قرونِ وسطیٰ کے گلگت بلتستان اور کشمیر میں شیعیت 

 تحریر: ڈاکٹر  ذہین   مقبول ، ترجمہ:  مرتضیٰ حسین

 

یہ مطالعہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں شیعیت کی بنیادوں، اسکی فکری  ساخت اور مقبولیت ، شیعہ سنی تصادم اور قرونِ وسطیٰ کے اواخر میں مختلف حکمرانوں کے مذہبی اور سیاسی فیصلوں کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ شیعیت کشمیر  میں ایک الگ تھلگ فرقے کے طور پر  نہیں دیکھی جاتی تھی بلکہ یہ سید شرف الدین بلبل شاہؒ کی تعلیمات  میں شامل  تھی جس کو بعد میں میر سید علی ہمدانیؒ (1381ء)کے تبلیغی جوش و ولولے سے مقبولیت  ملی، جنہوں نے تیرہویں صدی کے آخر تک کشمیر  کوایک مسلم اکثریتی علاقے میں تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم  یہاں  اثنا عشری  شیعیت  کو باقاعدہ طور پر  میر شمس الدین عراقیؒ(1477ء) نے متعارف کرایا  اور انہوں نے حکمرانوں کو بھی شیعیت اختیار کرنے کی طرف مائل کیا۔( 1505ء میں )  حکمران چک خاندان کے شیعیت اختیار کرنے  سے شیعیت   اس ریاست کا سرکاری مذہب قرار پائی اور( 1586ء میں )    مغل سلطنت میں ضم ہونے تک صورت حال  کم و بیش جوں کی توں  رہی۔اس کے بعد افغان لشکروں کی طرف سے کشمیر اور گلگت بلتستان کی شیعہ آبادی کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا جس سے  شیعہ سنی خلیج میں اضافہ ہوتا گیا۔یہ  فسادات  اکثر حکمرانوں کے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پیدا کئے جاتے تھے لیکن  یہ اس علاقے کی داخلی سیاست  پر طویل مدتی اثرات چھوڑتے تھے۔اگرچہ قرونِ وسطیٰ  میں یہ سرزمین  مسلسل فرقہ وارنہ قتل و غارت سے رنگین  ہوتی رہی ہے لیکن یہاں 1719ء، 1741ء،1762ء، 1801ء ، 1830ء اور 1872ء کے نسبتاً زیادہ  تباہ کن واقعات   کو ہی زیر بحث لایا گیا ہے۔

1.   تعارف:

آخری مغلیہ دور کے کشمیر  میں تواتر سے ہونے والے شیعہ سنی عوامی تصادمات ، جو اکثر لوگوں کے قتل عام، لوٹ مار اور مذہبی مقامات کی تباہی کا باعث بنتے تھے ؛ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں مختلف مسالک میں ہم زیستی ممکن نہ رہی تھی۔ ان دونوں اسلامی فرقوں میں اختلاف تو مغل سلطنت کا حصہ بننے سے پہلے بھی تھا ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان فسادات کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ تکرار کے ساتھ پیش آنے لگے، جو فرقہ وارانہ نفرت میں روز افزوں  اضافے کی علامت تھی۔ بار بار لوگوں کے مخالف فرقے پر ٹوٹ پڑنے کی وجوہات کو سمجھنے کیلئے ہمیں کشمیر میں شیعی فکر کے تاریخی ارتقاء اور اس کے مختلف مراحل کو دیکھنا ہو گا، جن سے گزر کر یہ کشمیر کی ثقافت کے ایک نمایاں حصے کی حیثیت اختیار کر گئی۔ کشمیر میں شیعہ سنی چپقلش کی جڑیں چک سلطنت کے قیام تک پہنچتی ہیں، اور وہاں سے چلنے والا یہ سلسلہ بیسویں صدی عیسوی کے پہلے نصف تک جاری رہا۔ سلطنتِ کشمیر میں  سلطان فتح شاہ کی حکومت کے زوال کے دورا ن  (1496ء۔ 1505ء) شیعہ مسلک باقاعدگی سے متعارف ہوا، لیکن مرزا حیدر دغلت وہ پہلا شخص تھا جس نے شیعہ سنی تصادم کا بیج اس وقت  بویا جب وہ 1548ء  میں مغل شہشاہ ہمایوں کی طرف سے کشمیر کی طرف بھیجا گیا۔مرزا حیدر دغلت شیعہ مسلمانوں ، باالخصوص طاقتور  چک قبیلے، سے شدید نفرت کرتا تھا ۔ اس نے نہ صرف سکردو میں اس مسلک کی نشر و اشاعت پر پابندی لگائی بلکہ سید محمد نور بخش ؒکی کتاب ”فقۃ الاحوط “ کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی[1]۔

[مترجم کا نوٹ: مرزا حیدر دغلت مغل شہنشاہ بابر کا خالہ زاد تھا۔ وہ  اس سے پہلے 1532ءمیں کاشغر(موجودہ چین کے علاقے سنکیانگ) کے سلطان سعید خان کی طرف سے ایک لشکر لے کر کشمیر پر   حملہ کر چکا تھا لیکن ناکام ہوا تھا ۔ سید خان کی وفات کے بعد  مرزا حیدر دغلت لاہور   میں مغل شہنشاہ ہمایوں سے ملا اور اسے کشمیر فتح کرنے کی دعوت دی۔ ہمایوں نے اسے ایک لشکر فراہم کیا اور اس نے کشمیر میں چک سلطنت کے اندرونی  مخالفین   کی مدد سے حملہ کیا اور کچھ عرصے کیلئے اپنی حکومت قائم کر لی۔  اس کی حکومت شیعوں کیلئے تشدد کی  سیاہ رات ثابت ہوئی۔  1550ء میں میر شمس الدین عراقیؒ کے بیٹے میر دانیال ؒکو قتل کرنے پر اس کے خلاف ایک ہمہ  گیر بغاوت نے جنم لیا جس کے نتیجے میں وہ خود بھی مارا گیا اور کشمیر میں شیعہ اقتدار بحال ہو گیا۔]

