فرانكشتاين في بغداد / فرینکنسٹائن بغداد میں یہ ناول عراق کے معروف ادیب احمد سعداوی نے 2013ء  میں شایع کروایا اور اس کا انگریزی ترجمہ 2018ء میں جوناتھن رائٹ نے کیا جو ون ورلڈ اشاعت گھر سے شایع ہوا۔ براہ راست عربی سے اردو میں اس ناول کا ترجمہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ادیب کررہے ہیں جو جلد ہی شایع ہوگا۔ احمد سعداوی 1973ء میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ وہ بیک وقت شاعر،فکشن رائٹر اور صحافی ہیں۔ بی بی سی کی عربی سروس سے وہ منسلک رہے اور عراق وار پہ رپورٹنگ کرتے رہے۔ ان کا پہلا ناول فرینکنسٹائن بغداد میں شایع ہوا اور اس نے خوب مقبولیت حاصل کی۔ کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز چاہتا ہے کہ اس ناول کی اردو تجسیم آن لائن پڑھنے والوں کو میسر آئے۔ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

—————————————————————-

حتمی رپورٹ

ٹریکنگ اینڈ پرسیوٹ ڈیپارٹمنٹ جوکہ جزوی طور پہ عراق میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کی سول ایڈمنسٹریشن سے منسلک تھا کے حوالے سے میری سربراہی میں خصوصی انکوائری کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں عراقی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ امریکی انٹیلی جنس کے نمائندے بھی تھے۔ یہ خصوصی انکوائری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی تھی:

الف:ستمبر25،2005ء کو عراقیوں کی جانب سے براہ راست سیاسی دباؤ کی وجہ سے ٹریکنگ اینڈ پرسیوٹ ڈیپارٹمنٹ کی سرگرمیاں جزوی طور پہ معطل کردی گئی تھیں،اور کمیٹی نے ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر،برگیڈیرسرور محمد ماجد اور ان کے معاون کو گواہی کے لیے طلب کرلیا۔ انھوں نے کمیٹی کو اپنے کام کی نوعیت بارے آگاہ کیا جو وہ اپریل 2003ء سے اتحادی عبوری اتھارٹی کے قیام کے وقت سے لیکر انکوائری ہونے تک سرانجام دینے میں مصروف تھے۔ ایک بات بہت صاف تھی کہ ڈیپارٹمنٹ جو کام کررہا تھا وہ اس کےدائرہ کار سے باہر کا کام تھا۔ اس کا کام تو  بیوروکریٹک معاملات تک خود کو محدود رکھنا تھا جیسے معلومات کا آرکائیو بنانا اور فائلوں و دستاویزات کو محفوظ کرنا۔

برگیڈیر ماجد کی براہ راست نگرانی میں اس محکمے نے کئی ماہرین فلکیات اور جیوتشی کو ملازم رکھا تھا جن کے بھاری مشاہرے امریکی حکام کی بجائے عراقی خزانے سے ادا کیے جاتے تھے۔برگیڈیر ماجد کی شہادت کے مطابق، ان کا واحد مقصد ان سنگین سیکورٹی حادثات کی پیشن گوئی کرنا تھا جو بغداد اور اس کے  گرد و نواح میں پیش آسکتے تھے۔ کمیٹی کے سامنے یہ بات واصح نہ تھی کہ ان پیشن گوئیوں سے کس حد تک سیکورٹی حادثات سے بچا جاسکا تھا یا ان کی کوئی عملی افادیت بھی تھی کہ نہیں۔

ب: کمیٹی نے اس بات کو ثابت پایا تھا کہ ڈیپارٹمنٹ میں محفوظ کی گئی بڑی تعداد میں فائلوں کو اندر سے ہی افشا کیا گیا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ میں جتنے لوگ کام کررہے تھے ان سے پوچھ تاچھ کے لیے ان کو زیر حراست رکھا گیا تھا۔

ج: ڈیپارٹمنٹ میں استعمال ہونے والے کمیپوٹرز کی تفصیلی جانچ کے زریعے سے سے یہ معلوم ہوا کہ دستاویزات بعذریعہ ای میل جسے بھیجی گئی تھیں،اسے ‘مصنف’ کے نام سے شناخت کیا گیا۔ مزید تفتیش پرجو شخص شناخت کیا گیا اور اسے ابونواس سٹریٹ پہ فنار ہوٹل میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ ٹریکنگ اینڈ پرسیوٹ ڈیپارٹمنٹ کی کوئی دستاویز اس کے قبضے میں نہ پائی گئی۔ ‘مصنف’ کے قبضے میں ایک کہانی کا متن پایا گیا جو اس نے اس مواد کو استعمال کرکے لکھی تھی جو ٹریکنگ اینڈ پرسیوٹ ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات سے تعلق رکھتا تھا۔

