وہ سب رات کے اس پہر ایک مکان کے تنگ و تاریک کمرے میں ایک دائرے کی صورت ننگے فرش پر بیٹھے تھے- اس دائرے کے عین مرکز میں ایک دیا جل رہا تھا،جس کے اندر مٹی کے تیل سے بھیگی روئی کی ستلی کا تھوڑا سا کونا باہر نکلا ہوا تھا،جو سلگ سلگ کر شعلے کی صورت روشنی دے رہا تھا،جس میں وہاں بیٹھے لوگ ہیولے لگ رہے تھے، ان کے چہرے کے خدوخال ٹھیک سے نظر نہیں آرہے تھے- سب کمرے کے لکڑی سے بنے کواڑوں کو تک رہے تھے،جیسے کسی کے آنے کے منتظر ہوں-

‘کہاں رہ گئے کامریڈ بھگت سنگھ؟، اب تک تو ان کو آجانا چاہیے تھا-‘، مدہم سی روشنی میں کمرے میں مشرقی سمت سے ایک ہیولے کی آواز ابھری-

‘کامریڈ،تھمیں بیرا تو ہے پورے شہر میں دنگے پھوٹ پڑے ہیں،جلم کا بجار گرم ہے، تیلیوں کے محلے میں مسلمان سادات اور قریشیوں کی دو اگاڑیاں جلا کر راکھ کر ڈالی ہیں،مہا سبھائیوں نے اور تو اور کانگریس کے  جاٹ اور سردار باؤلے ہووے جاوت ہیں اور تھم اگر واں کالج کے کوارٹر میں رہ رہے ہوتے تو اب تک کٹ گئے ہوتے’، ایک اور آواز جنوبی سمت سے  ابھری-

‘ہم کیوں کاٹے جاتے؟’ ایک نسوانی آواز مشرقی سمت سے ابھری-

‘ میں نے تو پارٹی کے فیصلے کو ماننے سے برملا انکار کیا تھا- اورپولٹ بیورو سے استعفا بھی دیا تھا،میں تو مذہبی بنیاد پر ہوئی تقسیم کو کسی بھی لولی لنگڑی تعبیر کے زریعے تسلیم نہیں کرسکتا تھا اور کامریڈ زھرا بھی اسی نتیجے پر پہنچی تھی تو ہم دونوں تو بدستور کانگریس کے سوشلسٹ ونگ کے ساتھ کام کرتے رہے تھے- اور یہاں سارا حصار جانتا ہے،جب سے ہم یہاں آئے،ہم نے ہندوستان کی فرنگی سامراج سے آزادی کے لیے کانگریس کی ہر ایک ایجی ٹیشن میں حصّہ لیا،ابھی دو ماہ پہلے تو ہم جیل سے واپس آئے ہیں- پھر اس تقسیم کی سزا ہمیں کیسے دی جاسکتی ہے؟’، پہلے والا مشرقی سمت میں بیٹھا ہیولہ کی آواز آئی-

‘Comrade Naqi and Zahra! This is time of total chaos and madness. Irony is that in the time of madness humanity vanishes and barbarism prevails and all rational voices suddenly become voice of very small minority and you and us are those voices’,

جنوبی سمت سے ایک اور ہیولے کی آواز آئی،جو بہت نرم اور درد سے بھری ہوئی تھی- اتنے میں کمرے میں ایک چھوٹی سی بچی کے رونے کی آواز آنے لگی اور وہی نسوانی آواز اسے پیار سے چپ کرانے کی کوشش کرتی نظر آئی-

‘بھابھو! کیا چھوری کو اب بھی تاپ چڑھا ہوا ہے؟’ ایک اور آواز ابھری-

‘جی، گورمیت بھائی، لیکن دوا دی ہے، پسینے آرہے ہیں، بخار کو ہوجائے گا-‘

اتنے میں کمرے کا کوارڑ آہستہ سے کھلا اور ایک اور ہیولا اندر داخل ہوا، سب اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے-

