طالبان کے دیس سے فرار – ریویو/ عامر حسینی

0
402

پینتیس سالہ سہمتا آرنی نے فرسٹ پوسٹ ویب سائٹ کے لیے ایک آرٹیکل لکھا تھا اور اس میں انہوں نے اپنے اور سشمیتا بندوپادھیائے کے افغانستان بارے تجربات کا موازانہ کیا تھا اور یہ سوال اٹھایا تھا کہ اتنی تکالیف بھوگنے کے باوجود سشمیتا بینرجی افغانستان واپس کیوں چلی گئيں تھیں اور آخرکار وہ اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھیں۔ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ شاید اس کا سبب یہ ہے کہ افغانستان ایک نشہ ہے جسے لگ جائے پھر اس کو چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال آیا اس وقت تھا جب میں میرے سامنے ‘طالبان کے دیس سے فرار’ کے عنوان سے سشمیتا بینرجی کا لکھا ناولکا ترجمہ سامنے آیا۔

 ‘کابلی والے کی بنگالی بیوی’ سشمیتا بندوپادھیائے کا لکھا ناول ہے۔اس کا ترجمہ حمرا خلیق نے انتہائی شستہ اور سلیس اردو میں کیا اور بقول ان کے چند غیر ضروری تفصیلات حذف کردی گئیں۔

اس ناول کو تھوڑی دیر پہلے میں نے سارا پڑھا ہے۔

یہ اس ناول کی اشاعت اول ہے جو لگتا ہے بنا کسی ایڈیٹنگ کے جوں کی توں ہوئی ہے۔

ایڈیٹنگ نہ ہونے کی بات میں نے اس لیے کی کہ ‘تمہید’ جوکہ باندھی تو سشمیتا نے تھی لیکن نیچے مترجم کا نام ہے۔

اس ناول میں سشمیتا نے بہت گہرائی میں اور اپنے تجربات کے ساتھ افغانستان کے دیہی علاقوں میں جو خاندانی نظام ہے اور اس میں مردوں اور عورتوں کی جو باہم تعلق داری ہے اس کا نقشہ کھینچا ہے۔ اور قبیل داری کے جو ابتدائی مراحل ہوتے ہیں اس میں ہمیں افغان پشتون عورتیں زندگی بسر کرتی ہوئی دکھائی جاتی ہیں اور مردوں کے رویے کا قدر پسماندہ ہیں اس کا بھی بیان ہے۔ شمیتا نے یہ بھی دکھایا کہ کہیں کہیں عورتیں بھی ظالم اور جبر و استحصال کرنے والی ہیں۔ اور مشترکہ خاندانی نظام میں کئی ایک گھروں میں بوڑھے اور بوڑھی مرد و عورتوں کی جو کسمپرسی کی زندگی وہ کیسے ہے۔

توہمات، فرسودہ رسوم رواج ، جہالت، ترقی اور ارتقاء میں بچھڑا ہوا افغان پشتون سماج کن مصائب اور عذاب کا شکار ہے اس کی جھلکیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

سشمیتا کیونکہ نہ تو کوئی سیاسی تجزیہ نگار تھی اور نہ ہی وہ کوئی عالمی ریشہ دوانیوں کو سمجھتی تھی اور نہ ہی اسے افغان سماج کے اندر انیس اٹھتر میں ثور انقلاب کے آنے کے پس منظر سے واقفیت تھی اس لیے وہ جب افغان سوشلسٹ حکومت، سوویت روس کا سوشلسٹ حکومت کی مدد کو آنا اور اس سے پہلے بعد میں سرمایہ دار ممالک کا افغانستان کے اندر مداخلت کرنا اور پھر جہاد افغانستان کا عالمی سامراجی پروجیکٹ بارے بظاہر ایسا لگتا کہ ان کا علم مربوط اور سائنسی نہیں تھا تو اس لیے وہ اس بارے میں محض تاثرات رقم کرتی ہے جس سے کافی گمراہ کن بیانیے سامنے آتے ہیں۔

لیکن اس ناول میں گلبدین حکمت یار سمیت نام نہاد مجاہدین اور پھر بعد ازاں طالبان کی غارت گری کا جو منظر دکھایا گیا ہے وہ خون کے آنسو رلانے والا ہے۔

گلبدین حکمت پاکستانی آمر ضیاء الحق اور اس کے ساتھی جرنیلوں اور آئی ایس آئی کے افغان ڈیسک پہ کام کرنے والے افسران کے تیار کردہ ان مجاہدین گروہوں کے سربراہوں میں سے ایک تھا کہ جن کو سعودیہ عرب اور امریکہ سے ریال و ڈالر ملا کرتے تھے اور جدید ترین امریکی اسلحہ بشمول سٹنگر مزائیل ملا کرتے تھے۔

گلبدین حکمت یار ایک وقت میں امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی آنکھ کا تارہ تھا اور جماعت اسلامی اسی حکمت یار کے بنائے کیمپوں میں اپنے نوجوانوں کو گوریلا تربیت دلایا کرتی تھی۔ یہ پاکستانی آئی ایس آئی ، امریکن سی آئی اے کا چہیتا مجاہد لیڈر تگا۔

