اسلام آباد: تکفیری دیوبندی مولوی عبدالعزیز نے جمعہ کے روز اسلام آباد انتظامیہ کو ماموں بنایا اور لال مسجد میں شر انگیز خطبہ دے ڈالا۔
تکفیری ملّا نے تمام ریاست؛ اداروں بشمول عدلیہ کو بدعنوان اور انگریز راج کی باقیات قرار دیتے ہوئے جمہوریت کو بھی غیر اسلامی قرار دے ڈالا۔

اسکا کہنا تھا کہ جمہوریت غیراسلامی ہے اور میں اس نظام کو اسلامی کہنے والے کسی بھی مولوی سے مناظرے کے لیے تیار ہوں۔

اس نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کا نام لیکر ان کو نااہل اور بدعنوان قرار دیا۔ جبکہ حیرت انگیز طور پہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کا نام گول کرگیا۔ اس نے دیوبندی سیاسی رہنماء مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ شریعت کے نفاذ کے لیے ملین مارچ بس اس وقت کرتے ہیں جب اقتدار سے محروم ہوں۔
اب وہ وہی کیوں کررہا ہے جس پہ پہلے اس نے ہماری مخالفت کی تھی۔

ملوی عبدالعزیز نے اچانک جمعرات کی شام کو لال مسجد میں خطبہ جمعہ دینے کا اعلان کیا جب اسلام آباد میں 23 مارچ بطور یوم پاکستان منانے کی تیاری ہورہی تھی اور ساری انتظامیہ اس میں مصروف تھی۔ اس نے جامعہ حفصہ کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تھا جو ایک ہفتے کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ مدرسہ لال مسجد کے ساتھ ملحق بچوں کی لائبریری کی جگہ بنے گا چاہے کچھ ہوجائے۔

لال مسجد میں تعینات سرکاری دیوبندی ملّا عامر صدیق جمعہ کے روز کہیں دکھائی نہیں دیے۔

تکفیری ملّا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ آئیندہ ہفتے جمعہ کا خطبہ نہیں دے گا مگر ہارون رشید دے گا جو فوجی آپریشن 2007ء میں لال مسجد کے اندر ہلاک ہوئے غازی عبدالرشید کا بیٹا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملّا عزیز نے انتظامیہ کو دھوکہ دیا لیکن اگلے ہفتے وہ ایسا نہیں کرپائے گا اور اسے ریاست کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here