اپنے تجربے میں دنیا کی طرح فیس بک بھی عبرت سرائے ہے، مکافاتِ عمل ہے، اک KARMA جو ایکٹنگ لائیک بِچ ہے، جواب آں غزل ہے، دردِ سر ہے تو علاجِ غم بھی ہے، وقت گزاری و وقت بربادی کا ذریعہ ہے تو ساتھ ہی ساتھ چیدہ، چنیدہ و فہمیدہ شخصیات سے حصولِ آگاہی کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے، یعنی یہ مجھ پہ، آپ پہ، ہم پہ منحصر ہے کہ ہم فیس بک کو اپنی علمی استعداد بڑھانے، سوچ کے نئے زاوئیے دکھانے اور تحمل، برداشت و رواداری کا کلچر عام کرنے کو استعمال کریں یا اسے بندر کے ہاتھ آئی ماچس، بندوق و استرا ثابت کرکے دکھائیں، معاشرے میں مثبت اور تعمیری سوچ اجاگر کرتے ایکٹوازم کو بڑھاوا دیں یا جلتی پہ تیل چھڑک کر تماشا دیکھنے والوں میں اپنا نام لکھوائیں، اس بازار میں سب دِکھتا اور بِکتا ہے، چاھے تو اپنی ٹائم لائن کو فلمی دنیا کا چٹپٹی خبروں سے سجا صفحہ بنائے رکھیں، اگر اسلام اسلام کھیلنے کا دل چاھے تو بخوشی اپنی وال کو فرقہ پرست کی ڈائری نما اسلامیات کی کاپی بنا لیں ، جس پہ آپ اپنی مرضی کے اقوالِ زریں شئیر کریں اور اپنے سوا سب کو دھڑلے سے فتنہ پرور، فسادی، جہنمی، کافر، بے راہ رو اور گمراہ ڈکلئیر کرتے پھریں، موج کریں

“زعمِ تقویٰ Vs عقلِ سلیم سے بیر”

مجھے نہیں معلوم کہ آپکے حلقہِ احباب میں کتنے لوگ علومِ دینیہ میں سند یافتہ ہیں اور کتنے دنیاوی علوم میں پروفیشنل ڈگریوں کے حامل، البتہ اس تجربے سے ہم میں سے اکثر گزرے ھونگے جب “باکردار و اعلیٰ صفات” کا حامل ھونا محض کسی مدرسے یا جامعہ سے تعلق ھونے پہ نتھی کیا جاتا ہے، یعنی دنیاوی لحاظ سے آپ کیسی ہی کارآمد سرٹیفیکیشن لیے بیٹھے ھوں، جملہ مذہبی حلقوں میں آپکی دین داری کسی بھی جماعتی یا جامعہ کے فارغ الذہن، خاکم بدہن فارغ التحصیل سے میل نہیں کھائے گی، کیونکہ آپ پہ وہ ٹھپہ نہیں لگا ھوا، حالانکہ مدرسے /جامعات کی ثابت شدہ اکثریت “عمومی سمجھ بوجھ” یعنی “کامن سینس” جیسی بےکار چیز سے کوسوں دور پائی جاتی ہے، یا پھر ان افراد میں زعمِ تقویٰ پایا جانا، اوردنیاوی تعلیم حاصل کرنے والوں پہ یک گونہ احساسِ برتری جتانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا جیسی خصوصیات بھی بدرجہ اتم موجود ھوتی ہیں، وہی بات کہ استثناء ہر جگہ موجود ہے، کچھ بہت مثبت اور دین کے روشن چہرے جیسے اندر باہر سے جگمگاتے اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے پیارے لوگ بھی انہی دینی درسگاہوں کا تحفہ ہیں، جن کے منہ کو ہم بہت سوں کو معاف کرنے کو تیار 💐

“اللہ کے نام پہ شادی کا سوال ہے بابا”

