یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ملک کے سب سے بڑے کاسموپولٹن شہر میں ایک انگریزی ماہنامے میں سٹاف انوسٹی گیٹو رپورٹر کی جاب کررہا تھا۔ مجھے ان دنوں میرے ایڈیٹر نے شہر میں چلی تازہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری بارے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

 کہا جارہا تھا کہ ملک بھر میں منظم طریقے سے شیعہ مسلمانوں کی نسلی صفائی کی مہم چل رہی ہے، اس کے پیچھے ایک فرقہ وارنہ عسکریت پسند تنظیم کا ہاتھ ہے۔اس تنظیم کی جڑیں ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں کے اندر بھی پیوست بتائی جاتی تھیں اور یہ بھی کہا جارہا تھا کہ اس کام میں اسے اسٹبلشمنٹ میں بھی ایک لابی کی حمایت حاصل تھی۔

جب کہ اس تںطیم کی طاقت کو کئی ایک سیاسی جماعتوں کی جانب سے استعمال کیے جانے کے الزامات بھی لگائے جارہے تھے۔ یہ تنظیم خود بھی کراچی شہر سمیت کئی شہروں میں انتخابی سیاست اور ووٹ پاور کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا جتن کررہی تھی۔

مجھے اس تنظیم کے گڑھ  میں، جہاں اس تںظیم کا ہیڈکوارٹر موجود تھا، کئی بار جانے کا اتفاق ہوا تھا۔میں اس تنظیم کی قیادت اور خاص طور پہ نوجوان صدر سے کئی ملاقاتیں کرچکا تھا۔ یہ نوجوان صدر ایک دور دراز کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا تھا اور وہیں سے نقل مکانی کرکے  اس شہر کا ہوگیا تھا۔ اسے اس تنظیم کے بانی کی شبیہ کہا جاتا تھا اور ان دنوں یہ ملک پہ حکمرانی کررہی ایک سنٹر رائٹ قومی پارٹی کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔

ایسے شواہد موجود تھے کہ ملک بھر میں اس پارٹی نے 30 سے زیادہ اس تنظیم کے اراکین کو اپنے ٹکٹ پہ قومی اسمبلی میں بھجوایا تھا۔ جبکہ اس تنظیم کو مڈل ایسٹ کے ایک انتہائی طاقتور ملک کے پاکستان میں مفادات کی نگران تںطیم بھی کہا جاتا تھا۔

بطور صحافی اس تنظیم کے نوجوان سربراہ کے مجھے قریب ہونے کا زیادہ موقع اس لیے بھی میسر آگیا کہ تنظیم کے سربراہ کو میڈیا پروجیکشن کا بہت شوق تھا۔خاص طور پہ انٹرنیشنل میڈیا میں اسے اپنے انٹرویوز کے نشر یا شایع ہونے پہ بہت فخر محسوس ہوتا تھا اور میں نے اپنے زرایع سے اس کے اس شوق کی کئی بار تکمیل کی تھی۔ اسی بہانے مجھے  تنظیم کے مرکز پہ اکثر وبیشتر آنے جانے میں آسانی ہوگئی اور مجھے اپنے کام کرنے میں بھی کافی سہولت میسر آگئی۔

اس دوران شہر میں شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا اور میڈیا کے لیے شیعہ کلنگ نیوز ہاٹ کیک بن گئیں تھیں۔ یہیں پہ مجھے مرکز کے باہر طارق معاویہ ملا تھا۔

طارق معاویہ بھی دوسرے صوبے کے ایک چھوٹے سے قصباتی شہر سے کراچی منتقل ہوا تھا اور وہ اس شہر کی ایک کچی آبادی میں رہا کرتا تھا۔اس کے والدین نے ہندوستان کے حال کے صوبہ ہریانہ  کے شہر کرنال کے ایک گاؤں سے ہجرت کی تھی۔ وہ روزگار کی تلاش میں کراچی میں منتقل ہوا تھا۔ اس کا گھرانہ پہلے سے ہی اس تنظیم سے منسلک تھا اور اس تنظیم کے بانی سے بہت عقیدت رکھا کرتا تھا۔ اس کے گھرانے کے لیے اس تںطیم کے سربراہ کا ہر لفظ  مقدس سچ سمجھا جاتا تھا۔اور اس کی ہر خواہش حکم کا درجہ خیال کی جاتی تھی۔

