نوٹ: ایاز ملک کا یہ مضمون گزشتہ سال عورتوں کے عالمی حقوق کے دن پہ ویب سائٹ ‘ہم سب پہ’ شایع ہوا تھا لیکن گزشتہ سال اس مضمون کی اہمیت کا احساس شاید اتنا زیادہ نہ ہوا ہو جتنا زیادہ اس سال عورتوں کے عالمی دن پہ خود سوشلسٹ حلقوں میں عورتوں پہ سماجی جبر اور اس کے طبقاتی فلسفے یعنی اشتراکیت سے رشتے پہ اٹھنے والی گرما گرم بحث سے ہوا ہے۔ پاکستان میں لبرل سرمایہ دارانہ فیمن ازم کے حامیوں کی جانب سے عورتوں پہ جبر کے سوال کو طبقاتی سوال سے جوڑنے سے انکار پہ اصرار اور کئی ایک سوشلسٹوں کے عورتوں پہ جبر پہ خصوصی اور سماجی جبر کے گرد عمومی طور پہ اٹھنے والی تحریکوں کو سازش اور تقسیم کا منصوبہ سمجھنے پہ اصرار نے کافی کنفیوژن پیدا کیا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز نے اس سے پہلے ڈیوڈ میک نلے کا مضمون شایع کیا اور اب ان کے ہی شاگرد مارکس واد اشتراکی ایاز ملک کے اسی مضمون کو ایڈٹ اور چند تبدیلیوں کے ساتھ شایع کررہا ہے۔ امید ہے صحت مند مکالمہ آگے جائے گا۔(ایڈیٹر)

پاکستان کے اندر عورتوں کے عالمی دن کو لیکر لبرل، سوشلسٹ اور رجعت پرست حلقوں میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ خود سوشلسٹ حلقوں کے اندر جینڈر/ صنفی سوال کا اشتراکیت اور فیمن ازم/ تانثیت سے رشتے کا سوال بھی شدت سے زیر بحث آرہا ہے۔

اس بحث کا پس منظر مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی عورتوں کی ریلیاں تھیں جن میں ہزاروں مرد و خواتین و ٹرانس جینڈر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑھ چڑھ حصہ لیا۔

جہاں کراچی میں ہزاروں محنت کش اور گھریلو مزدوری کرنے والی خواتین نے پہلے جداگانہ اور پھر ایک عمومی “عورت مارچ” میں حصہ لیا، وہیں اسلام آباد میں بائیں بازو سے منسلک کئی کارکنان نے “وومین ڈیموکرٹیک فرنٹ” کا تاسیسی اجلاس منعقد کیا۔

ایک طرف جدھر ٹریڈ یونین حلقوں سے جڑے کارکنان نے ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، ادھر بائیں بازو کے کئی حلقوں میں تانیثت اور اشتراکیت کے حوالے سے گرما گرم بحث بھی چھڑ گئی۔

کچھ نے فیمن ازم/ تانثیت کو سرے سے ہی ایک بورژوا اور اشرافیہ طبقے سے جڑا رجحان قرار دیا، دوسری طرف کچھ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ عورتوں کو اپنے طور پر منظم کرنا محنت کش طبقے میں تفریق پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

اس مضمون کے ذریعے میرا مقصد ان تمام خدشات اور اختلافات کو کلی طور پر دور کرنا تو نہیں اور نہ ہی اس مضمون میں مارکس ازم/ اشتراکیت اور تانیثیت/فیمن ازم کے مختلف رجحانات میں اشتراک اور تفریق کے تاریخی ارتقا و محرکات کا جائزہ لیا جائے گا۔

البتہ مارکس ازم اور فیمن ازم کے رشتے کے حوالے سے چند چیدہ چیدہ سیاسی و نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ حتمی طور پر امید ہے کہ ان وضاحتوں کے نتیجے میں سماج میں ابھرتے تضادات و سوالات کو سمجھنے میں مدد ملے گی اوراس سے ترقی پسند سیاسی عمل کی راہیں کشادہ ہوں گی۔

