آج پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں یوم کشمیر منایا جارہا ہے۔ اس دن پاکستان میں عام تعطیل ہے۔ ملک بھر میں اس روز چھوٹے بڑے جلسے جلوس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس ساری سرگرمی کا مقصد ہندوستان کی دو ملکوں کی تقسیم کے وقت سے تعطل میں پڑے کشمیر اور اہل کشمیر کی قسمت کے فیصلے کے حل کی طرف عالمی برادری کی توجہ کرانا مقصود ہے۔

اس مرتبہ بھی یوم کشمیر ایک ایسے موقعہ پہ منایا جارہا ہے جب بھارتی کنٹرول میں موجود کشمیر کے علاقوں میں بڑے پیمانے پہ سول نافرمانی کی تحریک چل رہی ہے۔ اور کشمیر کی آزادی کی حامی قوتوں جن کی سب سے بڑی ترجمانی حریت کانفرنس کرتی ہے جو دو دھڑوں پہ مشتمل ہے نے پوری وادی میں احتجاجی تحریک چلائی ہوئی ہے۔ اکثر علاقوں میں کرفیو لگا ہوا ہے۔جبکہ آزادی پسند کشمیری جماعتوں اور تنظیموں کے احتجاج کو پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں کی مدد سے دبانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ جبری گمشدیاں، ماورائے عدالت قتل، اغواء کے بعد اذیتیں دیکر قتل کرنا، عورتوں کا ریپ، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور بعض دفعہ سیدھی فائرنگ وادی میں معمول ہیں۔

وادی کشمیر میں ریاستی اداروں اور افراد کی جانب سے سرچ آپریشنز کے دوران سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام نہ صرف آزادی گینگ لگاتا ہے بلکہ یہ الزام بھارت کے زیر انتظام موجودہ کشمیر کے سٹیٹس کو ماننے والے بھی لگاتے ہیں۔ اب تو خود ہندوستان کے کاسموپولیٹن شہروں کی انٹیلجنٹیسا بھی یہ الزام لگاتی ہے۔

بھارت میں اس وقت مودی سرکار کے آخری دن چل رہے ہیں۔ پورے ہندوستان میں عام انتخابات کا شور مچا ہوا ہے۔ مودی سرکار نے اپنے پانچ سالہ دور میں پوری شدت سے فرقہ پرستی اور اقلیت مخالف ایجنڈے کو فروغ دیا بلکہ اس ان پانچ سالوں میں اس نے آزاد خیال دانشوروں اور اختلافی آوازوں کو بزور طاقت دبانے کے لیے بھی آرایس ایس اور بجرنگ دل جیسی ہندؤ فاشسٹ تںطیموں کو بھی استعمال کیا ہے۔

بھارت کے مین سٹریم سیکولر لبرل جمہوریت پسند صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں اور سیاست دانوں کی اکثریت نے کشمیر کے ایشو پہ شاذ و نادر ہی سیکولر لبرل جمہوری روشن خیالی سے کام لیا اور اکثر نے بھارتی ریاست کی کشمیر پہ پالیسیوں کو نام نہاد نیشنل ازم کی آڑ لیکر ہمیشہ سے سراہا اور کشمیر میں چل رہی ظالمانہ کہانی کو  اپنے ہاں سامنے لانے سے گریز ہی برتا۔ یہ مین سٹریم بھارتی دانشور طبقہ کشمیر ہو یا ناگا لینڈ،یا چھتیس گڑھ یا تلنگانہ یا جنوبی ہندوستان کا کوئی پسماندہ علاقہ ہو وہاں پہ پوری ریاستی طاقت اور جبر کے سائے میں کارپوریشنوں کی بدمعاشی اور مقامی آبادی کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے کی جانے والی انسانیت سوز حرکات اور اقدامات کی پردہ پوشی کی ہے۔ اور اگر کسی ایک دو دانشور، ادیب یا صحافی نے جرآت مندی کا مظاہرہ کرکے حقیقت حال کو بیان کیا تو اسے نام نہاد سیکولر لبرل جمہوری دانش مند بھارتی شہری طبقے کی جانب سے غداری کے فتوؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

ارون دھتی رائے نے جب بھارتی فوج کو کشمیر پہ قابض قرار دیا اور کہا کہ 70 لاکھ بھارتی فوجی آزادی پسندوں کو شکست نہیں دے سکتے تو بھارتی اداکار پریش راول نے ہی ٹوئٹ میں لکھا تھا،’بھارتی فوج کی جیپ کے ساتھ پتھر پھینکنے والوں کی بجائے ارون دھتی رائے کو باندھنا چاہئیے تھا’۔

کشمیر اور جنوبی ہندوستان میں ہوئے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ڈرامے پہ بھارتی مین سٹریم شہری دانش کی موقعہ پرستانہ اور منافقانہ مصلحت پسندی کا نتیجہ ہے آج ہندوستان میں ايڈولف ہٹلر اور مسولینی جیسے فاشسٹوں کے مداح ہندؤ فاشزم نے شہری آزادیوں کو محدود کرنے اور سیکولر ازم سے ہندؤ راشٹریہ کی طرف سفر کو تیز کردیا ہے اور اب خود ہندوستانی دانشوروں اور حریت فکر کے علمبرداروں کو غدار اور ایجنٹ کے الزامات کے تحت قید و بند اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