سولہویں صدی کے آغاز میں کشمیر سمیت دنیائے اسلام کا کوئی خطہ شیعہ سنی جھگڑے سے محفوظ نہ تھا۔اپنی سیاسی نا اہلی کو دوسرے فرقے کی سازش قرار دے کر چھپانے کی روش نے شیعوں اور سنیوں کو ایک دوسرے کیلئے پرایا اور غیر بنا دیا۔ آج بہت سے لوگوں کیلئے یہ باعث ِحیرت  ہو گا  کہ کشمیر میں شیعہ مسلک شروع سے ایک  علیحدہ مسلک  نہیں سمجھا جاتا  تھا بلکہ یہ سید شرف الدین بلبل شاہؒ کے زمانے سے جاری  کبرویہ سلسلے کے صوفیا ءکی کشمیر میں تبلیغ کے دوران  اسلام کے ایک حصے کے طور پر  نمودار ہوا تھا۔ یہ تبلیغ میر سید علی ہمدانیؒ کے زمانے میں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ ان کے وصال کے بعد کشمیر میں شیعیت نے نور بخشی  تعلیمات کی  شکل اختیار کی جو بعد ازاں ایک مستقل  صوفی سلسلے میں تبدیل ہو گئیں۔ جن سے متاثر ہو کر ہزاروں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا اور سنی مسلمان بھی اس سلسلے کی طرف راغب ہوتے چلے گئے۔ کشمیر  کی شیعی فکر کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پہلے نور بخشی تعلیمات کو سمجھا جائے۔ نور بخشی سلسلے پر اثنا عشری مسلک کی تعلیمات کی گہری چھاپ ہے۔ سید محمد نور بخش قہستانی ؒنے پندرہویں صدی عیسوی میں ایران  میں اس سلسلے کی بنیاد رکھی۔ وہ ایک بڑے صوفی بزرگ تھے اور انہوں نے   دو کتابیں” فقۃ الاحوط“ اور” کتاب الاعتقادیہ“ لکھیں۔وہ کبرویہ سلسلے کے پیرو تھے جو ان کے بزرگ اور مرشد  میر سید علی ہمدانیؒ سے منسوب تھا۔ جیسا کہ معروف ہے، کشمیر میں اسلام پھیلانے میں میر سید علی ہمدانیؒ کا بڑا کردار رہا ہے، جنہوں نے نہ صرف کشمیر بلکہ تبت، لداخ اور بلتستان میں بھی اسلام کو پھیلا یا[2]۔اس سے پہلے اگر ہم کشمیر کے پہلے مسلمان سلطان رنچن  شاہ(1320ء ۔ 1323ء)کو دیکھیں تو اس نے کئی ایک دوسرے افراد کے ساتھ  سید شرف الدین بلبل شاہ ؒ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا جو سہروردی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ سید شرف الدین بلبل شاہؒ دراصل شاہ نعمت الله ولیؒ کے مرید تھے ، جو  اسلام کی تبلیغ کیلئے سلطان سہادیوا کے دور حکومت میں   ترکستان سے کشمیر آ ئے تھے[3]۔ان دونوں صوفیا نے جس تصوف کو ترویج دی وہ آج کل سنی اسلام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لہٰذا  کہا جا سکتا ہے کہ میر شمس الدین عراقیؒ کی آمد سے پہلے  تک جو لوگ مسلمان ہوئے  ان کا جھکاؤ سنیت کی طرف رہا  ہو گا۔نوربخشی سلسلے نے سولہویں صدی عیسوی میں  میر شمس الدین عراقیؒ  کی قیادت میں کشمیر اور بلتستان جیسی جگہوں پر نمایاں حیثیت اختیار کر لی تھی۔ میر شمس الدین عراقیؒ، سید محمدنور  بخشؒ کےبیٹے اور گدی نشین شاہ قاسم فیض بخشؒ کے شاگرد تھے۔ نور بخشی سلسلہ جہاں بھی گیا اس نے شیعی فکر کے اثرات چھوڑے کیوں کہ یہ صوفیا  ءاسلامی تاریخ میں آئمہ اہلبیتؑ کے کردار کو بیان کیا کرتے تھے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ نور بخشی سلسلہ آج بھی بلتستان میں موجود ہے اور اس سے متعلق افراد کا ذہنی رجحان جدید شیعہ اور سنی رجحانات  سے مختلف اور دونوں کے بین بین ہے۔  انکا مسلک سید محمد نور بخشؒ کی تعلیمات کی پیروی کرنا ہے جو آئمہ اہلبیتؑ کے کردار کو تو بیان کرتے تھے لیکن اس  شیعی فکر کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتے تھے جوبعد میں  سولہویں صدی میں(صفوی سلطنت کے قیام سے)  نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سید محمد نور بخشؒ اصل میں میر سید علی ہمدانیؒ کے پیروکار ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اس علاقے کا دورہ کر کے شریعت کے اصلی پیغام کو عام کیا تھا۔ موجودہ شیعیت کا سبب بعد میں آنے والے ایرانی اور عراقی اثرات ہیں جنہوں نے نور بخشی شیعوں کو  اپنی  طرف مائل کیا۔