حکمت عملی اور عمل سے جڑے محرکات

عملی لحاظ سے سب سے پہلے اشتراکیت اور تانیثیت کے رشتے کو ایک حکمت عملی یعنی بطور سٹریٹجی کے سوال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہمیں محنت کش یا “پرولتاریہ” کی تعریف کو محض اجرتی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں تک محدود کرنے کی بجائے اسے سے وسیع تر کر کے مارکس کی “پرولتاریہ” کی اس تعریف کی طرف بڑھنا ہو گا جس میں وہ “پرولتاریہ” کو “درحقیقت مسکین و محتاج” (“virtual pauper”) قرار دیتا ہے۔

یعنی کے محنت کش پیدا واری نظام کا وہ مخصوص سماجی طبقہ ہے جو محض اپنی بقا کے لئے اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت محنت کسی اور طبقے یا سماجی گروہ کو بیچے یا اس کی بقا کا انحصار ان کے لئے محنت کرنے پر ہو۔
اسی طرح پیداواری رشتوں کی وسیع تر تعریف بھی ہم پر یہ عیاں کرتی ہے کہ قدر زائد/ سر پلس ویلیو پیدا کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ محنت کش طبقے کی اپنی پیداوار کا عمل جدلیاتی-عضویاتی طور پر جڑا ہوا ہے۔

یہ نکتہ اکثر اس لئے نظر انداز ہوجاتا ہے کیوں کہ مارکس خود اپنی بشری حدود کی بنا پر اپنا وہ پراجکٹ مکمل نہیں کر پائے تھے جس کے تحت ان کو نہ صرف “سرمایہ” بلکہ اس کے ساتھ ساتھ “زمینی جائداد”، “قوت محنت”، “ریاست”، “بین الاقوامی تجارت”، اور “عالمی منڈی” کے موضوعات پر بھی تفصیلی مقالات لکھنے تھے۔(مجموعہ تصانیف کارل مارکس جلد 49 مطبوعہ 1973)

سیاسی معاشیات/ پولیٹکل اکنامی کے پروفیسر مائیکل لی بوٹز – ‏ Michael A. Lebowitz اس کو “مارکس کی قوت محنت پر غیر موجود کتاب” قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کے اس میں مارکس (جو ہمیشہ ہی سے پیداواری رشتوں کی وسیع تر تعریف کرتے تھے) یقیناً قوت محنت کی پیداوار کے محرکات اور اس میں تاریخی (ناکہ فطری) طور پر عورتوں کے کلیدی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے (لی بووٹز، 2003ء) ۔

محنت کش طبقے اور پیداواری نظام کی اس وسیع تر تعریف کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ محنت کش طبقے کا ایک بہت بڑا حصہ بلکہ ایک عمومی اکثریت ہی عورتوں پر مشتمل ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں یہ بات ہمیں عملی طور بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ پاکستان میں دیہی علاقوں اور گھریلو محنت کشوں(ڈومیسٹک لبیر) میں اکثریت عورتوں ہی کی پائی جاتی ہے۔

جبکہ گلوبلائزیشن کے تحت رونما ہونے والی معاشی تبدیلیوں کا ایک عمومی اظہار “رسمی محنت کش قوت/فارمل لیبر فورس کی صنفی تبدیلی (feminisation of labour) میں نظر آتا ہے۔

اس سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارا مقدمہ یہ بنتا ہے کہ

“طبقاتی استحصال کی اکثر شکل صنفی استحصال سے الگ نہیں کی جا سکتی”۔

مثال کے طور پر 2000ء کے آغاز میں ایک سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کے گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین میں 93% خواتین کام کے دوران کسی نہ کسی قسم کی ہراسانی کا شکار ہوئیں اور 85% فیصد خواتین نے یہ بھی کہا کے ذہنی جسمانی و جنسی ہراسانی کی وجہ سے انہیں اکثر گھر سے باہر نوکری کو خیرباد کہنے کا بھی خیال آیا ہے (بروہی، 2000ء)۔

