منظور پشتین اور ان کے دوسو ساتھیوں پر ضلع جنوبی وزیرستان پولیس نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے

آج سابقہ فاٹا اور موجودہ جنوبی وزیرستان ضلع سے تعلق رکھنے والے دو اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کی ایک مقدمے میں درخواست ضمانت قبول اور دوسرے مقدمے میں نامنظور کردی گئی اور اس طرح سے دونوں اراکین اسمبلی کو قید میں رکھے جانے کا اہتمام بخوبی کرلیا گیا-

اسیر اراکین پر بارودی سرنگیں بچھانے اور پاکستان آرمی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں دو مقدمات درج ہیں اور جب سے وہ گرفتار کئے گئے ہیں،تب سے لیکر ابتک قومی اسمبلی کے کسی سیشن میں ان کو لانے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی نے پروڈکشن آڈر جاری نہیں کیے ہیں- ان دو اراکین اسمبلی کو نہ تو بجٹ سیشن میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کرنے اور بجٹ کو پاس کرنے نہ کرنے کے لیے ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرنے دی گئی اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ان دونوں اراکین کو لایا گیا-

ان دونوں اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاری کا بنیادی سبب ان اراکین کے سابقہ فاٹا میں پاکستان آرمی کے فوجی آپریشنوں کے بعد کی صورت حال پر پاکستان کی ریاست کے عمومی سرکاری بیانیہ سے اختلاف ہے- ان اراکین کا مطالبہ ہے کہ سابقہ فاٹا سے پاکستان آرمی کا انخلاء کیا جائے اور امن و امان سمیت اس علاقے کے معاملات سویلین ایڈمنسٹریشن کے حوالے کیے جائیں- علاقے سے بارودی سرنگوں کا بالکل خاتمہ کیا جائے- اور فوجی آپریشنوں کے دوران اور بعد میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی اور اس علاقے سے بے دخل کیے جانے والوں کی مکمل بحالی اور آبادکاری کی جائے۔اور اس دوران جتنے لوگ ماورائے عدالت قتل ہوئے ان پر ایک ‘سچائی و مفاہمت کمیشن’ بناکر حقائق سامنے لائے جائیں- سابقہ فاٹا کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا جو بل دونوں ایوانوں سے پاس ہوچکا،اسے پر صدر مملکت دستخط کرکے باقاعدہ ایکٹ کی شکل دیں-

اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ دونوں اراکین قومی اسمبلی سیاسی قیدی ہیں اور ان دونوں کی گرفتاری کے لیے قائم کیے گئے مقدمات کا سبب ان دونوں اراکین قومی اسمبلی کا سابقہ فاٹا بارے موقف ہے،جس کا براہ راست ٹکراؤ پاکستان کی غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ سے بنتا ہے اور پس پردہ وہی ان گرفتاریوں کے پیچھے ہیں-

ان دونوں اراکین اسمبلی کا مین سٹریم میڈیا نے عملی بائیکاٹ کررکھا ہے اور ان دونوں کے بارے میں میڈیا کو مکمل بلیک آؤٹ کی ہدایات ہیں-

یہ دونوں اراکین اسمبلی پشتون تحفظ موومنٹ کی طاقتور آوازوں میں سے ایک ہیں،جن میں پشتونوں کی ایک معتدبہ تعداد کو متحرک کرنے اور منظم کرنے کی صلاحیت موجود ہے-

یہ دونوں اراکین اسمبلی پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاندانہ تعلقات کی بجائے برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں اور یہ دونوں ممالک کی فاختاؤں کے درمیان پل کا کردارادا کرنے والے ہیں- یہ افغانستان میں تزویراتی گہرائی تلاش کرنے والوں کی پالیسی کے سخت مخالف ہیں اور یہ جہاد اور مذہب کے نام پر پشتون علاقوں میں فساد کے خلاف ہیں- ان کی نظر میں اگر پاکستانکی عسکری غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ پاکستان اور پاکستان کے باہر جہادی پراکسیز کو ترک کردے تو اس خطے میں امن کا قیام فوری ہوجائے گا-

پاکستان کی اس وقت جو غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ ہے اور جو منتخب ہئیت مقتدرہ(جس پر منتخب ہونے کی بجائے مسلط کیے جانے کا الزام ہے) پشتون تحفظ موومنٹ کا سب سے بڑا مقدمہ ماننے سے انکاری ہے کہ پشتون آبادی اور علاقے دہشت گردی کے سب سے بڑے متاثرہ ریاست کی گزشتہ 39 سالوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہیں اور پشتون آبادی خاص طور پر سابقہ فاٹا کے رہائشی ان پالیسیوں کی وجہ سے قتل ہوئے،معذور ہوئے،بےدخل ہوئے اور اب سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اپریٹس کے سبب مسلسل تذلیل کا شکار ہیں-

پشتون تحفظ موومنٹ کا مقدمہ کہ پاکستان کی عسکری غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو امن لشکروں کے نام پر اب بھی تحریک طالبان پاکستان کے کئی ایک سپلنٹر گروہوں اور فرقہ پرست عسکریت پسندوں کا تحفظ کررہے ہیں اور یہ عناصر پشتونوں کے اغواء اور ان کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں کو بھی ماننے سے انکاری ہے اور اس مقدمے کے بیان کی وہ آزادی دینے کو قطعی تیار نہیں ہے-

پاکستان کی غیرمنتخب عسکری ہئیت مقتدرہ اور اس کے حامی پشتون تحفظ موومنٹ کو ایک سازش قرار دیتے ہیں، جو ان کے خیال میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی راء اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی ڈی این ایس کے مشترکہ پروجیکٹ کا نتیجہ ہے- اور اس تحریک کا مقصد ان کے نزدیک پاکستان کو توڑنا اور اس کے لیے پاکستان کی فوج کو بدنام کرنا ہے-

