اوپری طاقتوں کی ڈیزائین کے عین موجب حیدرآباد کی لسانی تقسیم کا عمل اختتام کو پہنچ چکا تھا سن دو ہزاریئہ شروع ہوئے بھی چار سال گذر چکے تھے

مومن خان سے ملاقات ان دنوں کی تھی

بیشک میں حیدرآباد کی رہنے والی بھی نہ تھی نہ ہی اس شھر کی اس لسانی تفریق سے آزاد اک ترقی پسند فکری و سیاسی ہم آہنگی کا عروج دیکھا تھا اس لیئے مومن خان کا مل جانا غنیمت تھا…

پھر مشترکہ خواب دیکھتے جس میں میرے ساتھیوں کے کامریڈ اے جی چانڈیو ہمارے ساتھہ ہوتے.

مومن خان نے اے جی چانڈیو کے شیڈو تھیٹر پرچھائیاں کے پس پردہ آواز میں ساحر کو

تحت الفظ پڑھتے

کیا اس کے آواز کی گونج ہوتی اور کیا جنگ مخالف سماں باندھتے

ضیا محی الدین کا فیض کا تحت الفظ بیشک مقبولیت لیئے ہوئے تھا مگر مومن جب نون میم راشد حسن کوزہ گر پڑھتے تو بات ہی کچھہ اور ہوتی…مشترکہ خواب یہ ہوتا کہ بڑے ادبی جلسے میں وہ ن م راشد کو پڑھیں گے اور نیچے پن ڈراپ سائیلنس ہوگی.. اور یہ بڑا ادبی جلسہ کوئی اور نہیں ہم کریں گے

یہ خواب ساتھہ دیکھتے اور اس کو کیسے ممکن بناتے یہ بھی اسکیمیں بنتی بگڑتی.

ترقی پسند سیاست کو این جی اوز چباڑ چباڑ کر ان کا فضلہ اگل رہی تھیں (اس فضلے نے کس قدر سیاسی و نظریاتی آلودگی پھیلانے وہ بحث پھر کبھی)

اس درمیان لسانی تفریق کا منطقی انجام یہ سامنے آیا کہ اردو آبادی کے تمام ترقی پسند فکری رکھنے والے بڑے نام اک اک کرتے شھر چھوڑ کر کراچی کے انسانوں کے جنگل میں ڈوتے گئے…

ان میں میرے فلسفے کے استاد فریدالدین شیخ صاحب بھی شامل تھے جن کے نسل کی ہجرت راجھستان کے مارواڑ سے شروع ہوئی اور پھر حیدرآباد کراچی اور پھر کنیڈا امریکہ اور اس کے آگے نجانے کہاں تک ان کی ہجرت ختم ہو…

میری آنکھیں بھیگ گئی تھیں جب فرید صاحب کو آخری دفعہ الوداع کہا تھا … اور اس وقت میں نے شدت سے تیس ستمبر پہ لعنت ڈالی جب اردو بولنے والوں کا حیدرآباد میں قتل عام ہوا…

اس قتل عام کے بعد اردو بولنے والوں کو الطاف بھائی اور سندھی قوم پرستوں کو قادر مگسی کی نئی لیڈرشپ ملی.

تیس ستمبر ضیا کے سواریوں کا پلان تھا اور اس نے کچھہ اور کیا نہ کیا حیدرآباد کو لسانی طور پہ تقسیم کر کے رکھہ دیا تھا.

ایم کیو ایم کی پہچان سندھی میں فاشسٹ جماعت کی سی تھی. گرچہ اس وقت حیدرآباد میں کوئی پہچانتا نہ تھا مگر کیفی اعظمی کی وفات کے وقت اس کا تعزیتی جلسہ رکھا اور سوچا کہ اس ترقی پسند شاعر کے نام پہ وہ لسانی تقسیم کچھہ کم ہوسکے اس لیئے اردو کے خالد وھاب کو اس پروگرام میں بلوا لیا…

بعد میں جب خالد وھاب صاحب ایم.کیو ایم کی سیٹ پہ اسمبلی کی سیٹ جیت گئے تو صدمہ سا ہوا کہ اس سے اچھا تھا کہ دوسرے جھانک چلا جاتا..

خیر مومن, حسن مجتبی اور اسلم خواجہ جیسے لوگ کچھہ لوگ اس وقت بھی ایسے تھے جو دونوں حلقوں کے اتحاد کے لیئے تگ و دو کرتے رہتے..

حسن سے تو دوستی بھی جب ہوئی جب وہ پاکستان چھوڑ کے جا چکے تھے …حیدرآباد تو ہمارے آنے سے پہلے چھوڑا تھا, اسلم خواجہ بھی کراچی چلا گیا تو لے دے کر مومن اور اے جی چانڈیو رہ گئے تھے.

اے جی کمال کے کامریڈ تھے… سدا چہرے پہ مسکراہٹ رہتی اور مومن انہی کی دین تھا…

پتہ نہیں کیوں چانڈیو نے جوانی میں ہی دل کا مرض پکڑ لیا تھا پھر اک ڈھلتی رات کو پریس کلب کی سیڑھیوں پہ دم توڑ گئے.

