرات کیوں بدل گئے ہیں؟

بہت برا، برا ہوا،،، سارے معاہدے اس کے نام ہیں

اس کے ساتھ کیا کرو گی؟

میں اس کاغذ کو اپنے پاس رکھوں گی،،،، نہیں نہیں میں سارے کاغذات اپنے پاس رکھوں گی

اور ان سے کیا کام لیا جائے گا؟

جن امور کا تم سے تعلق نہیں ان پہ مجھ سے جھگڑو مت

اچھا۔۔۔بہت اچھا۔۔۔سمجھتا ہوں تمہارا مطلب کیا ہے

بستے کو واپس کمرے میں رکھ آؤ

واقعی؟

……………………………

میری طرف اس طرح سے نہ دیکھو ۔۔۔مجھے تھوڑی دیر لگے گی

میں اپنے بچوں کی طرف سے مطمئن ہونے کے لیے جاؤں گی

تب میں روس کو کھولوں گا

روس تو ایک دن کے لیے بھی مغلق نہیں ہوا

یہ تمہاری رائے ہے، میرے نصیب میں تاریخ روس کا سب سے بڑا پچھواڑا ہے ۔۔۔ میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ میں واقعی مرچکا ہوں

فجر کا وقت ہوگیا تھا۔ دونوں فوری طور پہ اپنی اپنی قبروں میں لوٹ گئے۔

حبیب پسینے میں شرابور واپس آیا تو باربرا حزن و بکآ کے ساتھ پلٹی

تمہیں کیا ہوا

میرے بچے اے حبیب میرے بچے

اور کاغزات کہاں ہیں

میں نے ایک جگہ محفوظ کردیے ہیں  

اپنا ہاتھ دو۔۔۔ وہ دونوں زمین کے نیچے لوٹ گئے، حبیب ایسے سویا جیسے پہلے کبھی سویا نہیں تھا،باربرا جاگتی رہی اور انتظار میں رہی کہ کب رات پلٹ کر آئے۔.

باربرا نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آواز ریکارڈ کرکے اپنے وکیل البرٹو کو بھیجے گی اور اس نے ان سارے اسرار کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایسے ہی وہ اپنی ساری جائیداد اپنی اولاد کے نام کرنے کا فیصلہ ریکارڈ کرے گی اور ان کمپنیوں میں مالی و قانونی مشیر کے طور پہ البرٹو کو برقرار رکھے گی۔

وہ موت کے فرشتے کے پاس گئی اور اس سے اجازت طلب کی، اس نے اس سے اتفاق کیا اور اس کے لیے انتظام میں لگ کیا۔

وہ ایسے بات کررہی تھی جیسے مری نہ ہو۔ اس نے اپنے شکوک کی بنیاد منطقی مفروضوں پہ رکھی تاکہ وہ اس کو ماننے پہ مجبور ہوجائے۔

وہ البرٹو کے گھر پہنچی، ٹیپ کو  اس نے پہلے دروازے کے سامنے رکھ دیا اور پھر گھنٹی بجائی ، البرٹو اپنے کتب خانے میں کچھ کاغذات پڑھنے میں مصروف تھا۔ اس نے دروازہ کھولا مگر کسی کو نہ پایا۔ پھر اس نے ٹیپ کو پایا پھر اس نے عمارت کے نگران کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس نے کسی کو عمارت میں آتے یا باہر جاتے تو نہیں دیکھا،نگران نے اسے بتایا کہ اس نے تو ایک گھنٹے پہلے عمارت کا دروازہ بند کردیا تھا۔ البرٹو نے ٹیپ کو دیکھا،پریشان کن سوالات نے اس کی سوچنے کی صلاحیت کو شل کردیا تھا۔۔۔ باربرا اور حبیب اپنے ٹھکانے پہ آرام کررہے تھے۔

صبح اٹھ کر البرتو ٹھوس ثبوت کے ساتھ عدالت گیا تھا۔  

فقط ؟

باربرا کا قاتل اس کا ڈرائیور ہے۔اس نے رابرٹ سے دس لاکھ ڈالر لیے اور ملک سے فرار ہوگیا۔ رابرٹ اپنی بے گناہی کے ثبوت پیش نہ ہونے کی بنا پہ ڈھے گیا اور اعتراف جرم کرلیا۔ عدالت نے اسے عمرقید کی سزا سنائی۔ باربرا تاابد سکون کے ساتھ آرام کرنے سے پہلے اپنا حتمی مشن پورا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔ اس نے موت کے فرشتے کے پاس حاضری دی اور اس کے سامنے خواہش ظاہر کی کہ وہ پہلی اور آخری مرتبہ اپنے شوہر کے سامنے ظاہر ہونا چاہتی ہے، اس نے جواب میں کہا

کیا تمہں پتا نہیں ہے کہ تم اس سے پہلے اپنی اولاد کے سامنے جانا چاہتی تھیں؟

ہاں سیدی، لیکن اب میں ان کی طرف سے مطمئن ہوں

اور اب اپنے شوہر کو کیوں؟

میں اس سے بدلہ لینا چاہتی ہوں

بس؟

براہ کرم اے میرے سردار

بس اتنا ہی؟

……………………………..  

لیکن ایک شرط ہے

مجھے منظور ہے سیدی

چاندنی رات کے بعد تمہارا ظہور گرد میں چھپ جائے گا

یہ کیا ہے؟

یہ میری شرط ہے ہے۔

اور میری اولاد؟

یہ میری شرط ہے

موت کے فرشتے میرے سردار،مجھے منظور ہے

باربرا نے حبیب کو وصیت کی کہ وہ گاہے بگاہے اس کی اولاد کو دیکھنے جایا کرے گا۔۔۔۔ اور وہ غائب ہوگئی۔

جیل میں رابرٹ گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔ باربرا نے اس کی چادر ہٹائی اور اس کی طرف دیکھا تو اسے بڑے سر اور ایک آنکھ کے ساتھ سوکھا سڑا جسم نظر آیا۔۔۔۔ اس کے ایک کان سے بھڑکتی آک کے شعلے نکل رہے تھے۔۔۔ اس نے سرمئی رنگ کا پستول اس پہ تان دیا اور سر پہ اس نے ٹریگر دبا تو اس سے شعلہ نکل کر اس کی کھوپڑی میں گھس گیا۔ وہ اسے نیچے گرا کہ اس کے بازو ہوا میں بے کار میں کھلے پڑے تھے۔ تصویروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ دور دراز کے بچپن سے منسلک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here