نوٹ: پاکستان کے اندر اس وقت مختلف سماجی گروہوں (عورتوں، قومیتوں، نسلی و مذہبی اقلیتوں، صنفی گروہوں) کو جبر کا سامنا ہے۔ شاؤنزم- تعصب اور نفرت کی کئی اقسام ہیں اور اس پہ لبرل، ملّا اور سوشلسٹ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ عورتوں پہ جبر کے سوال کو ہمارے سماج میں نئی توجہ ملی ہے اور اس پہ بھی نظریاتی جدال دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز پاکستانی سماج میں اٹھنے والی اس بحث سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ڈیوڈ میک نلے ایک سوشلسٹ انقلابی ہیں اور وہ سماجی جبر کو ایک ایسا سوال سمجھتے ہیں جو کلاسیکل مارکسزم کے بڑے بڑے رہنماؤں کے ہاں اس موضوع پہ کم مواد پاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سماجی جبر کا سوال آج کی سرمایہ دار دنیا میں زیادہ شدت سے اور مرکزی حثیت کے طور پہ سامنے آیا ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے ایک سماجی نظریہ تشکیل دینے کی صرف قدم بڑھایا ہے۔ ان کا یہ مضمون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اس مضمون کو پاکستان میں سماجی جبر پہ ہونے والے بحث و مباحثے کو آگے بڑھانے کے لیے شایع کررہے ہیں۔ جو لوگ اس بحث پہ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہيں۔ ایسٹرن ٹائمز ان کی تحریروں کو شایع کرنا پسند کرے گا۔یہ مضمون اپنی انگریزی متن کے ساتھ ایسٹرن ٹائمز کی انگریزی ویب سائٹ پہ بھی موجود ہے۔

Oppression is a widely used – and misused – term.

یعنی ‘جبر’ کی اصطلاح کا غلط یا ٹھیک استعمال بڑے پیمانے پہ ہوتا ہے۔

مارکسی ، سوشل ڈیموکریٹ اور کچھ لبرل سب اس بات پہ اتفاق رکھتے ہیں کہ جسے جبر کہا جاتا ہے وہ بہرحال وجود تو رکھتا ہے۔اور یہ کہ کوئی خاص گروپ ایسا ہے جسے سماج میں مکمل قانونی ، معاشی یا سیاسی  حقوق حاصل نہیں ہیں جس سے دوسرے مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سارے گروہ لفظ جبر کی ایک تعریف پہ اکٹھے نہیں ہوتے۔ جیسے سوشل ڈیموکریٹس یا لبرل بعض اوقات جبر پہ بات کرتے ہوئے کہہ ڈالتے ہیں کہ سفید فام جبر کا شکار ہوتے ہیں جب سیاہ فام تنظیمیں ان کو نوکری پہ رکھنے سے انکاری ہوتے ہیں۔( پاکستانی تناظر میں سفید فام کی جگہ پنجابی کو رکھیں اور سیاہ فام کی جگہ بلوچ، سندھی، پشتون یا سرائیکی کو رکھ لیں۔) ایسے ہی لبرل کے نزدیک مرد شوہر غالب بیویوں کے ہوتے ہوئے جبر کا شکار ہوسکتے ہیں۔

لیکن مارکس وادیوں کے نزدیک اگر جبر کا تصور  جس نظام کا تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے  کی  کچھ خاص پہلووں کے سمجھنے میں  کوئی کارآمد تصور ہے تو اسے بالکل ٹھیک اور واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

 اس کا لازمی مطلب یہ ہے کوئی ایسا تصور ہونا چاہئیے جو سطحی مشاہدے سے بالا ہو اور زیادہ گہرائی میں جاکر ہر اس تعلق کو بیان کرے جس میں رہ کر کوئی مغلوب ہونے یا امتیازی سلوک کا نشانہ بننے کے احساسات سے دوچار ہوتا ہے۔