اس مقالے کا ایک مقصد  میر شمس الدین عراقیؒ کے تین دورہ جات  کی نسبت سے کشمیر، لداخ  اور گلگت بلتستان  میں شیعیت کے ظہور کے تین  مراحل   کوبیان کرنا ہے ۔ شیعہ سنی امراء کی سیاسی چپقلش کے  عوام میں جنگ و جدل کی شکل اختیار کرنے کی تاریخ کو بھی اس مقالے میں تفصیل سے زیرِ بحث لایا جائے گا۔ مزید یہ کہ ان  تبدیلیوں اور اسباب کا کھوج لگایا جائے گا جنہوں نے کشمیر پر مغل اقتدار کے خاتمے کے بعد ان فسادات میں شدت اور تکرار پیدا کی۔ قرونِ وسطیٰ کے مختلف حکمرانوں کی  طرف سے ان فسادات کے بارے میں اپنائی گئی سیاسی اور مذہبی حکمت عملی کا جائزہ اس مقالے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تجزیہ خطے کے شیعہ -سنی عوام کے تعلقات پر شاہی فیصلوں کے اثرات کو سامنے لائے گا ، جنہوں نے اس علاقے کے سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا۔ لہٰذا اس خطے میں شیعیت کے تاریخی پس منظر اور اس کے پھیلاؤ کے سماجی اور سیاسی اسباب کے ساتھ ساتھ مغل اقتدار کے خاتمے کے بعد یہاں کے حکمرانوں کی شیعہ سنی چپقلش کے بارے میں بدلی ہوئی پالیسی بھی اس مقالے کا موضوع ہے۔

2.   شیعی تحریک کا آغاز

نور بخشی سلسلے سے پھوٹنے والی شیعیت کو کشمیر میں سولہویں صدی عیسوی میں میر شمس الدین عراقیؒ نے متعارف کرایا۔ ان کا پورا نام شیخ شمس الدین محمد اصفہانی تھا۔ان کا تعلق عراق سے تھا اور انہوں نے ایران اور کشمیر کے درمیان متعدد سفر کئے اور مختلف علاقوں میں نور بخشی سلسلے کی تعلیمات کو عام کیا۔ وہ کشمیر میں پہلی دفعہ شاہ میر سلطنت کے  سلطان حسن شاہ (1477ء۔1484ء) کے دربار میں خراسان کے گورنر سلطان حسین مرزا کے سفیر کی حیثیت سے آ ئے۔ اس خطے میں شیعیت کے تعارف کے تین مرحلے ان کے تین دوروں سے عبارت ہیں۔ پہلے دورے میں انہوں نے صوفی تعلیمات کو عام کیا، جو کہ سید بلبل شاہؒ اور میر سید علی ہمدانیؒ کی تعلیمات کا تسلسل تھا۔ دوسرا مرحلہ نور بخشی تعلیمات کے تعارف کا تھا۔ آخری مرحلے میں بہت بڑی تعداد میں ہندوؤں کو اسلام میں داخل کر کے اور مسلمانوں کی بیعت لے کر  تشیع کو ایک نمایاں شناخت دی۔

2.1.        پہلا مرحلہ

جب میر شمس الدین عراقیؒ پہلی بار وادی میں آ ئے تو سیاسی ابتری کا عالم تھا۔  حکومت  سادات  اور مقامی سرداروں کی رسہ کشی کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار تھی۔ اگرچہ مقامی قبائلی سردار بعض حکومتی مناصب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن فیصلہ کن اختیارات سیدوں کے پاس ہی تھے جنہیں مذہبی تقدس کی وجہ سے برتر مقام حاصل تھا اور  جو  خود کو باقیوں سے افضل سمجھتے تھے۔ سلطان حسن شاہ کے زمانۂ اقتدار میں طاقت  سید حسن بیہقی  کے ہاتھ میں تھی اور وہ سلطان محمد شاہ کے دور میں بھی اسی اثر و رسوخ کا حامل رہا[4]۔کشمیر میں آنے کے بعد سیاسی دگرگونی کی وجہ سے میر شمس الدین عراقیؒ  کو آٹھ سال تک یہیں رہنا پڑا۔ اس پہلے قیام کے دوران انہوں نے شیعیت کی  بلا واسطہ تبلیغ کے بجائے اپنی تعلیمات کو اپنے سے پہلے آنے والے صوفیا کی تعلیمات کے ذیل میں ہی پیش کیا۔ لیکن ان کے کام میں ایسا ضرور کچھ مختلف  تھا کہ جس کی وجہ سے سید حسن بیہقی نے ان کو وادی سے نکلوا دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت کشمیر پر حکمرانی کرنے والا سیدخاندان شیعی تعلیمات کے متعارف ہونے کے  خلاف متحرک ہوا تھا۔ اس وقت بیہقی سادات نہ صرف مذہبی اعتبار سے مقدس سمجھے جاتے تھے بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی طاقتور تھے، اور محمد شاہ کے زمانے میں توعنان ِاقتدارگویا   سید  حسن بیہقی ہی کے ہاتھ میں تھی۔ کتاب ”بہارستانِ شاہی“ کا مصنف سید حسن بیہقی کے اخلاقی کمالات پر بڑا زور دیتا ہے لیکن ساتھ ہی ان کے اور مقامی سرداروں کے درمیان، جو انتظامیہ کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے تھے،  اقتدار کیلئے  ایک نہ ختم ہونے والی رسہ کشی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ سادات کے اس طبقے نے میر شمس الدین عراقیؒ کی تعلیمات کو کبھی بھی خوش آمدید نہیں کہا،  جو ان کے مسلط کردہ مذہبی نظام کیلئے خطرہ بن سکتی تھیں  اور مسلمانوں کے اقتدار کے آغاز سے ہی جو سماجی اور سیاسی رتبہ انہیں حاصل تھا، اس کوچھین سکتی تھیں۔ نتیجتاً ان سادات نے ہی میر شمس الدین عراقیؒ کی شیعی تصورات  پر مبنی تبلیغی سرگرمیوں کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ اگرچہ انہوں نے ان کو زیادہ عرصہ کشمیر میں رہنے نہ دیا لیکن پھر بھی یہ شیعیت کے بیج بونے اور شاگرد تیار کرنے میں کامیاب رہے۔ بابا اسماعیل اور بابا نجار آپ کی دعوت قبول کرنے والے پہلے کشمیریوں میں سے تھے۔ اسی قیام کے دوران میر شمس الدین عراقیؒ نے ایک اعلیٰ حکومتی افسر موسیٰ رائنا کو متاثر کیا۔  چنانچہ جب میر شمس الدین عراقیؒ کو علاقہ بدر کیا گیا تو موسیٰ رائنا اور سید حسن بیہقی میں خلیج مزید بڑھ گئی۔ سادات اور باقی قبائل، یعنی رائنا، ماگرے، چک، ڈار ، وغیرہ میں اختلافات اس وقت مزید بڑھ گئے جب سید حسن بیہقی کو چودہ ساتھیوں کے ہمراہ اسکے اپنے  دربار میں قتل کر دیا گیا۔ معمولی سیاسی اختلافات سےشروع ہونے والی لڑائی نے شدید نفرت کا روپ دھار لیا ۔ یہ نفرت مغل اور افغان دور تک جاری رہی اور  مرکز میں حکومت کے رد و بدل  میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی۔ سید حسن بیہقی کے بہیمانہ  قتل کے بعد اس کے بیٹے سید محمد بیہقی نے ہتھیار اٹھا لیے اور مقامی قبائلی سرداروں کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔ ایک خونین جنگ کے بعد سید محمد بیہقی اور اس کے ساتھی کامیاب ہوئے اور عنانِ اقتدار دوبارہ ان کے ہاتھ میں چلی گئی۔بعد میں سلطنت کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورت حال نے ان دونوں محارب گروہوں کو باہم صلح کرنے پر مجبور کر دیا، لیکن وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے اور اقتدار پر بلا شرکت غیرے تسلط جمانے کی کوشش کرتے رہے۔سیاسی توازن بگڑنے  کی وجہ سے  مقامی قبائلی سردار میر  شمس الدین عراقیؒ کی طرف متوجہ  ہوئے  جو روایتی سادات کے سماجی اور سیاسی مرتبے کیلئے خطرناک ہو سکتے تھے۔

