زندگی کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں یہ ایک ادنی جراب ہے جس کے دھاگے کا ایک سرا ہمارے ہاتھ دے دیا گيا ہے۔ہم اس جراب کو ادھیڑتے رہتے ہیں جب ادھیڑتے ادھیڑتے دھاگے کا دوسرا سرا ہمارے ہاتھ آجائے گا تو یہ طلسم جسے زندگی کہا جاتا ہے ٹوٹ جائے گا۔

جالب میلے میں شرکت کرنے کے لیے لاہور جانا ہوا تو کتابوں کی تلاش میں کتب خانوں کی خاک بھی چھانی۔ ریڈنگز سے لینے تو گئے تھے ناول ‘مادھو لال حسین’ نہ ملا تو عراق کے احمد سعداوی کا ‘عفریت بغداد میں’ اٹھالائے اور ‘راکھ سے لکھی گئی کتاب’ سنگ میل سے انتہائی مہنگے داموں کو خرید کی تو پیسے دیتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر پڑھتے ہوئے سارا ملال جاتا رہا اور اشاعت کرنے والی کی سرمایہ دارانہ ہوس کو زرا دیر بھول گئے۔

پھر وہاں سے تھوڑے سے فاصلے پہ حضرت داتا گنج بخش کے مزار کی طرف چلے اور پہلے اس ‘ گنج بخش فیض عالم ناقصاں را پیر کامل کاملاں’ کے حضور حاضری دی اور کچھ دیر وہاں قیام کیا اور جب بھٹو صاحب کے نصب کردہ دروازے پہ نظر گئی تو یاد آیا کہ کل چار اپریل پھر آنے والی ہے اور اس دن کا سارا گریہ اور ملال پھر سے یاد آئے گا اور دل کے پھپھولے پھوڑیں جائیں گے۔’اک یاد ہے جو دامن دل چھوڑتی نہیں’۔ ویسے اس دن میلہ چراغاں بھی لگا ہوا تھا،اپنے زمانے کی اسٹبلشمنٹ کے خلاف سر تا پا مجسم احتجاج ملامتی صوفی،قلندر شاہ حسین کا عرس بھی تھا اور میں نے وہآں جانے کا قصد بھی کیا تھا اور گیا بھی اور وہاں ملّا کی ملائیت سے پاک خالص عوامی جذبات و عقیدت کے مناظر بھی دیکھے۔ خیر میں داتا صاحب کے مزار سے ملحق دربار سٹریٹ میں داخل ہوگیا۔ یہاں ہر طرف آپ کو مذہبی کتب خانے نظر آئیں گے۔ صوفی ملّا(یہ مخلوق ہر دور میں موجود رہی ہے،جسے عشق اور شرع کا جبری نکاح کرانے کا جنون ہے۔اور یہ بندھن ہے کہ جڑ کر ہی نہیں دیتا،صوفی بار بار اپنے عشق کا بانکپن بچاتا ہے اور ملّا ہے کہ اسے اپنے گھر کی باندی بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔) لٹریچر بھی ہے اور ملّا کو کوسنے دینے والا قلندری لٹریچر بھی ہے۔ یہیں پہ ایک ایسی دکان بھی ہے جسے ‘جائے ملامت’ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہر ملامتی اس دکان سے سودا خریدنا اعزاز سمجھتا ہے اور وہ وقت جلد آنے والا ہے جب ہر ملامتی شاعر و ادیب اور انشاء پرداز اس کتاب گھر سے اپنی کتاب چھپوانے کی کوشش کرے گا اور باری ہوگی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے گی۔

اس ملامتی کتب خانے کے دو نام ہیں۔ ایک ‘کتاب محل’ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ نام اب مستقبل میں سنائی نہیں دینے والا۔ اور دوسرا نام ہے’عکس’ جو ہر طرف لیا جانے والا ہے۔ فی الحال مجھے اس کتب خانے پہ کوئی مضمون نہیں لکھنا ہے نہ ہی میں اس کتب خانے کے دو مالکان کا خاکہ تحریر کرنا چاہتا ہوں(جو اپنی جگہ پڑھنے کی چیز ہوگا اگر کبھی لکھ ڈالا)۔ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ اس کتب خانے کی شایع کردہ کتاب ‘طالبان کے دیس سے فرار’ پہ تو آپ نے ریویو اسی ویب سائٹ پہ پڑھ ہی لیا ہے۔ایک اور کتاب تھی جو مجھے نوفل جیلانی نے بطور خاص پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ اور وہ کتاب تھی ‘تفہیم منٹو’۔ میں نے کتاب لی اور فہرست مضامین پہ اک نظر ڈالی۔