‘لال سلام، ساتھیو!’ آنے والے نے کہا اور اس نے سب کو بیٹھ جانے کو کہا اور پھر ساتھ ہی کہنے لگا،’دیر سے آنے کی معذرت چاہتا ہوں، ایتھے تے گدر مچیا ہویا اے، کتھوں وی چنگیاں خبراں نئیں آریاں- پنجاب، بنگال،بہار،آسام تے یوپی اندر کھون پانی وانگوں بہایا جاریا اے تے ایوین لگدا اے انسانیت کتھے منہ چھپاکے بے گئی اے- آندیاں ہویاں میں حصار کالج دے نیڑے ہوکے گزریا تے کامریڈ نقی تے کامریڈ زھرا دے کوارٹر توں اٹھدے آگ تے دھویں دے بدل ویکھے،مینوں گاندھی واد رام لاکھن نے دسیا کہ مہاسبھائی ٹولہ دواں کامریڈاں نوں لبھدا پھردا اے کہندا اے لہور اچ ہوئی لٹ تے مارا ماری دا بدلہ لینا اے- ہمینت نے دسیا، حصار،بھوانی،چرخی دادری تے لوہارو ریاست اندر ہن اک وی مسلمان دا گھر نئیں بچیا،تے ہزاراں مرد،عورتاں تے بچے کاٹ دتے گئے تے باقی جیڑھے بجے او سارے پاکستان ول بھج گئے نئیں’

‘اب کیا کرنا ہے؟’،مشرقی سمت والا ہیولا بولا

‘کامریڈ نقی اور کامریڈ زھرا! مجھے افسوس سے آپ کو کھبر کرنا پڑرہی ہے کہ مجھے حصار میں پارٹی کے سیل نے اور کانگریس میں سوشلسٹ سیل نے آپ دونوں کو پاکستان چلے جانے کو کہا ہے- آپ کو کامریڈ سنتوکھ سنگھ اور ان کی بیوی پرمیت کور فیروز پور کے راستے فاضل کے بنگلے کے پاس تک لیجانے کی کوشش کریں گے،جہاں سے آپ پاکستان داخل ہوسکیں گے۔’ آنے والے نے کہا جو کامریڈ بھگت سنگھ تھا اور پارٹی کے پولٹ بیورو کا رکن اور انبالہ ڈویژن کا نگران تھا-

‘ کیا ہم اعظم گڑھ یا ممبئی کی طرف نہیں جاسکتے؟’، کامریڈ نقی اور کامریڈ زھرا نے ایک ساتھ بے تاب سے ہوکر پوچھا-

‘نہیں، اس طرف جانے میں بڑا رسک ہے اور فی الحال نہ ریل کھلی ہے اور نہ لاری میسر ہے- اور ویسے بھی پہلے تو حصار سے باہر جانا ہی ایک چیلنچ سے کم نہیں ہوگا’، کامریڈ بھگت سنگھ نے جواب دیا-

‘کامریڈ شردھا سمیت جتنے کامریڈ یہاں حصار شہر میں ہیں، ان سب کو پولٹ بیورو کی طرف سے ہدائیت کی گئی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں کہ یہاں پر مسلمانوں کو بچائیں جن کو بچایا جاسکتا ہو- اب تک ہم چار سو کے قریب خاندانوں کو انبالہ ڈویژن میں حفاظت سے پاکستانی علاقوں کو روانہ کرچکے ہیں- ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں رکھ کر ان کی حفاظت کرسکیں کیونکہ اطلاع ملنے پر اکالی اور مہاسبھائی ہی نہیں بلکہ عام کانگریسی  جاٹ اور سکھ بھی جتھوں میں شامل ہوکر حملہ آور ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہ پناہ دینے والوں کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں- لاہور، ریاست بہاول پور اور راولپنڈی سمیت مغربی پنجاب سے آنے والے شرنارتھیوں کے لٹے پٹے قافلوں میں نوجوان بھی انتقام میں اندھے ہورہے ہیں اور کوئی اپنے آپ کو گورو گوبندسنگھ کا اوتار سمجھ رہا ہے تو کوئی شیوا جی بنا پھر رہا ہے- لوگ تو اپنے باپو گاندھی کی نہیں سن رہے- سب پٹیل کی سن رہے ہیں-‘، کامریڈ بھگت سنگھ نے درد بھرے لہجے میں کہا-

