سوشل میڈیا پر متحرک پی ٹی آئی کے حامی پیپلزپارٹی کی سیاسی تاریخ کے بڑے ناموں کے لیے حریت فکر کے عکاس عالمگیر استعاروں کے استعمال پر کہتے ہیں کہ یہ مذھبی علامتوں کو سیاست میں گھسیڑا جارہا ہے، حالانکہ ان کی عقل دانی میں اتنی صاف اور سیدھی بات نہیں گُھستی کہ جب کوئی شخص یا کوئی واقعہ عالمگیر استعارے میں بدل جائے تو پھر وہ کسی ایک مذھب، کسی ایک فرقے، کسی ایک خطے کی ملکیت نہیں رہتا بلکہ وہ ساری انسانیت کی ملکیت ہوجاتا ہے اور جہاں جہاں لوگوں کو ایسا لگے کہ ان کے پیش نظر کوئی شخص یا کوئی واقعہ حریت فکر کی عکاسی کرتا ہے تو وہ اُس استعارے کو اُس شخص یا واقعے پر چسپاں کرتے ہیں، مراد اس سے جزوی یا کلی مساوات یا تشبیہ نہیں ہوا کرتی-

کنیز کربلا، کاَر زینبی، حسینی طرز، اسلام آباد کا کوفہ، سندھ مدینہ، مصلوب، کار عیسٰی، ید بیضا یہ سارے استعارے عالمگیر ہیں اور کسی مذھب و فرقہ کی ذاتی ملکیت نہیں-

المیہ یہ ہے کہ جو لوگ ان استعاروں کے استعمال پر مذھب کو سیاست میں گھسیٹنے کا الزام عائد کرتے ہیں انہوں نے کبھی عمران خان پر یہ اعتراض نہیں کیا جس کی ہر تقریر ریاست مدینہ سمیت مذھب اسلام کی سیاسی تعبیرات اور تشریحات سے بھری ہوتی ہے، کل رات کی تقریر میں بھی اُس نے آئی ایم ایف سے مستعار لی ہوئی معاشی حکمت عملی کو ریاست مدینہ کی معاشی حکمت عملی قرار دیا-

پی ٹی آئی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے لیے اس ملک کی لوک دانش کے وارث، شاعر، ادیب اپنے اندر کوئی ایسا جذبہ تحریک محسوس ہی نہیں کرتے کہ ان کے لیے کوئی نظم، غزل، کافی یا کوئی استعاراتی نثر تخلیق کرائیں، ان کو باچا خان، جی ایم سید، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو سمیت پاکستان کی جمہوری تاریخ کے اہم ناموں اور اُن سے جڑے واقعات پر تخلیق ہونے والے ادب کی تاریخ کے تذکرے پر جھنجھلاہٹ ہوتی ہے، کل تک یہ عمران خان کو بھٹو بناکر پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جب منہ کی کھانی پڑی تو اُسے ریاست مدینہ ثانی کی نیو رکھنے والا بناکر پیش کرنے لگے، ہم نے کبھی نہ تو بلاسفیمی والی صحافت کی نہ سوشل میڈیا پر بلاسفیمی بلاسفیمی کھیلنے یا مذھبی منافرت سے مدمقابل کو چت کرنے کی کوشش کی مگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر محترک حامیوں کی اکثریت پہلے چور، ڈاکو، لیٹرا،بدعنوان کے تیر اپنے تیرکَش سے پھینکی ہے اس سے کام نہ چلے تو کافر، غدار، گستاخ جیسے زھر میں بجھے تیر چلاتی ہے، مجھے لگتا ہے یہ اکثریت کیونکہ اس ملک کے غیر منتخب ہیئت مقتدرہ /اسٹبلشمنٹ سے والہانہ محبت رکھتی ہے اور اُس کا طریقہ واردات بھی یہی ہے کہ جو ان کے دباؤ میں نہ آئے تو اس کو غدار، کافر، گستاخ قرار دے دیا جائے-