  اگر ایسا نہ ہو تو دوسری صورت میں ہم ایک ایسے احساس کے ساتھ رہ جائیں گے جو کہ جوہری اعتبار سے فطرت میں نفسیاتی نوعیت کا ہوگا۔ ایک ایسا احساس جس کی بنیاد سادہ طور پہ افراد کے درمیان تعلق پہ ہی ہوگی۔

اشتراکی تصور جبر ؟

  1. A Marxist Concept of Oppression?

اشتراکیوں نے جبر کی کئی ایک اشکال سے بحث کی ہے۔ ان میں قومی ، نسلی اور جنسی جبر خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔

لیکن سرمایہ دارانہ معاشرے میں جبر مطلق طور پہ بہت کم زیر بحث آیا ہے۔

مارکس کے کسی بھی شئے کے تجزیہ کے طریقہ کار کی بنیاد پہ، میں چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسا خاکہ کھینچوں جس میں اشتراکی تصور جبر کی آءوٹ لائن ہو۔

 اس کا مطلب جبر کا مکمل نظریہ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح کے نظریہ کے لیے فریم ورک مہیا کرنا ہے۔

 ساری کی ساری لبرل تھیوری( نظریہ) ہی مجرد، الگ تھلگ فرد کی کیٹیگری سے شروع ہوتی ہے۔

لبرل ازم سماج کو افراد کا مجموعہ خیال کرتا ہے۔ ان کے زیادہ تر حصے کے لیے سماج کو لبرل خیال میں انسانی فطرت کو سمجھتے ہوئے ہی اچھے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف مارکس آغاز ہی کل سماج سے کرتا ہے۔ مارکس کے نزدیک افراد سماج کے اندر جنم لیتے ہیں اور ان کی صورت گری بھی سماج ہی کرتا ہے ناکہ وہ ان کا اپنا انتخاب ہوتی ہے۔

 اس لیے مارکس لکھتا ہے

سب سے پہلے ضروری ہے کہ سماج کی نظریہ سازی ایک ایسی تجرید کے ساتھ کرنے سے بچا جائے جو فرد سے نبرد آزما ہو۔ فرد ایک سماجی وجود ہے۔ معاشی و فلسفیانہ مسودات۔۔۔۔

“It is above all necessary to avoid postulating ‘society’ once again as an abstraction confronting the individual. The individual is the social being.” (Economic and Philosophic Manuscripts)

جن رشتوں میں افراد اپنے آپ کو پاتے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے سماج کا وہ ڈھانچہ اور حرکیات کا سمجھنا ضروری ہے جس میں وہ اپنے آپ کو پاتے ہیں۔

افراد اپنے درمیان تعلقات خود تخلیق نہیں کرتے۔ یہ سماج ہے جو ایسا نظام قائم کرتا ہے جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں۔

میرا نکتہ نظر، جس کے مطابق سماج کی معاشی تشکیل کی ترقی کو فطری تاریخ کے پروسس کے طور پہ دیکھا جاتا ہے  اور فرد انہی تعلقات کا تخلیق کردہ ہوتا ہے جن کے لیے اسے کم وبیش ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اگر سماجی طور پہ بات کی جائے تو وہ موضوعی طور پہ خود کو ان تعلقات سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا سکتا ہے  

اقتباس از سرمایہ کا پہلا دیباچہ

“My standpoint, from which the development of the economic formation of society is viewed as a process of natural history, can less than any other make the individual responsible for relations whose creature he remains, socially speaking, however much he may subjectively raise himself above them.” (Marx, First Preface to Capital)

افراد اپنے تعلقات کا تجربہ تاہم سماجی عمل کے طور پہ نہیں کرتے۔

ایک مزدور کی زندگی میں مشکل اس کے خراب مینجر کی وجہ سے، اس غیر مہربان شوہر یا بیوی کی وجہ سے یا اس تنگ دل کنجوس بینک مینجر کے سبب یا آمر استاد یا استانی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے۔

یہ صرف ان جیسے بظاہر انفرادی نظر آنے والے تجربات کی بنیاد ہے جن کو سماج کے عمومی پہلووں کے اجزاء کے طور پہ دکھایا جاسکتا ہے۔