‘ تاریخ کانگریس اور لیگ کو کبھی معاف نہیں کرے گی- دونوں جماعتوں کی قیادت کی انا کی بھینٹ ہندوستان کے کروڑوں لوگ چڑھ گئے اور انگریز سامراج کا تقسیم کرو،حکومت کرو کا فارمولا کامیاب ترین ٹھہرا-‘، ایک ہیولا بولا-

‘کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نے کون سا بصیرت کا ثبوت دیا- ممبئی کے جہازیوں اور نیوی کے سپاہیوں کی بغاوت نے برطانوی سامراج کو مفلوج کردیا تھا،اگر پارٹی اس موقعے پر جنرل سٹرائیک کی کال دے کر ایجی ٹیشن کردیتی اور انقلاب کی بات کرتی تو یہ سب نہ دیکھنا پڑتا- لیکن وہاں تو یہ ہوا کہ ایک طرف تو آل انڈیا مسلم لیگ میں مسلمان کمیونسٹوں کو بھیج دیا گیا اور دوسرا پاکستان کے مطالبے کی حمایت کردی گئی- اس سے حاصل کیا ہوا، ہمیں آج وہاں جانا پڑرہا ہے،جہاں ہم جانا نہیں چاہتے۔’،کامریڈ نقی کی آواز کانپ رہی تھی-

‘یہ وقت یہ باتیں کرنے کا نہیں ہے،کامریڈ! میں تو آپ سوچ رہا ہوں کہ جس کرانتی کاری سے میرا نام ملتا ہے اور کیا اتفاق ہے کہ میں اور وہ ایک ہی دن جنمے تھے وہ جندا ہوتا تو کیا سوچتا- امرتسر میں آگ لگی ہوئی ہے- مسلمانوں کو کاٹ دیا گیا یا پاکستان بھیج دیا گیا ہے- کامریڈ بھگت سنگھ کا لاہور اور لائل پور دونوں اب پاکستان ہیں اور انگریج کے سامنے سرفروشی دکھانے والے ایک دوسرے کا سر کاٹنے میں سبقت لیجارہے ہیں- یہ بہت تکلیف دہ مناجر ہیں- کھاس بات کیا ہے عام بات ہی ہے۔۔۔۔ اب تو بس ہم آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کو الجام دیں گے- لیکن یہ پاگل پن کا دور ہے اور اس پاگل پن کا شکار ہونے سے جو بچ گیا وہی خوش قسمت ہوگا اور آنے والے دنوں میں شرمندہ ہونے سے بچ جائے گا’،کامریڈ بھگت سنگھ کی آواز میں غصّہ اور درد دونوں بھرے تھے-‘

‘آپ دونوں کو لینے کے لیے آج رات کسی وقت ساتھی سنتوکھ سنگھ اور پرمیت کور لینے آجائیں گے- ہماری طرف سے آپ کی سلامتی کی خواہشات ہیں، لال سلام دوستو، جندا رہے تاں پھیر ملاں گے’، یہ کہہ کر کامریڈ بھگت سنگھ اٹھ کھڑا ہوا- آج اس نے اجلاس برخواست کرتے ہوئے خلاف معمول’انقلاب زندہ باد’ نہ کہا-

کمرے سے باقی سب چلے گئے، اور وہاں بس نقی، زھرا اور ان کی دو سال کی شیرخوار بچی رہ گئی تھی جس کا نام رانی جھانسی رکھا تھا- کمرے میں خاموشی رہی- دونوں خیالوں میں گم تھے-

‘تمہاری جرآت کیسے ہوئی کہ تم مدرسۃ الواعظین سے بھاگ لیے اور اس فرنگی  کالج میں داخلہ لینے کی؟’، کالی شیروانی پہنے، ہاتھ میں عصا لیے ایک لمبے قد کے سرخ و سپید بزرگ اس پر سرخ آنکھوں کے ساتھ برس رہے تھے- اور وہ نظریں نیچی کیے ، ہاتھ دونوں رانوں کے درمیان باندھے مودب کھڑا تھا-

