سیاحت کی صنعت پر بات کرنا اور بے بنیاد مبالغہ آمیز دعاوی کرنا وزیر اعظم پاکستان کا محبوب مشغلہ ہے۔بلاشبہ جدید ترقی یافتہ معیشت رکھنے والے ممالک سیاحت کے ذریعے اپنی معیشت کا حجم بڑا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے ممالک نے صرف ٹورزم کے ذریعے اپنی معیشت کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ اس کی بنیاد پر اپنی صنعتی ترقی کو بھی ممکن بنایا۔
ٹورزم کے نقطہ نگاہ سے پاکستان ایک خوش قسمت ترین  ملک ہے ہے جہاں کم سے کم فاصلہ میں وسیع خوبصورت خوشگوار ساحل سمندر سے لے کر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی تک رسائی ممکن ہے۔خوبصورت ترین لینڈ سکیپ ۔ جغرافیائی ۔ماحولیاتی تنوع جو مختصر فاصلوں میں پاکستان میں دستیاب ہے ہے اس کی کی مثال دنیا کے کسی بھی دیگر ملک میں میں بمشکل ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے اپنے اعلی ترین اور باصلاحیت دماغ پر بہت زیادہ زور ڈال کر ٹورزم کی راستے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جن میں سب سے پہلے نمبر پر پاکستان کا ویزا آسانی غیرملکیوں کو دستیاب نہیں تھا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کے کے ہائی ویز پر دستیاب پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشنز اپنے باتھ روم گندے رکھتے تھے اس لیے بین الاقوامی طور پر سیاحت کا کاروبار پاکستان سے ناپید ہوتا چلا گیا۔
بدقسمتی سے دستیاب سہولتوں کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کا لڑکپن برطانیہ آسٹریلیا میں گزرا۔انہیں پاکستان دیکھنے کی پہلی سہولت اس وقت دستیاب ہوئی جب وہ ایک سلیبریٹی بن چکے تھے تھے اپنے شوق کی وجہ سے اور صحبت کی وجہ سے ان کی ترجیح شکار اور منشیات کی فراہمی کی وجہ سے ہمیشہ وہ علاقے تھےجہاں عمومی طور پر ٹورسٹ جانا پسند نہیں کرتے تھے ۔وزیراعظم پاکستان قبائلی علاقوں کے طرز زندگی کے بہت مداح تھےکہ وہاں ہر طرح کی منشیات باآسانی اور وافر دستیاب رہتی ہیں نیز وزیراعظم پاکستان کو گولی چلانے اور اور معصوم جانور مارنے کا بہت زیادہ شوق تھا تو قبائلی علاقہ جات میں اعلی سے اعلی بندوق کے ذریعے لامحدود فائرنگ کے مواقع بھی مہیا تھے۔
وزیراعظم پاکستان کو علم ہی نہیں ہے کہ جن دنوں پاکستان میں باتھ روم بنانے کا رواج گھروں میں بھی نہیں تھا اور پاکستان کی بین الاقوامی دنیا میں اس قدر پہچان بھی نہیں تھی۔ ان دنوں پاکستان ان بین الاقوامی سیاحت کا مرکز تھا۔ گندی ۔غلیظ اور سہولیات سے عاری  پاکستان کروڑوں ڈالر سالانہ ٹورزم سے کما رہا تھا اور لاکھوں یورپی امریکی سیاح یہ پاکستان کی غیر ترقی یافتہ مشکل گھاٹیوں ۔اور حسین وادیوں میں ہر وقت موجود رہتے تھے۔
پاکستان میں ٹورزم کی تباہی  کا براہ راست تعلق پاکستان کی دفاعی پالیسی سے رہا ہے۔