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی کئی پریس بریفنگز میں یہ الزامات دوہرائے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی ایم سب حدود کراس کرچکی ہے اور اب ان سے رعایت نہیں ہوگی-

ٹوئٹر، فیس بک، یو ٹیوب سمیت سماجی رابطے کی کئی ویب سائٹس پر لاکھوں کی تعداد میں ایسے ٹوئٹر ہینڈل،فیس بک اکاؤنٹس اور یو ٹیوب چینل ہیں جو ایک طرف تو پی ٹی ایم اور اس کے حامیوں پر سخت ترین ٹرولنگ کرتے ہیں بلکہ ا‎س تحریک کو پاکستان توڑنے کی سازش میں ملوث کرنے کو ایک ‘سچ’ کے طور پر آگے بڑھاتے ہیں-

پاکستان میں موجودہ منتخب و غیر منتخب عسکری ہئیت مقتدرہ  پی ٹی ایم کے باب میں ویسے ہی ایک باب پر نظر آتے ہیں جیسے یہ اپوزیشن کے بارے میں آتے ہیں-

پی ٹی ایم کے بارے میں پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کا وہ سیکشن جسے اینٹی اسٹبلشمنٹ کہیں تو وہ پی ٹی ایم کے بارے میں اگر معاندانہ رویہ نہیں رکھتا تو کم ازکم خاموشی اور بلیک آؤٹ ضرور ہے جبکہ ایک سیکشن جسے ہم اینٹی کرپشن اور اسٹبلشمنٹ نواز کہتے ہیں وہ پروپیگنڈا اور افواہیں پھیلانے میں آگے نظر آتا ہے اور مسلسل پی ٹی ایم کی کردار کشی کرنے میں مصروف ہے-

پی ٹی ایم کے وفاداراراکین قومی اسمبلی جیل میں ہیں اور جبکہ پی ٹی ایم کے مرکزی صدر سے  لیکر دیگر رہنماؤں کی میڈیا کوریج بالکل بند ہے اور اب وہ سوشل میڈیا پر کہیں کہیں موجود ہیں جبکہ اس دوران سرگرم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر ایف آئی اے کے سائبرکرائم ونگ اور پی ٹی اے کے زریعے سے کاروائی کا خطرہ بدستور سر پر منڈلاتا رہتا ہے-

پی ٹی ایم ہو یا پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین اور ان کے ساتھی ہوں،ان کا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر دروازہ بند کرنے کی کوشش سب کے سامنے ہے- مریم نواز شریف بھی اسی قسمت کا شکار ہوئی ہیں جبکہ پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اگر غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کے بیانیہ کو آ‌وٹ آف دا وے چیلنج کرنے کی کوشش کی تو ان کو بھی اسی طرح کے بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا-

اس سے بہت پہلے بلوچ اور سندھی نیشنلسٹ اس بیانیہ سے انحراف کی پاداش میں مین سٹریم میڈیا سے غائب کردیے گئے- آج مین سٹریم اپوزیشن جماعتیں آہستہ آہستہ اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئی ہیں کہ ماضی میں الطاف حسین پر پابندی یا سندھی و بلوچ قوم پرستوں پر لگنے والی پابندیوں پر ان کی خاموشی غلطی تھی-

پاکستان میں مین سٹریم سیاسی جماعتوں اور مین سٹریم میڈیا کے ایک معتدبہ حصے نے پاکستان کی فیڈرل سیاست کے متوازی بہنے والے ریڈیکل قوم پرستانہ سیاسی بیانیے کے حامل سیاست دانوں اور دانشوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی اور ایک طرح سے اس سلوک کا کہیں نا کہیں جواز بھی تراشا- لیکن یہ خاموشی یا جواز تراشنے کا عمل آخرکار خود ان کی آزادی کو بھی سلب کرنے کا جواز بن گیا-

مجھے اس قسم کی مصلحت آمیز خاموشی برٹش ہندوستان کے عہد میں اس مصلحت آمیزی کے جیسی لگتی ہے جب بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے سیاسی بیانیوں سے ہٹ کر برٹش راج کے خلاف ایک انقلابی سیاسی بیانیہ دیا اور اس کے مطابق اقدامات اٹھائے- اس زمانے میں جب خود بھگت سنگھ کے والد نے اور ایک انقلابی ہرکشن سنگھ کے وکیل نے انقلابیوں کے سیاسی بیانیہ کو تیاگ کر ان کی جان بچانے کے لیے مصلحت آمیزی دکھانے کی کوشش کی تو بھگت سنگھ نے چار اکتوبر 1930ء کو اپنے والد اور جنوری 1931اور فروری 1931ء کو اپنے تین خطوط میں اس طرح کی مصلحت پسندی کو سختی سے رد کردیا تھا- اور کہا تھا کہ ایک تو وہ اپنی جان کو اپنے نظریات سے زیادہ قمیتی نہیں سمجھتے اور آزادی اظہار پربغاوت اور غداری کے الزامات کو غلط خیال کرتے ہیں-

پاکستان میں علی وزیر ہوں یا محسن داورڑ یا پھر بی ایس او کے شبیر بلوچ ہوں یا حال ہی جبری گمشدہ یافث نوید ہوں یہ سب اپنے خیالات کے سبب سے قید یا جبری گمشدہ کیے گئے ہیں اور ہمیں ہر حال میں آزادی اظہار کے حق کی حمایت کرنا ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here