نوٹ: پاکستان میں عورتوں کے عالمی دن پہ ‘ عورت مارچ’ کے بینر تلے پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں نکلنے والی ریلیوں میں کئی ایک پوسٹر کو لیکر عورتوں کے حقوق اور ان کی آزادی کی طرف تخفیف پسندانہ رویہ رکھنے والی تنقیدی آوازوں کا شور بلند سے بلند ہوتا جاتا ہے۔ ان آوازوں میں دائیں بازو کے عورت دشمن گروہوں کی آوازیں ہی نہیں بلکہ کئی ایک لبرل اور سوشلسٹ ہونے کے دعوے داروں کی آوازیں بھی شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی خیبرپختون خوا میں حکومت کے دور میں صوبائی اسمبلی نے عورت مارچ کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی ہے۔ لیکن اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابلے میں عورتیں بھی اپنی آوازیں بلند کررہی ہیں۔ ایسٹرن ٹائمز کو سوشل میڈیا پہ سرگرم اور ایک انتہائی معروف فری لارنس لکھاری کی ای میل موصول ہوئی جس میں انھوں نے ‘میرا جسم میری مرضی’ کے حوالے سے اپنی ذاتی زندگی کے انتہائی ذاتی گوشے قارئین سے شئیر کرنے کی ہمت کی ہے۔ وہ اپنے خاندان اور رشتے دار احباب کی پرائیویسی کے لیے اپنا اصل نام یہاں پہ نہیں ظاہر کرنا چاہتیں۔ ایسٹرن ٹائمز ان کی اس خواہش کا مکمل احترام کرتے ہوئے یہ مضمون شایع کررہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی عورتیں اپنے تجربات شئیر کریں گی اور ہمارے معاشرے  میں مرد بالادستی کا جو غالب رجحان ہے اس کے لیے ایسے مضامین ردتشکیل ثابت ہوں گے۔ ایڈیٹرایسٹرن ٹائمز

میرا جسم میری مرضی نے ایسا طوفان کھڑا کردیا ہے جو تقریباً دو ہفتے بعد بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ گھروں میں دفاتر میں واٹس اپ کے گروپس اور سوشل میڈیا پہ جو شور مچ رہا ہے سو وہ تو ہے، اب تو ایک صاحب مسجد کے ممبر پہ بیٹھ کے وہ فحش گوئی کر رہے ہیں کے خدا کی پناہ۔ وجہ بس وہی سب کے غصے کی میرا جسم میری مرضی۔

میں نے ایک عورت ہونے کے ناتے برا محسوس کیوں نا کیا؟

 مجھے اپنی شرافت ثابت کرنے کے لیے عورت مارچ کو غلط یا غیر اسلامی اور آوارہ عورتوں کا تماشہ ثابت کرنے کا شوق کیوں نا ہوا؟

جواب ہے میرے شوہر، وہی وہ انسان ہیں جنہوں نے مجھے پہلی بار بتایا کہ میرے جسم پہ پہلا حق میرا ہے، نکاح یا شادی بھی اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔

 ہماری شادی کے وقت میری عمر اٹھارہ برس اور انکی عمر بائیس برس تھی، شادی بچپن کی منگنی کا نتیجہ تھی جس میں سے کسی وقت بھی ہلکی پھلکی بد مزگی کے ساتھ ہم دونوں میں سے کوئی بھی نکل سکتا تھا، ہم سے پہلے ساری ہی بڑوں کی طے کی گئی منگنیاں ایسے ہی ختم ہوئی تھیں، یہ ایک معجزہ ہی ہے کہ ہم نے اس پہ کوئی فساد نا برپا کیا جوان ہونے پہ- جبکہ وہ کئی برس سے امریکہ اور سنگاپور میں مقیم تھے اور میرا ریکارڈ بھی ایسا نہیں تھا کے گائے کی طرح کھونٹے سے بند جاتی۔

 مگر ماں باپ کے کئی برس پہلے کئے گئے فیصلے میں کچھ غلط نہیں محسوس ہوا تو شادی ہو گئی، مسلۂ شریکِ حیات سے نہیں، اس وقت سے تھا جو طے کیا گیا، ہم دونوں اتنی جلدی تیار نہیں تھے مگر حالات کچھ ایسے ہوے کہ شادی ہوگئی۔

 شادی کے روز ایک عجیب کیفیت طاری رہی اور اس گھبراہٹ کا بند اس وقت ٹوٹ گیا جب سسرال کی لڑکیاں آدھی رات کے وقت باہر گئیں اور اندر سے دروازہ بند ہوا، میں اسی لمحے کسی بچے کی طرح بلک بلک کے رونے لگی، دو سال کی منگنی، خط و کتابت، ٹیلی فون پہ طویل بے ترتیب گفتگو کچھ بھی مجھے اس کیفیت سے نکلنے میں مدد نہیں کر رہا تھا۔ اس وقت میرے سامنے ایک بائیس سال کے بچے نے ایسا مردانگی کا ثبوت دیا جس کا اندازہ مجھے اگلے کئی سال بعد جا کے ہوا، میرے شوہر نےبڑے ہی اطمینان سے کہا، رونا بند کرو، آرام سے سو جاؤ، جب تک تمہاری مرضی نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی، جوان اپنی زبان کا پکا نکلا، میں نے کئی مہینے لگا دیے، اس بیچ امریکہ آگئی، روز گھر اور گھر والوں کو یاد کرتی اور رو رو کے انکے پہلو میں ہی سو جاتی، میری کسی کیفیت سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور آخر میں میں نے ہی طے کیا کہ کب میرا دل، دماغ اور جسم تیار ہیں۔ 

میں کئی سال سمجھتی رہی سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں، پھر وقت کہ ساتھ اندازہ ہوا مرد تو جاگیر سمجھتے ہیں گھر کی عورت کو، عورتیں آپ کو بتاتی ہیں کہ کیسے فرشتے لعنت کرتے ہیں فجر تک اس عورت پہ جو شوہر کو انکار کردے، مطلب عورت صرف گرم بستر اور گرم روٹی مۂیا کرنے کے لئے ہے، مجھے نا ہی آج تک گرم بستر کے لیے مجبور کیا نا ہی گرم روٹی، میرے یہ کہنے پہ کہ آج کھانا نہیں بنایا پہ جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ باہر چلنا ہے یا تم انڈا بنا سکتی ہو؟ 

لوگ سمجھتے ہیں میری تنقید کے پیچھے میرے کوئی ذاتی مسائل ہیں مگر سچ ہے کہ میرے منہ کو لہو لگ گیا ہے، مجھے پتا چل گیا ہے کہ مرد اصل میں کس کو کہتے ہیں، اس لئے یہ ہلکی باتیں کرنے والے، عورت کو چیز کی طرح استعمال کرنے والے،اسکو اپنی ملکیت سمجھنے والے چھوٹے چھوٹے سے مرد مجھے کیڑے مکوڑے لگتے ہیں، عورت کو خود اعتمادی دیں، وہ جانور نہیں جو سوچ سمجھ کہ قابل نہیں، مرد کو ذلت تو اس بات پہ محسوس کرنا چاہیے کہ روک ٹوک اور باپندیاں لگا کے روکا ہوا ہے، اسکی محبت اور احترام ناکافی ہے اس رشتے میں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here