2.2.        دوسرا مرحلہ

محمد شاہ کے تیسرے دور حکومت میں سید محمد بیہقی، جو کہ سلطنت کا قاضی تھا، نے موسیٰ رائنا،  ابراہیم مگرے اور دیگر سرداروں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تاکہ چک سلطنت کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ختم کر سکے۔ یہ اتحاد چک بغاوت کو کچلنے اور ملک شمس چک کو ترہ گرم سے دراو کی طرف فرار پر مجبور کرنے اور انکی جائیداد اور وسائل کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ موسی رائنا کی بڑھتی ہوئی طاقت نے میر شمس الدین عراقی ؒکو دوسری مرتبہ وادی میں آنے کا موقع فراہم کیا۔ اس دورے کے دوران موسیٰ رائنا شیعی فکر کا مخلص پیروکار بن گیا ۔ جب سید محمد بیہقی نے میر شمس الدین عراقیؒ کو دوسری مرتبہ وادی سے بے دخل کر کے تبت بھیج دیا تو  اس واقعے نے موسیٰ رائنا کو سید محمد بیہقی اور محمد شاہ سے اتحاد ختم کرنے اور سلطان فتح شاہ کے گروہ کا حصہ بننے پر مجبور کیا جس میں چک اور مگرے شامل تھے۔ اب جنگ ناگزیر ہو گئی اور اب کی بار چک اتحاد فتح یاب ہوا۔ اسکے ساتھ ہی علاقے پر سادات کے سیاسی اثرورسوخ کا خاتمہ ہوا اور مقامی سرداروں کا پلڑا بھاری ہو گیا۔اس جنگ میں محمد شاہ اور اسکے قبیلے کے بہت سے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1501ء میں موسیٰ رائنا وزیراعظم بن گیا۔ حسن اتفاق سے اسی سال ایران میں صفوی سلطنت نے شیعیت کو ریاست کا مذہب قرار دیا اور اپنے عوام پر شیعہ مسلک کو اختیار کرنے کیلئے دباوٴ ڈالنا شروع کر دیا[5]۔ موسیٰ رائنا اگلے نو سال تک ریاستی معاملات کو چلاتا رہا۔ اس نے میر شمس الدین عراقؒی کو شیعہ عقائد کی ترویج کا موقع فراہم کیا۔ موسیٰ رائنا نے سری نگر کے قریب زادیبل کے مقام پر ان  کیلئے ایک درگاہ تعمیر کرائی۔ مقامی سرداروں کی مسلسل حمایت سے میر شمس الدین عراقی ؒنے کشمیر میں ایک نمایاں صوفی بزرگ کا مقام پیدا کر لیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوششوں کو وسعت دی۔ انہی کی سفارش پر کشمیر کے عظیم سلطان زین العابدین کے قائم کردہ سیکولر طرز حکومت کو ترک کیا گیا۔ موسی ٰرائنا نے میر شمس الدین عراقیؒ کو جاگیر، باغات، اچھے لباس، گھوڑے، زیورات اور دولت فراہم کی جس کو انہوں نے اپنی درگاہ کی تعمیر اور زیب و زینت کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہندوؤں کو زبردستی شیعہ مسلمان بنانا شروع کر دیا۔ انکے مندر اور دوسرے مقدس مقامات تباہ کئے۔ موسیٰ رائنا کی وزارت کے نو سالوں میں متعدد افراد کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا۔ تقریبا تمام بت خانے اور اٹھارہ کے قریب بڑے مندر سری نگر اور اسکے گردونواح سے مٹا دیئے گئے۔ بعد ازاں اس نے زبردستی شیعہ مسلمان بنائے گئے نومسلم لوگوں کو عطیات دے کر راضی کرنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران تقریبا چوبیس ہزار ہندو خاندان زبردستی مسلمان بنائے گئے[6]۔ ستم ظریفی یہ کہ جونہی موسیٰ رائنا کا انتقال ہوا، یہ تمام خاندان واپس ہندو ہو گئے۔

