بلاول بھٹو زرداری نے ‘کالعدم تنظیموں’ کے خلاف حالیہ دنوں میں جاری حکومتی اقدامات پہ سوال اٹھا‏ئے تو پی ٹی آئی نے اس کے جواب میں بلاول بھٹو کے بیانیہ کو ‘انڈیا کا موقف’ اور اس کی صوبائی پارلیمانی جماعت نے پنجاب اسمبلی میں بلاول بھٹو کے بیان کو غداری قرار دیکر مذمتی قرارداد جمع کرائی۔

اگرچہ پی ٹی آئی کی ٹرولنگ اور ان کے گالم گلوچ بریگیڈ کو پی پی پی کے میڈیا سیل نے خود عمران خان کو وہ تمام الزامات لگاتے ہوئے دکھایا جس کو وہ ہندوستانی موقف قرار دے رہے تھے۔ لیکن اس موقعہ پہ ایم کیو ایم نے بحثیت جماعت کسی بھی جگہ پہ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاول بھٹو کے موقف پہ اپنا ردعمل ظاہر نہ کیا۔ لیکن اس کے سوشل میڈیا پہ موجود کئی ایک ایکٹوسٹ جو کہیں تو شیعہ ہیومن رائٹس کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں اور کہیں وہ خود کو ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا پیروکار ظاہر کرتے ہیں، کہیں وہ مہاجر ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے طور پہ اور کہیں سل سوسائٹی ایکٹوسٹ کے طور پہ موجود ہیں کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور پی پی پی اور اس کی قیادت کو ہر ایک خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ان لوگوں کے ںزدیک ملک میں شیعہ نسل کشی ہو، جہادی مدرسوں کا پھیلاؤ ہو، کالعدم تنظیموں کا پھیلتا نیٹ ورک ہو یا مختلف لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ماورائے عدالت قتل ہو ان سب کی ذمہ دار اگر کوئی ہے تو وہ پیپلزپارٹی اور اس کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری ہیں۔

کراچی سے ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے ہوں یا اندرون سندھ سے سندھی قوم پرست ہوں یا اس وقت جی ڈی اے میں اکٹھے ہونے والے ہوں ان کے حمایتی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہر وقت پیپلزپارٹی کو پاکستان کے اندر جہاد ازم، تکفیر ازم،لسانی و نسل پرستانہ تعصبات سے ابھرنے والے تشدد اور دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ان لوگوں نے یہ بیانیہ 2008ء سے تعمیر کرنا شروع کیا اور ابتک اس کی گردان ختم نہیں کی گئی ہے۔ یہ سارے لوگ جنرل مشرف کی آمریت کے دوران خیبر سے کراچی تک اور خود سندھ کے اندر بڑے پیمانے پہ جہادی مدرسوں کی ایک بڑی لائن کی تعمیر کے بارے میں بالکل خاموش رہتے ہیں اور یہ بھی بتانے کی زحمت نہیں کرتے کہ جب مشرف دور میں سلطان آباد سے لیکر شکار پور، جیکب آباد تک جہادی اور تکفیری مدارس اور تھرپارکر و عمر کوٹ نیز کراچی کے اندر لشکر طیبہ /جماعت دعوہ۔ جیش محمد، اہلسنت والجماعت کے نیٹ ورک تعمیر ہورہے تھے اور اس دوران سینکڑوں مدارس بن رہے تھے جبکہ جنوبی وزیرستان سے لیکر سندھ-بلوچستان-جنوبی پنجاب کی سرحدوں کے اوپر تکفیری جہادی مراکز تعمیر کیے جارہے تھے اور بلوچستان میں خضدار سے لیکر مستونگ تک اور آگے کیچ سے لیکر مکران تک اور خود کوئٹہ و قلات میں بلوچ قومی تحریکوں کو چلنے کے لیے دیوبندی عسکریت پسندی کو بطور پراکسی بروئے کار لایا جارہا تھا اور سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ سے بڑے پیمانے پہ فنڈنگ ہورہی تھی تو اس زمانے میں سندھ،پنجاب، بلوچستان میں جنرل مشرف کی کنگ پارٹی ق لیگ کے ساتھ اتحاد میں آج کی جی ڈی اے کے اکثر گروپ، ایم کیو ایم (پوری طاقت کے ساتھ) اور عمران خان کی پارٹی بھی مشرف کی اتحادی تھی۔ اور اس وقت ان میں سے کسی نے بھی اس سارے گند کو ختم کرنے کے بارے میں زبانی جمع خرچ کےسوا کچھ نہ کیا۔