اس چہیتے نے پہلے تو ڈاکٹر نجیب اللہ کے ساتھ ملکر قومی افغان حکومت کا پلان سبوتاژ کیا اور پھر بعد ازاں خود کابل کی سکڈ مزائیل اور گولہ باری کرکے اینٹ سے اینٹ بجادی۔

سشمیتا نے افغان مجاہدین اور طالبان کی ہوس اقتدار اور طاقت کے بڑے پیمانے پہ خون ریزی کی جھلکیاں سی ہمیں دکھائی ہیں۔

جو آگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ملکر افغانستان میں جہاد کے نام پہ بھڑکائی تھی اس کی لپیٹ میں نہ صرف پاکستان جنوبی ایشیا آیا بلکہ اس نے پورے مڈل ایسٹ میں آگ لگادی۔ یورپ و امریکہ بھی اس کی بربادی اور تباہ کاری سے محفوظ نہ رہ سکے۔

بھاگ بھری ( صفدر نوید زیدی) ، زینہ ( خالد فتح محمد) ، طالبان کے دیس سے فرار عکس پبلی کیشن کے ایسے ناول ہیں جو سماجی حقیقت نگاری کے تناظر میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کا تناظر پیش کرتے ہیں۔

عکس پبلیکیشنز پاکستان میں ایسے ناولوں کی اشاعت کا مرکز بنتا جارہا ہے جو پاکستان میں عرصہ دراز سے رجعت پرستانہ پاپولر ادب کے مقابلے ترقی پسند فکر اور سوچ کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

آنے والے دنوں میں ہندوستان ممبئی کے عالمی شہرت کے حامل رحمان عباس کے ناول ‘روحزن ‘ کا پاکستانی ایڈیشن بھی عکس والے شایع کرنے جارہے ہیں۔

سشمیتا بندوپادھیائے 1963 میں کولکتہ میں ایک نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بنگالی ہندءو خاندان میں پیدا ہوئی۔ اور اس نے تھیڑ سے لیکر طب تک کی تعلیم حاصل کی اور پھر تھیڑ کلب جوائن بھی کیا وہیں اس کی ملاقات ایک افغان پشتون جانباز خان سے ہوئی اور اسی سے پسند کی شادی کی۔

سشمیتا بینر جی کے اس ناول پہ ‘طالبان سے فرار’ کے نام سے فلم بھی بنی۔

سشمیتا نے طالبان کے مظالم دیش بدیش۔۔۔۔ ایک حرف بھی جھوٹ نہیں، ملا عمر ، طالبان اور میں، اور ‘تہذیب کا آخری نغمہ’ سمیت کل پانچ کتابیں لکھیں۔

دوہزار تیرہ میں چار ستمبر کی رات کو افغان صوبے پکتیکا میں جانباز خان کے گھر سے اس کے شوہر جانباز اور سشمیتا کو اغوا کرلیا گیا اور ایک ہفتے بعد سشمیتا کی لاش ایک مدرسے کے سامنے پائی گئی۔ سشمیتا کے بدن میں بیس گولیوں کے سراغ پائے گئے تھے جبکہ ان کو لگتا تھا کہ مارنے سے پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری نہیں لی تھی لیکن ان سے بعد میں الگ ہونے والے گروپ اسلامی تحریک افغانستان نے اعتراف کیا کہ ان کے فدائی گوریلوں نے یہ کاروائی کی تھی۔

اگرچہ اس ناول کی مترجم نے مصنفہ کے قتل میں ان کے رشتے داروں کو ملوث بتایا ہے۔

سشمیتا طالبان کے دور میں افغانستان جانے کی بار بار ہمت کرتی رہی۔اس نے طالبان کی جانب سے عورتوں پہ لگائی گئی ڈریس کوڈ پابندیوں کو جوتے کی نوک پہ رکھا۔ اسے سنگسار کرنے کی دھمکیاں ملیں۔ مقامی ملاءوں نے اس کے خلاف فتوے دیے۔

سشمیتا ایک آزاد روح تھی اس نے ملا عمر اور طالبان کو ببانگ دھل للکارا اور ان کی مذھبی پیشوائیت کے پندار کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔

مجھے تو لگتا ہے کہ اس کی باقی کتب کا بھی اردو میں ترجمہ ہونا چاہئیے۔

قرتہ العین طاہرہ جیسی عورتیں صرف ایران میں ہی پیدا نہیں ہوئیں بلکہ پاک و ہند میں بھی ان کا جنم ہوا۔

سشمیتا ایک عام سی رومانوی لڑکی تھی اور وہ عام سے بے فکری کی زندگی گزارنا چاہتی تھی لیکن اسے علاقائی و عالمی ریشہ دوانیوں کے اندر سے جنم لینے والی مذھبی فسطائیت اور جنونیت نے اپنے طرز کی ایک خلاق مصنفہ بننے پہ مجبور کردیا۔

عکس پبلیکیشنز لاہور نے اسے شایع کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here