25 جولائی، 2019ء کو جنرل الیکشن 2018ء کو ایک سال مکمل ہونے پر متحدہ اپوزیشن نے اس دن کو مبینہ دھاندلی، پریس پر پابندیوں، مہنگائی میں اضافے وغیرہ کے خلاف احتجاج کے طور پر یوم سیاہ کے طور پر منایا-

متحدہ اپوزیشن نے اس دن چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بڑے جلسوں کا انعقاد کیا-

کراچی میں بلاول بھٹو، کوئٹہ میں مریم نواز، اچکزئی وغیرہ کے، لاہور میں شہباز شریف اور پشاور میں احسن اقبال کے مرکزی خطاب تھے-

کوئٹہ میں مریم نواز شریف سمیت متحدہ اپوزیشن کے خطابات میں حیرت انگیز طور پر کسی بھی جماعت کے مقرر نے بلوچستان میں جن مطالبات کو لیکر بلوچ قومی تحریک کا ابھار ہوا اور جن مسائل کے سبب علیحدگی پسند تحریک اور اس کے ایک حصے کی جانب سے گوریلا مسلح مزاحمت شروع ہوئی، اُن مطالبات کے تاحال پورے نہ ہونے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا-

کوئٹہ جلسے میں خطاب کے دوران کسی نے بلوچستان کے اندر کالعدم فرقہ پرست جماعتوں کے کھلے عام کام کرنے، بلوچ جبری گمشدگان کے لیے احتجاجی کیمپوں کو اکھاڑنے، بلوچستان میں سرکاری ملازمین اور سرکاری اداروں میں تین سو سے زائد ٹریڈ یونینز پر پابندی لگائے جانے اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کے اندر بہت سارے علاقوں میں پریس اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو رسائی نہ دینے جیسے مسائل پر اشاروں کنایوں سے بھی بات نہ کی گئی-

مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں سارا زور اپنے والد اور اپنی ذات کی الیکٹرانک میڈیا پروجیکشن پر لگی پابندی کا الزام تو نام لیے بغیر اسٹبلشمنٹ کو دیا لیکن انھوں نے اس دوران اوپر نشاندہی کیے گئے ایشوز پر اسٹبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا-

مریم نواز نے بلوچستان عوامی پارٹی کو اسٹبلشمنٹ کی مسلط کردہ پارٹی قرار دیا- اور 2018ء کے انتخابات میں اُن کی مداخلت پر تنقید کی – یہی رویہ محمود اچکزئی نے اختیار کیا-

میرے ذہن میں کوئٹہ میں متحدہ اپوزیشن کے قائدین کی تقریریں سُن کر چند سوالات پیدا ہوئے:

کیا اسٹبلشمنٹ نے 2012ء کے انتخابات کے دوران بلوچستان میں پسندیدہ بلوچ و پشتون قوم پرست و مذھبی جماعتوں کے افراد کی جیت یقینی نہیں بنائی تھی؟

ڈاکٹر مالک اور قدوس بزنجو سمیت بلوچ علاقوں میں قومی و صوبائی علاقوں میں پانچ سو ووٹوں سے اوپر نہ جانے والوں کی جیت کا ایک مطلب کیا یہ نہیں تھا کہ بلوچ علاقوں میں الیکشن بائیکاٹ کی اپیل موثر رہی تھی اور 2012ء میں بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان سے ممبران قومی اسمبلی اقلیت کے نمائندے تھے؟

2012ء میں اس وقت اپوزیشن میں جو بلوچ اور پشتون قوم پرست شامل ہیں انھوں نے تو مینگل کی پارٹی کو تنہا چھوڑ دیا تھا اور اختر مینگل نے مسنگ پرسنز پر جو موقف اختیار کیا تھا، اُس کے سبب ایک وقت میں اُن کو جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی اور جب مینگل کا کسی پارٹی نے ساتھ نہ دیا تو انہوں نے اپنے رویے میں لچک پیدا کی اور جن طاقتوں نے مینگل کو 2008ء میں الیکشن میں حصہ لینا قریب قریب ناممکن بنایا تھا اور 2012ء میں بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا تھا، 2018ء میں اُن سے گفت و شنید کرکے، موقف تھوڑا نرم کرکے الیکشن میں واپسی کرلی-