 اشتراکی تجزیہ ٹھیک ٹھیک ان تعلقات کے نیچے جو جوہر ہے اس حقیقت کو دکھانے پہ مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی ان کی جڑیں دکھائی جائیں جن کو ہم سرمایہ داری نظام کہتے ہیں۔

کتاب سرمایہ کی تیسری جلد میں مارکس نے لکھا

ساری سائنس فالتو اور زائدہ ہوجائے گی اگر اشیاء کا ظاہر اور جوہر براہ راست ایک جیسا ہوجائے۔”

“All science would be superfluous if the outward appearance and the essence of things directly coincided.”

دوسرے الفاظ میں ہمیں ٹھیک طور پہ سائنسی تجزیہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ سماج میں تعلقات خالص طور پہ انفرادی طرز پہ ظاہر ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں وہ سماجی عمل سے مشروط ہوتے ہیں۔

جب ہم جبر کے تجربے پہ نظر ڈالیں تو یہ نکتہ ہمارے ذہن میں لازم ہونا چاہئیے۔

ہر ایک کی طرح جبر کا شکار لوگ بھی خودکار طریقے سے اپنے جبر کی سماجی بنیاد سرمایہ دارانہ سماج کے ڈھانچے میں دیکھنے نہیں لگتے۔

 مثال کے طور پہ ایک بلوچ اپنے اوپر جبر کو کسی پنجابی فوجی کے تعصب یا عمومی طور پہ پنجابیوں کو ہی قصور وار قرار دے سکتا ہے۔

عورتوں کو جبر جنسیت زدہ مردوں کے ہاں سے آتا دکھائی دیتا ہے یا سارے مردوں کی جانب سے۔

ہم جنس پرستوں کے لیے جبر کا سر چشمہ متعصب  غیر ہم جنس پرست/سٹریٹ مرد و عورت/  یا سارے غیر ہم جنس پرست سٹریٹ مرد و عورت  ہوسکتے ہیں۔

زھریلے تعلقات کو کمتر بناکر دکھائے بغیر جو اکثر پنجابی اور بلوچ کے درمیان غالب رشتہ ہوتے ہیں یا کالے اور سفید فام کے درمیان غالب رشتہ ہوتے ہیں۔یا مرد و عورت لے درمیان پائے جاتے ہیں یا ہم جنس پرستوں اور غیر ہم جنس پرستوں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ تو ان کو کمتر اہمیت کے بتائے بغیر یہ دیکھنا بہت اہم ہے ان سماجی گروپوں پہ ہوئے جبر کی گہری سماجی جڑیں ہیں۔

حقیقت میں جبر ایک ایسا سماجی تعلق ہے جس میں سرمایہ سماج میں ایک خاص گروپ کو محکوم بناکر منافع کماتا ہے۔

 ایسے ہی یہ سرمایہ دارانہ نظام کالوں اور مہاجروں کے جبر کی طرف جاتا ہے۔

سرمایہ کو ہر وقت محنت کشوں کے ریزور لشکر کی ضرورت ہوتی ہے۔

محنت کش طبقہ کا یہ ایک ایسا سیکشن یا پرت ہے جو جاب ڈربوں میں دھکیل ڈی جاتی ہے۔معیشت جس حساب سے پھیلاءو اور سکڑاءو ہوتا ہے اسی حساب سے ان کو ورک فورس میں داخل یا باہر کیا جاتا ہے۔

تارکین وطن محنت کش جن میں زیادہ تر سیاہ فام اور ایشائی ہوتے ہیں۔ ایسے مقاصد کے لیے خاص طور پہ وہی کام آتے ہیں۔

اس طرح ایک نظریہ آگے بڑھایا جاتا ہے کہ یہ مزدور مکمل کینڈا کے شہری نہیں ظاہر ہے جس کے پاس مکمل شہریت نہیں ہوگی وہ ملازمت پہ رکھے جانے کے اہل بھی نہیں۔