د: کہانی ڈھائی سو صفحات پہ مشتمل ہے، جسے 17 ابواب میں تقسیم کیا گیا تھا۔ کمیٹی میں موجود ماہرین نے کہانی کی جانچ کی اور یہ پایا کہ یہ متن کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پہ انھوں نے اس متن میں موجود معلومات کو کسی بھی صورت حال میں شایع نہ کرنے کی سفارش کی اور اسے دوبارہ سے لکھنے کی اجازت نہ دینے کو بھی کہا۔

دیگر سفارشات

الف: کمیٹی نے برگيڈیر سرور محمد ماجد اور اس کے معاون کا ٹریکنگ اینڈ پرسیوٹ سے کہیں اور تبادلے کی سفارش کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ کو اس  کے اصل کام آرکائیو اور دستاویزات کو تیار و محفوظ کرنے کی طرف واپس پلٹانے کو بھی کہا۔ جن ماہرین فلکیات و جیوتش کو ڈیپارٹمنٹ نے ملازم رکھا تھا ان کو فارغ کرنے کا کہا گيا۔گزشتہ چند سالوں میں ڈیپارٹمنٹ نے جو غلطیاں کیں ان پہ نظر رکھی جانی چاہئیےاور ڈیپارٹمنٹ کی سرگرمیوں سے متعلقہ جودستاویزات ہیں ان کو محفوظ بنائے جانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ب: کمیٹی نے یہ بھی دریافت کیا کہ ‘مصنف’ کے جو شناختی کاغذات ہیں،ان میں دی گئی ذاتی معلومات درست نہیں ہیں۔ اس لیے مصنف کی دوبارہ حراست اور اس سے اس کی اصل شناخت اور دوسری معلومات جن کا تعلق ڈیپارٹمنٹ سے ہے کا پتا چلانے اور محکمے کے جن لوگوں نےان معلومات کو فراہم کرنے میں تعاون کیا ان کی شناخت کرکے یہ پتا چلانے کے لیے کہ کس قدر یہ معاملہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے کے لیے بوچھ گچھ کرنے کی سفارش کی۔

دستخط کمیٹی

باب اول

دیوانی عورت

دھماکہ اس وقت ہوا جب ایلشوا جو ام دانیال کے نام سے جانی جاتی تھی کوبس میں سوار ہوئے دو منٹ گزر گئے تھے۔ بس میں جو بھی تھا وہ یہ دیکھنے کے لیے اتر آیا کہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے سکتے میں ہجوم کے اوپر سے بلند ہوتے بڑے اور کالے دھوئیں کے چکر کو بغداد کے عین مرکز طیاران اسکوائر کی کار پارکنگ کے پاس دیکھا۔ نوجوان چھوکرے دھماکے کے مرکز کی طرف دوڑے۔ کاریں ایک دوسرے سے ٹکرائیں یا سنٹرل ریزوریشن آفس سے جا ٹکرائیں۔ ڈرائیور ڈرے ہوئے اور کچھ سمجھ نہ آنے والی حالت کا شکار تھے: ان پر کار ہارن کے غل غپاڑے اور لوگوں کی چیخ و پکار نے حملہ کردیا تھا۔

گلی نمبر 7 میں ایلوشا کے پڑوسیوں نے بعد میں بتایا کہ وہ بتاوین ضلع سے سینٹ اوڈیشو کلیسا نزد یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں دعا کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی،جیسا کہ ہر اتوار کو اس کا معمول تھا اور اسی لیے یہ دھماکہ ہوا تھا۔۔۔ کچھ مقامی افراد کا ماننا تھا کہ اس کے پاس روحانی طاقتیں تھیں، ایلشوا جب ان کے درمیان ہوتی تھی تو بری چیزوں کے ہونے کو ٹال دیا کرتی تھی۔

بس میں بیٹھے ہوئے، اپنے آپ میں مگن، جیسے وہ بہری ہو یا یہاں تک کہ گویا وہاں ہو ہی نا، ایلشوا اپنے پیچھے محض 200 قدم کے فاصلے پہ ہوئے بڑے دھماکے کو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔ اس کا نحیف و کمزور جسم بس کی کھڑکی کے ساتھ سکڑکر لگا ہوا تھا اور وہ خالی نظروں سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس وقت وہ اپنے منہ کی کڑواہٹ اور ایک گہری دھند کے احساس بارے سوچ رہی تھی جسے گزرے کئی دنوں سے وہ اپنے آپ سے جھٹک کر الگ کرنے میں ناکام رہی تھی۔