اس سروے کے نتائج سے ہم یہ بات اخذ کرسکتے ہیں کہ جنسی جبر ایک ایسا عامل ہے جس کا عورتوں کے معاشی سماجی حالات پر براہ راست اثرہوتا ہے۔

اب کام اور کام کے دوران رستے میں جنسی ہراسانی ایک ایسا ٹھوس معاملہ ہے کے جس میں ہم طبقاتی و معاشی سوال کو صنفی سوال سے الگ کر کے دیکھ ہی نہیں سکتے۔

کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کے متوسط طبقے یا اشرافیہ طبقے کی خواتین کو ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

بلکہ ہم محض یہ کہنا چاہتے ہیں محنت کشوں کو منظم کرنے کے دوران بھی اگر ہم صنفی جبر اور اس کی مخصوص اشکال کے سوال اور اس کے تدارک کو اپنے ایجنڈے کا حصّہ نہیں بنائیں گے تو ہماری طبقاتی یکجہتی کی کاوش محض ایک خواہش تک ہی محدود رہے گی۔ اور کام کرنے والی محنت کش خواتین کو اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیابی کم ہوگی۔

صنفی/ جینڈر سوال جہاں ایک سطح پہ خود اپنی منفرد حثیت رکھتا ہے وہیں دوسری سطح پہ یہ طبقاتی سوال سے بھی مربوط انداز میں جڑا ہوا ہے۔

اور یہ ہی وہ مماثلت بمع تفریق (unity-in-distinction) کا جدلیاتی تصور ہے جس پر ہم اس مضمون میں آگے روشنی ڈالیں گے۔

پیداواری نظام اور پیداواری رشتوں کی صنفی سوال سے تاریخی جڑت پر تو کوئی بحث نہیں ہے۔

فریڈرک اینگلز کی مشہور زمانہ تصنیف “خاندان ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز” اور اشتراکی تانیثت پرست /مارکس واد فیمنسٹ ماریا میز کی کتاب “پدرسری اور عالمی سطح پر ارتکاز”

(Patriarchy and Accumulation on a World Scale)

میں اس حقیقت پر گہری روشنی ڈالی گئی ہے کہ انسان کے سماجی ارتقا میں صنفی بنیاد پر پیداواری رشتوں میں درجہ بندی کوئی فطری عمل نہیں، بلکہ وہ مخصوص اور پرتشدد عمل تھا جس کے ذریعے غیر طبقاتی اور اکثر مدرسری بنیاد پر منظم سماج کی جگہ پدرسری اور طبقاتی تفریق پہ مبنی سماج تشکیل دیا گیا۔

سرمایہ دارانہ نظام کی اپنی تاریخ میں جہاں مارکس اپنی کتاب ‘سرمایہ’ کے مشہور آخری حصّے میں “ابتدائی یا اصل ارتکازی پیداواری آلات” (“original” or primitive accumulation) کی بات کرتا ہے وہیں اسی سلویا فیڈرچی جیسی فیمنسٹ مورخین نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ محرومی اور فقیری پیدا کرنے کے اس عمل کا ایک کلیدی حصہ عورتوں کی اپنے جسم اور اس کے پیدواری جوہر پر اختیار کا چھن جانا بھی تھا (فیڈرچی، 2004ء)۔

یہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے ماریا میس نو آبادیت اور خواتین کے محض گھر تک محدود کرے جانے کو جوڑتی ہیں۔ یوں پدرسری اور صنفی تفریق کا سلسلہ جہاں سرمایا دارانہ نظام سے پرانا ہے، لیکن اس کے محرکات تاریخی طور پر اور مربوط انداز میں پیداواری رشتوں اور ان کے ارتقا کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔

آج بھی ہمیں نظر آتا ہے کے سرمایہ نہ صرف مزدور طبقے کو پیداواری ڈھانچے کے ایک مخصوص مقام میں جوڑتا ہے، بلکے اسی جوڑنے کے عمل میں ہی تفریق اور امتیاز کے محرکات بھی موجود ہیں۔

مثال کے طور پر سرمایا دارانہ نظام میں ناہمواری صرف علاقائی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ سماجی رشتوں میں بھی ناہمواری کا پہلو حاوی رہتا ہے۔

