لاہور کے ایک رہائشی نے اپنی بیٹی کی موت واقع ہونے کے بعد عالمی کمپنی نیسلے کے دودھ کے فارمولے میں ‘زہر’ ہونے کے الزام لگاتے ہوئے کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی ہے۔ نیسلے نے تفتیش میں تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ ان کا اس حادثے سے کوئی تعلق نہیں۔

ایف آئی آر میں کمپنی کو اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھوں نے اپیل کی کہ ‘معاملہ صرف میری بیٹی کا نہیں بلکہ ملک کے دیگر بچوں کی صحت اور زندگی کا ہے۔’

وجیہہ کی موت کیسے ہوئی؟

ایف آئی آر کے متن کے مطابق گذشتہ سال لاہور کینٹ سے تعلق رکھنے والے عثمان بھٹی نے اپنی ایک ماہ کی بچی وجیہہ کے لیے چار جولائی 2018 کو محلے کی دکان سے نیسلے لیکٹوجن فارمولہ خریدا۔

پانچ جولائی کو وجیہہ کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ان کے والدین نے لاہور کے جنرل ہسپتال میں داخل کروایا لیکن کچھ ہی دیر میں وجیہہ نے دم توڑ دیا۔

ڈاکٹروں نے والدین کو بتایا کہ ہلاکت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد بتائی جائے گی۔

بی بی سی

بعد میں عثمان بھٹی کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ان کی بچی کی ہلاکت سانس کی کمی کے باعث ہوئی جس کے بعد انھوں نے تھانہ فیکٹری ایریا میں ایف آئی آر درج کروائی اور ساتھ ہی مجسٹریٹ نوید اشرف کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست بھی درج کروائی جس میں دکاندار اور نیسلے کمپنی کو پارٹی بنایا۔

عثمان بھٹی نے تھانے میں درج ایف آئی آر میں بتایا کہ نیسلے مختلف تاخیری حربے استعمال کرتا رہا جس کی وجہ سے عدالت کی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق نیسلے نے عدالت کو جمع کی گئی رپورٹ میں خود تسلیم کیا کہ دودھ کے فارمولے میں کیلشیئم فلورائیڈ، سوڈیئم، پوٹاشئیم کی زیادہ مقدار ہے۔

جولائی 31 کو عثمان کی طرف سے قبر کشائی کی درخواست منظور ہوگئی لیکن یکم اگست کو نیسلے نے بچی کی قبر کشائی کی درخواست سیشن کورٹ میں چیلنج کردی۔

دوسری جانب لاہور کے کنگ ایڈورڈ کالج نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جس کی رپورٹ تھانہ فیکٹری کو عدالت میں پیش کرنے کا کہا گیا۔

اگست کی 19 تاریخ کو لیے گئے نمونے دو ستمبر کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھیجے گئے۔

رپورٹ

جنوری 2019 کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق عثمان بھٹی کی بیٹی کی موت معدے میں ‘پیسٹیسائیڈ اور فینیٹوئن’ یعنی زہریلا مواد ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

نیسلے کا موقف کیا ہے؟

نیسلے نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘والدین کے لیے اپنی اولاد کو کھونا ایک تباہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔ ہم اس واقعے کے بارے میں سُن کر بہت افسردہ ہیں۔ ہمارے پراڈکٹس کا معیار ہمارے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ لیب رپورٹ یہ ثابت نہیں کرتی کہ شکایت کنندہ کی طرف سے جمع کیا گیا سیمپل نیسلے اوکٹاجن ہے۔’

‘جس بیچ کی شکایت جمع کی گئی ہے اس کو جب ہم نے اپنی اور جرمنی کی ایک لیب میں ٹیسٹ کروایاتو یہ سامنے آیا کہ ہمارے پراڈکٹ مقامی اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اس بیچ میں 46000 پیک بنوائے گئے تھے جس کی ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ہم اپنے سامان کی پروڈکشن سے لے کر پیکیجنگ اور ڈیلیوری تک معیار کا خاص خیال رکھتے ہیں۔’

نیسلے نے مزید کہا کہ ‘ایف آئی آر ایک حادثے کی رپورٹ کے طور پر درج کی جاتی ہے۔ پہلے جب شکایت کنندہ نے جب عدالت کے ذریعے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کی درخواست کی تھی تو عدالت نے ان کی درخواست کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ان کو پولیس کے ذریعے ایف آئی آر درج کرنے چاہیے۔ ہم انتظامیہ اور پولیس کی تفتیش میں پوری مدد کریں گے۔ سارے ثبوت دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اس حادثے سے نیسلے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔’

نیسلے پاکستان لمیٹڈ کمپینی کے خلاف خانیوال میں مجسٹریٹ برائے ماحولیات/سینئر سول جج خانیوال جمیل احمد کھوکھر کی عدالت میں مدعی راشد علی نے ایک درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ اس درخواست میں مدعی راشد علی نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیسلے کبیروالہ ملک پلانٹ نے اپنے سیکنڈری واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ویسٹ واٹر کو چار کلومیٹر ویسٹ پائپ لائن کے زریعے سے شامکوٹ مائنر لنک کینال میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جوکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کے آپریشنل منظوری کے جاری کردہ لیٹر فرام ای پی اے پنجاب میں لکھی گئی شرائط کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ اور نیسلے نے اس پلانٹ کی منظوری سے مشروط چھے سے دس فیٹ بلند 3ہزار درخت بھی عرصہ دس سال گزرنے کے باوجود بھی نہیں لگائے۔

Image may contain: text

نیسلے پہلے تو پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 2012ء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مفاد عامہ میں اپنے خلاف کسی بھی شہری کو جو براہ راست متاثرہ نہ ہو درخواست نہ دینے کا مجاز قرار دیکر کیس خارج کروانے کی کوشش کرتی رہی،پھر اس نے پنجاب فرانزک لیب سے ویسٹ واٹر کے تجزیہ کی مخالفت کی اور اور ڈسٹرکٹ انوائرمنٹ ایجنسی کے انسپکٹر نے بھی ای پی اے پنجاب کے لیٹر میں درج شرائط کی خلاف ورزی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نیسلے کو اپنی انسپکشن رپورٹ میں بری کردیا۔ تاحال ای پی اے پنجاب نے بھی اپنے ہی جاری کردہ لیٹر میں درج شرائط کی خلاف ورزی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ اور فیکٹری ارد گرد کے ماحول کی مبینہ تباہی جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

No photo description available.

No photo description available.

Image may contain: text

انوائرمنٹ مسجٹریٹ نے آخری سماعت میں تھانہ صدر خانیوال کے ایس ایچ او کو جس نہر میں ویسٹ واٹر ڈالا جارہا ہے اس کا نمونہ لیکر لاہور میں قآئم ایک لیب کو بھیجنے کا حکم صادر کیا جو ماحولیات کے قوانین کے ماہر احمد رافع عالم کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پہ مجسٹریٹ ماحولیات کا یہ حکم ماحولیات پہ جوڈیشل اکیڈمی کے جاری کردہ مینوئل برائے ماحولیات مجسٹریٹس تحریر کردہ جسٹس عائشہ ملک میں درج ہدایات کے خلاف نظر آتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ ماحولیات انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی پنجاب کو کسی بھی قسم کے سیمپل، نمونوں اور سائٹ انسپکشن کے لیے لکھے گی ۔

(اس رپورٹ کی تیاری کے لیے بی بی سی اردو، ایسٹرن ٹائمز اور پاکستانی انگریزی و اردو اخبارات کی رپورٹنگ سے مدد لی گئی ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here