زینب ہو یا فریال یہ کوئی آخری کیس نہیں ہے… ایسے کیس ہوتے رہیں گے کیونکہ میں دیکھتی ہوں کہ آج بھی گلی محلوں میں بچے اکیلے نکلتے ہیں، سپارہ پڑھنے، ٹیوشن پڑھنے، سامنے والی دکان سے ٹافیاں لانے کے لئے. دستک کے جواب میں بچوں کا آ کر دروازہ کھولنے تک …..
یہ جو چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں گھر کے بڑوں سے ہورہی ہیں نا، یہی دراصل بڑے بڑے حوادث کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ مگر ہم نہیں سمجھیں گے کیونکہ ہم بہت خوش فہم ہیں، سوچتے ہیں کہ فلاں واقعہ قصور میں ہوا تھا، بھلا ہمارے علاقے میں کیسے ہوسکتا ہے؟

تو یہ جان لیجیے جنسی درندوں کا کوئی علاقہ نہیں ہوتا،جب ان کی جنسی بھوک جاگتی ہے تو شکاری چاردیواری کے اندر بھی شکار کھیل لیتا ہے، اس لئےایک ماں کو جاگتے رہنا چاہیے۔

والد کو مخاطب اس لیے نہیں کروں گی کہ وہ معاش کے سلسلہ میں صبح نکلتا ہے شام کو آتا ہے ایسے میں ہمارے ملک میں اکثرعورتیں ہی گھر پر رہتی ہے سو خواتین کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے…. جاگیے اس سے پہلے کہ ہمیشہ کاروگ لگ جائے۔

ہماری یونیورسٹیوں میں وہ طلبہ بھی پڑھنے کے لئے آتے ہیں جو دور دراز قصبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بس! ان سے ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ چھٹیوں میں جب اپنے گھروں کی طرف لوٹ کر جائیں تو اپنے علاقوں ، حلقوں میں ریپ کیسز کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی ضرور دیں کیونکہ ہمارے ہاں اب بھی ایسے بہت سارے علاقے موجود ہیں جہاں بجلی نہیں، گیس نہیں، پکی سڑک نہیں، پرائمری کے بعد سکول کا تصور بھی نہیں۔

جہاں 2018 میں بھی لڑکیاں بالیاں دور دراز کنوؤں سے پانی بھر کر لاتی ہیں، جہاں آج بھی دائی کو ڈاکٹر پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں مائیں جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں، جاب نہیں کرتیں، انھیں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔

چونکہ ریپ کیسز گاؤں، قصبوں میں کم ہوتے ہیں اس لئے بچے گلی محلے میں آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں لیکن اب اس دورمیں ایک ماں کو زیادہ سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کہ بچے صرف تمہارے سامنے ہی محفوظ ہیں۔

خواہ پڑوس کی شادی میں جانا ہو، کسی کی عیادت کرنی ہو یا اگر تم بیمار ہوجائو تو ہر صورت بچے اپنے ساتھ لے کر جاؤ ۔ ہسپتال میں ڈاکٹر چیک اپ کرنے میں نخرے کرے تو اسے صاف کہہ دو کہ تم میرے بچے کی ذمہ داری اٹھاؤ میں اسے باہر نکال دیتی ہوں!!!

بچوں کے معاملے میں دو ٹوک موقف اختیار کریں کوئی چاچا،ماما، تایا آپ کے بچوں کا ذمہ دار نہیں، گلی محلے کی کسی ماسی کا گھر تمہارے بچے کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں۔

درندوں کی جبلت کس وقت جاگ جائے، کچھ پتہ نہیں۔ نجانے وہ کس کمزور لمحے کے انتظار میں ہوں اور تمہاری ذرا سے بھروسے کی کوتاہی انھیں موقع فراہم کردے، اس لئے بس خیال کرو کہ بعد میں اپنا سینہ پیٹنے، اپنے سر کے بال نوچنے سے بھی کچھ حاصل نہ کر پاؤ گی۔

———————————————–

سائرہ فاروق کا تعلق مانسہرہ سے ہے اور وہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کررہی ہیں۔ ایسٹرن ٹائمز کی مستقل لکھاری ہیں

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here