امریکہ تو اب طالبان سے اعلانیہ مذاکرات کررہا ہے، امریکہ کے پاکستانی چمچے خاموش کیوں ہیں؟

وہ پاکستانی لبرل اور ان کی بولی بولنے والے امریکی و برٹش لبرل تجزیہ کار کہاں ہیں، جنھوں نے ہمیشہ یہ کہا کہ امریکہ سمیت ساری دنیا نے سبق سیکھ لیا کہ ‘اچھے،برے عسکریت پسند’ نہیں ہوا کرتے۔ سب کے سب بدمعاش ہیں اور ان کا ایک ہی حل ہے بمباری کرو اور فنا کردو۔’

اس نئی پیش رفت پہ پیارے حسین حقانی، طارق فتح، نجم سیٹھی جیسوں کا بیانیہ کہاں ہے؟

ان جیسوں نے کئی سالوں سے پاکستان بارے یہ مبالغہ آمیز پرچار کیا، خاص طور پہ پاکستانی فوج بارے  کہ بس یہی اور صرف یہی پاکستان اور اس کی فوج ہی وہابی سلفی تکفیری فاشزم کی جنم داتا ہے۔ اس دوران انہوں نے تکفیری فاشزم جیسا دہشت گردی کا بھوت پوری مسلم دنیا میں داخل کرنے بارے امریکہ کے کردار کو چھپایا، خاص طور پہ نائن الیون کے بعد سے اس کی دنیا بھر میں فوجی مداخلتوں اور پراکسی جنگوں کو ان جیسوں نے ترقی پسندی، تہذیب سازی اور روشن خیالی پھلانے کا منصوبہ بتایا۔ اور انہوں نے مڈل ایسٹ، جنوبی ایشیا، لاطینی امریکہ، افریقہ، وسط ایشیا اور مشرق بعید میں ریاستوں کو کمزور کرنے اور وہاں خانہ جنگی، ٹوٹ پھوٹ، فرقہ وارانہ و نسلی تضادات کی آگ کو بھڑکانے کی ساری ذمہ داری مقامی حکمرانوں یا وہاں کی افواج پہ ڈالی۔(اگرچہ مقامی اسٹبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا)

جبکہ ہمیں اچھے سے پتا ہے کہ مالی سے لیکر لیبیا تک اور شام سے لیکر عراق تک فرقہ وارانہ جنگ  کو بھڑکانے کی امریکی-سعودی پالیسی اور تکفیری فاشزم کے علمبردار دہشت گردوں کی سہولت کاری بڑی حد تک پاکستانی فوج کے کردار سے خالی تھی ۔

تاہم، ہم میں سے کچھ لوگوں نے جب بھی تکفیری عفریت اور بھوت کی مکمل تصویر کشی کی کوشش کی تو عارف جمال، حسین حقانی اور ان کے مامور کردہ گالم گلوچ بریگیڈ فوری سرگرم ہوجاتے۔ جو بھی تکفیری فاشزم کے بطور ایک عالمی نیٹ ورک ہونے کی نشاندہی کرتا، اس پہ فوری ‘بوٹ پالشیا’ ‘یوتھیا’ ہونے کا لیبل لگادیا جاتا اور اس کے خلاف انتہائی غلیظ فرقہ وارانہ زبان استعمال کی جانے لگتی۔

اور اس دوران اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہوا کہ اس کمرشل لبرل مافیا نے طالبان کے سہولت کار، جنرل ضیاء الحق کی باقیات اور سب سے بڑھ کر پاکستان میں تکفیری فاشزم کے نیٹ ورک کے سرپرست اعلی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان کے لیے نئی’ سیکولر لبرل امید’ بناکر پیش کیا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت ایکبار پھر تکفیری فاشزم کی کی بین القوامی جہت کا اظہار اور ثبوت ہے۔ یہ فاشزم اخوان/جماعت اسلامی ٹائپ کی مذہبی سیاست کے باہمی نفوز اور سعودی سپانسرڈ وہابی سلفی دیوبندی فاشزم سے اس کی باہمی مسابقت کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کی مقامی اسٹبلشمنٹ نے داخلی اور بیرونی سطحوں پہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان تاریک قوتوں کا جو استعمال کیا، وہ ایک ایسا کردار ہے جس کو چھپایا نہیں جاسکتا، لیکن امریکہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور اس کے محبوب اتحادی جیسے سعودی عرب  ان تاریک قوتوں کو پیدا کرنے اور ان کی سہولت کاری کرنے میں سب سے آگے رہی ہیں اور مرکز کا کام بھی دیتی رہی ہیں۔ اور اب  تکفیری فاشزم کی یہ تاریک قوتیں اپنی افادیت کو پوری طرح سے استعمال کرچکی ہیں ، کم از کم افغانستان میں تو ایسا ہی ہے جہاں پہ امریکہ نے پوری پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے طالبان کی جگہ داعش لے لے۔  