کیا ڈاکٹر مالک، محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف یا مریم نواز بتائیں گے کہ 2012ء میں انھوں نے ایسی کون سی لچک دکھائی تھی، جس کے سبب انھوں نے تو بلوچستان میں نہ صرف الیکشن لڑا بلکہ اُس میں نشستیں بھی لیں اور پھر اتحادی حکومت بھی قائم کرلی؟

یہ بھی ذہن میں رہے کہ 2012ء میں بلوچستان سے مسلم لیگ نواز کے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین میں 99 فیصد لوگ وہ تھے جو یا تو مسلم لیگ ق میں تھے یا پھر مینگل کی جماعت کے تھے- اور یہی لوگ پھر بعد میں مسلم لیگ نواز کا فارورڈ بلاک بنے اور پھر ان میں سے اکثر بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بن گئے-

مریم نواز، فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر مالک بلوچستان میں زھری کی حکومت کی جگہ فارورڈ بلاک کی حکومت آنے اور سینٹ میں صادق سنجرانی کے چئیرمین بننے کے عمل میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کا بڑا چرچا کرتے ہیں، آصف علی زرداری کے کردار پر بہت کچھ کہتے ہیں لیکن یہ سارے لیڈر 2012ء کے انتخابات کی انجئیرنگ اور آر اوز کی مدد سے الیکشن جیتنے اور ٹی ٹی پی کے زریعے سے اے این پی و پی پی پی کو الیکشن کمپئن چلانے سے روکنے اور اُس زمانے میں افتخار چودھری پلس کیانی پلس شجاع پاشا اور پھر ظہیرالاسلام کے ساتھ ملکر کم از کم پنجاب، بلوچستان میں اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے تعاون اور ملی بھگت کے تذکرے کو غائب کردیتے ہیں، کیوں؟

کیا ہم یہ سوال نہیں اٹھاسکتے کہ 2008ء سے لیکر 2012ء تک افتخار چودھری سمیت پی سی او ججز، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی و ایم آئی، رینجرز اور ایف سی کے انٹیلی جنس ونگز کے زمہ داران کے ساتھ ملکر نواز شریف اور اس کے اتحادی بلوچ، پشتون قوم پرست اور مذھبی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ سیاسی نظام میں جو ٹیلرنگ کررہے تھے، اُس زمانے کا متحرک الیکٹرانک میڈیا کا وہ سیکشن جو آج خود کو جمہوریت پسند اور اینٹی اسٹبلشمنٹ کہتا ہے، کہاں تھا؟

اُس وقت سی پی این ای، اے پی این ایس اور ان کے پی ایف یو جے میں بیٹھے اشراف جو آج افضل بٹ کی قیادت میں ہیں(دوسرے دھڑے کی تو میں بات ہی نہیں کرتا) اسٹبلشمنٹ کی ملک بھر میں عمومی اور بلوچستان میں خصوصی مداخلت اور من پسند نتائج لینے پر خاموش کیوں تھی؟ بلکہ اس وقت جنگ میڈیا گروپ، نوائے وقت میڈیا گروپ اور ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی چینلز، روزنامے اور ہفتہ وار و ماہ وار جریدوں کا ڈسکورس تین نُکات کے گرد گھوم رہا تھا:

پی پی پی حکومت عدلیہ کو پابند سلاسل کرنا چاہتی ہے

پی پی پی میڈیا پر کریک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے

پی پی پی بلوچستان میں ناکام ہوچکی ہے

پی پی پی کراچی سمیت ملک بھر میں جاری مذھبی بنیادوں پر دہشت گردی کی بالواسطہ زمہ دار ہے، وہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنا نہیں چاہتی –

توانائی کا بحران پی پی پی کی نااہلی سے پیدا ہوا ہے

پی پی پی کی حکومت بدترین کرپشن کی مرتکب ہے اور نیب کے آڑے آرہی ہے

اُس زمانے میں آج کے اینٹی اسٹبلشمنٹ بیج لگاکر آگے چلنے والے جنگ میڈیا گروپ، ڈان میڈیا گروپ اور نوائے وقت میڈیا گروپ کے ٹی وی چینلز اور اخبارات نے ہزاہ شیعہ نسل کُشی کے خلاف مجلس وحدت المسلمین کے ملک بھر میں تمام شاہراؤں پر جمنے والے دھرنوں کے دنوں میں ایک دن بھی یہ تجزیہ یا خبر نہیں دی تھی کہ ان مظاہروں کے پیچھے فوجی اسٹبلشمنٹ ہے اور مقصد کوئٹہ سمیت بلوچستان کا انتظامی کنٹرول کورکمانڈر بلوچستان اور سدرن کمانڈ کے حوالے کرکے سویلین حکومت کو بالکل مفلوج بنادینا ہے…..