میں نے کامریڈ عاصم آخونداور بخشل تھلو کے ساتھہ مارکسی مئگزین آدرش نکالنا شروع کردیا تھا.

اس درمیان.مومن کراچی چلے گئے…

پھر کبھی مل بیٹھی کر بات کرنا نصیب نہ ہوا..کبھی کسی محفل میں ملتے..خانہ بدوش کھولا تو مومن یاد آئے کہ دوست حسن مجتبی کی کتاب کا مھورت رکھا.

اس دن مومن آئے وہی آواز کی گھن گرج..

مومن سے کہا کہ اب خانہ بدوش کو اس کی ضرورت ہے…

پر وہ کسی اور دنیا کی طرف نکل گئے..

کسی بھی پارٹی میں جانا ان کا بنیادی حق تھا مگر دل تسلیم نہ کرتا کہ ایم.کیو.ایم کو ان کی ضرورت ہے.

ضیا کے دنوں میں کراچی یونیورسٹی سے نکالے جانے والے فلسفے کے استاد عارف کے ان کا نام آیا وہ ان کے ساتھہ نامعلوم افراد کی طرف سے اٹھا لیئے گئے تھے. عارف بھی ایم.کیو ایم.میں چلا گیا تھا.

عارف کی رہائی کے بعد بھی جب اس کی وہی سرگرمی جاری رہی تو اس دفعہ وہ اٹھائے نہیں گئے پر ان کی پر تشدد لاش ملی گرچہ ان کی بیٹی نے یہ نہیں مانا کہ ان پہ کسی قسم کا تشدد ہوا پر ان کے باقی ساتھیوں کو پیغام مل گیا تھا.

مومن بظاہر تو ایکٹو نہیں رہا تھا.. اور خانہ بدوش پہ اک دفعہ ملاقات ہوئی تو وہی پرانے شوق یعنی ادب و تھیٹر کی طرف لوٹنے کی بات کی…

اور اس ایاز میلو میں ان کو ایاز تحت الفظ پڑھنے کو بلایا وہ نہ صرف آیا مگر جو پڑھا وہی انقلابیت, وہی جوش …حالانکہ انکو چھڑی پکڑ کر چلتا دیکھہ کر دل بیٹھی سا گیا تھا…

وہ کینسر کے مریض ہوچکے تھے..پر مجھے ان.میں وہی تازہ نظر آئی.

اب خبر آئی ہے کہ وہ پھر اک تاریکی میں اٹھا لیا گیا ہے… سندہ میں یہ پہلا بندہ ہے نہ ان کے آخری ہونے کی امید ہے جن کو دن دھاڑے اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر کئہ مہینے سال مسنگ پرسن کی.لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے.

وہ خوش نصیب ہوتے ہیں جو دوبارہ لوٹتے لیکن وہ بہت ہی کم ہونگے جو جیسے جاتے ہیں ویسے واپس آتے ہیں. ورنہ دو تین دن پہلے آزاد ہونے والے کی مبارکباد کے ساتھہ اک فوٹو چھپی وہ فوٹو دیکھہ کر میری آنکھیں بھیگ گئی تھیں, میں جو اس کی سیاست اور کسی بھی ذاتی حوالے سے ناواقف تھی. کہ اس آزاد ہونے والے کی آنکھوں میں خوفزدہ کردینے کی حد تک ویرانی تھی..اک دو سال کی اس قید میں وہ دس سال مزید بوڑھا ہو کے نکلتا تھا

نیو یارک میں بیٹھا ہوا میرا دوست اس ریاست کو غائبستان کہتا ہے..مگر یہ حقیقت ہے کہ مانگ پرسن کا معاملہ اب صرف سیاسی نہیں مکمل طور پہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے

آواز اٹھاؤ اس سے قبل کے اٹھا لیئے جاؤ

سندھ و بلوچستان میں ان خاندانوں کی خواتین ٘پریس کلبوں و سڑکوں پہ ہیں

پشتون اپنی کشتیاں جلا کر خوف کو شکست دے چکے ہیں

خوف کی پر تشدد جنگ ختم ہوا چاہتی ہے

حقوق کی جنگ خوف پہ فتح پا چکی ہے

خوف کی طویل جنگ اپنا پانسہ پلٹ چکی ہے

جس.کے پاس توپ اور بندوق ہے وہی خوف میں مبتلا ہے

ورنہ کینسر کا مریض کو جو اس وقت وھیل چیئر پہ تھا وہ بھی جب غائب کردہ اشخاص کی لسٹ کا حصہ بن جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ کون زیادہ خوفزدہ ہے

Image may contain: 4 people, including Kunwar Momin Khan Momin, people standing

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دائیں جانب مومن خان اور بائیں جانب امر سندھو مضمون نگار

پروفیسر امر سندھو سندھ یونیورسٹی جام شورو میں پڑھاتی ہیں اور سندھی زبان و ادب اور سیاست پہ ان کی گہری نظر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here