‘بولتے کیوں نہیں، تمہیں زرا شرم نہیں آئی، ہم چاہتے تھے کہ تم وہاں پڑھو،پھر نجف اشرف سے پڑھو اور پھر یہاں اعظم گڑھ کی مرکزی میں عشرہ پڑھو-میری آنکھیں بند ہونے سے پہلے یہ تمنا پوری کردوگے- لیکن تمہیں نہ میرے بڑھاپے کا خیال آیا نہ ہی ہماری تمناؤں کا خون کرتے ہوئے زرا حیا آئی- اور تو اور تم نے مولا کا خیال بھی نہ کیا- ان کی ناراضگی کا بھی خیال نہیں آیا- بولو توسہی؟’

‘ابا میاں! مجھ سے یہ سب نہیں ہونے کا تھا- میں جدید علوم پڑھنا چاہتا تھا اور یہ ملاگیری اور ذاکری میرے بس کی بات نہیں تھی اور وہاں لکھنؤ کے مدرسے میں میرا دم گھٹنے لگا تھا تو میں دلی میں سینٹ اسٹیفن کالج چلا گیا- اور میں وہیں پڑھوں گا-‘

‘جو مرضی آئے کرو،میاں، لیکن آج سے اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ایک پائی نہیں ملے گی اور یہاں سے فورا چلے جاؤ-‘،بزرگ نے کہا-

صاحبزادہ نقی علی خان یہ سب سنکر وہاں سے روانہ ہونے لگے تو اماں اور بھابھی، بہنوں اور دادی اماں نے بڑا کہا، معافی مانگ لو اور واپس مدرسہ چلے جاؤ لیکن وہ نہیں مانے- جو سامان دلی سے لائے تھے،وہی سمیٹا اور اٹیچی میں رکھا اور حویلی سے باہر نکل آئے- ایسے میں اماں کی مہربانی کے تھوڑی دور چلے تھے کہ چاچا اکبر تانگہ لیے چلے آئے،’میاں،چلو بیٹھو، ٹیشن چھوڑ آتے ہیں۔’ یوں وہ ٹیشن پر آئے اور دو گھنٹے بعد ٹرین آئی،اس میں سوار ہوگئے اور دلی پہنچ گئے-

دلی میں جامع مسجد کے پڑوس میں ایک کمرہ کرائے پہ لے رکھا،وہاں پہنچے تو زھرا پہلے سے پہنچی ہوئی تھی- دونوں سینٹ اسٹیفن کالج میں ملے تھے اور پھر انجمن ترقی پسند مصفین کے اجلاسوں میں باقاعدہ ملنے لگے تھے- وہیں دونوں ایک دوسرے کے اسیر ہوگئے اور ایک دن چند دوستوں کی موجودگی میں دہلی سول کورٹ میں شادی کرلی تھی- اور شادی کی خبر جب زھرا کے والد نواب فیض نقن تک لکھنؤ پہنچی تو انہوں نے وہیں سے عاق نامہ اخبار میں شایع کرادیا تھا- اب دونوں بطور میاں بیوی یہاں اس کمرے میں رہ رہے تھے- اسی دوران دونوں کمیونسٹ پارٹی آف ہندوستان کے فل ٹائمر بن گئے تھے- پارٹی نے نقی کو پارٹی کے انگریزی ترجمان رسالے کے ادارتی بورڈ کا ممبر مقرر کردیا تھا اور زھرا جو کہ کیری کیچر، پینٹنگ اور سکیچ کی ماہر تھی کے زمے پارٹی کے رسائل و اخبار کے لیے کارٹون بنانے، پوسٹر لکھنے کا کام سونپا تھا- پھر پارٹی نے دونوں کو پنجاب کے ضلع حصار جانے کا حکم دیا- کامریڈ نقی کو بطور لیکچر حصار کالج بھرتی ہونے کا پروانہ جاری کروایا گیا اور کامریڈ زھرا کے لیے لڑکیوں کے اسکول میں استانی کے طور پر کام کرنے کا انتظام کیا گیا- کامریڈ زھرا کے ذمے حصار میں پارٹی کے آدھے درجن مرد و عورت ممبران کو پوسٹر بنانا، پمفلٹ لکھنا اور دیواروں پر لکھنا سکھانا تھا- جبکہ کامریڈ نقی کے ذمے حصار میں پارٹی کے اسٹڈی سرکلز منظم کرنا اور پارٹی پروپیگنڈا سیل کی نگرانی کرنا تھا اور کالج میں آنے والوں کو پارٹی کے اسٹوڈنٹس فرنٹ میں لانا اور سرگرم کرنا تھا اور ساتھ ساتھ حصار میں ریلوے ورکرز کو پارٹی کا ہمدرد بنانا اور جس میں زیادہ پوٹنشل ہو اسے پارٹی ممبر بنانا تھا- دونوں نے اس دوران نہ صرف پنجابی اور ہندی پر عبور حاصل کیا بلکہ گورمکھی اور دیوناگری رسم الخط بھی سیکھ لیا تھا- نقی کبھی کبھی پارٹی کے کسان فرنٹ کیرتی پارٹی کی سرگرمیوں میں شرکت بھی کرلیا کرتے تھے- اور کھلے عام کامریڈ نقی اور زھرا دونوں کانگریس کے کارکن کے طور پر کام کررہے تھے اور وہ کانگریس میں سوشلسٹ کیمپ کے سرخیل تھے جس کی سربراہی کانگریس کے ہردلعزیز رہنما پنڈت جواہر لعل نہرو کررہے تھے- حصار میں دونوں میاں بیوی کانگریسی حلقوں میں بڑے مقبول تھے-