2.3.        تیسرا مرحلہ

دوسرے مرحلے تک شیعوں کا کوئی گروہ سنی اسلام کی مخالفت کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ ابھی تک فرقہ وارانہ تناوٴ صرف امراء اور اعلی عہدیداروں میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ عام عوام میں پہلے دو مراحل کے دوران کسی قسم کے تصادم کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ میر شمس الدین عراقیؒ اور بیہقی سادات میں نظریاتی نوک جھونک تو یقیناً جاری رہتی تھی۔ اسکے باوجود تاریخی مصادر میں عوامی سطح پر کسی شیعہ سنی جھگڑے کا سراغ نہیں ملتا۔ تاہم تیسرے مرحلے کے دوران چک سلطنت کا سرکاری مسلک شیعہ قرار  پانے  سے اسلام کے دونوں فرقوں میں تصادم کی راہ ہموار ہو گئی۔ مثلا اس سے قبل موسیٰ رائنا کے شیعیت اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پورا رائنا قبیلہ شیعہ ہو گیا ہے۔

اسی دوران میر شمس الدین عراقیؒ نے کچھ دوسرے چک سرداروں کی طرف توجہ دی جو کشمیر کے تخت پر نظریں رکھے ہوئے تھے اور اس سے قبل بادشاہوں کے مسند نشین ہونے یا اقتدار سے محروم ہونے میں موٴثر کردار ادا کیا کرتے تھے۔ موسیٰ رائنا کی وفات کے بعد مگرے، رائنا، ڈار، وغیرہ سلطنت کے سیاسی اور اداری منظر نامے پر مسلط رہے لیکن اقتدار کی خواہش ان گروہوں کے  مابین  اختلاف کی وجہ  بنی رہی۔ اس مسلسل رسہ کشی میں بالآخر چک قبیلے نے رائنا اور مگرے پر فتح پا لی۔ آہستہ آہستہ چک میر شمس الدین عراقی ؒکی حمایت سے سب سے طاقتور گروہ بن گئے۔ سلطان محمد شاہ کے وزیر شمس چک نے اپنے پیر و مرشد میر شمس الدین عراقیؒ کے حکم کے مطابق متعدد مذہبی سرگرمیوں کی ذمہ داری اٹھائی۔ موسیٰ رائنا کے دور کا خوف واپس آ گیا۔ میر شمس الدین عراقی ؒنے مرتد ہو جانے والے ہندوؤں  کیلئے سزائے موت  کا حکم دے دیا۔ 1518ء میں ایسے  ہندوؤں کا قتل عام ہوا۔ ریاستی سطح پر ایک مکمل حکمت عملی ترتیب دے کر نمایاں ہندو شخصیات اور اثر و رسوخ رکھنے والی ہندو قیادت کو قتل کر دیا گیا۔ اس سال 700 سے 800 کے لگ بھگ ہندو قتل ہوئے جو تعلیم یافتہ سمجھے جاتے تھے۔ اس سے ہندو سماج کا رشتہ اپنے ثقافتی ورثے سے کٹ گیا۔ 1526ء میں میر شمس الدین عراقیؒ کی وفات تک شیعیت کشمیر اور گرد و نواح میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی۔ چک قبیلے کے زیادہ تر خواص (کپواڑہ کے سوا) نے شیعہ مسلک قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے شاہ میر سلطنت کی جگہ اپنی چک سلطنت کو قائم کر کے اپنے سیاسی قد کاٹھ میں بہت اضافہ بھی کر لیا تھا۔ اب چک سلطنت میں بارہ اماموں کے نام کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔

3.   کشمیر میں فرقہ واریت اور تاراجِ شیعہ

کشمیر میں چک سلطنت کے استحکام سے پہلے ہی مقامی سرداروں میں پائی جانے والی چپقلش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغلوں نے عسکری مداخلت کر دی ۔ مرزا حیدر دغلت نے 1548ء میں ریاست کشمیر  پر  قبضہ جمایا  اور  دو سال تک کشمیر کا حکمران رہا۔ اس نے  شیعیت کے آثار مٹانے کی پوری کوشش کی۔ ایک حنفی سنی کی حیثیت سے اس نے ایسی تمام سرگرمیوں کی بیخ کنی کی جن پر شیعیت کا ذرا سا بھی شائبہ ہوتا تھا اور جو شیعیت کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی تھیں۔ اس نے میر شمس الدین عراقیؒ کی خانقاہ کو آگ لگانے کا حکم دیا ۔ حنفی فقہ کو ریاست کا قانون قرار دیا اور شیعیت کو جڑ سے اکھاڑ نے کی کوشش کی۔ اسکی دہشت کا یہ عالم  تھا کہ کسی میں بھی بارہ اماموں کے نام لینے یا کسی نور بخشی صوفی کا ذکر کرنے کی جرات نہ ہوئی۔  جب میر شمس الدین عراقیؒ نے  اپنی طریقت  کو اسلام کی خالص و ناب ترین شکل قرار دیا تھا  تب ہی  سے   صدیوں سے کشمیر میں پائی جانے والی پرانی اسلامی روایت اور   شیعیت  کے بیچ اختلاف شروع  ہو گیا تھا۔ یہ  نظریاتی  اختلاف مرزا حیدر دغلت کی طرف سے شیعوں کے خلاف کئے جانے والے ظلم کے نتیجے میں اور بڑھ گیا۔اس منافرت نے لوگوں کو فرقہ وارانہ شناخت اپنانے کی طرف مائل کیا، اور  وہ  خود کو دوسرے فرقے سے بہتر  سمجھنے لگے۔مرزا حیدر دغلت کی طرف سے شیعوں  سے کیا گیا  شدید امتیازی سلوک وادی میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا نقطۂ آغاز تھا۔اس نے میر دانیالؒ کو قتل کیا ، جو کہ اہم ترین شیعہ شخصیت تھے، اور اس سے شیعوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ 1550ء میں مرزا حیدر دغلت کو غصے سے بھرے امراء نے قتل کر دیا اور ریاست میں چک سلطنت بحال ہو گئی۔دولت چک نے شیعیت کو نئی زندگی دی اور اس کو ریاست کا مذہب قرار دیتے ہوئے بارہ اماموں کے ناموں کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔دولت چک نے سنیوں پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ شیعیت اختیار کرلیں[7]۔