اس تنطیم کا اخبار’صدائے خلافت راشدہ’ اور اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے والے دیگر اخبارات خوب ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے،اور ويڈیو بیانات کی سی ڈیز بھی خوب دیکھی و دکھائی جاتی تھیں۔ وہ کبھی تنظیم کے سربراہ کو بالمشافہ نہیں ملا تھا لیکن تنظیم کے ترجمان اخبار میں چھپنے والے مواد کو پڑھنے کے بعد، وہ اس پہ قائل تھا کہ ملک بھر میں شیعہ  کے اثر ورسوخ کو جڑ سے اکھاڑکر ہی اسلام بچایا جاسکتا تھا۔ اور ان سے ہونے والے سلوک کو وہ درست خیال کرتے تھے۔

جب وہ سولہ سال کا تھا تو اسے تنظیم کے کہنے پہ افغانستان بھیج دیا گیا تھا،جہاں اس نے چھوٹے بڑے تمام ہتھیار چلانا سیکھ لیے تھے۔ اور اس دوران اس نے موٹر سائیکل اور کار میں بیٹھ کر ہدف پہ ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانا بھی سیکھ لیا تھا۔ جب وہ اپنے آبائی قصبے میں تھا تو اس نے اس دوران کئی لوگوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایک مرتبہ وہ پکڑا بھی گیا،مگر پھر اوپر سے کوئی کال مقامی تھانے کو آئی تو وہ چھوڑ دیا گیا۔ اسی دوران ایک فوجی آمر نے ان کی تنظیم پہ پابندی لگائی، امریکہ نے افغانستان پہ حملہ کردیا اور بہت سختی ہونے لگی، اور وہ جو زمینوں پہ قبضہ کرنے،چھڑانے یا لوگوں کے لین دین کے معاملات میں کمیشن پہ قرض وصولی کے کام سے جو پیسے بنالیتے تھے،وہ بند ہوگئے۔اس نے اس صورت حال میں کاسموپولٹن شہر جاکر روزگار ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔ اس کو پلمبرنگ کا کام بخوبی آتا تھا۔ اس کام کی کاسموپولٹن شہر میں بہت مانگ تھی۔ وہاں  میں اس کی خالہ اور خالو رہا کرتے تھے۔ خالو بھی پلمبر تھے، جبکہ خالہ گھروں میں کام کاج کیا کرتی تھی۔ وہ ان کے پاس ٹھہرگیا، خالو کو اپنا ایک مددگار مل گیا اور دونوں کی کمائی سے گھر کا خرچہ اچھے سے نکلنے لگا۔ خالہ،خالو کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔

طارق معاویہ کو کراچی میں رہتے ہوئے،12 سال بیت گئے تھے، اس دوران فوجی آمر رخصت ہوگیا تھا اور اس دوران ایک معروف پارٹی نے پاانچ سال حکومت کی تھی اور اس دوران اس کی تنظیم نے ایک نئے نام سے کام شروع کیا تھا، جس پہ اس پارٹی نے ایک بار پھر پابندی لگادی تھی، لیکن جب اس پارٹی کی حکومت گئی تو ایک ایسی پارٹی کی حکومت آگئی جو نہ صرف مڈل ایسٹ میں ان کی تنظیم کے سب سے بڑے سرپرست ملک کے حکمرانوں کے بہت نزدیک تھی بلکہ اس نے ان کی تنظیم کے لوگوں کو اپنی پارٹی کے ٹکٹ پہ ایم این اے تک بنوایا تھا۔ جبکہ اس تنظیم کے اس کے آبائی شہر میں موجود مرکزی رہنماء بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشتیں جیت گئے تھے۔

اس دوران ملک کے ایک صوبے میں علیحدگی کی تحریک جڑ پکڑنے لگی تو عسکری غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ نے نہ صرف علیحدگی پسند مسلح گروہوں بلکہ عدم تشدد پہ کاربند سیاسی رہنماؤں،دانشوروں، ادیبوں اور طالب علموں کی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے ڈیتھ اسکواڈ بنائے اور اس کے لیے ان کی تنظیم نے اپنی خدمات پیش کردیں۔ اس تنظیم نے نہ صرف علیحدگی پسندوں کو مارنا شروع کیا، ساتھ ہی انہوں نے وہاں پہ شیعہ مسلمانوں سے بھی حساب برابر کرنا شروع کردیا تھا۔ تنظیم پہ عسکری غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کے ہاتھ ہونے کے سبب اس تنظیم نے شیعہ مسلمانوں کے قتل کی سنچری مکمل ہونے پہ اس صوبے کے دارالحکومت میں بڑی تقریب منعقد کی تھی اور اس تنظیم کے سربراہ سمیت کئی لوگوں کو ایوارڈ اور شیٹ دی گئیں تھیں۔ ان سازگار حالات کے ہوتے ہوئے تنظیم نے کاسموپولٹن شہر میں بھی اپنے یونٹس پھر سے فعال کرڈالے تھے۔