1937ء میں جب کانگریس نے ہندوستان بھر میں ایک تین چار ریاستوں کو چھوڑ کر صوبائی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو بنگال کو چھوڑ کر سب ریاستوں میں عبرتناک شکست ہوئی تھی تو آل انڈیا مسلم لیگ نے کانگریس کے خلاف کل ہند مسلم عوام رابطہ پروگرام شروع کیا- جبکہ پنڈت نہرو اس سے پہلے ہی ‘مسلم عوام رابطہ پروگرام’ شروع کردیا تھا- اس پروگرام کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی اس کے چئیرمین کامریڈ کے ایم اشرف تھے اور حصار میں اس کمیٹی کے چئیرمین کامریڈ نقی اور ممبران میں زھرا بھی شامل تھیں- حصار میں مسلم لیگ نے کامریڈ نقی کے خلاف خوف پروپیگنڈا کیا گیا- ان کو دھریہ اور اسلام دشمن کہا گیا- اور کفر کے فتوے دیے گئے- کامریڈ نقی اور زھرا کمیٹی کے ساتھ حصار ضلع کے دیہاتوں اور قصبوں میں مسلمان کسانوں اور دستکاروں سے رابطے کرتے تھے اور بتایا کرتے کہ ہندوستان کا اصل مسئلہ معاشی ہے اور سامراج اور اس کے گماشتے سرمایہ دار و جاگیردار و نواب اور ان کے ٹوڈی ملّا ان کی غربت اور بدحالی کے ذمہ دار ہیں- کامریڈ نقی نے مسلم لیگ اور اس کے حامی ملّاؤں کے کافرانہ فتوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تقریروں کو ایسے حوالے مسلم تاریخ سے شامل کیے تھے جس سے ان کے سوشلسٹ نکتہ نظر کو مدد ملتی- وہ حضرت ابوبکر کا حوالہ دیکر کہا کرتے کہ وہ معاشی مساوات کے قائل تھے اور اس میں اونچ نیچ کے حامی نہ تھے- حضرت عمر کا قول دوہراتے کہ ‘امیروں کی دولت غریبوں میں بانٹ کر سب کو برابر کردوں گا’۔ اور حضرت ابو زر غفاری کا اسلام کا پہلا سوشلسٹ انقلابی قرار دیتے-کامریڈ نقی کی تقریروں کا توڑ کرنے کے لیے مسلم لیگ کا پروپیگنڈا سیل کبھی تو ان کو خدا کا منکر کمیونسٹ کہتا تو کبھی کسی بکاؤ مال مولوی سے ان پر رافضی ہونے کا فتوی لگایا جاتا اور ایسے فتوؤں پر نقی اور زھرا کا ہنس ہنس کر برا خال ہوجاتا- دونوں کو اپنے گھروالے یاد آجاتے جنھوں نے ان کو کرسٹان کہہ کر گھروں سے نکال دیا تھا-