آج بھی یہ لوگ یہ کہنے کی ہمت تو رکھتے ہی نہیں ہیں کہ آج بھی حافظ سعید، مسعود اظہر،لدھیانوی سے لیکر جملہ جہادیوں اور تکفیریوں کی حفاظت کون کررہا ہے؟ کون ان کو اپنے اثاثے سمجھتا ہے؟ کون ان پہ سرمایہ کاری کرتا ہے؟ کس نے ان کو ریاست کے اندر ریاست بننے دیا ہے؟ جو اشارے سے بتائے یہ اسے ہی اس سارے’گند’ کا ذمہ دار ٹھہرادیتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں دس سال اور ملک میں پانچ سال کی تازہ حکومتوں پہ کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی یا اس نے بہت مثالی کردار ادا کیا ہے۔ یقینی بات ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپنے حصّے کی ذمہ داری کو اچھے سے سرانجام نہیں دیا۔ اس حکومت کا ایک سب سے بڑا ناکام پہلو تو یہ ہے کہ اس کے پاس اس وقت جن مدارس کے رجسٹرڈ نہ ہونے اور جن مدارس کے دہشت گردی یا انتہا پسندی میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں اور ایک فہرست جو اس نے سابقہ وزرات داخلہ کو ارسال کی تھی اس کو اس نے وفاقی حکومت کے ساتھ اب اعلانیہ شئیر نہیں کیا اور نہ ہی ان کو سیل کرنے کی طرف کوئی قدم بڑھایا ہے۔ اسے اگر سیکورٹی کے لیے نفری درکار ہے تو یہ وفاق سے رینجرز اور فوج طلب کرسکتی ہے۔

میں صاف صاف کہتا ہوں کہ وفاق میں دیگر جماعتوں کی حکومتوں نے تو کچھ نہیں کیا لیکن خود سندھ حکومت نے بھی ہندؤں کی نقل مکانی روکنے، جبری تبدیلی مذہب کے سلسلے کو رکوانے کے لیے نظر آنے والے اقدامات نہیں کیے ورنہ ہر سال 35 کے قریب جبری تبدیلی مذہب کے واقعات رپورٹ نہ ہوتے۔ 18 سال کی شادی کی عمر کی حد مقرر کرنے کے قانون کی پاسداری کروانے میں سستی سے کام لیا جارہا ہے۔

حکومت سندھ کو کم از کم سندھ کے وہ اضلاع جہاں ہندؤ آبادی بڑی تعداد مں آباد ہے وہآں پہ ہندؤ برادری کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ شیعہ نسل کشی کے خلاف مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ ساری تنقید اپنی جگہ پہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو بطور ریاست اس سارے گند سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے جو جہادی پراکسی کے نام پہ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے زمانے میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں پوری ریاست کے اداروں میں یہ گند موجود ہے۔ یہ گند سول سوسائٹی کے اندر بھی ہے اور سب سے بڑھ کر خود عسکری ہئیت مقتدرہ اس کی سب سے بڑی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ اور اس گند میں جو کنکر پھینکتا ہے اسے بلاول بھٹو کی طرح سے تنقید و تنقیص کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی سمیت پاکستان میں نئی مڈل کلاس کے بظاہر خود کو لبرل بناکر پیش کرنے والے کچھ حضرات اور خواتین جن کی نس نس میں بھٹو دشمنی کا زھر دوڑ رہا ہے جیسے جبران ناصر ہے یہ

Selective Rags and Selective praise

کی پالیسی کے ساتھ آتے ہیں اور یہ ہمیشہ پی پی پی کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور انہی جیسے متعصب لبرل کے ہاں ہمیں بلاول بھٹوکے کالعدم تنظیموں کے خلاف اصولی موقف پہ مکمل خاموشی نظر آئی۔ ایک ٹوئٹ تک انھوں نے نہیں کیا۔ اور مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے شہری نئی مڈل کلاس کے چند ایک لبرل چہرے اصل میں مین سٹریم سیاسی جمہوریت کی سب سے بڑی اور طاقتور روایت پی پی پی کے خلاف ہی پلانٹ کیے گئے ہیں۔ یہ سول سوسائٹی، مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا میں لبرل چہروں کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی کالی بھیڑیں ہی ہیں اور ہمیں ان سے ازحد ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here