بلکہ وہ برابر کے شہری نہیں ہیں جن کو اس وقت کام ملے گا جب دستیاب ہوگا۔لیکن جب حقیقی شہری روزگار سے باہر ہوں گے تو ان کو باہر رکھا جائے گا۔

 تارکین وطن کو برابر کے حقوق سے انکار کرتے ہوئے اور نسل پرستانہ خیالات کی ترویج کرتے ہوئے سرمایہ محنت کے ایک سیال لشکر کے ہمراہ فراہم کیا جاتا ہے۔جو اجرتوں کو نیچے کی طرف لیجانے والا ہوتا ہے اور ان مزدوروں میں سے اکثر غیر منظم اور کم اجرتوں پہ کام کرتے ہیں۔

 عورت کے معاملے میں، ان پہ جبر کی جڑیں سرمایہ داری کی جانب سے محنت کشوں کی نئی نسل پیدا کرنے پہ کنٹرول کرنے اور جتنا ممکن ہوسکے ان کے کیے گئے کام کو سستا ترین رکھا جانے کے اندر پیوست ہوتی ہیں۔ اور یہ ہدف حاصل کرنے کا بہترین راستا خاندان ہوتا ہے۔

اس طرح سرمایہ کا انحصار خاندانی یونٹ کے ذریعے افراد قوت کی نجکاری کر دی گئی محنت کی ری پروڈکشن پہ ہوتا ہے۔

 نتیجے کے طور پہ، سرمایہ دارانہ نظام فیملی سسٹم / خاندانی نظام  اور اس کے اندر رہ کر عورت کے کردار کو دوام و ابدیت بخشنے کی خوب کوشش کرتا ہے۔

خاندان کے ذریعے عورتوں پہ جبر سے سرمایہ کو اور بھی فائدے ہوتے ہیں۔ خاص طور پہ ورکرعورتوں کو کم تنخواہوں کے گھیٹوز/ پاڑوں میں ڈالے رکھنا۔

لیکن یہ بس ضمنی منافع ہیں ناکہ عورتوں پہ جبر کی اصل جڑ۔

جبر کی یہ تمام اشکال جبر کے شکار گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک کی غیر معمولی اشکال سے مدد بہم پہنچائی جاتی ہے۔

یہ ہائر ایجوکیشن میں زیادتی سے لیکر ایک گھر خریدنے کے حق یا دوسرے ملک میں داخلے کے حق میں زیادتی تک ہوسکتی ہے۔

تو حقیقی نکتہ یہاں پہ یہ بنتا ہے

 جبر سرمایہ کے مادی  مفاد پہ مبنی ہوتا ہے اور اسے  مربوط قانونی، سیاسی معاشی زیادتی سے مدد ملتی ہے۔جو جبر کا شکار لوگوں کو محکوم کردار میں رکھنے کا کام کرتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں خاص سماجی گروپ پہ جبر کی تشکیل سرمایہ داری نظام کی پولیٹیکل اکنامی کے اندر ہوتی ہے۔

جب جبر کی مادی بنیاد سرمایہ داری نظام کی ضرورتوں میں نہ ہو تب جبر نظام کے لئے ناگزیر نہیں رہتا ہے۔

اب اگر بات ایسے ہی ہے جیسے بیان کیا گیا ہے تو سماجی جبر کی ایک یا ساری اشکال کے خاتمے کے  لیے سرمایہ داری نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ جبر کو اصلاح کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔

یہ اس لیے ہے کہ جبر کی یہ اشکال  مادی طور پہ نظام کے لیے ضروری ہیں اور ان خاتمے کے لیے سماج کو انقلابی طور پہ بدلنا ہوگا۔

  1. Oppression and Ideology

جبر اور آئیڈیالوجی

سرمایہ داری نظام اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا تھا جب تک محنت کش طبقے کی اکثریت نظام پہ یقین نہ رکھتی ہوتی؛ جب تک ان کا  کسی نہ کسی معنی میں یہ خیال نہ ہوتا کہ موجودہ سسٹم ہی امکانی طور پہ سب سے بہترین ہے اور ایک نئے آزاد سماج بارے جتنی بھی باتیں ہیں وہ سب غیر حقیقی ہیں۔

اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ داری نہ صرف معاشی و سیاسی غلبے پہ قائم ہوتی ہے؛ بلکہ اس کو ایک ایسے نظریاتی غلبے کی ضرورت بھی ہوتی ہے جس کے ذریعے سے مزدوروں کو بورژوا/ سرمایہ دارانہ خیالات پہ یقین لانے کا سامان کیا جائے۔

نظریاتی غلبے کا یہ نظام حکومتی اداروں، اسکول سسٹم ، میڈیا، کلیساوغیرہ کے کام پہ مشتمل ہوتا ہے اور عوام میں سرمایہ دارانہ خیالات اور اقدار کو داخل کرتا رہتا ہے۔

کسی خاص سماجی گروہ پہ جبر اس وقت تک جاری نہیں رہ سکتا جب تک حکمران طبقہ خیالات کے ایک سیٹ کو پیش نہ کرپائے۔ ایک نظریہ ۔۔۔۔ جو کہ ان گروہوں پہ جبر کے جواز کے لیے گھڑا جاتا ہے۔

جیسے پاکستان میں پسماندہ اور جبر کا شکار اقوام پہ جبر کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے پنجابی قوم سے کمتر ہونے اور پنجابیوں کے ان سے برتر ہونے جیسے خیالات کو سسٹم آگے بڑھاتا ہے۔

ایسے ہی سیاہ فام یا تارکین وطن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے نظام ان کو سفید فام سے کمتر بناکر دکھاتا ہے۔اور سفید فام کو برتر بناتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہاں نسل پرستی کو بڑھاوا ملتا ہے۔

اقوام پہ جبر کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اسی طرح کے خیالات کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔یہ خیال کہ کچھ خاص اقوام اور نسلیں دوسروں سے برتر ہیں۔ جیسے قوم پرستانہ تعصب و نفرت پہ مبنی خیالات ہوتے ہیں۔

اور گھروں میں عورتوں کی جبری حالت کو برقرار رکھنے کے لیے مردانہ برتری اور عورت کی حیاتیاتی/ بائیولوجیکل کمتری یا عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے جیسے افسانوی خیالات کو آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔

الغرض، جنسیت/ سیکس ازم کو دوام بخشنے کے لیے یہ سب کرنا لازم ٹھہر جاتا ہے۔

بورژوا آئیڈیالوجی/ سرمایہ دارانہ نظریہ کے بارے میں سب سے مرکزی بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنے ناگزیر ہونے کا محنت کشوں کی اکثریت کو یقین دلاتا ہے باوجود اس کے کہ یہ نظام محنت کش طبقے کے اراکین کے مفادات سے ٹکرا رہا ہوتا ہے۔

حکمران طبقے کی اقدار سے مغلوب طبقاتی معاشرے کے اندر جبر کرنے والے بہت سے نظریات داخل ہوتے ہیں اور خود محنت کش طبقے میں بھی یہ نظریات پھیلتے ہیں۔ یہ نظریات عام محنت کشوں کے تعلقات میں بل لاتے، مسخ کرتے اور ان کو انتہائی خراب تک کردیتے ہیں۔

در حقیقت ایک خاص طرح کی خودمختاری اس قسم کے نظریات میں جنم لیتی ہے۔ ان کی حیات ان کی اپنی ہوجاتی ہے۔ اور اکثر لوگوں کے ذہنوں پہ یہ نظریات قبضہ جمائے رکھتے ہیں حالانکہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ان کی مادی ضرورت کب کی ختم ہوجاتی ہے۔

اس کی بہترین مثال پاکستان میں جاری جہادی۔بنیاد پرستانہ آئیڈیالوجی کا لوگوں کے ذہنوں پہ مسلط ہونا ہے۔ یہ اب صرف بطور پراکسی کے ہی موجود نہیں ہے بلکہ اس نظریہ کی اپنی ایک زندگی ہے جو جاری ہے۔