نقی ان سب باتوں کو سوچ کر خیال ہی خیال میں ہنس رہے تھے کہ زھرا نے یہ دیکھ کر کہا،’کیوں ہنس رہے ہو؟’

نقی نے زھرا کو اپنا خیال بتایا تو وہ بھی ایک دم حال کی سنگینی سے تھوڑی دیر کو بےگانہ ہوکر ہنس پڑی-

ہاں،تمیں یاد ہے نا کہ 40ء میں ہم چرخی دادری میں محرم کے دنوں میں گئے تھے اور وہاں ایک گھر میں کامریڈ شریف کی گھر والی نے عورتوں کو اکٹھا کیا تھا- اور وہاں میں بی بی فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا) کا اپنے ہاتھ سے چکی پیسنے اور اس وجہ سے ہاتھوں پر چھالے پڑجانے کا زکر کیا اور بتایا تھا کہ کیسے ابوزرغفاری نے چاندی و سونے کے ڈھیر جمع کرنے اور مال ودولت کا ذخیرہ جمع کرنے والوں کو للکارنے کا زکر کیا تو عورتیں کہنے لگی تھیں’بی بی تو سیدانی ہیں،مولبی نگوڑا تو یونہی ان کو بے دین بتلاوے تھا’-‘

ہاں،زھرا! ہندوستان کے عام مزدور اور کسانوں کے اندر فرقہ واریت کا زھر ہندوستان کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ساتھ ساتھ سرسید،موہن رائے اور فورٹ ولیم کالج میں تباہ ہوگئی ہندؤ اور مسلم جاگیردار اشرافیہ کی باقیات کے بطن سے جنم لینے والی مڈل کلاس اشرافیہ نے داخل کرنے کی کوشش کی ہے- کامریڈ کے ایم اشرف ٹھیک کہتے ہیں کہ بادشاہوں کے زمانے میں شمالی ہندوستان کا جو کمپوزٹ کلچر تھا اسے مسلم کلچر،ہندؤ کلچر اور سکھ کلچر میں بانٹنے کی کوشش ہوئی اور فرقہ پرستوں نے اپنی اپنی پسند کے ماضی کے سورماؤں کے کاسٹیوم پہن لیے کالونیل سامراج کے استحصالی نظام سے جان چھڑانے کی بجائے کوئی ہندوستان کو شدھ کرنے اور کوئی اسے پاک-استھان بنانے اور کوئی اسے ‘خالصہ مسل’ بنانے پر تلا بیٹھا ہے-اور خود کانگریس میں سیکولر نیشل ازم آخرکار مہاسبھائیوں اور دائیں بازو کے شور میں دب گیا اور آج دیکھو نام سے شناخت طے کرکے لوگوں کو مارا جارہا ہے- اور ہم آج ان ناموں کے کارن یہاں چھپے بیٹھے ہیں جبکہ نہ تم نے مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم کی مانگ کی تھی، نہ میں نے کی تھی- کامریڈ بھگت سنگھ ، سنتوکھ سنگھ ، پرمیت کور یہاں خطرے سے دوچار نہیں ہیں اور وہاں لاہور میں کامریڈ فضل اللہی، فیروز الدین منصور کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ہر سنگھ اور ہر داس نشانے پر ہے- کیا یہ سب کچھ ہوتا دیکھنے کے لیے سراج الدولہ،ٹیپو سلطان، جھانسی کی رانی،مولانا فضل حق خیرآبادی، منگل پانڈے، 1857ء کے باغیوں، غدریوں نے، بھگت سنگھ،ہیموکلیانی اور ديگر نے پھانسی، توپ سے اڑایا جانا، پھانسی، کالے پانی کی سزا، جلاوطنیاں منظور کی تھیں؟’

اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی- کامریڈ نقی اٹھ کر گئے- اور خارجی دروازہ کھولا تو سنتوکھ سنگھ اور پرمیت کور باہر کھڑے تھے-دونوں اندر چلے آئے- انھوں نے کپڑوں کی ایک گٹھڑی ان کے حوالے کی اور کہا کہ یہ کپڑے پہن لیجئے- اور پہن کر باہر آجائیں، بیل گاڑی تیار ہے- آپ کو ابھی چلنا ہے-