چک سلطنت کو مکمل استقلال اور استحکام 1554ء  میں غازی چک کے تخت نشین ہونے سے ملا۔  اس وقت تک فرقہ واریت معاشرے میں سرایت کر چکی تھی۔ نور بخشی سلسلے کے پیروکار بھی اپنے اور سنیوں کے اختلافات سے اچھی طرح آگاہ ہو چکے تھے۔ریاست  کبھی شیعیت کی حوصلہ افزائی کرتی تو کبھی ان کو ظلم کا نشانہ بناتی رہی تھی۔ ریاست کے اس فرقہ وارانہ رجحان کی وجہ سے دونوں مذہبی گروہوں میں اجنبیت بڑھنے لگی۔ معاشرے میں ریاست کے ہاتھوں پیدا کی گئی  اس گروہ بندی  اور عصبیت کے اثرات اس وقت سامنے آ ئے جب 1568ء میں یوسف اندر مہندیو کو ایک سنی عالم کے قتل کی کوشش کرنے پر  سرِ عام سزائے موت دی گئی۔ وہ ایک شیعہ تھا اور اس نے قاضی القضاۃ(چیف جسٹس) سید حبیب الله خوارزمی کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کر دیا تھا۔ مقامی حکمران کی طرف سے اسے فوراً گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف قاضی صحت یاب ہو گئے ۔ اب اہل تشیع نے یوسف کو سزائے موت دینے والے قاضیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مرزا مقیم، جو کہ مغل شہنشاہ اکبر کے سفیر کے طور پر میر یعقوب کے ہمراہ سلطان حسن شاہ کے دربار میں آ یا ہوا تھا، نے یوسف مہندیو  کو سنگسار کرنے والے سنی قاضی موسیٰ اور ملا یوسف کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ان کو سزائے موت دی گئی تو بعد میں لوگوں نے ان کی لاشوں کو  شہر کی گلیوں میں گھسیٹا۔ اس سے ان کے حامی  سنیوں میں انتشار پھیل گیا اور  انہوں نے اکبر کے دربار میں اس معاملے کی شکایت کی۔ اس طرح اکبر کیلئے کشمیر پر حملہ کرنا آسان ہو گیا۔

کشمیر کی  قرون وسطیٰ کی تاریخ میں شیعہ سنی تعلقات پر  مختلف حکومتوں کے فیصلوں کی چھاپ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بیرونی حملہ آوروں کیلئے کشمیر میں حمایت پیدا کرنے کا سب سے بڑا وسیلہ یہی فرقہ وارانہ تناؤ تھا۔ داخلی طور پر تقسیم اور جھگڑوں میں مصروف اشرافیہ سے  بیرونی حملہ آورکسی منظم اور متحد مزاحمت کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کے بعد ایک بیرونی حکمران کشمیر  پر حکومت کرتا رہا لیکن مقامی سردار اپنے سماجی اور مذہبی جھگڑوں میں ہی مصروف رہے۔انہوں نے بیرونی حکمرانوں سے سیاسی وابستگی کو کسی ہم وطن کی حکومت پر ترجیح دی۔ مثال کے طور پر  آخری چک حکمران سلطان یعقوب شاہ نے ملا موسیٰ کو خطبے میں حضرت علی کا نام نہ لینے پر سزائے موت دی تو سنیوں نے شیخ یعقوب صرفی کی قیادت میں شہنشاہ اکبر  کو کشمیر پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔

کشمیر پر مغلوں کی حکومت کے ابتدائی عرصے میں (شہنشاہ اکبر کے سیکولر اندازِ حکومت کی بدولت) شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان کسی محاذ آرائی کا سراغ نہیں ملتا۔ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ دونوں فرقوں کی مذہبی قیادت سیاسی اہمیت کھو چکی تھی۔تاہم قرونِ وسطیٰ کے اواخر میں فرقہ واریت کشمیری معاشرے میں بڑی منظم ہو گئی اور گہرائی تک سرایت کر گئی۔ جونہی ایک فرقے کو سیاسی اہمیت حاصل ہوتی، یہ فسادات سر اٹھا لیتے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں چدوراکے ملک ، جو کہ شیعہ تھے،  کچھ عرصے کیلئے کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر چھائے  رہے۔ جہانگیر کے زمانے میں حیدر ملک، جسے رئیس الملک اور چغتائی کا خطاب ملا، اور اس کا بھائی ملک علی نمایاں ترین سیاسی شخصیات کے طور پر جانے جاتے تھے[8]۔ انہوں نے زادیبل اور حسن آباد میں میر شمس الدین عراقیؒ کی درگاہوں کی تعمیر ِنو کی۔اس سے سنی امراء میں  شیعیت کے خلاف نفرت بڑھی۔ اسی دوران سری نگر کے ایک حصے میں آگ لگی جس نے جامعہ مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ملک برادران کو آگ پر قابو پانے کی  ذمہ داری سونپی گئی جس میں وہ ناکام ہوئے۔ سنیوں نے ملک برادران کو مسجد کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جس کے نتیجے میں شہنشاہ جہانگیر نے انہیں اس مسجد کی تعمیر ِنو کا خرچہ برداشت کرنے کا حکم دیا ۔اس ماجرا نے شیعہ سنی عوام کے بیچ بد گمانیوں کو اور ہوا دی۔ معاشرے اس قدر بٹ گیا کہ بعض اوقات دو افراد کے درمیان معمولی مباحثہ فرقوں کی  لڑائی میں بدل جاتا۔ مثال کے طور پر 1636ء میں کچھ لوگوں کے درمیان شیعہ سنی اختلاف پر ہونے والی بحث سے دنگے شروع ہو گئے۔ سری نگر  میں معمولی بحث سے شروع ہونے والی  یہ لڑائی جلد ہی پورے شہر میں پھیل گئی۔ زادیبل اور حسن آباد میں میر شمس الدین عراقیؒ کی درگاہوں کو آگ لگا دی گئی، متعدد شیعہ قتل ہوئے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا۔ حکومت کوئی بھی موٴثر حکمت ِعملی بنانے میں ناکام رہی جو بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کو ختم یا کم کر سکتی۔ مثلاً  ایک موقع پر حیدر ملک کے بیٹے ملک حسین نے شیخ رشید کو برا بھلا کہا، جس نے سیف خان، مغل وزیرِ انصاف، کو شکایت لگائی۔ حکومت نے معاملے میں یوں مداخلت کی کہ ملک حسین اور اس کے خادموں کو سزائے موت دے دی[9]۔ اگر ایک معمولی مباحثے سے اتنا بڑا فساد ہو  چکا  تھا تو کسی نمایاں مذہبی شخصیت کا قتل پہلے سے بگڑے ہوئے  شیعہ سنی تعلقات  کو اور خراب ہی کر سکتا تھا۔

