اگر ہم تاریخ کو محض حقائق کے بیان تک محدود کردیں تو اس کی ہماری حال کی زندگی سے تعلق نہیں رہے گا اور یہ افادیت سے خالی تصور ہوگی۔

ماضی اور حال کے درمیان ربط کی ضرورت ہمیں آج اور ماضی کے مذھب کی جانچ کے دوران پڑتی ہے۔

پہلے پہل ماہرین تاریخ مذھب کی تاریخ کا مطالعہ اس مذھب کے مقدس متون کی تحقیق اور اس مذھب کے منظم ہونے کی تاریخ تک محدود رکھتے تھے۔

لیکن بعد میں اس میں یہ تحقیق بھی شامل ہوگئی کہ یہ دیکھا جائے کہ کسی سماج میں کوئی مذھب کیسے اپنے نظم کو پھیلا پایا۔اور کیسے اس مذھب کا نظم اس سماج کے اندر تک سرایت کرگیا۔

مذھب اور اس کے سماج سے تعلق کا مطالعہ ہمیں اس کے معاشرے کے کلی تجزیے سے تعلق کا مطالعہ کرنے پہ بھی مجبور کرتا ہے۔

مذھب اور سماج کے درمیان تعلق کی جانچ کا جائزہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ آج مذھب نیشنل ازم کی کئی اشکال میں استعمال کیا جارہا ہے۔

علم تاریخ میں وقت کے ساتھ جو تبدیلیاں آئی ہیں، اس نے تاریخ کو ہمارے حال سے بہت زیادہ جوڑ دیا ہے۔

تاریخ ایسے سیاسی نظریات / پولیٹیکل آئیڈیالوجیز کے لیے ناگزیر حثیت اختیار کرگئی ہیں جو اپنے ہونے کا جواز ماضی سے تلاش کرتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے جدید معاشرہ اور سماج اپنی شناخت کی بنیاد تاریخ کی مخصوص تفہیم پہ رکھتا ہے۔اور نیشنل ازم کے تجربے میں اس کی صاف صاف نشان دہی ہوتی ہے۔

کالونیل/نوآبادتی اور نیشنلسٹ تعبیرات کے بارے سوال اٹھانے کا عمل ان تاریخی تبدیلیوں سے معاملہ کرتا ہے جو جدیدیت کے پروسس کے دوران ظہور ہوئیں۔ اور اس عمل میں ہم کل بھی شریک تھے اور آج بھی ہیں۔

اس تبدیلی کے دوران جو سب سے بڑی حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ کسی بھی قوم کی بقا ترجیحی طور پہ اس کے سیکولر جمہوریت ہونے پہ منحصر ہے۔ اور یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو لامحالہ ہونی ہی ہے چاہے اس کو ہونے میں کئی عشرے لگ جائیں۔ڈرامائی تبدیلوں میں سے ایک صعنت کاری کے ہم سفر سرمایہ دارانہ نظام کا جنم ہے۔جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سماج سے اس کو بائی پاس کرکے آگے جاسکتا ہے۔

ان تبدیلیوں کی نوعیت منڈی کی معشیت، نیو لبرل ازم اور گلوبلائزیشن کے تجربے سے کچھ مختلف تو تھی لیکن ان تبدیلیوں نے بہرحال آنا تھا۔

ایسی تبدیلیاں سماجی ضابطوں اور ڈھانچوں کو مختلف معاشروں میں مختلف طریقوں سے اتھل پتھل کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا پہلو جیسے سرمایہ داری کے زریعے آنے والی جدیدیت کا منطقی شریک کار سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ان تبدیلیوں کے جلو میں جو مظالم و زیادتیاں آتی ہیں ان سے بچنے کے لیے تخلیقی راستے اختیار کرنے کا امکان بہرحال ہمارے سامنے کھلا رہتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں زیادہ زیادہ سے اس تبدیلی کے انسانی پہلووں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جسے اکثر ایک طرف ڈال دیا جاتا ہے۔ بہرحال میں یہ خیال کرسکتی ہوں کہ پولیٹیکل اکنامی میں بدلاءو ظلم و زیادتی کے بنا بھی لایا جاسکتا ہے۔