تھوڑی دیر بعد بیل گاڑی پر سوار یہ مختصر سا قافلہ چلا پڑا- اور پھر دو دن کا سفر کرکے یہ قافلہ فیروز پور کی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا فاضل کے بنگلے سے چار میل دور رک گیا- کامریڈ سنتوکھ سنگھ اور پرمیت کور نے کامریڈ نقی اور زھرا جو اپنے دو سال کی بیٹی کو گود میں لیے تھی الوداع کہا- اور وہاں سے دونوں اپنی بیٹی کے ساتھ پیدل فاضل کے بنگلے کی طرف چلتے گئے- دونوں ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ کھیتوں کے کنارے کنارے چل رہے تھے- اتنے میں کامریڈ زھرا کو عجیب سا احساس ہونا شروع ہوا- بچی میں حرکت کے آثار نہیں تھے- کامریڈ زھرا نے بیٹی کو ہلایا جلایا اور جب کوئی حرکت نہیں دیکھی تو تھوڑی ہراساں ہوکر نقی کو بتایا،دونوں نے بے اختیار بچی کی طرف دیکھا اور فلاسک میں تھوڑا سا بچا پانی بچی کا منہ دقت سے کھول کر پلانا چاہا لیکن پانی بانچھوں کے ارد گرد کھنڈ گیا- نقی نے بچی کی گردن اور ہاتھوں کی رگیں چیک کیں اور پھر مایوسی میں سر ہلادیا- دونوں وہیں کھیت کی منڈیر پر بیٹھ گئے- بچی کو زھرا نے اپنی گود میں لٹایا ہوا تھا- دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے- کافی دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد نقی اٹھے،انھوں نے کھیت میں ایک جگہ جہاں مٹی نرم تھی اور پانی لگا ہوا تھا،اسے ہاتھوں سے کھودنا شروع کیا اور آدھے گھنٹے میں کافی گہرائی تک زمین کھود ڈالی اور پھر دونوں نے ٹوٹے دل کے ساتھ اس بچی کو وہیں دفن کردیا- اور کافی دیر وہیں بیٹھے رہے- اور پھر اٹھ کر چل دیے-

پس نوشت: کامریڈ نقی اور کامریڈ زھرا دونوں جب چلتے چلتے کراچی پہنچے تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی کامریڈ نقی کے وارنٹ گرفتاری نکالے جاچکے تھے- پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان کی نظربندی کے آڈر تھے اور سی آئی ڈی پولیس کراچی ان کو تلاش کررہی تھی- وہ دونوں جب تک قبر میں نہ اتر گئے تب تک ہر پرآشوب سیاسی دور میں ان کے وارنٹ نکالے جاتے رہے اور جیل سے گھر اور گھر سے جیل تک ان کا آنا جانا لگا رہا- دونوں بہت سخت جان تھے اور اپنی بدن کاٹھیاں گھسیٹتے گھسیٹتے وہ نوے کی دہائی تک جی گئے- ایک دن نارتھ ناظم آباد کے ایف بلاک سے نکل کر جب دونوں میاں بیوی رکشہ روک کر اس میں سوار ہونے کو تھے کہ اچانک پیچھے سے موٹر سائیکل پر سوار اسلحہ بردار دو نوجوان آئے- ایک نے زور دار نعرہ تکبیر بلند کیا اور دونوں میاں بیوی پر فائر کھول دیا- دونوں موقعہ پر ہی دم توڑ گئے- 1999ء میں سی آئی ڈی کراچی پولیس نے چار لڑکے پکڑے جن کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا،ان میں سے دو لڑکوں نے نارتھ ناظم آباد میں ہوئے کامریڈ نقی اور کامریڈ زھرا کے قتل کا اعتراف کیا اور بتایا کہ ان کو کیوں قتل کیا- اس پر ایس پی سی آئی ڈی نے حیرت سے کہا،’مگر وہ دونوں تو کمیونسٹ تھے؟’،اس پر لڑکے بولے،’کیا ہوا تھے تو نقی اور زھرا نا’۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here