طارق معاویہ سے بھی تنظیم نے دوبارہ رابطہ کرلیا تھا۔ اور طارق معاویہ کو کہا گیا کہ وہ کور کے لیے پلمبرنگ کا کام جاری رکھے۔

ایک دن خالہ نے خالو اور اسے بتایا کہ شہر کے ایک پاپوش علاقے میں واقع ایک گھر جہاں وہ کام کرتی تھی، کی مالکن کے دو بھائی امریکہ سے آنے والے ہیں، اور اس مالکن نے گھر میں پلمبرنگ کا کام کروانا ہے، اس نے پلمبر لانے کا وعدہ کرلیا ہے۔ اگلے دن اس کا خالو اور طارق معاویہ  اس پاپوش علاقے میں پہنچ گئے اور گھر کے سامنے پہنچے تو سامنے چھت پہ علم لگا دیکھ کر اس کے ہونٹ سکڑ گئے تھے۔ اس کی خالہ بھی ان کے ہمراہ تھی، اس نے دروازے پہ لگی بیل بجائی، دروازہ ایک معمر بردبار خاتون نے کھولا، اور خالہ نے بتایا کہ اس کے شوہر اور بھانجا پلمبرنگ کا کام کرنے آئے ہیں، خاتون نے ان کو اندر آنے کا راستا دیا۔ اور پھر اندر لیجاکر ان کو بتایا کہ پانی کے سارے پائپ بدلنا ہیں، گیس پائپ کی کئی جگوں پہ نئی فٹنگ کرنی ہے۔ دو کمرے جو لگتا تھا ازسرنو تعمیر ہوئے ہوں،ان میں بھی پانی اور گیس پائپ کی فٹنگ کرنا تھی۔

طارق اور اس کے خالو نے کام شروع کردیا اور اس کام میں ان کو دو ہفتے لگ گئے، اس دوران امریکہ سے مکان مالکن کے دونوں بھائی اور ان کی دیگر فیملی رکن بھی آن پہنچیں۔ عباس اور اشتر کو ان کے کام میں بڑی دلچسپی تھی، وہ دونوں ان سے بہت قریب ہوگئے،اگرچہ طارق بہت کم بات کرتا یکن اس کے خالو سے عباس اور اشتر کی بہت بات چیت ہونے لگی تھی۔ ان کے کام میں مہارت دیکھ کر عباس نے اس کے خالو کو یہاں تک کہہ ڈالا کہ ان کے کام کی امریکہ میں بہت مانگ ہے،اگر وہ چاہيں تو وہ ان کو سپانسر کرکے امریکہ بلواسکتا ہے۔اور اس پہ اٹھے اخراجات بھی وہ برداشت کرلیں گے۔ کام کے دوران ہی محرم شروع ہوگیا تھا۔ ایک دن مکان مالکن نے ان کو کہا کہ کل وہ کام نہ کریں لیکن ان کے گھر نیاز پہ ضرور آئیں۔

