اقوام متحدہ میں رہے پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کے مستقل مضمون نگار ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں ایک مضمون پاکستان اور امویکہ کے تعلقات کی موجودہ نوعیت کے بارے میں لکھا ہے۔ میرے لیے یہ مضمون اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ منیر اکرم پاکستان کے خارجہ افسر شاہی کے اس گروپ میں شامل سمجھے جاتے ہیں جو پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ سے ذہنی طور پہ اور نظریاتی طور پہ ہم آہنگ خیال کیا جاتا ہے اور اس گروپ کے کسی آدمی کی جانب سے پاک-امریکہ تعلقات بارے کی جانے والی کوئی بھی بات کم از کم پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی قیادت کی سوچ کی عکاس سمجھی جاسکتی ہے۔

منیر اکرم اپنے مضمون کے آغاز میں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ میں جو باہمی اتحاد قائم ہوا تھا اس کا باقاعدہ اختتام اگست 2017ء میں ہوگیا جب صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے اعلی سطحی تعلقات کو معطل کیا، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج کی کاروائیوں کے لیے قائم اتحادی فنڈ کی ادائیگی بند کردی اور پاکستان سے افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے مطالبات پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔

منیر اکرم کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے یہ چاہتا تھا کہ وہ افغان طالبان کو براہ راست امریکی حکام سے مذاکرات پہ راضی کرے۔ اور منیر اکرم کے بقول پاکستان نے امریکہ کے اس مطالبے کو اچھے سے پورا کردیا اور امریکی حکام سے طالبان کے براہ راست مذاکرات دوحا میں ہوگئے۔ منیر اکرم جب پاکستان کہتے ہیں تو یہ کہنا معیوب نہیں ہوگا کہ اس سے مراد پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ ہے جو 80ء کی دہائی سے افغانستان بارے پالیسی پہ مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور افغان طالبان بشمول حقانی نیٹ ورک سے بھی اسی کے روابط اور اسی کا اثر ہے۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ افغان طالبان سے امریکہ کے راہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی رول پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ہے۔

منیر اکرم نے ایک طرح سے ہمیں اندر کی خبر دی ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان اس بات پہ اصولی اتفاق ہوگیا کہ امریکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی اور افغان طالبان افغانستان کو عالمی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے جبکہ اس حوالے سے باقاعدہ معاہدہ اس وجہ سے نہیں ہوپایا کہ افغان طالبان کہتے ہیں کہ وہ افغان حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے جو کہ کٹھ پتلی حکومت ہے اور افغان طالبان کا کہنا ہے جب تک امریکی افواج افغانستان سے نکلتی نہیں ہیں تب تک جنگ بندی بھی نہیں ہوگی۔

منیر اکرم کا کہنا ہے کہ اب امریکہ پاکستان پہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ افغان طالبان کو موجودہ افغان حکومت سے بات چیت پہ راضی کرے اور طالبان کو مین سٹریم سیاسی دھارے میں داخل کرنے کے لیے موجودہ حکومت اور اس کے اتحادی فریقوں سے ملکر افغانستان کا آئیندہ سیاسی سیٹ اپ سامنے لانے پہ آمادہ کرے۔

منیر اکرم کی تحریر کردہ باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ خود پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ موجودہ افغان حکومت پہ اعتماد نہیں کرتی اور نہ وہ اسے مستقبل کے افغان سیاسی عمل میں کوئی اہم کردار دینے کے حق میں ہے۔ یہی افغان طالبان کی پوزیشن ہے۔

منیر اکرم بین السطور ہمیں یہ بھی باور کراتے ہیں کہ پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ حالیہپاک-بھارت کشیدگی اور مبینہ پاکستان نواز جہادی گروپوں کے حوالے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن اور موقف سے بھی ناراض ہیں۔

منیر اکرم کہتے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی میں بھارت اور دنیا پہیہ تو واضح کردیا ہے کہ روایتی جنگ میں پاکستان کی طرف سے جواب دینے کی صلاحیت ناقابل شکست ہے اور پاکستان فوج اعتبار سے تو اپنا دفاع کرسکتا ہے۔ اس سے آگے وہ لکھتے ہیں

Pakistan’s financial defences are vulnerable. The nation needs to come together to implement the politically difficult yet vital tax and other measures required to ensure a sustained balance in the country’s fiscal and external accounts. For the longer term, Pakistan should join the nascent efforts of China, Russia and some other countries to construct alternate or supplementary arrangements to the US-dominated financial system.

