تبدیلی واجاں ماردی اے! نالائقاں دی ٹیم اے، پنجاب یتیم اے

Posted by Imam Bakhsh on Friday, 26 April 2019

پنجاب اسمبلی میں ایم آئی ٹی ایکٹ کے نام سے پنجاب بھر کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا بل پیش کیا جاچکا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ بل پاس ہوجائے گا۔ ایم آئی ٹی ایکٹ اگر پنجاب میں نافذ ہوگیا تو پنجاب بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے تمام ملازمیں غیر سرکاری تصور ہوں گے اور ان کا سرکاری سروس سٹرکچر ختم ہوجائے گا۔ ایسے تمام ہسپتالوں کو چلانے کے لیے بنائے گئے بورڈ کو خود ہی فنڈز پیدا کرنے ہوں گے اور ایمرجنسی، او پی ڈی اور آئی سی یو میں مفت علاج اور انتہائی سستے ٹسٹ کی سہولت کا خاتمہ یقینی ہوجائے گا۔

وفاقی حکومت نے ایچ ای سی کو 105 ارب روپے کا بجٹ آنے والے مالیاتی سال میں دینے کی بجائے 50 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایچ ای سی نے اس کے بعد سے ملک بھر کی جامعات کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سرکاری وظیفے پہ پڑھنے والے تمام طلباء و طالبات سے اگلے سمسٹر کی فیسیں وصول کریں اور تمام جامعات میں اسکالرشپ پروگرام ختم کردیے گئے ہیں۔

حالیہ طوفانی بارشوں سے پنجاب خصوصی طور پہ جنوبی پنجاب میں سولہ لاکھ ایکٹر سے زائد رقبے پہ کھڑی کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور تاحال ضلع حکومتوں نے نہ تو سروے کیا اور نہ ہی متاثرہ کسانوں کی فہرستیں تیار کی ہیں اور ان کو اپنے نقصان کا ازالہ ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

جیسا کہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت پہ نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ پنجاب بھر کے ضلعی اور ریجنل ہسپتالوں کو پہلے ہی سے شہباز دور میں خودمختاری دینے کے نام پہ نجی شعبے کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا جاچکا تھا اور شہباز حکومت نشتر ہسپتال کا نیا تعمیر ہونے والا برن یونٹ بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا منصوبہ بناکر بیٹھی تھی اور موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت کے ایم آئی ٹی کو ہی تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا ہے۔

مسلم لیگ نواز کا حامی مین سٹریم میڈیا کے مالکان کا ایک گروہ اپنے ملازم کمرشل لبرل صحافیوں اور تجزیہ کاروں اور یہاں تک کہ سیاسی پیروڈی کے پروگراموں کے میزبان اینکرز کی مدد سے پی ٹی آئی کی پنجاب اور وفامی حکومت کو نالائق و نااہل تو بتاتے ہیں ساتھ ساتھ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ پنجاب و وفاق کے اندر اگر حالات اس نہج کو پہنچے ہیں تو اس میں مسلم لیگ نواز کی تباہ کن معاشی پالیسیوں کا کوئی حصّہ نہیں ہے بس یہ تو پی ٹی آئی کی ٹیم کی نااہلی اور نالائقی ہے کہ ان سے حکومت نہیں چل رہی ورنہ مسلم لیگ نواز تو معشیت کو مستحکم چھوڑ کر گئی تھی۔

سابقہ دور حکومت میں ورلڈ بینک نے جو رقم اسکولوں میں نایاب بنیادی سہولتوں کو پوری کرنے کے لیے دی تھی اسے لیپ ٹاپ اسکیم کی نظر کردیا گیا۔ 56 نئی کمپنیاں بناکر اربوں روپے کی رقم ضایع ہوئی اور پنجاب کا اپنا بجٹ اوور ڈرافٹ بجٹ کی بدترین مثال بن گیا۔

لیکن پاکستان میں نواز شریف کا حامی کمرشل لبرل میڈیا جس میں جیو،ڈان،پبلک نیوز سرفہرست ہیں اور سوشل میڈیا پہ چند ایک پرانی اور نئی بلاگ سائٹس اور ساتھ ساتھ انٹرنیشنل میڈیا تنظیموں کی اردو سروسز میں براجمان لبرل اشراف جو کل تک نواز شریف کو قومی جمہوری انقلاب کا قائد قرار دے رہے تھے آج ایسے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے مطابق پاکستانی معیشیت کو درپیش موجودہ بحران ایک تو دفاعی بجٹ کی وجہ سے ہے دوسرا یہ محض پی ٹی آئی کی تباہ کن پالیسیوں کے سبب ہے جبکہ سابقہ حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

پنجابی اربن چیٹرنگ کلاس میں نواز شریف کا حامی تجزیہ نگار اور وی بلاگر جب پنجاب کو یتیم کہتا ہے تو وہ پنجاب کی عوام کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے کہ شہباز شریف کے جانے سے پنجاب یتیم ہوا ہے۔ اور اس میں پنجابی اربن شاؤنزم بھی کہیں کہیں جھلک دکھلاتا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی اس وقت جو سوشل میڈیا پہ ٹیمیں غالب نظر آتی ہیں وہ شعوری یا لاشعوری طور پہ نواز شریف کے حامی کمرشل لبرل مافیا کے پروپیگنڈے لائن کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں۔