سن 1947ء سے حل نہ ہونے والے کشمیر کے سوال کو بزور طاقت نہ کل دبایا جاسکا نہ آج دبایا جاسکے گا۔ یہ بات ہندوستان کی اسٹبلشمنٹ اور اہل سیاست کو جتنی جلدی سمجھ میں آجائے گا اتنی جلدی جنوبی ایشیا میں امن کے امکانات کو روشن ہونے میں مدد ملے گی۔

لیکن کشمیر کی کہانی کا اوپر بیان کیا جانے والا رخ اس ایشو کی مکمل تصویر نہیں ہے۔ اس تصویر کا ایک رخ پاکستان کی طرف بھی ہے۔ پاکستانی ریاست کے ارباب اختیار نے بھی نے 1947ء میں اس مسئلے کے بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم سے راستا نکالنے کی کوششوں کو پروان چڑھانے کی بجائے، اس کا حل گوریلا جنگ کے راستے سے نکالنے کی کوشش کے زریعے سے کی۔ 1948ء میں پاکستانی فوجیوں اور قبائلیوں کے لشکر کے زریعے سے کشمیر پہ قبضہ کرنے کی کوشش نے اس معاملے کے مذاکرات کے زریعے سے حل ہونے کی امید کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور پھر 1964ء کے آخر میں آپریشن جبرآلٹر کے زریعے سے ایک بار پھر سری نگر پہ قبضہ کی کوشش ناکام ہوئی اور اس کا نتیجہ سن 65ء کی جنگ تھی اور پاکستان میں 5 جولائی 1970ء کے بعد جب ایک بنیاد پرست مذہبی جنونی فوجی آمر کی حکومت آئی اور اسی دوران امریکی سی آئی اے فنڈڈ افغان وار شروع ہوئی تو اس دوران پوری دنیا سے لاکر جو مذہبی بنیاد پرستی پہ مبنی عسکریت پسند لشکر تیار ہوئے اور افغانستان میں سوشلسٹ حکومت کے خاتمے کے لیے جس پراکسی جنگ کا آغاز کیا گیا، اسی طرز کی پراکسی جنگ کشمیر کے اندر شروع کی گئی اور پاکستان کی فوجی قیادت نے یہ خیال کرلیا کہ وہ بنیاد پرست دہشت گردوں کو کشمیر میں پراکسی جنگ میں استعمال کرکے ہندوستانی افواج کو ویسے ہی کشمیر سے نکل جانے پہ مجبور کردیں گی جیسے روس افغانستان سے فوجیں نکالنے پہ مجبور ہوا تھا۔

آج پاکستان میں سوائے جنرل ضیاء الحق کی باقیات اور بنیاد پرست مذہبی جنونیوں کے نیٹ ورک کے کوئی بھی افغانستان اور کشمیر میں پاکستان کی مذہبی بنیاد پرست پراکسی وار کو ٹھیک نہیں کہتا بلکہ اسے خودکشی قرار دیا جاتا ہے۔ اور خود پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو اس سارے ‘گند’ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی ریاست اپنے کئی ایک علاقوں میں لوگوں کے حقوق اور ان کی آزادیوں کے مطالبات کے سامنے آنے پہ ان سے وہی سلوک کررہی ہے جس کا مشاہدہ ہم کشمیر اور جنوبی ہندوستان کے کئی ایک علاقوں میں کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی قبروں کی دریافت اور نام نہاد شورش زدہ علاقوں میں فوجی ،نیم فوجی آپریشن اور سرچ آپریشنوں کے دوران سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور ان علاقوں تک میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی کو ناممکن بنانے جیسے امر ناقابل تردید سچ میں بدل چکے ہیں اور یہاں بھی مظلوم نسلی و مذہبی گروہوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو جبری لاپتا اور قتل کردیے جانے جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اور عدالتیں اور پارلیمنٹ بھی اس کو روکنے میں ناکام ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جیسے پاکستان نے مبینہ طور پہ بھارت کے اندرونی خلفشار اور کشمیر کے اندر کی صورت حال کو اکسپلائٹ کرنے کے لیے پراکسی جنگ کا طریقہ اختیار کیا، اس راستے پہ ہندوستانی اسٹبلشمنٹ بھی چلی ہے۔ انھوں نے ماضی میں خیبرپختون خوا، سندھ اور بلوچستان میں پیدا صورت حال سے فائدہ اٹھاکر اپنی مداخلت کی اور آج تو ایسے شواہد ہیں کہ وہ بھی پاکستانی طرز پہ پاکستانی علاقوں میں مذہبی و نسلی بنیادوں پہ پراکسی جنگوں کو ہوا دے رہا ہے۔ لیکن جو تباہی پاکستان کے حصّے میں ایسی پالیسیوں سے آئی کیا بھارت اس تباہی سے اپنے آپ کو بچا سکے گا؟

اس لیے ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ارباب اختیار سے کہتے ہیں کہ توپ اور بندوق سے حریت فکر اور حقوق کی تحریکوں کو دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی ریاستی سطح کا تشدد مسائل کو ختم کرسکتا ہے۔دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے علاقوں میں پراکسی مداخلتوں کی روش ترک کرنا ہوگی اور اس کے لیے پاکستان اور بھارت کے امن پسندوں کو اپنے اپنے ممالک کے اندر دباؤ پیدا کرنا ہوگا۔ اور یہی کشمیر،بلوچستان، ناگا لینڈ، چھتیس گڑھ،تلنگانہ،فاٹا،کراچی اور اندرون سندھیوں سے حقیقی ہمدردی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here