Likewise, Pakistan is not fully equipped to fight the ‘hybrid’ war being waged by India and others in Balochistan, ex-Fata, sections of the media and politics to destabilise the country domestically. Using all the tools of modern technology, Pakistan must develop a sophisticated intelligence, counter-insurgency and political action capability for defence.

https://www.dawn.com/news/1481779/future-of-pak-us-relations

ان دو پیراگراف کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا فوجی دفاع ناقابل شکست ہے مگر جو معاشی محاذ ہے اس کے دفاعی معاملات کمزور ہیں۔ اس کا حل منیر اکرم وہی بتاتے ہیں جو موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی نئی مقرر کردہ معاشی ٹیم آئی ایم ایف کی روشنی ميں ہمیں بتارہی ہے۔ اور منیر اکرم کا یہ بھی خیال ہے کہ چین، روس اور دوسرے ممالک کے ساتھ ملکر متبادل یا یا اضافی انتظامات کرکے امریکی غلبے کا شکار مالیاتی نظام کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

دوسرا پاکستان کی عسکری ہئیت مقتدرہ کے خیال میں پاکستان ابھی ہندوستان اور دوسرے ( منیر اکرم مصلحت کے تحت امریکہ وغیرہ کا نام لکھنا بھول گئے ہیں) بلوچستان، سابقہ فاٹا، میڈیا اور سیاست کے کئی حصّوں میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے شروع کی جانے والی ہائبرڈ جنگ لڑنے کے مکمل طور پہ لیس نہیں ہے۔ منیر اکرم عرف عسکری ہئیت مقتدرہ کے خیال میں جدید ٹیکنالوجی کے اوزاروں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے دفاع کے لیے ایک بہترین تیز ترین انٹیلی جنس، کاؤنٹر انسرجنسی اور سیاسی عمل کی اہلیت کو  ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔

اگر اس دوسرے پیرا گراف کا کوئی مطلب نکالا جائے تو اس کا ایک مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ پاکستان کی عسکری ہئیت مقتدرہ بلوچستان اور فاٹا میں موجود سیاسی بے چینی، احساس محرومی، ریاست کی معاشی و سیکورٹی پالیسیوں کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اور اور بلوچستان و خیبرپختون خوا میں بڑے پیمانے پہ لوگوں کی انسانی حقوق کے تحفظ کی تحریکوں میں شمولیت حقیقی نہیں بلکہ ہندوستان، امریکہ، افغانستان اور یہاں تک کہ ایران وغیرہ کی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان کی عسکری ہئیت مقتدرہ کے نزدیک پاکستانی میڈیا کے کئی ایک سیکشن ، سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو ردعمل سامنے آرہا ہے وہ بھی حقیقی نہیں بلکہ باہر سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے اگر  سماجی و سیاسی و صحافتی میدانوں میں کچھ ایشوز پہ ردعمل کو بیرونی طاقتوں کی ہائبرڈ جنگ کا حصّہ قرار دے دیا جائے تو اس کا حل طاقت سے تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہم صاف طور پہ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی کچھ روز پہلے آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کی تحریک کو ‘سازش اور بیرونی فنڈڈ’ قرار دیا۔ انھوں نے بنا کوئی ثبوت پیش کیے الزامات عائد کیے اور اب تک ان الزامات کا ثبوت سامنے نہیں آيا اور دوسری طرف پاکستانی حکام کا فیس بک، ٹوئٹر کی انتظامیہ پہ دباؤ بڑھ رہا ہےگزشتہ مہینے سو سے زیادہ اکاؤنٹس بند کروانے کا کہا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی حکومت، فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں، سویلین سیکورٹی اداروں کی مبینہ ماورائے قانون کاروائیوں پہ تنقید اور اس حوالے سے خبر نگاری کرنے والے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف استعمال کرنے کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

