پاکستان کے متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم بن جانے والے عمران خان نے وانا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو ‘صاحبہ’ کہہ ڈالا۔ ويڈیو دیکھیں تو عمران خان پورا جملہ ٹھہر ٹھہر کر ادا کرتے نظر آتے ہیں اور جب ‘صاحبہ’ کا لفظ بولتے ہیں تو شرکاء جلسہ داد و تحسین سے سواگت کرتے ہیں اور بے اختیار قہقہے بھی سنائی دیتے ہیں۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ عمران خان نے بلاول بھٹو کے لیے صاحبہ کا طنزیہ لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاول بھٹو کے لیے استعمال کیا جانے والا جنسیت زدہ جملہ ایک طرح سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف استعمال کی جانے والی جنسیت زدہ غیر سیاسی اور غیر مہذب زبان پہ مہر تصدیق ثبت کرگیا اور یہ بتاگیا کہ پاکستان تحریک انصاف کا چئیرمین عمران خان خود بھی ایسی ہی زبان سیاست میں استعمال کرنے کے حق میں ہے۔

دو دن پہلے قومی اسمبلی میں پی پی پی کے چند خواتین و مرد ممبران نے مراد سعید کی تقریر کے دوران  کھڑے ہوکر ‘گو بے بی گو’ کی نعرے بازی کی جو میرے خیال میں ایک تو نامناسب تھی ہی دوسرا اس کے سبب خود پیپلزپارٹی کے عام کارکنوں نے تحریک انصاف کی ٹرولنگ میں جنسیت زدہ جملوں کا استعمال کرنا شروع کردیا۔

سوشل میڈیا پہ عمران خان کی جانب سے بلاول بھٹو پہ صاحبہ کی بھپتی کے جواب میں بلاول بھٹوکی مردانگی ثابت کرنے کے لیے عمران خان کی شریک حیات اور ان کے گھر کی عورتوں کے بارے میں چند انتہائی بے ہودہ اور قابل مذمت پوسٹیں دیکھنے کو ملیں۔ پی پی پی کے سوشل میڈیا ونگ کے ترجمان نے راقم سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ فیس بک پہ پارٹی کا ایک ہی آفیشل اکاؤنٹ ہے جو پی پی پی آفیشل کے نام سے کام کرتا ہے باقی کوئی آفیشل اکاؤنٹ نہیں ہے۔

ایسے ہی کچھ پی پی پی کے نوجوان ناسمجھ جیالوں نے عمر ایوب خان اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے بھٹو سے جعلی طور پہ منسوب کہاوت کہ وہ ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے کے جواب میں عمر ایوب خان کی پھوپھی اور ایوب خان کے دور صدارت میں بہت زیادہ سوشل اور شہرت پانے والی بیگم نسیم (ان کی شادی میاں گل اورنگزیب سے ہوئی تھی) کا ذوالفقار علی بھٹو سے جھوٹے معاشقے کی  کہانیاں شئیر کرنا شروع کردیں۔ یقینی طور پہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کہانیوں کو کسی پرانے بابے نے ہی آگے پھیلایا ہوگا اور پی پی پی کے چند ایک نادان نوجوان دوست اس کے ٹریپ میں آئيں ہوں گے۔

بیگم نسیم اورنگ زیب اور بيگم نصرت بھٹو دونوں ایک دوسرے کی دوست تھیں۔ نمونے کی ایک تصویر بھیج رہا ہوں۔ بیگم نصرت بھٹو اور بیگم نسیم اورنگ زیب دونوں کی آپس میں یہ دوستی بڑی مشہور تھی۔ ایوان صدر میں ایک تصویر میں بیگم نسیم اورنگ زیب نے بے نظیر بھٹو کو گود میں اٹھا رکھا ہے اور مرتضی و شاہنواز اپنی والدہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جہاں تک میں نے کہیں ضمیر نیازی مرحوم کا لکھا پڑھا تھا کہ اس قسم کی بازاری صحافت ان دنوں ایوب خان کے خاندان ہی نہیں بلکہ خود ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی کی جاتی تھی ۔

 پہلے تو اس قسم کی بازاری حکایات کا سہارا لیکر ذوالفقار علی بھٹو کی صفائی دینا کچھ قابل تحسین نہیں ہے۔ دوسرا ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں ہمارا یہ موقف ہے کہ جب انھوں نے ایوب خان کو ایوب آمریت کے زمانے میں چھوڑ دیا تو تب ذوالفقار علی بھٹو کے بطور ایک جمہوریت پسند سیاست دان کے کرئیر شروع ہوا۔ جب بھٹو آمریت پسند تھا اور ایوب خان کا ساتھی تھا تو اس زمانے میں ہماری ہمدردیاں ایوب کے خلاف برسرپیکار جمہوریت پسندوں کے ساتھ تھیں۔