 1685ء میں ایک تاجر اور حسن آباد کے ایک رہائشی عبد الشکور کے درمیان  کسی معاملے پر تکرار ہوا اور   پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔ان میں نہ صرف مقامی لوگ شریک ہو گئے بلکہ مولوی اور حکومتی عہدیدار   بھی کود پڑے۔ ہجوم بے قابو ہو گیا اور پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا جس سے چالیس لوگ ہلاک ہو گئے[10]۔ آس پاس کے علاقوں میں بھی دنگے ہوئے لیکن اس فساد کا گڑھ سری نگر شہر ہی تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مذہب سے زیادہ سیاست کا عمل دخل رہا ہو گا۔  مغل ریاست اپنے وقت کی سیکولر ریاست ہونے کے باوجود کشمیر میں بڑھتی ہوئی منافرت کا راستہ نہ روک سکی اور اس کے بعد آنے والی مذہبی حکومتوں نے تو  جلتی پر تیل کا کام کیا۔مغلیہ  سلطنت  کے زوال کے دوران اور اس کے بعد، کشمیر کے شیعہ کمزور ترین گروہ بن گئے جنہیں اکثر ظلم اور بے عزتی کا نشانہ بنایا جاتا۔ ان پر کبھی حکومتی عہدیدار ظلم کرتے تو کبھی  کسی بھی جھگڑے کے دوران سنیوں کا  ہجوم ان پر  حملہ آور ہو جاتا۔ تاریخی مصادر میں ایسے واقعات اچھی خاصی تعداد میں ذکر ہوئے ہیں جن میں فرقوں کی لڑائی ہوئی، مگر ان واقعات میں 1719ء، 1741ء، 1762ء، 1801ء، 1830ءاور 1872ء کے فسادات وادی کے شیعہ باشندوں کیلئے سب سے زیادہ تباہ کن تھے۔ ان فسادات میں وادی کا بہت بڑا انسانی اور مادی سرمایہ ضائع ہوا۔ شیعوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا، ان کے بزرگوں کی خانقاہیں جلائی گئیں اور یہ آگ اکثر ان مقامات کے قریب رہنے والوں کے گھروں کو بھی جلا ڈالتی تھی۔ جائیدادوں اور املاک کو لوٹا جاتا رہا۔

 1719ء میں مغل شہنشاہ محمد شاہ دہلی کے تخت پر آ ئے ہی تھے کہ کشمیر میں عنایت الله خان کی صوبہ داری میں پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔ اسی دوران کشمیر کے شیخ الاسلام ملا عبد النبی محتوی خان کا قتل ہو گیا۔ سنیوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ شیعوں نے سازش کر کے سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں محتوی خان کو مروایا ہے۔ محتوی خان مقامی  انتظامیہ کے لیے سیاسی خطرہ بننے کے ساتھ ساتھ شیعوں اور ہندوؤں کا بھی سخت مخالف تھا۔ اسکے قتل کے بعد اس کے بیٹے شرف الدین نے لوگوں کو ابھارنے کا سلسلہ  جاری رکھا۔مغل شہنشاہ محمد شاہ کے دور میں محتوی خان کوپچھلے شہنشاہ بہادر شاہ کی عطا کردہ  منصب داری اور جاگیر سے الگ کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے حکومت کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا تھا۔ چونکہ وہ ایک متشدد مولوی تھا، لہٰذا حکومت کے ساتھ ساتھ شیعوں اور ہندوؤں کے خلاف بھی لوگوں کو بھڑکایا کرتا تھا۔ اس سے اختلاف  رکھنے والے منصب داروں،  جیسے سید اطہر خان وغیرہ ، نے اس کو مارنے کا منصوبہ بنایا جس کے نتیجے میں 12 ستمبر 1720ءکو محتوی خان کو کشمیر کے میر بخشی (خزانچی) عبداللہ خان کے گھر  آیا تو قتل کر دیا گیا۔ شیخ الاسلام کے قتل کے بعد اس کے تیسرے بیٹے شرف الدین نے سنیوں کی قیادت کرتے ہوئے  شیعوں اور ہندوؤں پر دھاوا بول دیا۔ اس مذہبی و سیاسی فتنے کا  انجام  شرف الدین کی گرفتاری اور اس کے پچاس ساتھیوں کی   سزائے موت پر ہوا[11]۔1743ء میں دوبارہ فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑےجب برکات خان نے کمراج کے تھانیدار  ببرل لہہ کے سپاہیوں کو شکست دے کر کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اس نے کچھ عرصے کیلئے ریاست کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی اور اس دوران شیعوں کے خلاف بے رحمی سے کاروائیاں کیں،  نیز  شیعہ  عقیدے  پر  بھاری  ٹیکس عائد کیا۔ جوں جوں مغل حکومت کی گرفت ریاست پر کمزور پڑتی گئی،  ایسی فرقہ وارانہ کاروائیوں میں اضافہ اور شدت پیدا ہوتی گئی۔ صوبوں میں انتظامیہ کے زوال اور ریاستی اداروں کی کمزوری نے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو میدان فراہم کیا۔

