صوفی سنی پس منظر رکھنے والے عامر حسینی ترقی پسندوں کے اس قافلے کے اہم رکن ہیں جس نے خاندانی عقیدوں کے کمبل سے جان چھڑا کر انسانی سماج کو اس کی حقیقی روح کے مطابق سمجھنے اور انسانیت پرستی کو پروان چڑھانے کےلیے جدوجہد کو مقصد زندگی قرار دیا ۔

حسینی کالم نویس ہیں خبر نگار ہیں ادیب ہیں گاہے شاعری کو اظہار کا ذریعہ بھی بناتے ہیں ۔ مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہے چیزوں اور معاملات کو شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ قبل ازیں ان کی دو کتب ” کوفہ ” اور ” ساری کے نام خطوط ” شائع ہوچکیں ۔

” پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، افسانہ یا حقیقت “

ان کی تدوین و ترجمہ کا تازہ شاہکار ہے ۔ کتاب دس پندرہ دن قبل موصول ہوئی تو ادھوری رسید لکھ دی تھی مطالعہ ادھار تھا پچھلے دودنوں میں ان کی تصنیف پڑھ پایا ۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی کو قریب کے زمانے سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پہلے ورق پر 1949ء کی قراردادِ مقاصد لکھی ملے گی جو اپنے متن اور مقصدیت کے اعتبار سے جناح صاحب کی گیارہ اگست 1947 والی اس تقریر سے یکسر الٹ ہے جسمیں جناح صاحب نے یقین دہانی کروائی تھی

” آج سے آپ سب پاکستان کے مساوی حقوق والے شہری ہیں ریاست کو آپ کے مذہب عقیدے ذات پات و رنگ اور نسل سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ تمام شہریوں کے سیاسی سماجی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے “

گیارہ ستمبر 1948 کو جناح صاحب کا سانحہ ارتحال ہوا اور جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مسلم ریاستوں کے قدیم ساجھے داروں بنیاد پرست ملاوں کی قرارداد مقاصد کو 1949 میں پاکستان کا بیانیہ تسلیم کرلیا ۔

ہم اگر شیعہ نسل کشی کو متحدہ ہندوستان کی تاریخ سے سمجھنے کی کوشش کریں تو کھوج کا یہ سفر شیخ احمد سرہندی کی خانقاہ پر لیجا کھڑا کرے گا ۔

برصغیر میں ابن تیمیہ مصری کی مذہبی فہم کا سخت گیر چہرہ بنے شیخ احمد سرہندی اپنے ماننے والوں میں مجدد الف ثانی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ شیخ صرف شیعہ کی تکفیر کے ہی قائل نہیں تھے بلکہ وہ صوفی سنی اسلام ( جسے برصغیر میں مولانا احمد رضا خان کی جائے پیدائش بریلی کی نسبت سے بریلوی سنی کہا جاتا ہے ) کے بھی سخت ناقد تھے اُن کے نزدیک صوفی سنی عقائد اسلام کے حقیقی تصورات اور تعلیم سے متصادم تھے یعنی مسلمانوں کا ایک قدیمی مکتب تو اسلامی تعلیمات سے انحراف کا مرتکب تھا مگر آغاز اسلام سے کئی صدیوں بعد مصر میں پیدا ہونے والے ابن تیمیہ( جنہیں ان کے پیروکاران امام ابن تیمیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں) کی فکر خالص اسلام ہے

عامر حسینی کی کتاب

” پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، افسانہ یا حقیقت “

شیعہ دشمنی اور تکفیر کی تاریخ کے احاطے کے ساتھ ساتھ اس سے ہوئی بربادیوں کا نوحہ بھی ہے یہ کتاب ہمیں بہت سارے مخفی گوشوں سے روشناس کرانے کے ساتھ شیعہ نسل کشی میں ریاست اور اس کے اداروں کے مجرمانہ کردار سے بھی واقف کرواتی ہے

کتاب میں مسلم دنیا کے عالمی شہرت کے حامل سکالرز پروفیسر جواد سید، پرفیسر عباس زیدی ، پروفیسر فائزہ علی ، سید علی ندیم رضوی ، پروفیسر طاہر کامران ، عرشی سلیم ہاشمی اور پروفیسر ہود بھائی کے مقالاجات شامل ہیں اسی طرح کتاب میں 1947 سے 2015 تک کی شیعہ نسل کشی کا ڈیٹا بھی شامل ہے ۔۔

مترجم و مقالا نگاران کے خیال میں شیعہ نسل کشی میں اب تک 25 ہزار شیعہ قتل ہوئے غالباً ان اصحاب کی جنرل ضیاالحق کے دور میں اس کے وزیر قاسم شاہ کی قیادت میں گلگت بلتستان پر ہوئی لشکر کشی اور طالبان کے ہاتھوں رواں صدی کی پہلی دہائی میں پاراچنار میں ہوئی شیعہ نسل کشی کے اعدادوشمار تک رسائی نہ ہوسکی

اس کی وجہ یہی ہے پاکستانی میڈیا نے ان دوعلاقوں میں ہونے والی شیعہ نسل کشی کو معروف شیعہ ٹارگٹ کلنگ جتنی اہمیت بھی نہیں دی.

یہ بجا ہے کہ پاکستان میں شیعہ و صوفی سنی مسلمانوں کے علاوہ دوسری مذہبی برادریاں قادیانی ۔ مسیحی اور ہندو بھی جبروستم اور قتال کی زد میں آئے لیکن تکفیر کے فتووں اور ریاست کی سرپرستی میں شیعہ نسل کشی ان تنظیموں کا اولین مقصد رہی جنہوں نے تکفیر کے ان فتووں سے رزق پایا جو زیادہ تر دیوبندی مدارس سے جاری ہوئے ۔

عامر حسینی کی کتاب اپنے موضوع مواد اور اعداوشمار کے حوالے سے اس ضمن میں پہلی سنجیدہ کاوش ہے ، اس کتاب کو پڑھنے سے جہاں کئی ابہام دور ہوتے ہیں وہیں پاکستان کے کمرشل لبرل مافیا اور خودساختہ آزاد میڈیا کے گھناونے کردار سے بھی پردہ اٹھتا دیکھائی دیتا ہے قاتل اور مقتول کی شناختوں کو چھپاتے کمرشل لبرل اور میڈیا جس طور حقائق کو مسخ کرتے ہیں اس کا پس منظر بھی کتاب کے مطالعہ سے قاری کی سمجھ میں آجاتا ہے ۔

میری ذاتی رائے بہر طور یہی ہے کہ تکفیری فتور ریاستی جرائم کمرشل لبرل مافیا اور خودساختہ آزاد میڈیا کے مجرمانہ گٹھ جوڑ کو بےنقاب کرتی یہ کتاب تاریخ اور مطالعہ سے دلچسپی رکھنے والے صاحبان کو ضرور پڑھنی چاہیے

برادرم عامر حسینی کے لیے دعاگو ہوں انہوں نے ایک اہم موضوع پر کتاب کی تدوین کا حق ادا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہم اعلان

پاکستان میں شعیہ نسل کشی (افسانہ یا حقیقت) | عامرحسینی |قیمت : 1000|

ابھی گھر بیٹھے یہ کتاب کیش ان ڈلیوری سے 1000 روپے یا ایزی پیسہ، جاز کیش سے ادائیگی کی صورت میں 1000 میں حاصل کرنے کے لیے اپنا نام، نمبر اور مکمل پتہ ان باکس میں میسج کریں. یا ان واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں

03042224000

03484078844

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here