یہاں تک کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار مذہبی جنونیوں،فرقہ پرستوں اور جہادیوں کو حکومت پہ تنقید کرنے والوں کے خلاف اکسانے میں ملوث ہیں اور بلاسفیمی کارڈ بھی ایسے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

 کہا جارہا ہے بھارت،افغانستان، امریکہ وغیرہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف کوئی سازش کر بھی رہے ہیں جیسا کہ ابھی روسی خبر رساں ادارے آر ٹی نے ایک پروگرام میں صاف الزام لگایا کہ پاکستانی فوج کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادی ویسا ہی پروجیکٹ چلارہے ہیں جیسا شامی فوج کے خلاف چلایا گیا تھا۔ اور آر ٹی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ ،افغانستان اور اس کے چند اور اتحادی پاکستانی پشتون اکثریت کے علاقوں میں ایک بڑی پشتون سول نافرمانی کی تحریک کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور وہ تحریک بعد ازاں پشتون علاقوں کی آزادی کی تحریک میں بدل دی جائے گی۔

اگر ایسی کوئی سازش ہو بھی رہی ہو تو کیا ایسی سازش کا مقابلہ پشتون و بلوچ علاقوں میں موجود مسائل سے آنکھیں بند کرنے اور ان کا انکار کرنے سے کیا جاسکتا ہے؟

 صاف صاف سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیا ان علاقوں میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نفی اور جبری گمشدہ افراد کے سرکاری اداروں کی تحویل میں نہ ہونے کا بیان دیکر کیا جاسکتا ہے؟  

صرف پشتون اور بلوچ ہی مجبور ہوکر احتجاجی تحریک کا راستا نہیں اپنا رہے، پاکستان کی مظلوم سرائیکی قوم اور سرائیکی خطے کے باسی بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اب احتجاجی راستے اختیار کریں گے۔

پاکستان اس وقت جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اس بحران سے نکلنے کا نسخہ حکمران طبقات کے پاس یہ ہے کہ آئیندہ آنے والے سالوں میں جو غریب 40 فیصد ہے وہ 80 فیصد ہوجائے اور موجودہ متوسط طبقے میں سے مزید 30 لاکھ لوگ غریبوں میں شامل ہوجائیں۔ پنجاب کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کردی جائے، اسٹیٹ لائف، پاکستان اسٹیل مل، پاکستان ریلوے، بجلی کی تقسیم کا نظام، شہروں میں صفائی کا و نکاسی آب کا نظام سارے کا سارا نجی شعبے کو دے دیا جائے۔ یعنی ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو دیکھتے دیکھتے کانٹریکٹ ملازموں میں بدلا جائے اور پھر ان کی اکثریت کو فارغ کردیا جائے۔

پاکستان کے امیر اور وسائل سے مالا مال اشراف حکمران طبقات اور ان کے ہی مفادات کے تحفظ کے لیے ہردم سرگرم پاکستانی ریاست کے جملہ اداروں کے ذمہ داران ایک طرف تو مسائل کی موجودگی سے انکاری یا ان کے پیدا ہونے کو غیر ملکی سازش کہتے نہیں تھکتے، وہ ہر مشکل وقت میں قربانی عام آدمی سے مانگتے ہیں۔ ایسا کب تک چل سکے گا؟ ایسا اب مزید چلتا نظر نہیں آتا۔

پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ ہو یا منتخب ہئیت مقتدرہ دونوں کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس کم وقت میں اگر وہ  یہ سمجھتے ہیں کہ جبر اور پابندیوں کا آپریٹس بڑھاکر وہ ردعمل ختم اور خاموشی کی ثقافت کو عام کردیں گے تو یہ انتہائی بے وقوفانہ اور آبیل مجھے مار والی حکمت عملی ہوگی۔ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں بھی نوشتہ دیوار پڑھ لیں، اگر وہ ایشوز پہ سیاست نہیں کریں گی اور حقیقی تحریکوں کا حصّہ نہیں بنیں گی تو عوام ان کو بھی مسترد کردے گی۔ پی ٹی ایم، بلوچ قومی تحریک میں عوام کی شمولیت اور اس کی لیڈر شپ کا روایتی سیاسی لیڈر شپ سے ہٹ کر تشکیل پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی بڑی سیاسی جماعت کے بڑے لیڈر کا انتظار نہیں کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here