جسے یہ عدالتوں کے زریعے سے دفن نہ کرسکیں اُس پر یہ اپنے خریدار درباری مُلاں چھوڑ دیتے ہیں اور پھر بھی بچ جائے تو اپنی نرسری میں تیار تکفیری جہادی عسکریت پسندوں کے سامنے اُسے ڈال دیتے ہیں….. اور جب وہ راولپنڈی کی سڑک پر مارا جاتا ہے تو الزام بھی اُس کے کسی وارث پر ڈال دیتے ہیں-

اب اگر میں کہوں کہ یہ پریکٹس تو بہت قدیم ہے کہ قاتل جو اصل ہوتا ہے اُس کو پاکباز ثابت کرو اور جو مقتول کے فکری ورثے اور تحریک کے وارث ہوں اُن کو بے وفا، عہد شکن، بھاگ جانے والے، لشکر عُدو کا حصہ بن جانے والے قرار دے ڈالو، اور اگر کچھ بھی نہ ہوسکے تو کوفہ کے جانثاروں، عہد وفا سدا اُستوار رکھنے والوں کو اُس شہر کے دغا باز، موقعہ پرست، مفاد پرست اشراف القبائل سے گڈمڈ کردو اور باوفا اہل کوفہ و بے وفا اہل کوفہ میں جو خط امتیاز ہے اسے مٹاڈالو تاکہ قاتل اکبر ہمیشہ سے چھپا رہ جائے…. اور شور مچادو:

‘جنھوں نے بلایا، وہ مدد کو نہ پہنچے اور لشکر عُدو میں شامل کر ہوکر اپنے امام کو قتل کرڈالا’

آج بھٹو کی سیاسی وراثت کے حامل کو اسی الزام کا سامنا ہے-اُسے میر مرتضیٰ بھٹو کا قاتل کہا جاتا ہے اور آل یوتھ کو اس پر پورا یقین ہے، اُسے بے نظیر بھٹو کا قاتل کہا جاتا ہے اور اس پر بھی آل یوتھ کو پورا یقین ہے- کل جب یہ کہا جاتا کہ میر مرتضی کی زندہ دو بہنوں کو اُس پر بالکل یقین نہیں ہے تو کہا جاتا وہ بھی اپنے بھائی کے قتل میں ملوث ہیں، آج جب کہا جاتا ہے کہ صنم بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی اولاد کا کہنا ہے کہ طالبان نے تو گولی چلائی ان کا ٹریگر کا کنٹرول کہیں اور تھا تو کہا جاتا ہے بہن اور اولاد بھی قاتل سے مل گئی ہے، پیپلزپارٹی کے جیالوں اور ہمدردوں نے کسی ایک لمحے میں بھی اپنے سیاسی تجربے اور شعور کے سبب اس غلط فہمی کو دل میں جگہ نہیں دی کہ بھٹو خاندان کی قبریں کھودنے والی قوت پارٹی کی قیادت ہے بلکہ اُن کو پتا ہے کہ ان کی قبروں کو کھودنے والی قوت کون سی ہے اور کہاں ان کے قاتلوں کا کُھرا جاتا ہے؟

اور ہمارے نزدیک اس وقت عمران خان اپنے سے اختلاف رکھنے والے سیاست دانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں سے جو سلوک روا رکھا رہا ہے اور جیسے تمام ریاستی اداروں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کررہا ہے، وہ اُس ریاست مدینہ کا نمونہ پیش نہیں کررہا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کیا تھا یا خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین نے پیش کیا تھا کہ یہ تو وہ نمونہ ہے جو مروان بن حَکَم نے پیش کیا تھا، جس میں اپنے مخالف کی کردار کُشی اور ان کے خلاف جابرانہ اقدامات سرفہرست تھے-

ویسے پاکستان کی تاریخ میں فسطائی رہنماؤں کو ہمیشہ سے یہ مغالطہ رہا کہ وہ اس ملک کی عوام کی اکثریت کی مذھب سے جذباتی وابستگی کا استحصال کرے مقدس گائے بن جائیں گے، لیکن عوام کی اکثریتی دانش نے اُن کا وہ خاکہ چھیتا کہ رہے نام اللہ کا….. عمران خان کی قسمت میں بھی یہی ہونا لکھا ہے…..

دوام اُس سَر کو ہے جو سولی شناس ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here