ہندوستان میں نیشنل ازم کی آمد کالونیل راج کی مخالفت میں ہوئی اور مقصد کالونیل پاور کو نکال باہر کردینا تھا۔ اور اسی وجہ سے تاریخ نیشنل ازم کی بنیاد اٹھانے والی ٹھہر گئی۔ شروع شروع میں تو یہ نیشنل ازم سب کے لیے مشترکہ شماریت پسند شناخت ثابت کرنے کے لئے متعارف کروایا گیا تھا لیکن اس کے متوازی سیاسی ایجنڈے کی حامل مذھبی برادریوں کی شناختیں تھیں اور وہ اکثر نیشنلسٹ آئیڈیالوجی کا ستیاناس کردیتی تھیں اور کمیونل ازم کے طور پہ سامنے آتی ہیں۔

شناخت

نیشنل ازم چھوٹے گروہوں کو ایک بڑے شماریت پسند شناخت میں ان کو اکٹھا کرتا ہے جو کم تر متحد کرتا ہے۔ جوڑنے میں ان چھوٹے گروپوں کے علاقے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ان تمام لوگوں کی مشترکہ تاریخ کے طور پہ پیش کرتا ہے جو قوم کی تشکیل کرتے ہیں۔

ہندوستانی نیشنلسٹ تحریک کی بنیاد بھی انھی تصورات پہ تھی۔ یہ تحریک اس وقت شکست و ریخت کا شکار ہوئی جب مذھب کو ترجیح دی گئی۔ اس نے ان گروپوں کو الگ کردیا جو پہلے اس سے جڑے تھے۔ اس کا نتیجہ علاقے کی تقسیم اور آگے چل کر تاریخ کے مشترکہ ہونے کے انکار کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سب نے نیشنل ازم کے سارے تشکیلی عناصر کو ہی ریورس کردیا۔

اقوام آسانی سے تشکیل نہیں پاتیں بلکہ بہت سی شناختوں کو اس کے اندر ضم ہونا پڑتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تاریخ ماضی کی شناختوں کو مہیا کرتی ہے اور اس پروسس میں ہی تاریخ کا امتحان ہوتا ہے۔ اکثر ہم حال کی شناختوں کو ماضی پہ مسلط کرتے ہیں۔

وہ جو ماضی سے ایک شناخت لیتے ہیں چاہے وہ شناخت مذھب ہو یا زبان ہو یا زات ہو یا جو بھی ہو اور پھر اسے نیشنل / قومی شناخت کے طور پہ پیش کرتے ہیں تو وہ اصل میں نیشنل ازم کی نفی کررہے ہوتے ہیں۔

شناخت کی سیاست جہاں پہ ایک شناخت کو چن لیا جاتا ہے اکثر و بیشتر انتہاپسندی کی ایک ایسی قسم کی شریک کار ہوتی ہے جو بنیاد پرستی کو پالتی ہے اور سیکولر جمہوریت پسند نیشنل ازم کی متوقع مثبت تبدیلیوں کو تباہ کر ڈالتی ہے۔

تاریخی تبدیلی کئی برادریوں کو نمایاں کرتی ہے اور تمام شہریوں کو برابر کے حقوق کے حامل ہونے کا یقین دلاتی ہے۔ اور ہر ایک اولین طور پہ شہری تصور کیا جاتا ہے جس کے کوئی خاص حقوق مختص نہیں کیے جاتے۔

کمیونل ازم کے لیے کمیونٹی کی شناخت کا قانونی جواز پیدا کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور تب ہی وہ خصوصی حقوق کی مانگ کر پاتا ہے۔اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب وہ سیاست پہ غالب آتا ہے۔ ماہرین تاریخ میں ایک تو وہ ہوتے ہیں جو تاریخ کو کمیونل مسخ شدہ ہونے سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور دوسرا وہ ہوتے ہیں جو ایسی آئیڈیالوجیز پہ اصرار کرتے ہیں جو ماضی کے بنیاد پرستانہ موقف کو سپورٹ کریں۔ ان دونوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ تاریخ جو اس سیاق و سباق میں انتہا تک متنازع بنتی ہے وہ ماقبل جدید ہندوستان کی تاریخ ہے اور خاص طور پہ ابتدائی دور کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here