اس کی ایک اور بہترین مثال سامی مخالف نظریہ ہے۔ شمالی امریکی سرمایہ داری نظام کو اب یہودیوں کو محنت کش طبقے کے جاب  پاڑوں/ گھیٹوز تک محدود رکھنے اور ایک ریزور مزدوروں کی فوج کے طور پہ رکھنے کی احتیاج نہیں ہے۔

اس کے باوجود یہودیوں کے خلاف نسل پرستی سماج اور محنت کش طبقے میں طاقتور عنصر کے طور پہ جاری ہے۔

یہ مثال خاص طور پہ جبر کے سماجی تعلقات اور جبر کے نظریات کے درمیان امتیاز و فرق کرنے کی اہمیت کو ثابت کرتی ہے۔

ایک گروہ محض اس لیے جبر کا شکار نہیں ہوتا کہ ایک نظریہ جو اس گروہ کو ناپسند کرتی ہے سماج میں ہمیشگی اور دوام کا حامل ہے۔

اگرچہ سامی مخالف نظریہ ایک گھناونا اور وحشیانہ نظریہ ہے اور اس کی انقلابیوں کو مکمل طور پہ مخالفت کرنی چاہئیے لیکن معاملہ یہ نہیں ہے کہ یہودی آج شمالی امریکہ میں جبر کا شکار گروہ ہیں اگرچہ وہ آج بھی نسلی بدسلوکی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہودی شمالی امریکہ میں ہائر ایجوکیشن تک رسائی اور نوکری حاصل کرنے میں کسی منظم امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہیں۔اس لیے وہ مجبور یعنی جبر کا شکار گروپ نہیں ہیں۔

یہی بات ‘ مردوں پہ جبر’ بارے درست ہے۔ یہ جو عام طور پہ لکھنے والے عام طور پہ  دلیل دیتے ہیں کہ مرد جبر کا شکار ہیں کیونکہ سسٹم آئیڈیالوجی ان پہ فعال سخت جفاکش روزی روٹی کمانے والے کردار کو مسلط کرتی ہے۔

ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن اس سے جبر کے سماجی عمل کی تشکیل نہیں ہوتی، تاہم یہ خیالات افراد کو الگ تھلگ کرتے لگ سکتے ہیں۔

جبر دوسرے لفظوں میں امتیازی سلوک روا رکھنے والے نظریہ کی بنیاد پہ افراد کے درمیان تعلق کا نام نہیں ہوتا۔

ایسے نظریات جبر کے سماجی عمل کا ایک بیک اپ ہوسکتے ہیں لیکن وہ بذات خود عمل نہیں ہوتے۔

یہ سفید فام نہیں ہوتے جو سیاہ فام پہ جبر کرتے ہیں، مرد نہیں ہوتے جو عورتوں پہ جبر کرتے ہیں۔ یہ پنجابی نہیں ہیں جو بلوچ پہ جبر کرتے ہیں یا ہم جنس پرستوں پہ جبر غیر ہم جنس پرست نہیں کرتے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ یہ گروہ نسل پرستانہ، جنسیت پرستانہ اور شاءونسٹ  اعمال میں ملوث ہوسکتے ہیں۔( اگرچہ ان کی جانب سے نفرت کے نظریہ کے اظہار کی انقلابیوں کو بھرپور مذمت کرنی چاہئیے) لیکن جبر افراد کے درمیان انفرادی تعلقات پہ مشتمل نہیں ہوتا۔

افراد ایک ایسی دنیا میں جنم لیتے ہیں جس میں استحصال اور جبر دونوں موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان تعلقات کو قبول کرسکتے ہیں یا ان کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کہ یہ تعلقات ان پہ حملہ آور نہ ہوں اور ان کی زندگیوں کی صورت گری نہ کرسکیں۔

اگرچہ یہ درست ہے کہ وہ جبر، نسل پرستی، جنسیت و شاءونزم کے نظریات کے اپنی زندگیوں پہ براہ راست اثر کو کم کرسکتے ہیں۔

جوآن سمتھ نے اس نکتے کو عورتوں پہ جبر کے معاملے میں بہت وضاحت سے پیش کیا ہے

“Men as a group do not oppress women as a group, but individual men and individual women live out their lives together in a family system, constantly reaffirmed by capitalism and it’s that family system of reproduction which places women in their oppressed position. Some men go right along with the system – some men don’t.

