اس ہفتے ہمیں عکس پبلی کیشنز داتا دربار سٹریٹ لاہور سے شایع ہونے والی کتاب ‘ بیان میر-میر سے متعلق مضامین’ موصول ہوئی ۔ اس کتاب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی انڈیا کے شعبہ اردو کے استاد احمد محفوظ کے میر تقی میر پہ لکھے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔

احمد محفوظ کے مضامین کی یہ کتاب 2013ء میں ایم آر پبلیکیشنز نئی دہلی نے شایع کی تھی اور پاکستان میں یہ پہلی بار عکس پبلیکیشنز لاہور نے شایع کی ہے۔ اس کتاب میں احمد محفوظ کے میر پہ لکھے نو مضامین شامل ہیں۔ دو مضامین ایسے ہیں جو ہندوستانی ایڈیشن میں شامل نہیں تھے۔

احمد محفوظ نے میر تقی میر کے اشعار کے کل چھے دیوان کو دو جلدوں میں ازسرنو مرتب کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو نے ان کی ازسر نو ترتیب شدہ کلیات میر کی دو جلدوں کو شایع کیا ہے۔’میر کا جہان دیگر’ مضمون میں وہ ہمیں تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے کلیات میر کی دو جلدوں میں ازسر نو تدوین کی اور وہ اس دوران وہ کیسی مشکلات سے گزرے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کلیات میر کے نو قلمی نسخوں کو سامنے رکھ کر کلیات میر کی دو جلدوں کو ترتیب دیا گیا۔(ص55-57) اور ان کا کہنا ہے کہ ان نوترتیب شدہ کلیات میں کلام کو نئی ترتیب کے ساتھ رکھا گیا اور یہ ترتیب ان کے بقول زیادہ بااصول اور سہل الفہم ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ترتیب کلام صنف کی بنیاد پہ تشکیل دی گئی ہے۔ ان کی ترتیب جلدوں میں میر کی 38 مثنویوں کو آٹھ ذیلی عنوانات کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جبکہ جن مثنویوں میں میر کی خودنوشت سوانح ہے ان کو’خودنوشت سوانح’ کے عنوان سے الگ خانے میں رکھا گیا ہے۔ کلیات میر میں 112 رباعیات شامل کی گئی ہیں۔

احمد محفوظ اپنے مضمون ‘ میر کا جہان دیگر’ ہمیں بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر مسیح الزماں مرحوم نے میر تقی میر کے مراثی اور سلام کو اکٹھے کرکے ‘مراثی میر’ کے نام سے شایع کیے اور اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا کہ کلیات میر کے جتنے قلممی نسخے ہیں، وہ ان سے خالی ہیں۔ لیکن احمد محفوظ بتاتے ہیں کہ حیدرآباد میں جو قلمی نسخے ہیں ان میں یہ مراثی اور سلام شامل ہیں۔ احمد محفوظ کا کہنا ہے کہ ‘میراثی میر’ میں میر تقی میر کے 34 مرثیے اور 5 سلام شامل ہیں، جبکہ ان کے ترتیب دیے گئے کلیات میر کی دوسری جلد میں 34 مراثی اور 7 سلام ہیں۔ اس میں ایک مرثیہ جو ڈاکٹر مسیح الزماں نے دو الگ ٹکڑوں میں شایع کیا، اسے ایک ہی مرثیہ میں رکھا گیا ہے جبکہ ایک مرثیہ وہ ہے جو ‘مراثی میر’ میں نہیں ہے جو اس طرح سے شروع ہوتا ہے’فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا’، اور دو مزید سلام ہیں جن کے پہلے مصرعے ہیں

اے سبط مصطفی کے تجھ کو سلام پہنچے

السلام اے کام جان مصطفی

احمد محفوظ کا کہنا ہے کہ ان کی مرتب کردہ کلیات میر کی جلد دوم میں پہلی بار میر تقی میر کے سارے مراثی اور سلام درج ہوئے ہیں۔

احمد محفوظ ہمیں اپنے مضمون میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ میرتقی میر کے اشعار میں کچھ اردو الفاظ ایسے ہیں جن کو میر نے جن معنوں میں استعمال کیا وہ اردو میں دیگر شعرا تو کیا نثر نگاروں کے ہاں ملنا مشکل ہیں جیسے