 جب پیپلزپارٹی بنی جس کو بنانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھیں جنھوں نے آمریت اور جبر سے ٹکر لی تھی اور پارٹی کی بنیادوں میں کسی جرنیل کی محنت شامل نہیں تھی اور نہ ہی یہ پارٹی کسی ایجنسی کا برین چائلڈ تھی۔ یہ عوام نے بنائی تھی اور خود بھٹو کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس پارٹی کو عوام کس عزت سے نوازنے والے ہیں۔

 پارٹی نے ستر کے الیکشن میں نیشنل عوامی پارٹی کو پنجاب میں 50 فیصد نشستوں پہ حمایت کی پیشکش کی کیونکہ تجربہ کار الیکشن لڑنے والے کارکن دستیاب نہ تھے نیپ نے یہ پیشکش ٹھکرادی اور پی پی پی نے قلفیاں بیچنے والے، پراندے بیچنے والے، گمنام سے وکیل، چھوٹے موٹے زمیندار اور عام سے ٹریڈ یونین ورک کا تجربہ رکھنے والوں، فلمی گیت لکھ کر روزی کمانے والوں کو زبردستی الیکشن لڑوایا(ساری روداد شیخ رشید بابائے سوشلزم نے اپنی کتاب جہد مسلسل میں درج کی ہے۔) اور انہوں نے مقابل جاگیرداروں، بڑے صعنت کاروں اور منجھے ہوئے دائیں بائیں بازو کے لیڈروں کی ضمانتیں ضبط کروادیں۔۔۔۔ یہ نتائج ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ فوجی جنتا، اربن چیٹرنگ کلاس کے ترجمان انگریزی ڈیلی ڈان کے لیے بھی حیران کن تھے۔سیاست چمکانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ساتھیوں نے ایوب خان کے گھر کی عورتوں کے بارے میں کوئی کہانیاں نہیں گھڑیں حالانکہ ایوب کے سنسر میں جکڑا سرکاری پریس اور دائیں بازو کے اخبارات زیادہ تر جماعت اسلامی کا پریس 66ء سے بھٹو کی پھانسی اور پھانسی کے بعد سے لیکر آج تک بھٹو کی ذاتی زندگی اور ان کے خاندان کی عورتوں کے بارے میں زدد اور پاپا رازی صحافت کرتا رہا ہے۔ بھٹو کے دور اقتدار میں اور جب بھٹو کال کوٹھڑی میں تھے تب بھی دائیں اور نام نہاد لبرل پریس ان کے حسنہ بیگم کے ساتھ اسکینڈل کی جھوٹی کہانیاں شایع کررہا تھا۔ آپ نوجوان جیالے ہیں پارٹی کی سیاسی تاریخ کا اور زیادہ گہرائی میں جاکر مطالعہ کریں بلکہ بیگم نصرت بھٹو اور شہید بی بی بی کی سیاست کو دیکھیں اور اس قسم کی پوسٹیں مت لگائیں ، یہ کسی اور کے گناہ خوامخواہ پی پی پی کی قیادت کے ذمے ڈالنے کی کوشش ہے۔

بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے ضیاء الحق کے گیارہ سالہ آمرانہ دور میں ضیاء الحق کے خاندان کی عورتوں پہ کوئی جملہ بازی نہیں کسی اور نہ ہی نواز شریف کے خاندان کی عورتوں کے خلاف۔ حالانکہ ضیاء الحق اور اس کے حامی کیمپ نے بھٹو اور بھٹو خاندان کی عورتوں اور بھٹو کے داماد کے خاندان کی کردار کشی، جنسیت پہ مبنی جملے بازیاں کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اب بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بھی وہی پیٹرن استعمال کیا جارہا ہے۔

عمران خان اور ان کے حامیوں کی اکثریت جنسیت پہ مبنی ٹرولنگ میں مسلم لیگ نواز کے پروپیگنڈا سیل کا ریکارڈ توڑنے کی کوشش کررہی ہے اور اس دوران افسوس کی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے نام پہ کچھ نادان دوست پی پی پی کی اخلاقی برتری پہ مبنی سیاسی پوزیشن کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری نے آج تک ایسی جنسیت زدہ زبان پہ مبنی ایک جملہ بھی نہیں بولا۔ اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو اخلاقی برتری کا یہ اعزاز اپنے پاس ہی رکھنا چاہئیے اسے گنوانا افسوس ناک ہوگا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here