مرد طور گروہ کے عورتوں پہ بطور گروہ جبر نہیں کرتے۔ بلکہ ایک انفرادی مرد اور انفرادی عورت دونوں ایک فیملی سسٹم میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جس نظام کو سرمایہ داری مستقل طور پہ تقویت بہم پہنچاتی ہے۔اور یہ ری پروڈکشن کا خاندانی نظام ہے جو عورتوں کو جبر کی حالت میں رکھتا ہے۔ کچھ مرد سسٹم کے ساتھ چلتے ہیں۔ کچھ نہیں چلتے۔

The question is not actually about the attitudes and beliefs of individual men, although they too have to be changed, but about the family form of reproduction of society and what women are going to do about it.” (“Women and the Family. International Socialism nr 104)

ترجمہ: سوال اصل میں انفرادی مردوں کے رویوں اور خیالات کا نہیں ہے، اگرچہ ان کا بدلنا بھی ضروری ہے لیکن سوال ہے سماج کی ری پروڈکشن پہ مشتمل خاندان کی شکل کا اور خواتین کا کہ وہ اس بارے میں کیا کرنے جارہی ہیں۔

اگر جبر افراد کے درمیان تعلقات کا نام ہوتا تو تب علیحدگی پسندوں کے حل کا کوئی عقلی جواز سمجھ آجاتا۔

مثال کے اگر جبر لوگوں کے درمیان تعلقات کا نام ہوتا تو  صیہونیت سامیت مخالف ایک منطقی ردعمل ہوتا کہ یہودیوں اور غیر یہودیوں میں جتنے تعلقات کم ہوں گے اتنا ہی یہودی کم جبر کا شکار ہوں گے۔ یہی بات سیاہ فام ثقافتی نیشنل ازم کے بارے میں درست ہوتی۔ کہ جتنا سیاہ فام اور سفید فام میں میل جول کم ہوگا اتنا سیاہ فام پہ جبر کم ہوگا۔

یہی بات عورتوں کی علیحدگی کے بارے میں بھی درست ہوگی کہ جتنا مردوں سے کم سے کم تر رابطہ ہوگا عورتیں اتنا ہی کم جبر کا شکار ہوں گی۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ردعمل جبر کا حل نہیں ہیں۔ کیونکہ اس کی نہایت سادہ وجہ ہے

oppression is a social relationship structured into the very fabric of society.

جبر سماج کی بنت کے اندر تشکیل پایا ہوا ایک سماجی تعلق ہے۔

تاہم زیادہ جبر کا شکار لوگ اپنے  ذاتی تعلقات  ان لوگوں سے ختم کرکے اپنے آپ کو الگ کرسکتے ہیں جو جبر کے نظریہ کے علمبردار ہوتے ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی اس وقت تک سرمایہ دارانہ سماج میں ایک مربوط جبر کا شکار رہیں گے جب تک استحصال کی مادی بنیاد کا خاتمہ نہ کیا جائے۔ وہ مادی بنیاد ہے سرمایہ داری۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارا موقف ہوتا کہ سوشلسٹ انقلاب ہی جبر کا شکار گروہوں کے مسائل کا حتمی حل ہے۔

  1. Some Conclusions

بعض نتائج بحث

اس کا مطلب جبر بارے کسی کامل و اکمل نظریہ کو پیش کرنا نہیں ہے۔ مختلف جبر کے شکار گروہوں کے کئی ایک خاص پہلو بھی ہیں۔ جن کا مارکس وادیوں کو مزید تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پہ، جبکہ مرد نہیں ہیں جو عورتوں پہ جبر کرتے ہوں تو معاملہ یہ ہے کہ خاندان کے اندر مرد غلبے کا ایک نظام ہے جسے ہم مکمل طور پہ نہیں سمجھتے۔