اگر ہے یہ قصّہ بھی حیرت فزا

ولے ولے میر یہ عشق ہے بد بلا

(شعلہ عشق)

میں ‘اگر’ اگرچہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس کی مثال اردو میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایسے میر کا شعر

غلط  کاری وہم کچھ کم ہوئی

وہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئی

(خواب و خیال)

تو احمد محفوظ کہتے ہیں کہ بہار عجم میں ‘غلط کاری’ کے معنی ‘ درمغالطہ انداختن’ درج ہیں۔ یعنی دھوکے میں ڈالنا  یا دھوکا دینا۔ احمد محفوظ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معنی ذہن میں نہ ہو پورے شعر کا مفہوم غارت ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی احمد محفوظ میر کے کہے 12 مرثیوں سے ایسے الفاظ لاتے ہیں جو ان کے مطابق عام معنی سے ہٹ کر ہیں اور ان معانی کی اردو میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ احمد محفوظ کلیات میر میں میر کے اشعار کو باعتبار صنف 14 اصناف میں تقسیم کیا ہے اور ہئیت کے اعتبار سے 8 قسموں میں اور ان کی تفصیل 92 تا 93 پہ دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ مراثی  احمد محفوظ کے مطابق کچھ یوں ہیں کہ 26 کی ہئیت مربع، 2 کی مسدس،مسدس ترجیع بند کی ایک،محمس ترجیع بند کی ایک ،ترکیب بند کی ایک اور دیگر کی تین ہیں۔

احمد محفوظ کے نو مضامین کہنے کو تو تعداد میں نو ہیں اور 175 صفحات کی کتاب ہے جس میں 13 صفحات ٹائٹل کتاب،انتساب و پیش ہائے لفظ کے نکال دیں تو مضامین 165 صفحات پہ پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ مضامین میر تقی میر کی شاعری اور ان کی شعریات و رسومیات کو سمجھنے میں ہماری بہت مدد کرتے ہیں۔

احمد محفوظ نے اپنے کم و بیش 6 مضامین میں میر تقی میر کی شاعری بارے ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک غالب رہنے والے کچھ نظریات کو چیلنج بھی کیا ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ میر تقی میر کی شاعری کے بارے میں فکری مغالطے پیدا کرنے اور ان کے بارے میں کچھ کلیشوں کو عام کرنے میں سب سے زیادہ کردار محمد حسین آزاد کی کتاب ‘ آب حیات’، مولانا الطاف حسین حالی کے ‘مقدمہ شعر و شاعری’ اور مولانا عبدالحق بابائے اردو کے ‘انتخاب میر’ کے مقدمے میں کی گئی باتوں نے ادا کیا ہے۔ احمد محفوظ نے یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے مصطفی خان شیفتہ کی کتاب ‘ گلشن بے خار’ میں مفتی صدر الدین آزردہ کا میر تقی میر کی شاعری بارے ایک جملے کو کیسے مسخ کیا گیا۔

پستش اگرچہ اندک پست است اما بلندش بسیار بلند

ان کا پست کلام تھوڑا سا پست اور بلند کلام بہت زیادہ بلند ہے

مولانا حالی نے اندک پست(تھوڑا پست) کو بغایت پست (بہت ہی زیادہ پست) ہے سے بدل ڈالا۔ اور مولانا عبدالحق بابائے اردو نے اس تحریف شدہ عبارت کو من و عن نقل کرڈالا(ص109)

احمد محفوظ نے ‘میر کی خیال بندی’ میں امثال سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ میر کے اشعار میں بھی جابجا مشکل پسندی موجود ہے۔ اور بظاہر سہل نظر آنے والے اشعار میں بھی سہل پسندی نظر کا دھوکا ہوسکتی ہے۔ یہ بہت دلچسپ مضمون ہے۔

الغرض احمد محفوظ  کے مضامین پہ مشتمل ‘کتاب میر’ کا پاکستان میں شایع ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ طالب علموں اور مدرسین اردو ادب کو اسے لازمی پڑھنا چاہئیے۔

کتاب عکس پبلیکیشنز بیک اسٹریٹ داتا دربار مارکیٹ لاہور سے شایع ہوئی ہے۔ اور اسے منگوانے کے لیےدرج ذیل رابطہ نمبرز پہ رابطہ کیا جاسکتا ہے

#03004827500

Publications.aks@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here