اس روز طارق جب شام کو گھر پہنچا تو اس سے ملنے تنظیم کا مقامی رابطہ کار اسے ملا اور ایک لفافہ اسے پکڑا کر چلتا بنا۔ طارف نے لفافہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس میں، اسی گھر کی تصویریں اور  عباس و اشتر کی تصاویر  تھیں جہاں وہ کام کررہے تھے۔ ساتھ ہی پیغام تھا کہ اسے اس گھر کا دروازہ کھلوانا ہے اور دروازہ کھلتے ہی اسے گھر کے اندر مشرقی سمت چلے جانا ہے۔ یہ سب پڑھنے کے بعد وہ سوچنے لگا کہ اپنے خالو اور خالہ کو کیسے اس گھر میں جانے سے روکے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ گھر سے نکلا اور اس نے ایک میڈیکل اسٹور کا رخ کیا اور وہاں سے کچھ ادویات اور سیرپ لیا۔اور گھر لوٹ آیا۔ صبح جب خالہ ناشتہ تیار کررہی تھی تو اس نے گوندھے آٹے میں آنکھ بچا کر سیرپ کے دو ڈھکن آٹے میں ملادیے اور چپکے سے دو گولیاں چائے کے پتیلے میں ڈال دیں۔ اسی دوران اس نے پیٹ خراب ہونے کا بہانہ کیا،اور کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کردیا۔ اس کی خالہ و خالو نے ناشتہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد ان کو جمائیاں آنے لگیں اور طارق نے ان سے کہا،لگتا ہے کہ اب تک تھکن نہیں اتری،آپ لوگ آرام کرلیں۔ اس کے بعد دو بجے کے قریب طارق نے ایک بس پکڑی اور اس پاپوش کالونی  میں گھر کے پاس ایک سٹاپ پہ اترا۔ جہاں پہ پینٹ شرٹ میں ملبوس دو نوجوان موٹر سائیکل پہ پہلے سے موجود تھے۔ طارق کا ان سے آنکھوں آنکھوں میں مکالمہ ہوا۔ طارق مکان کی طرف چل پڑا۔ تھوڑی دیر بعد موٹر سائیکل سوار اس کے پیچھے آنے لگے۔ مکان کے دروازے کے سامنے قنات لگی تھی، اس نے قنات کو ایک طرف سے اٹھایا اور دروازے کے سامنے جاکر دستک دی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو عباس اور اشتر دونوں کالے لباس میں ملبوس اس کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ ان سے ہاتھ ملاتا ہوا اندر داخل ہوگیا۔ عباس نے اس سے پوچھا، خالہ اور خالو نہیں آئے کیا؟ اس نے بتایا کہ ان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ عباس اور اشتر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندرونی دروازے کی جانب لیجانا چاہتے تھے کہ موٹر سائیکل والے دونوں نوجوان اندر داخل ہوگئے، ان کے ہاتھ میں پسٹل تھے، انہوں نے عباس اور اشتر کا نشانہ باندھا، سر اور سینے اور آنکھوں کو نشانہ بنایا۔ عباس اور اشتر وہیں گر پڑے، اس کے بعد وہ اندرونی دروازے کی طرف بڑھے تو کسی نے اس دروازے کو اندر سے بند کرلیا اور اندر سے چیخ و پکار اور رونے کی آوازیں آنے لگیں، دونوں حملہ آور نوجوان واپس پلٹے اور طارق جو زمیں پہ گرا ہوا تھا، اس کے پاس ایک لمحے کو رکے اور پھر چل پڑے اور دروازے کے پاس پہنچ کر انہوں نے طارق کی ٹانگ کا نشانہ لیکر فائر جھونک دیے۔گولیاں گوشت پھاڑتے ہوئے نکل گئیں، ان میں سے ایک نوجوان بولا، معاف کرنا طارق بھائی، یہ تمہاری سیکورٹی کے لیے ضروری تھا اور وہ باہر نکلتے چلے گئے۔

اس دوران دروازہ اندر سے کھلا، مکان مالکن اور چند اور عورتیں روتے چلاتے باہر نکلیں، مکان مالکن روتے ہوئے سینے پہ ہاتھ مار مار کر بار بار ‘ یا غازی عباس علم دار’ ہائے علی اکبر’ کہہ رہی تھی۔ عباس اور اشتر کب کے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ جبکہ وہ زمین پہ پڑا تھا، اس کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا، مکان مالکن اس کی طرف ہائے بیٹا کہہ  کر لپکی اور کہا ، ایمبولینس کو فون کرو، طارق بیٹا زخمی ہے، اس کا خون بہہ رہا ہے، اس نے اپنی چادر کا کونا پھاڑا اور اس کی ٹانگ جہاں سے زخمی تھی اسے سختی سے باندھ دیا تاکہ خون زیادہ نہ بہے۔ تھوڑی دیر میں ایمبولینس آکر اسے لے گئی۔

جب تک وہ ہسپتال رہا،مکان مالکن اس کا پتا کرتی رہی اور جب وہ گھر آگیا تو اس کی خالہ نے بتایا کہ مکان مالکن نے اس کی دیکھ بھال کے لیے دو لاکھ روپے بھجوائے تھے۔