اس کتاب کے سرورق پہ اطلاع تھی کہ کسی ڈاکٹر شفق سوپوری نے اس کتاب کی تالیف کی نگرانی کی اور اس کے مولفین عبدالغنی جاگل اور عمر فرحت ہیں۔ یہ تنیوں صاحبان کون ہیں؟ پاکستانی ادبی منظرنامے سے واقف ایک دوست کو فون کھڑکایا۔ اپنی کم علمی کا رونا رویا۔ کہنے لگے ‘شرم نہ آئی،’کسی ڈاکٹر شفق سوپوری’ لکھتے ہوئے۔ ہندوستان کے قابل قدر شاعر اور ناول نگار ہیں۔

چمک رہی ہے جو آئندگان کی رہ گزر

اس میں کچھ روشنی گرد رفتگان کی بھی ہے

واہ واہ۔۔۔ہائے ہائے ۔۔۔۔

عبدالغنی جاگل بھی ہندوستان سے ہیں اور یہ عمر فرحت بھی ہندوستان سے ہیں۔ میں نے اپنے اس دوست کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ مانا پاکستانی ہندوستان کے زیر تسلط کشمیر آزاد نہیں کراپائے لیکن تم مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین شاعر و ادباء کو کیسے ہندوستان کا کہہ رہے ہو۔ اس پہ میرے دوست ادیب کی رگ ظرافت پھڑکی اور کہنے لگے جو یہاں حصّہ ہے وہ بھی تو بس نام کا ہی’آزاد’ ہے۔ میں نے کہا ‘ہش،،،، غائب نہ ہوجانا۔۔۔’ آگے کچھ کہتا وہ فون ہی بند کرگئے۔

فرحت عمر کی شاعری نے مجھے اپنے سحر میں لے لیا۔ چاہتا ہوں کہ ان کی تدوین کردہ کتاب پہ کچھ لکھنے سے پہلے اپنے پڑھنے والوں کو اس کی ایک غزل لگے ہاتھ پڑھا دوں

  جسم سیاہی بناؤں گا

تیرا حرف سجاؤں گا

تو بہتا پانی بن جا

میں مچھلی بن جاؤں گا

کل موسم کی ہتھیلی پر

نام ترا کھدواؤں گا

اپنا غبار اڑا کر میں

کچھ تصویر بناؤں گا

کسی کواڑ کی آڑ میں اب

تجھ کو لا کے چھپاؤں گا

ترے بدن کے پانی سے

میں سورج چمکاؤں گا

عمر فرحت کا تعلق جموں سے ہے۔ وہی جموں جہاں پہ اکثر ہمارے مجاہد یلغار کرنا پسند کرتے ہیں اور مودی جی کو طبل جنگ بجاکر جعلی حملے کے سامان مہیا کرتے رہتے اور پاکستانی دفاعی بجٹ میں کمی کے امکان کو(جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے) فوت کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اور ان کے ساتھی نے ‘تفہیم منٹو’ میں جن مضامین،انٹرویو اور دو نظموں کو اکٹھا کیا ہے وہ اس پہ بجا طور پہ تحسین اور داد کے مستحق ہیں۔ کچھ مضامین میں نے پہلے ہی پڑھ رکھے تھے لیکن کئی ایک مضمون میرے لیے نئے تھے۔ حمید شاہد صاحب نے عمر فرحت کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جیسے شمس الرحمان فاروقی کو جواب دیا ہے وہ اپنی جگہ پڑھنے کے قابل اور ایسے ہی ہمارے ترقی پسندوں کا جو رویہ منٹو سے رہا اس پہ انہوں نے جو فرمایا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