کڑواہٹ شاید اس وقت غائب ہوجاتی ہو جب وہ وصل روحانی کی کیفیت سے گزرتی ہو۔اپنی بیٹیوں اور ان کے بچوں کی فون پر آوازیں سنکر، اسے اپنے مالیخولیا سے کچھ دیر کے لیے نجات ملاکرتی اور اس کی دھندلا گئی آنکھوں میں روشنی پھر سے چمکنے لگتی تھیں۔ فادر جوشوا عمومی طور پہ اپنے فون کی گھنٹی بجنے کا انتظار کرتا اور پھر ایلشوا کو بتاتا کہ متلدا لائن پر ہے یا اگر متلدا وقت پہ کال نہ کرتی تو ایلشوا ایک گھنٹہ مزید انتظار کرتی اور پھر فادر سے متلدا کو کال لگانے کو کہتی۔یہ سب پریکٹس گزشتہ دو سالوں سے ہر اتوار کو دوہرائی جارہی تھی۔ پہلے ایلشوا کی بیٹیاں چرچ کے لینڈ لائن فون پہ بے قاعدگی سے کال کیا کرتی تھیں۔ لیکن جب امریکیوں نے بغداد پہ حملہ کی، ان کے مزائلوں نے ٹیلی فون ایکسچینج تباہ کرڈالی اور فون کئی ماہ کے لیے منقطع رہے۔موت شہر کے تعاقب میں طاعون کی طرح رہنے لگی، توایلشوا کی بیٹیوں نے محسوس کیا کہ ان کو ہر ہفتے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی والدہ ٹھیک ہے۔کئی مہینوں کی مشکلات کے بعدپہلے انہوں نے ثریا سٹیلائٹ فون پر بات کی جو کہ ایک جاپانی چئیرٹی نے  کلیسا کے نوجوان عراقی اشوری نسل کے عیسائی مذہبی پیشوا کو دیا تھا۔ جب وائرلیس نیٹ ورک متعارف کروایا گیا تو فادر جوشوا نے ایک موبائل فون خرید لیا، تو ایلشوا اس سے بیٹیوں سے بات کیا کرتی۔ اجتماعی عبادت کے شرکا عبادت کے بعد ایک قطار بناکردنیا بھر میں بکھرے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی آواز سننے کے لیے کھڑے رہا کرتے۔ اکثر قرج الامان کے گردونواح سے دوسری فرقوں کے عیسائی اور مسلمان بھی ملک سے باہر اپنے رشتے داروں کو مفت کال کرنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جیسے  جیسے موبائل فون پھیلتے چلے گئے ویسے ویسے فادر جوشوا کے فون کی طلب کم ہوتی چلی گئی۔لیکن ایلشوا کلیسا سے اتوار کو اپنی فون کال کرنے کی رسم پہ ہی قانع رہی۔

 اپنے ابھری رگوں اور جھریوں والے ہاتھ کے ساتھ، ایلشوا نوکیا فون کو اپنے کان پہ لگاتی تھی۔ ایک بار جب وہ اپنی بیٹیوں کی آوازیں سن لیتی تھی، تو تاریکی چھٹ جایا کرتی اور اسے سکون مل جاتا تھا۔ اگر وہ سیدھے واپس طیاران اسکوائر گئی ہوتی، تو اسے لگتا جیسے ہر شئے پرسکون ہے، جیسے صبح وہ روانہ ہونے سے پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔ پیدل چلنے کے راستے صاف ستھرے ہوتے اور کاریں جن کو آگ لگی ایک دوسرے پہ چڑھی ہوئی لگتیں۔ مردہ کو فرانزک ڈیپارٹمنٹ لیجایا گیا ہوتا اور زخمی کو کندی ہسپتال۔ کچھ شیشے کی کرچیاں ادھر ادھر بکھری پڑی ہوتیں، ایک کھمبا دھوئیں سے سیاہ ہوگیا ہوتا،اور کولتار کی سڑک پہ ایک گڑھا پڑگیا ہوتا،اگرچہ وہ اپنے دھندلی بینائی کے سبب یہ اندازہ لگانے کے قابل نہ ہوپاتی کہ وہ کتنا بڑا ہے۔      

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here