یوں کہیں عورت کو محض گھر مزدور اورسرمایہ کی فاضل فوج (reserve army of labour) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو کہیں اشیا کی مخصوص صنفی تشہیر کر کے سرمایہ کی تقویت کے نت نئے راستے ہموار کئے جاتے ہیں۔

سرمایہ کے پیداواری رشتوں میں ہر موقع اور ہر جائے وقوع پر ناہمواری کا عنصر حاوی رہتا ہے، اور اس ناہمواری کے تحت مخصوص شناخت (جیسے کہ صنف، زبان، یا مذھب) پر ابھرنے والی تحریکوں کو محض ایک خیالی طور پر یکجا مزدور طبقے کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں سمجھا جا سکتا۔
یعنی صنفی جبرع لسانی جبر اور ایسے ہی مذہبی جبر ایسے سماجی جبر ہیں جن کے خلاف محنت کش طبقے کے اندر موجود صنفی، لسانی، مذہبی سماجی شناخت کے حامل گروہ کی تحریکیں ابھرتی ہیں اور اس کا تعلق سرمایہ داری کے ناہمواری پن سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے ان تحریکوں کے ابھار کو محنت کش طبقے کی تقسیم کی سازش خیال کرنا غیر سائنسی رویہ ہے۔

معروف مارکسی دانشور سٹوورٹ ہال لکھتے ہیں کہ

“سرمایہ کی حکومت ایک سا کرنے اور مماثلت کی بجائے امتیاز و تفریق کے ذریعےبھی کام کرسکتی ہے اور اکثر کرتی بھی ہے” (ہال، 1986: 437)۔

یوں اگر سرمایہ اور اس کے استحصال کی شکل و جوہر میں اتنی لچک ہے تو انقلابی سیاست کو بھی اپنے نظریاتی و عملی آلات و ہتھیار میں ایسی ہی لچک اور فراغ دلی دکھانی ہو گی۔

اس کے لئے یہ ضروری ہے کے ہم محض ایک خیالی طور پر یکجا محنت کش طبقے کے انتظار میں بیٹھنے کی بجائے سماج میں ابھرتے ان تمام تضادات کو سمیٹتے ہوۓ آگے بڑھیں جو محنت کشوں کو نا صرف جوڑتے ہیں بلکہ ان میں تقسیم بھی پیدا کرتے ہیں۔

قصہ مختصر ہمیں محنت کش طبقے کو بھی ایک جدلیاتی جڑت کے طور پر دیکھنا ہو گا، یعنی کہ “مماثلت-بمع-تفریق” کے طور پر۔( مطلب جہاں ان میں طبقاتی اشتراک مماثلت پیدا کرتا ہے وہیں وہیں سرمایہ داری کی ناہمواری ان میں شناخت کی تفریق کو بھی جنم دیتی ہے)

جدلیات اور کچھ علمیاتی (epistemological)پہلو

یکسانیت اور تقسیم کے ساتھ ساتھ مماثلت اور تفریق کے اسی جدلیاتی رشتے کے حوالے سے میں اس مضمون کا آخری اور نظریاتی نقطہ پیش کرنا چاہوں گا۔

یعنی کے جدلیات (dialectics) میں ظاہر/ظہور اور حقیقت/ جوہر (appearance and reality) کا رشتہ۔

یہ سوال فلسفے اور مارکسی فلسفے کے دیگر اہم سوالات سے جڑا ہوا ہے جیسے
معروض اور موضوع (objective and subjective)

ایجنسی اور سٹرکچر Agency and Structure-

یعنی ڈھانچے کے حوالے سے ابھرنے والےسوالات۔

ہیگل اور مارکس دونوں میں ظاہری حقیقت اور جوہری حقیقت اور اس کے اظہار کا رشتہ “مماثلت بمع تفریق” (unity-in-distinction) کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔

یعنی کے کسی بھی چیز، عمل یا نظام کی حقیقت یا جوہر کبھی براہ راست ہمارے سامنے پیش نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ کسی مخصوص قسم کے اظہار کے ذریعے پیش ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر پانی کو صرف دیکھا یا محسوس کیا جائے تو وہ ایک گیلی شے معلوم ہوتی ہے جس کے مختلف استعمال ہوسکتے ہیں (جیسے کے کپڑے دھونا، کھانا پکانا وغیرہ)۔

لیکن اس کے جوہر یعنی کےاس کے ایٹمی ڈھانچے اور جہت (یعنی H2O) تک پہنچنے کے لئے ہمیں سائنسی تجزیہ درکار ہے۔ لیکن اگر پانی کا جوہر (H2O) ہے، تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کے اس کا گیلا ہونے کا اظہار محض ایک شکل یا احساس ہے۔ بلکہ اس کی حقیقت اور اس کا اظہار ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کا انحصار دوسرے پر ہے۔

اسی طرح کسی فٹبال کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھا جائے تو وہ ایک دائرہ نظر آئے گی جب کے ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو وہ انڈے کی طرح بیضوی (oval) دکھائی گی۔

اس کو ایک مجموعی طریقے سے ہی دیکھنے سے آپ اس کی حقیقت یعنی کے اس کے فٹبال ہونے تک پہنچ سکتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اس کا دائرے یا گولائی کے طور پر مظہر کلی طور پر غلط تھا۔ بلکے یہ وہ صورت حال ہے جس کو مارکس “اصل مغالطہ” (real illusion) کہتا ہے، یعنی کے ایک ایسی صورت حال جدھر اظہار سچ اور مغالطہ دونوں ہے۔

یعنی کہ ایک ایسا جزوی سچ جو اکثر کلی سچ کی دریافت میں رکاوٹ حائل کرتا ہے۔ یوں اظہار اور مظہر ہی محض سب کچھ نہیں (ورنہ تو سائنس کا کوئی جواز ہی نہ ہوتا)، لیکن حقیقت و جوہر تک رسائی بھی اظہار اور اس کے موضوعی تجربات کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کے معروضی حقیقت تک رسائی ہمیشہ موضوعی تجربات اور حقیقت کے اظہار کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ جوہر اور مظہر کو، حقیقت اور اس کے اظہارکو، معروض اور موضوع کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا بلکے یہ ایک دوسرے سے جدلیاتی طور پہ جڑے ہوئے ہیں۔

یوں بھی کہا جا سکتا ہے کے یہ ایک مماثلت بمع تفریق (unity-in-distinction) ہیں۔

ظہور اور جوہر کے جدلیاتی رشتے کو ہم اشتراکیت اور تانیثیت کے درمیان رشتے کے ساتھ ساتھ پیدوارری رشتوں اور صنفی جبر کے درمیان رشتے کوسمجھنے کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

جس طرح اوپر تفصیل کیا گیا کہ پیداواری رشتوں کے استحصال کا اظہار ہمیشہ مخصوص اشکال میں ہوتا ہے جن میں صنفی اور لسانی جبر بھی شامل ہیں۔

کسی بھی سماجی فرد یا گروہ کی معروض تک رسائی اس کے موضوعی احساسات و تجربات کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ یعنی کسی شئے کی حقیقت تک رسائی کا پہلا عمل اس فرد یا گروہ کا ذاتی تجربہ اور احساس ہی ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر مزدور جب فیکٹری میں احتجاج یا ہرتال کرتے ہیں تو وہ عام طور پہ سرمایا دارانہ طبقے یا کلی طور پر پیداوار کے نظام کے خلاف احتجاج نہیں کرتے، بلکے ہمیشہ احتجاج کسی مخصوص مینیجر کمپنی یا سرمایا دار کے خلاف ہی ہوتا ہے۔

یوں ان کا اس شخص یا کمپنی کے خلاف احتجاج کوئی مغالطہ یا جھوٹا شعور false consciousness)) نہیں، بلکہ وہ شخص یا کمپنی وہ مخصوص مظہر ہے جس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا اظہار ہوتا ہے اور جس کے تحت مزدور اپنے موضوعی تجربات کے ذریعے معروضی حقیقت (یعنی کے وسیع تر سرمایہ دارانہ ڈھانچے) کو جانتے پہچانتے ہیں۔