مرزا حامد بیگ کا مضمون ہمیں فیض صاحب کی تعلی اور بڑھک کی حقیقت بتاتا ہے۔ کاش فیض صاحب! آپ منٹو کو اپنا شاگرد بتلانے اور اس کی تخلیق میں زبردستی کے حصّہ دار بننے کی سعی ناکام نہ کرتے۔ بیگ صاحب نے اپنے مضمون کا عنوان ‘بہت ہولی،اب منٹو سے زیادتی نہ کرو’ درست ہی رکھا ہے۔ فیض صاحب کمزور ثابت ہوئے لیکن بہرحال بشر بشر ہی ہوتا ہے اور کہیں نا کہیں لڑھک ہی جاتا ہے۔ ہم اب بھی فیض کے خوشہ چیں ہے اور نسخہ ہائے وفا کو سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔

ایسے ہی ناصر عباس نئیر کا لکھا مضمون’حاشیہ پہ لکھا متن’ ایک شاہکار مضمون ہے۔ میں نے جب ‘یزید’ افسانہ پڑھا تھا تو سچ پوچھیں تو اس وقت سے لیکر آج تک الجھا ہی رہا کہ آخر پورے افسانے میں چل رہے پاک-بھارت کے باہمی تنازعے اور پانی کی بندش میں اس بندش سے متاثر ہونے والے نے اپنے بیٹے کا نام یزید کیوں رکھا؟ منٹو کے ذہن میں کیا چل رہا تھا؟ اور کیسے ناصر عباس نئیر نے اس افسانے کی ایک نئی تفہیم نکالی ہے جو دل کو لگتی ہے۔

منٹو ان لوگوں کو مایوس کرتا ہےجو ادب میں سماجی آلودگیوں سے پاک ایک منزہ مابعد الطبعیاتی تحیر و ترفع دریافت کرنے کے آرزومند ہوتے ہیں۔منٹو کے افسانوی فن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعحب و حیرت کی ایک ایسی کیفیت سے ہم کنار کرتا ہے جو سماجی و نفسیاتی مکاشفے سے عبارت ہے،ہم ان کے افسانوں کے مطالعے سے نئی اجتماعی اور انفرادی شناختوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔خاطر نشان رہے کہ یہ شناختیں صرف مانوس نہیں ہوتیں،بلکہ مانوس شناختوں کے رائج تاریخی بیانیوں پر کہیں سوالیہ نشان ہوتی اور کہیں ان سے انحراف کا درجہ رکھتی ہیں۔

منٹو کے کردار مادھو کے حوالے سے عتیق اللہ کا مضمون بھی ادراک کے نئے در وا کرتا ہے۔ اور ان مجموعہ ہائے مضامین میں ارجمند آراء کا مضمون’ مہذب معاشرہ،مڈل کلاس اور منٹو’ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اور یہ نام نہاد سول سوسائٹی کے کھوکھلے پن اور اس کھوکھلے پن کو انسانیت پسندی کی معراج بتلانے والے ادیبوں اور دانشوروں پہ مجسم طنز ہے اور ساتھ ساتھ بتاتا ہے کہ منٹو کیوں آج تک ہمارے لیے خاص بنا ہوا ہے۔

صدیق عالم نے’عالم ادب اور منٹو’ میں جن سوالات کو اٹھایا ہے اور پھر اس کو لیکر منٹو پہ بات کی ہے، اسے بھی منٹوکی تخلیقات کو پڑھنے والوں کو اپنی تفہیم کو مزید صقیل کرنے کے لیے لازمی پڑھنا چاہئیے۔

یہ کتاب منٹو شناسی پہ ابتک شایع ہونے والی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے، عبدالغنی جاگل اور عمر فرحت اس کی تدوین و تالیف پہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔عکس پبلیکیشن نے اسے پاکستان میں چھاپ کر ایک اچھا کام سرانجام دیا ہے۔

میرے الفاظ گندے نہیں تمہاری سوچ گندی ہے۔میرے الفاظ صرف ننگے ہیں –منٹو

 

Image may contain: 1 person

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here