طالبان امریکی نکتہ نظر سے افادیت کھوچکے تھے تو کوشش ہوئی داعش ان کی جگہ لے،لیکن امریکہ کی یہ کوشش ناکام ہوگئی تو اب وہ طالبان سے مذاکرات پہ مجبور ہوگئے۔ اس دوران واشنگٹن کے چمچے جیسے حسین حقانی نیٹ ورک وغیرہ ہے یہ ایک طرح سے یتیم ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان کے جھوٹ کا پول کھل گیا اور صورت حال اتنی تیزی سے تبدیل ہوئی کہ ان کا سارا بیانیہ ہی خام نظر آنے لگا۔

بات بہت سادہ ہے

الف: پاکستانی فوج کی جو اپنی وہابی سلفی دیوبندی تکفیری قوتوں کی حمایت کی پالیسی تھی وہ بری طرح سے ناکام ہوگئی ۔ خاص طور پہ اے پی ایس کے حادثے کے بعد۔

ب: پی ٹی ایم کو پاکستان میں سیاسی طور پہ سازگار فضا ملی

ج: امریکہ کو شام، یمن اور اب وینزویلا میں چیلنچ کردیا گیا ہے

د: نواز شریف مٹی کا ڈھیر ثابت ہوا ہے۔ اور عمران خان کی پی ٹی آئی اور طالع آزماؤں کو اگر کہیں سے حقیقی چیلنج ملا ہے اور اپوزیشن دیکھنے کو مل رہی ہے تو وہ بلاول اور زرداری کی پیپلزپارٹی کی طرف سے مل رہا ہے۔

ج: فوج پہلے ہی منتشر خیالات کے حامل عمران خان اور اس کی نابالغ پی ٹی آئی کے انتخاب پہ بڑھتے پچھتاوے کا تجربہ کررہی ہے۔

کمرشل لبرل مافیا جس کے بہت سارے نیٹ ورک ہیں کا پلیٹ فارم اپنے آپ کو پاکستان میں لبرل جمہوری اقدار کا ترجمان بتاتا آیا، ان کے دعوے اکثر جھوٹ نکلے اور وہ آخری تجزیہ میں کسی نہ کسی کیمپ کے خریدے ہوئے ساختیہ ثابت ہوئے۔ حسین حقانی نیٹ ورک ہو، نجم سیٹھی نیٹ ورک ہو، امتیاز عالم کا نیٹ ورک ہو، عاف جمال اینڈ کمپنی کے گویے ہوں  ان سب کو تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے پوری طرح سے ننگا کردیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو مقامی پاکستانی اسٹبلشمنت نے ‘نوکری’ سے فارغ کردیا تو اب بہت سارے اور لوگوں کو امریکی اسٹبلشمنٹ فارغ کرنے کے قرب ہے۔

عام پاکستانی ان کے احمقانہ اور بددیانت تجزیوں سے بالکل بے زار ہوچکا ہے۔ عوام ان کی ایک جیسے اور جمود کا شکار کالموں میں زرا دلچسپی محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح ان کی اشراف زدہ ادبی میلوں میں بطور شریک پینل بکواس سے بھی لوگ اوب چکے ہیں جو کہ بالائی متوسط طبقے ، ناموں پہ جانے دینے والے کھوکھلے گروہوں اور طبقاتی چھلانگ لگانے والوں کی دلجوئی کے لیے سجائے جاتے ہیں۔  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here