1988 میں جب افغان جہاد ختم ہوا۔تو وہ مسلح دہشت گرد جو افغانستان میں روسی فوج سے لڑنے کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے تیار کئے تھے ۔وہ بحفاظت پاکستان منتقل کئے گئے اور ان کی وجہ سے پاکستان کی معیشت  اور سماج میں  میں ایک واضح بدلاؤ آیا۔پاکستان میں گناہ۔ ثواب۔ دین ۔ایمان اور مذہب کے تصورات یکسر تبدیل کر دیے گئے تھے۔ عام پاکستانی کی زندگی محفوظ نہ رہی۔  بم دھماکوں۔ قتل و غارت ۔ شہریوں کے اغواء میں نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی۔غیر ملکی سیاح دہشت گردی کا نشانہ بنے اغوا ہوئے بم دھماکوں میں مارے گئے گئے اور انکی ٹارگٹ کلنگ کی گئی ۔جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاحتی منزلیں بے آباد ہو گئیں۔
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں میں سکیورٹی یا تحفظ کا احساس دینے والے لوگوں کی بجائے  اخلاقیات کے ٹھیکیدار بھر دیے گئے۔پولیس کا مقصد ہے سیاحوں یا عام لوگوں کو تحفظ دینے کی بجائے  ہوٹلوں میں جوڑوں کو بےعزت اور ذلیل کر کے ان کی ویڈیو بنا کر ٹی وی چینلز پر اور اخبارات میں تصویریں شائع کرنے  تک پہنچ گئی۔
پولیس کا کام غیر ملکی یا پاکستانی سیاح کو عزت احترام دینے کی بجائے آئے اس کو سڑک پر ہوٹل میں روک کر کر بے عزت ہراساں اور پریشان کر کے رقم ہتھیانے بن گیا۔اسی طرح شہریوں کو تحفظ کا احساس دینے اور دہشتگردوں کو شناخت کرنے روکنے اور پکڑنے کے نام پر جگہ جگہ فوجی چوکیاں بنائی گئی جو دہشتگردوں کی آمد و رفت میں تو کبھی بھی رکاوٹ نہ بن پائیں ۔ مگر سفر کرنے پر مجبور شہری اور سیاح ان کا خاص نشانہ بنے ۔
پاکستان کے پاس بلند پہاڑ خوبصورت وادیاں چشمے آبشاریں اور  فطری حسن کی فراوانی موجود ہے جن کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سیاح پاکستان آمد پر خوشی محسوس کریں گے ۔مگر یقین کریں کہ جس نے بھی محترم وزیراعظم کو یہ بتایا ہے کہ ویزا نہ ملنا نا یا باتھ روم گندے ہونا ٹورسٹ کے آنے میں رکاوٹ ہے کم از کم وہ کسی غیر حقیقی دنیا کا باشندہ ہے ۔1980  کی دہائی سے قبل یورپی سیاح امریکی سیاح پاکستان میں بھاری تعداد میں ہر وقت موجود رہتے تھے ۔
آج بھی اگر حکومت پاکستان اپنے شہریوں کے لیے عمومی طور پر اور سیاحوں کے لیے خصوصی طور پر احساس عدم تحفظ کو دور کردے مسلح ملیشیا اور مسلح گینگ جنہوں نے عوام نے امن و امان کو یرغمال بنا رکھا ہے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کرے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے مزہب اور اخلاقیات کے نفاذ کے ٹھیکیدار اور خواہشمند افسران سے لے کر چھوٹے اہلکاروں تک کا صفایا کیا جائے۔اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کو پاکستان کی سر زمین پر موجود ہر شہری سیاح کی جان و مال اور عزت کا محافظ بننے کی عملی تربیت دی جائے ۔
بہت سی وادیوں اور خوبصورت منزلوں تک رسائی یا وہاں پر رہائش کی اعلی سہولیات موجود نہیں ہیں ۔ ان کی بلا توقف ترقی کے لئے بی او ۔ٹی یعنی بلڈ آپریٹ اینڈ  ٹرانسفر یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر ترقیاتی کاموں کو بلا توقف مکمل کیا جائے۔ ٹورزم کے پیشہ سے متعلقہ بین الاقوامی کاروبار سے متعلقہ کمپنیوں کو پاکستان مدعو کیا جائے ۔ اور ان کو ایک ایک پوری وادی کے ترقیاتی انتظامات میں شریک کرکے کاروبار کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
میرا کام ہے کہتے رہنا کبھی نہ کبھی اچھائی ہو کر رہے گی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here