ان جیسے سوالات کو سوشلسٹ نظریہ میں زیادہ توجہ ملنی چاہئیے۔

میرے خیال میں یہاں پہ ہم نے جن نکات کو واضح کیا ہے ان سے چند اہم نتیجے نکلتے ہیں۔

پہلا یہ ہے کہ جبر کو سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور ری پروڈکشن پہ بنیاد رکھنے والے ایک سماجی رشتے کے طور پہ دیکھتے ہوئے ہمارا یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ سوشلزم ہی جبر کا ممکنہ حل ہے۔ ہم یہ بات واضح کرتے ہیں کہ محنت کش طبقے کا کوئی بھی سیکشن یا حصہ کسی دوسرے کے خلاف جبر میں کوئی مادی مفاد نہیں دیکھتا۔

اور ساتھ ہی یہ فریم ورک وضاحت کرتا ہے کہ محنت کش طبقے کے اندر بھی نظریاتی جدوجہد کس قدر اہم ہے

یہ فریم ورک اس نظریاتی تسلط اور غلبے پہ زور دیتا ہے جو حکمران طبقہ محنت کش طبقے پہ آزماتا ہے۔ اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ محنت کش طبقے میں کے اندر سیکس ازم، نسل پرستی، مذھبی شاءونزم اور نیشنل شاءونزم کے خلاف نظریاتی لڑائی کرنے کے لیے یہ کتنا اہم ہے۔

یہ فریم ورک ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی پیدا کرتا ہے کہ نظریات/ آئیڈیالوجیز اپنی مادی بنیادوں سے ہٹ کر بھی خودمختاری رکھتی ہیں۔

 اس طرح یہاں تک کہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد بھی شعور  اور لوگوں کے درمیان تعلقات کی کی ایک نئی شکل کے لیے لڑنے کی ضرورت ہوگی

ٹراٹسکی نے لکھا تھا

Trotsky wrote that: “Inertia and blind habit, unfortunately, constitute a great force. And nowhere does blind, dumb habit hold sway with such force as in the dark and secluded inner life of the family.” (Women and the Family)

جمود اور اندھی عادت بدقسمتی سے ایک بڑی قوت کی جنم داتا ہیں۔ اور کہیں بھی اندھی، بہری عادت اس طرح سے اپنی گرفت قائم نہیں رکھتی جتنی یہ خاندان کی اندرونی الگ تھلگ تاریک زندگی پہ رکھتی ہے۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ یہ فریم ورک محنت کش طبقے کی تحریک  کے اندر مظلوموں اور جبر کا شکار  گروہوں کی  ایک آزاد خود مختار تنظیم کی اجازت دیتا ہے۔

جب تک یہ گروہ جبر کی سماجی اشکال کا شکار ہیں اور محنت کش طبقہ جزوی طور پہ جبر کے نظریات کے اثر میں ہیں تو جبر کا شکار گروپوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نسل پرستی، مذھبی منافرت ، نیشنل شاءونزم اور سیکس ازم سے پاک فضا میں اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے آزادانہ طور پہ منظم ہوں۔

ان نکات پہ اپنی ایک تھیوری ڈویلپ کرنے کے لیے لمبا سفر طے کرنا پڑے گا۔

لیکن درست تجزیے کے لیے شروعات کا مقام جبر بارے ایک مستقل مارکسی تھیوری ہونا چاہئیے۔

ایسی تھیوری ہمارے سیاسی عمل کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

جیسا کہ لینن اسے پیش کرتا ہے

“Without revolutionary theory there can be no revolutionary practice.”

انقلابی نظریہ کے بغیر انقلابی عمل سرانجام نہیں پا سکتا۔

 ڈیوڈ میک نلے سوشل ایکٹوسٹ ہیں اور پیشہ کے اعتبار سے وہ تاریخ و بزنس کے استاد و کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ لیورپول برطانیہ میں پیدا ہوئے اور آج کل اونٹاریو کینڈا میں رہتے ہیں۔

مترجم: عامر حسینی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here