اسی طرح پیداواری نظام کے استحصال کا ایک اظہار پدرسری جبر اور اکثر مردوں کی طرف سے صنفی جبر اور اس کے عوامل میں ہوتا ہے۔

جس طرح کے مارکس فیورباخ پر اپنے پہلے تھیسس میں کہتا ہے کہ “آج تک کی مادیت کے فلسفے کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس نےکسی چیز، حقیقت کو محض ‘شے’ یا قیاس کی صورت میں سمجھا ہے، لیکن اس کو انسان کے نفسانی عمل، یعنی اس کی موضوعیت کے ذریعے نہیں سمجھا” (مارکس، 1845)۔

یوں اگر کوئی عورت یا تحریک صنفی جبر یا پدرسری کے خلاف متحرک ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کے یہ محض ایک مغالطہ یا مزدوروں کو بانٹنے کی اشرفیائی سازش ہے۔ بلکہ اکثر صنفی جبر وہ مخصوص شکل ہے جس کے ذریعے پیداواری نظام کے معروضی ڈھانچے کا ظہور ہوتا ہے، یعنی صنفی جبر وہ مخصوص موضوعی یا داخلی تجربہ ہے جس کے ذریعے سماج کا ایک مخصوص گروہ وسیع تر پیداواری نظام کو سہتا، جیتا، سمجھتا اور بدلتا ہے۔

یقیناً ان آخری دو باتوں (یعنی کے سمجھنے اور بدلنے) کا انحصار ایک مخصوص سیاسی عمل و فکر پر ہے

یعنی کے انقلابی جہت پر استوار ایک فلسفئہ عملی غور و فکر (philosophy of praxis)۔

لیکن پوری طرح سمجھنے اور بدلنے کے عوامل کی غیر موجودگی ہرگز یہ نہیں کے صنفی جبر کا موضوعی احساس اور اس کے خلاف جدوجہد محض مغالطہ یا بورژوا سازش ہے۔ بلکے یہ احساس اور اس سے ابھرنے والی فیمنسٹ/ تانیثی اور صنفی جبر کے مخالف تحریک بھی اسی معروضی حقیقت کی طرف ایک جہت ہے جیسا کہ کسی فیکٹری میں مزدوروں کا سرمایہ دار یا مینیجر کے خلاف بغاوت کا عمل۔

آخر میں….
کسی بھی زندہ مارکسی سیاست کو طبقاتی سوال اور صنفی سوال کو ایک جدلیاتی مجموعہ یعنی کے مماثلت-بمع-تفریق کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ یعنی نہ ہی صنفی جبر کو مکمل طور پر طبقاتی سوال میں ضم کرا جا سکتا ہے، اور نہ ہی صنفی جبر کو طبقاتی استحصال اور وسیع تر پیداواری رشتوں سے الگ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔

جدھر صنفی سوال کو مکمل طور پر طبقاتی سوال میں ضم کر دیا جائے، ادھر ہم صنفی جبر کی خصوصیت کو سمجھنے سے قاصر ہوں گے اور میکانکی اور غیرجدلیاتی “مارکسزم” کی طرف بڑھیں گے۔ دوسری طرف اگر صنفی سوال کو مکمل طور پر طبقاتی سوال اور پیداواری نظام کے محرکات سے الگ دیکھا جائے تو نا صرف ہم صنف کے تاریخی ارتقا کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے، بلکے سیاسی طور پر ہم ایسے لبرل فیمنزم کی طرف بڑھیں گے جو محض سرمایہ کے جبر کا “ترقی پسندانہ” چہرہ ہو گی۔