انہی دنوں مذھبی جماعتوں نے پی پی پی کے خلاف بلاسفیمی قوانین کے حوالے سے شور مچانا شروع کیا اور مذھبی جماعتوں نے اسلام آباد میں کم از کم چار بڑے پاور شو کیے، ایک پاور شو تو ایسا تھا کہ اُس دن پی پی پی کو عام چھٹی کا اعلان کرنا پڑا-

مسلم لیگ نواز، مولانا فضل الرحمان ان احتجاجوں کا حصہ رہے اور پیپلزپارٹی کے خلاف انھوں نے بلاسفیمی قوانین میں ترمیم کا الزام لگایا اور جواب میں آصف زرداری کو فضل الرحمان کو اور مراعات دینا پڑیں-

پاکستان کا آزاد اور خودمختار متحرک میڈیا سیکشن اُس زمانے میں کیانی کی مدح سرائی کررہا تھا بلکہ سیرل المیڈا نے تو زرداری کے خلاف اشاروں، کنایوں میں فوج کو قدم اٹھانے کا کہہ ڈالا 

(یہی سیرل المیڈا تھا جس نے آصف علی زرداری اور پی پی پی پر شہباز بھٹی کے قتل کی زمہ داری ڈال دی تھی)

جنگ-جیو میڈیا گروپ، ڈان میڈیا گروپ اور نوائے وقت میڈیا گروپ جن کے سی ای اوز سے لیکر ایڈیٹر اور رپورٹرز تک امریکہ، برطانیہ، جرمن، انڈین، فرانسیسی اردو، پشتو، انگریزی سروسز اور نشریاتی اداروں میں اور اپنے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں عمران خان-طاہر القادری – راجہ ناصر عباس – حامد رضوی اور پھر تحریک لبیک دھرنوں، احتساب بیورو، ایف آئی اے کی نواز مخالف کارروائیوں پر عوام کو جرنیل-جج – سپائی ماسٹر-ملاں اتحاد اور سازش کو مکمل طور پر بے نقاب کرنے والے بنکر اینٹی اسٹبلشمنٹ، سنسر شپ، علمبردار ان جمہوریت و آزادی اظہار کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن ان کا یہ جذبہ جہاد 2008ء سے 2012ء تک کہاں سویا ہوا تھا؟ اُس زمانے میں تو یہ افتخار چوہدری، جنرل کیانی کے پیچھے کھڑے تھے اور کہتے تھے کہ سوئس بینکوں میں زرداری کی لوٹ مار کے پیسے واپس آنے میں رکاوٹ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہیں اور میمو گیٹ کیس کے پیچھے بھی کسی کو سازش نظر نہیں آئی تھی- کیوں؟

کالم کی تنگ دامانی آڑے آرہی ہے- مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آج سارے اینٹی اسٹبلشمنٹ و سنسر شپ میڈیا سیکشن کی آفیشل ویب نیوز سائٹس نے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کی خبر میں ہیڈلائن مریم نواز کے بیان کی نکالی ہے اور مین پکچر بھی کوئٹہ جلسے میں مریم نواز کے خطاب کی لگائی ہے اور اس اینٹی اسٹبلشمنٹ سیکشن کے ٹوئٹر پر موجود ‘مہان اسٹبلشمنٹ کے باغی صحافیوں’ کے ٹوئٹس حسب معمول مریم نواز کے بیانات سے بھرے ہوئے ہیں لیکن بلاول بھٹو کو دوسرے نمبر پر کوریج دی گئی ہے- جبکہ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں اپنے والد کی رہائی وغیرہ کی بات سرے سے کی نہیں بلکہ انھوں نے پارلیمنٹ، جمہوریت، پریس کی آزادی، آزاد عدلیہ سب کو لاحق خطرات پہ بات کی اور زوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، غوث بخش بزنجو، مولانا شاہ احمد نورانی سمیت 73ء کا آئین بنانے والے سیاست دانوں کا تذکرہ کیا اور ان کی سیاست کے وارثوں سے مل کر جدوجہد کو آگے بڑھانے کی بات کی-

لیکن ڈان میڈیا گروپ سمیت آج کے اینٹی اسٹبلشمنٹ میڈیا بریگیڈ کو تقاریر کے میرٹ کو تو دیکھنا ہی نہیں ہے بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اُن کو نوازنے والا کون ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here