اسلام آباد: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے گزشتہ دورہ سعودی عرب کے موقعہ پہ سوشل میڈیا پہ احتجاجی کمپئن چلانے والی تنظیموں اور کئی ایک معروف صحافیوں کے خلاف ایف ائی اے کے سائبر ونگ راولپنڈی آفس میں انکوائری کرنے کاحکم۔

ایسٹرن ٹائمز کو موصول اطلاعات کے مطابق وزرات داخلہ نے ایف آئی اے کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران خاص طور پہ چھے صحافیوں اور تین شیعہ اور ایک قوم پرست سیاسی تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خاص طور پہ ٹوئٹر و فیس بک اکاؤنٹس کو چیک کرکے ان کے بارے میں انکوائری رپورٹس تیار کرکے مزید ضروری کاروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر سائبرونگ ایف آئی اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبرونگ ایف آئی آے راولپنڈی کو ایک کانفیڈنشل لیٹرمورخہ تیرہ مارچ دوہزار انیس  ارسال کیا جس کے مطابق راولپنڈی آفس کو کہا گیا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے دوران مستقل بنیادوں پہ سوشل میڈیا پہ دورے کے آخریدن تک مخالفانہ سازشی مہم چلانے والے صحافیوں اور کئی ایک تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بارے تفصیلی انکوائری کریں اور اس انکوائری کی بنیاد پہ مزید کاروائی عمل میں لائیں۔

جن صحافیوں کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی انکوائری کرنےکا کہا گیا ہے ان میں جیو-جنگ-نیوز گروپ آف میڈیا سے وابستہ معروف صحافی عمر چیمہ، دی نیشن اور وقت نیوز چینل سے نادیدہ دباؤ پہ فارغ ہونے والے مطیع اللہ جان، کیپٹل نیوز ٹی وی کے مرتضی سولنگی، روزنامہ جنگ کے رپورٹر اعزاز سید ، ٹی وی اینکر عمار مسعود اور بلاگر اغواء کیس کے معروف کردار احمد وقاص گورایہ شامل ہیں۔ جبکہ جن تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں انکوائری کا حکم جاری کیا گیا ہے ان میں مجلس وحدت المسلمین، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تعمیر وطن پارٹی پاکستان اور کالعدم حزب التحریر پاکستان شامل ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے جن چھے صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس شامل انکوائری کیے گئے ہیں ان کے بارے میں لیٹر میں لکھا گیا کہ انہوں نے اپنے اکاؤنٹس کی ڈی پی پہ ترکی میں سعودی سفارت خانے میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی تصویر لگائی ہے جس کی وجہ سے سعودی مہمان کی عزت پہ حرف آیا اور بہت نامناسب پیغام پہنچایا گیا۔

  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here