جب طارق مجھے ملا تو اس وقت بھی وہ یہ سب کچھ نہیں بھلاپایا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ راتوں کو ٹھیک سے سو نہیں پاتا تھا۔ خواب میں عباس اور اشتر کے خون آلود چہرے اور مکان مالکن کا اپنی چادر کا پلو پھاڑ کر اس کی ٹانگ کے گرد باندھنا اسے نظر آتا اور وہ یک دم ہڑبڑا کر اٹھ جاتا۔

اس نے اس دوران تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے کئی چکر لگائے اور وہ تنظیم کے سربراہ سے ملنا چاہتا تھا۔ لیکن تنظیم کے سربراہ سے ملنا تو دور وہ اس کی جھلک بھی دیکھ نہ پاتے تھے۔ تنظیم کا سربراہ یکا یک ‘سفیر امن’ کہلانے لگا تھا۔اور تمام تنظیمی یونٹس کو کہا گیا تھا کہ جلسوں کے دوران اور ریلیوں میں مذہبی منافرت والے مخصوص نعرے بند کردیے جائیں۔ اور اس تنظیم کے سربراہ کی سپہ سالار ملک کے ساتھ تصاویر اکٹھی پینافلیکس پہ نظر آنے لگی تھیں۔

تنظیم کا ہیڈکوارٹر،ایک قلعے کی طرح سے تھا۔ وہاں پہ کوئی طارق کو پہچانتا تک نہیں تھا۔ اس نے مقامی یونٹ، سیکٹر انچارج اور یہاں تک کہ اپنے آبائی ضلع کے سربراہ تک کے سفارشی خطوط اندر پہنچائے تھے۔ لیکن اسے تنظیم کے سربراہ سے ملنے نہیں دیا گیا۔

طارق نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں کثرت سے تنظیم ہیڈکوارٹر آتا ہوں اور ان دنوں میں نے تنظیم سربراہ کے انٹرویوز کی ایک سیریز کی تھی۔ اس نے میرے آنے جانے کی روٹین دیکھ کر اور تھوڑی سی تحقیق کرکے ایک دن مجھے تنظیم کے ہیڈکوارٹر سے باہر نکلتے ہوئے روک لیا۔اور کہا،  کہ وہ مجھے کچھ بتانا چاہتا ہے اور اس نے مجھے سب بتادیا۔

ایک دن اس نے مجھ سے پھر ملاقات کی اور کہا

‘سر، آپ لگتا ہے امیر صاحب تک باآسانی رسائی رکھتے ہیں۔ اگلی بار آپ جب امیر صاحب سے ملنے آئیں تو کیا میرا ایک کام کریں گے؟

” میرے لیے جو ممکن ہوا،میں کروں گا”،میں نے اس سے کہا۔

” اگلی مرتبہ جب آپ امیر صاحب سے ملیں، تو کیا آپ ان کے سامنے میرا نام لیکر ان سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا میری وہ تھوڑی سی بھی قدر کرتے ہیں۔”

تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ میں نے اس سے زرا سختی سے پوچھا۔

” براہ مہربانی،کیا آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا معصوم بے گناہ لوگوں کو مارنا ٹھیک کام ہے؟وہ عباس اور اشتر کو کیوں مارا گیا، جبکہ وہ دونوں تو ہمیں امریکہ سپانسر کرنا چاہتے تھے اور مکان مالکن بو مجھے اپنے بیٹوں کی طرح چاہنے لگی تھیں۔ میں راتوں کو ٹھیک سے سو نہیں پاتا۔ عباس و اشتر کے خون آلود چہرے میرے خوابوں پہ قبضہ کربیٹھ گئے ہیں۔ کیا امیر صاحب کو نیند آجاتی ہے؟

میں جتنا بہادر اپنی تحقیقی رپورٹنگ میں نظرآتا ہوں،اتنا تھا کبھی نہیں، میں نے تنظیم کے سربراہ کے سامنے نہ تو طارق کا نام لیا اور نہ اس کا سوال اس سے پوچھا،مگر طارق کو کہا کہ میں نے سب کہہ دیا تھا،امیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ سب کہہ کر میں نے طارق کی جانب دیکھا تو اس کے چہرے پہ طنزیہ مگر اذیت بھری مسکراہٹ تھی،مجھے ایسا لگا جیسے وہ میرے جھوٹ کو بھانپ گیا تھا۔ وہ تیزی سے وہاں سے چلاگیا، میں نے اسے آواز دینا چاہی مگر نہ دے سکا اور وہاں سے چلا آیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here