سب کو معلوم ہے کہ سلیم صافی،مطیع اللہ جان سمیت جیو جنگ گروپ، ڈان گروپ ، نوائے وقت گروپ کے نمایاں صحافی ہوں یا ان کے جیسے سوشل میڈیا پہ ایکٹو لوگ ہوں یہ نواز شریف کی پروجیکشن ہی نہیں بلکہ نواز شریف مخالف قوتوں کی آخری حد تک جاکر کردار کشی کرنے جیسی حکمت عملی پہ پیرا ہیں اور یہ دوسروں کو مشتعل کرنے کی حد تک جاتے ہیں۔

ماضی میں طاہر القادری بھی ان کے سخت ٹرولنگ مہم کا نشانہ بنے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے طاہر القادری کے خلاف نواز شریف کے حامی ملّاؤں کی تکفیری اور بلاسفیمی کمپئن تک پہ خاموشی اختیار کی اور سپاہ صحابہ جیسی کالعدم تنظیموں کے پروگراموں کو کوریج دی۔

احمد وقاص گورایا جیسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کی ٹرولنگ مہم کو کون نہیں جانتا بلکہ یہاں تک کہ گالم گلوچ میں اس جیسے ایکٹوسٹ دائیں بازو سے بھی کہیں آگے نظر آئے۔

لیکن جیسے ہی ان کو عوامی ردعمل کا سامنا ہوتا ہے اور پی ٹی آئی یا دوسری جماعتوں کا عام ورکر اپنا صبر کھوبیٹھ کر ان پہ غصّہ اتارتا ہے تو یہ لوگ فوری طور پہ ‘آزادی اظہار، پریس کی آزادی’ کا رونا رونے لگ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو انسانی حقوق کی شیلڈ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

https://nayadaur.tv/urdu/13197/Dennis-3-820x394

 

لیکن جب کبھی شہلا رضا یا کوئی اور سیاست دان،دانشور، لکھاری،ایکٹوسٹ تکفیری جہادی مسلم بنیاد پرستوں کے زیر عتاب آتا ہے اور اس کے خلاف بلاسفیمی کارڈ کھیلا جاتا ہے تو یہ سارا کمرشل لبرل مافیا خاموش رہتا ہے اور مسلم لیگ نواز کو بھی سانپ سونگے رہتا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم ہو یا مین سٹریم میڈیا کو دیکھنے والے مینجرز ہوں ان کو خاص طور پہ پنجاب بارے اور عام طور پہ پورے وفاق کے حوالے سے اپنی ابتک کی پالیسی پہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

اگر ہم صاف صاف کہیں تو ان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز کے پی ٹی آئی بارے بنائے گئے بیانیہ کے پیچھے چلنا ہے یا اپنا بیانیہ اور ڈسکورس لیکر آنا ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی اگر واقعی ایک سوشل ڈیموکریٹ پارٹی ہے تو اسے کمرشل لبرل مافیا کے نواز شریف حامی بیانیہ کی پیروی سے گریز کرنا ہوگا۔ اسے تعلیم اور صحت کی پنجاب اور وفاقی اداروں کی نجکاری کے خلاف واضح سیاسی پوزیشن لینا ہوگی اور سوشل میڈیا پہ اسے پھیلانے کا انتظام کرنا ہوگا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں راجن پور سے صوبائی اسمبلی میں خاتون ممبر شاذیہ عابد اور چینوٹ سے رکن صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی پارٹی کے لیڈر حسن مجبتی نے پنجاب میں کسانوں، عام آدمیوں کے مسائل پہ انتہائی اہم تقاریر کیں لیکن پیپلزپارٹی کا آفیشل سوشل میڈیا ان تقریروں کو اپنے اکاؤنٹس سے شئیر کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ناکام رہا۔ جبکہ نواز شریف کو قومی جمہوری انقلاب اور اینٹی اسٹبلشمنٹ ثابت کرنے والی کمرشل لبرل ماروی سرمد اور کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو فخریہ اپنا دوست بتانے والا حامد میر جب بلاول بھٹو زرداری سے ملتا ہے تو اس کی یہ اکاؤنٹس بھرپور کوریج کرتے ہیں۔

ایسے ہی نواز شریف کے میڈیا مینجرز نام نہاد صحافیوں کے خلاف پی ٹی آئی کے عام سطح کے ورکرز اور ہمدردوں کی ٹرولنگ پہ تو پیپلزپارٹی کے اراکین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس پہ بڑا شور دکھائی دیتا ہے لیکن شہلا رضا کو ناکردہ گناہوں کی معافی مانگنے پہ مجبور کردیا جاتا ہے۔اور پیپلزپارٹی کا سوشل میڈیا شہلا رضا کا دفاع کرنے سے ہی بھاگ جاتا ہے۔

کیا پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنے مٹھی بھر سرگرم لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ ذہنی طور پہ پنجاب کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز میں تقسیم ہونے پہ راضی ہوگئی ہے؟ اور وہ وفاقی سطح پہ اپنی پروجیکشن کے لیے کمرشل لبرل مافیا کی مدد لینے کے علاوہ کوئی اور آپشن ہی نہیں دیکھتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here