سیاست معیشت اور ثقافت کے آپس میں رشتے پر تبصرہ کرتے ہوئے (جس کو مارکسی تھیوری میں اکثر ڈھانچہ/سٹرکچر- بالائی ڈھانچہ/سوپر سٹرکچر کی بحث بھی کہا جاتا ہے) مایہ ناز مارکسی مورخ ای پی تھامپسن لکھتے ہیں کہ وہ نظریہ جو کسی بھی پیداواری نظام کو محض “معاشی” لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرے یہ سمجھے بغیر کے وہ کون سے روز مرہ کے اظہار، معیار و اقدار تھے جن کے ذریعے عام لوگ اس پیداواری نظام کا حصّہ تھے، ایسا نظریہ کاغذ پر تو اچھا لگ سکتا ہے، لیکن حتمی طور پر یہ معیشت ثقافت وغیرہ کے درمیان من مانی تفریق “محض آپ کے تصورات میں ہی ایک دلیل ہے” (تھامپسن، ۱۹۷۸: ۱۸)۔

اسی طرح وہ اشتراکیت اور طبقاتی سیاست جو کے صنفی سوال کو ایک “مماثلت-بمع-تفریق” کے طور پر نہ اٹھائے، وہ محض ایک تصوراتی “مارکسزم” اور تصوراتی طبقاتی سیاست ہے۔

انقلابی فکر و عمل کے لئے یہ ضروری ہے کے ہم معروض اور موضوع، مظہر اور جوہر کے درمیان رشتے کو ٹھوس جدلیاتی طور پر دیکھیں، کیوں کے اظہار اور مظہر وہ مخصوص شکل ہیں جن کے ذریعے ہم معروض اور سماجی ڈھانچے تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

جبر و استحصال کی موضوعی اشکال و تجربات “غیر سائنسی” ہونے کے برعکس وسیع تر سماجی حقیقت میں ہمارے داخلے کا رستہ ہیں، یعنی ان کو سمجھنا اور ان سے ابھرنے والے شعور پر سنجیدگی سے عملی غور و فکر کرنا ہی سماجی سائنس اور اس کی انقلابی تبدیلی کی طرف ہمارا پہلے قدم ہے۔ مماثلت اور تفریق کی یہ ہی کشیدگی اور ٹینشن ہماری سیاست کو وہ لچک اور تخلیقی روح بخش سکتی ہے جو اس سماج اور نظام کے بدلتے محرکات اور اظہارات میں سے دور رس انقلابی حکمت عملی/ سٹریٹجی کا احاطہ کر سکے۔

مارکسزم کے بغیر تانیثیت/فیمن ازم وسیع تر استحصالی نظام کے ساتھ محض ایک سمجھوتہ ہے۔ لیکن تانیثیت/فیمن ازم کے بغیر اشتراکیت /مارکس ازم بھی محض ایک خیالی مارکسزم ہی ہے۔

حوالہ جات:
Brohi, Nazish. (2000). Summary Report on Harassment of Women at the Workplace. For Working Women Support Center (WWSC), part of Lawyers for Human Rights and Legal Aid (LHRLA). Karachi, Pakistan.
Engels, Friedrich. (1884) [1962]. Origin of the Family, Private Property, and the State. [PDF version on www.marxists.org].
Federici, Silvia. (2004). Caliban and the Witch: Women, Capitalism and Primitive Accumulation. New York, NY: Autonomedia.
Hall, Stuart. (1986). “Gramsci’s relevance for the study of race and ethnicity”. In Stuart Hall: Critical Dialogues in Cultural Studies, edited by D. Morely and K. Chen, 411-441. London: Routledge, 1996.
Leibowitz, Michael. (2003). Beyond Capital: Marx’s Political Economy of the Working Class. Palgrave Macmillan UK.
Marx, Karl. (1845). Theses on Feuerbach. [PDF version on www.marxists.org].
Marx, Karl. (1973). Grundrisse: Foundations of the Critique of Political Economy. [Page number given from PDF version on www.marxists.org].
Mies, Maria. (1986). Patriarchy and Accumulation on a World Scale: Women in the International Division of Labour. London: Zed Books, 1994.
Thompson, Edward Palmer. (1978). Folklore, Anthropology and Social History. The Indian Historical Review, 3(2): 247-266. [Journal out of print; page number given from British Library copy]

ایاز ملک حبیب یونیرسٹی کراچی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر سیاسیات اور عمرانیات پڑھاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here