ف ب پلیٹ فارم پہ سنجیدہ و پیچیدہ سے لے کر بےسروپا قسم کے “زود رنجیدہ” افراد اپنی موجودگی کا بےتُکا احساس دلاتے پائے جاتے ہیں، جن کی اکثریت آپ سے ذاتی نوعیت کے سوالات کو اپنا حق سمجھ بیٹھتی ہے اور کبھی جواب نہ ملنے اور اکثر منہ توڑ جواب مل جانے پہ اپنا سا منہ لیکر رہ جانے کی بجائے رونا بسورنا یا پروپیگنڈہ کرنے کی طرف نکل کر ابدی سکون پاتی ہے، یا بلاک لسٹ میں نام لکھوا کے سکوت کی ہمیشگی کا مزہ چکھتی یے، انہی جیسوں کی بدولت مابدولت کا “جیسی روح ویسے فرشتے” اور “جیسا منہ ویسی چپیڑ” پہ بہت اعتقاد ہے “پرائیویسی کا احترام” نامی کوئی بدعت مہذب معاشروں میں پائی جاتی ھو تو ھو ہمارے یہاں بفضل للہ ایسا کوئی رواج نہیں، کوئی دن نہیں گزرتا جب آپکو کوئی ایسا میسج، یا کال موصول نہ ہو کہ جس میں آپکا خیرخواہ کال و میسج کنندہ جو دراصل اپنے کسی کام کو رابطہ کررھا ہے مگر سلام دعا کے بعد ان کا فوری اور واجب جملہ یہ ھوگا “شادی کب کررہی ہیں آپ؟؟” قسم سے دل چاھتا ہے ریسیور یا ان باکس سے سوال کرنے والے کو کھینچ کے باہر نکالا جائے اور سامنے صوفے پہ بٹھا کے “حقیقی تسلی بخش جوابات” کی سِلوں میں پرو کے برف میں لگا دیا جائے، اور جب جب برداشت سے باہر ھونے پر “جواب” عنایت کیا تو سوالی توبہ توبہ کراٹھا، اور جواباً “معذرت” “معافی” “دیکھیے میرا یہ مطلب نہیں تھا” “میں نے تو ویسے ہی پوچھا” “بس آپکا خیال ہے آپکی خوشیاں دیکھنا چاھتے ہیں اسلئے پوچھا” جیسے جھینپ کھائے جملے سننے کو ملے، میری خوشیاں؟؟ وٹ دا جہنم بھئ؟؟ یعنی ابھی میں دوزخ کے مطالعاتی دورے پہ ھوں جو خوش نہیں ھوں؟ آپکو کیسے معلوم ھوا میری خوشی و ناخوشی ماپنے کا پیمانہ؟؟ آپکو کس نے حق دیا میرے لئے اپنی خواہش و مرضی مطابق “خوشی” تجویز کرنے کا؟؟ ھوسکتا ہے میری خوشی اور سکون کی تعریف آپکی مروجہ تعریف سے مختلف ھو، آپکے متعین کردہ معیارات والی خوشی پہ خوش ھونا میرے لئے کیوں لازم؟؟ آپکو کسی نے حق نہیں دیا کہ اپنا چھوٹا یا بڑا سا منہ اٹھا کے میری زندگی میں مداخلت کریں، یہ نامناسب ہے، آپکو کیسے خبر میری زندگی کی پلاننگز، ٹارگٹس، میری ترجیحات، مصروفیات، تعلیمی، معاشرتی و معاشی اھداف، میرا فلسفہِ حیات، میری کامیابی و ناکامی کے تصورات؟ جب ان سوالات کا ککھ نہیں پتہ تو اپنی جانب سے ایسے کے بظاہر بےضرر سوالات کو اُسی جگہ رکھنا مناسب ہے جہاں جاپانی وزیراعظم نے ٹرمپ کا خط رکھا ھوا تھا،

“مابینِ خوش اخلاقی و فلرٹ”

دیکھئیے، محض دیکھنے اور پڑھنے سے نہیں برتنے سے اصلیت کھلتی ہے، چانس اور چوائس کا فرق انسانوں کو “انسان” کا درجہ دیتا ہے، کچھ لوگ بائے چوائس اعلیٰ انسانی اقدار پہ قائم ہیں، اور کچھ چانس نہ ملنے کی وجہ سے “نیک” اور “پارسا” کردار بننے رھنے پہ مجبور ہیں، جیسے ہی چانس ملے ساری حدیں پار کرکے لکیر کی دوسری طرف کھڑے نظر آئیں گے،
خواتین کی عموماً شکایت کہ مرد حضرات بےوجہ ان باکس میں در آتے ہیں، بات کرنے کا بہانہ تلاشتے ہیں، فلرٹ کرنے کو، ھوسکتا ہے کچھ مرد نما مردود ایسا کرتے بھی ھوں، لیکن یہ فتویٰ سب کے بارے دے ڈالنا درست نہیں، کچھ خواتین بھی اسی لسٹ میں موجود ھونگی، کہ لوگوں کی توجہ تلاشنے، خود ستائی و خودنمائی میں تمغہِ بسالت کے لئے نامزدگی میں جنس کی بناء پہ تفریق کا قائل ھونا کہاں کا انصاف ہے، سب کو موقع ملنا چاھئیے 😎 سو آپکو اگر کسی کے نامناسب میسجز، گفتگو یا بلاوجہ رابطہ رکھنے پہ اعتراض ہے تو دیری کیسی، ٹیکنالوجی نے آپکو اگلے کی زبان بندی سے لے کر بلاکنگ اور سائبر کرائم سے لیکر ویب سیکورٹی رپورٹنگ تک سب کچھ دے رکھا ہے، جو چبھ رھا اسے مٹائیں، جو پسند نہیں اسے سامنے سے ھٹائیں اور سکھ سکون کی زندگی کریں ڈرامے نہیں کریں، جئیں اور جینے دیں، اسی میں عزت بھی ہے اور راحت بھی،

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here