سب سے بدترین فساد 1762ء میں (کشمیر پر احمد شاہ ابدالی کے قبضے کے بعد ) بلند خان بامزئی   نامی افغان گورنر کے دو سالہ دور حکومت میں ہوا۔ اس نے پورے صوبے میں شیعوں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیاں کیں۔ ان کو لوٹا، تباہ کیا اور ان کے گھر جلائے۔ جن شیعوں پر حکومت کے خلاف احتجاج کا الزام ہوتا انہیں افغان اہلکار گرفتار کر کے سزائیں دیتے۔ افغانوں کی درندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گرفتار ہونے والے شیعوں کے کان اور ناک کاٹ دئیے جاتے تھے۔  تاہم  صوبہ دار  امیر خان جوان شیر  نے شیعوں کی مدد کی  اور سنیوں سے برا سلوک کیا  اور اس کے زیر انتظام علاقے میں  فرقہ وارانہ خلیج میں اضافہ ہو گیا۔  اس نے نند پورہ (حضرت بل) کے مقام پر ایک شاندار محل تعمیر کرایا جس کے باغ میں شیعہ محرم مناتے۔ بعد میں جب اس نے اذان میں علیٌ ولی الله کا جملہ شامل کیا تو لوگوں میں حکومت سے دوری پیدا ہونے لگی۔ انہی دنوں  ہوا یوں کہ کچھ شیعوں نے نقشبندی خانقاہ پر کچھ سنی مولویوں کو چھیڑنے کیلئے معروف صوفی بزرگ حبیب الله نوشہری ؒ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔عید کی نماز کیلئے عیدگاہ میں اکٹھے ہونے والے سنیوں نے زادیبل کے محلے کو آگ لگا دی، جو کہ شیعہ نشین علاقہ تھا، اور گھروں کا سامان لوٹنے میں جت گئے۔  بلند خان بامزئی نے واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک سرکاری کمیٹی  بنائی جس نے اس فساد کی تمام  ذمہ داری شیعوں پر ڈالی۔ واقعے میں ملوث قرار دئیے جانے والے شیعوں پر بے انتہا تشدد کیا گیا، ان کے کان، ناک اور ہاتھ پاؤں  کاٹے گئے۔  جو شیعہ بے گناہ قرار پائے تھے ان  پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے۔ تاراجِ شیعہ کا ایک اور واقعہ حاجی کریم داد خان کی صوبہ داری میں پیش آیا۔ اس نے نہ صرف شیعوں کی ایک نمایاں شخصیت انور ملک کو قتل کر کے اس کی لاش نقشبندی خانقاہ کے دروازے پر لٹکائی، بلکہ شیعوں کو اجتماعی  سزا دی۔ اس نے حسن آباد، جو کہ ایک شیعہ نشین علاقہ تھا، کو پوری طرح ویران کر دیا۔ بعد میں جمعہ خان اکھنوری کی صوبہ داری کے دوران شیعوں نے زادیبل اور حسن آباد میں امام بارگاہیں  دوبارہ تعمیر کیں تاکہ محرم میں کربلا کا غم منا سکیں۔ لیکن اگلے روز ہی نائب صوبہ دار مھبت خان  نے اپنے ایک اہلکار اسلام خان کو سنی بلوائیوں کے ہمراہ معاملے کی تفتیش کیلئے بھیجا ۔ اس نے وہاں جا کر امام بارگاہوں کو منہدم کیا اور شیعوں کا قتل عام کیا۔

تقریباًچار سو سال سے ہندو کسی نہ کسی مسلمان حکمران کے زیر تسلط رہ رہے تھے۔ جب افغان زوال پذیر ہوئے تو ہندوؤں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کشمیر سنبھالنے کی دعوت دی۔ اگرچہ سکھ اقتدار سے  ہندوؤں کو کچھ زیادہ فائدہ نہ ہوا ،لیکن اس کے نتیجے میں مسلم اکثریت کے سیاسی اور سماجی استحصال کے زمانے کا آغاز ہو گیا۔مسلمان نہ صرف ریاست کے سیاسی منظر نامے سے غائب ہوئے بلکہ بہت سی مذہبی آزادیوں سے بھی محروم ہوئے۔سکھوں نے اپنے سیاسی اقتدار کو” دھرم راج“ قرار دیا، جس کا مطلب مذہب کی حکومت ہے۔ اب مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک یقینی ہو چکا تھا[12]۔ بعد کے ڈوگرہ راج میں بھی مسلمانوں کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ سکی کیوں کہ انہوں نے بھی سکھوں کے طرزِ حکومت کو جاری رکھا۔ اس ہندو حکومت میں بھی شیعہ سنی تعلقات میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔ سکھوں کے زمانے میں بدترین فسادات بھیم سنگھ اردلی کی گورنری میں 1831ء میں ہوئے۔ محرم کے موقع پر بہت سے مرد، عورتیں اور بچے قتل ہوئے۔ اسی طرح کی قتل و غارت 1872ءمیں ڈوگرہ راجا رنبیر سنگھ کی حکومت میں ہوئی۔

4.   نتیجہ

قرون وسطیٰ کے آخری حصے میں حکومتوں نے اپنی مذہبی یا سیاسی ترجیحات کے پیشِ نظر کبھی ایک تو کبھی دوسرے فرقے کی حمایت کی۔ ہمارےتمام زیرِ مطالعہ زمانے میں شیعہ سنی جھگڑوں کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے، جو کشمیر پر افغان تسلط کے  دوران اپنی بلندی پر پہنچ گئے۔ افغان سلطنت بہت استحصالی اور فرقہ پرست نکلی، اور ان کے دور میں سب سے زیادہ ظلم  شیعوں اور ہندوؤں پر ہوا۔ اس سچائی سے انکار ممکن نہیں کہ مغل زوال کے بعدآنے والے  کشمیر کے اکثر حکمران شیعوں سے شدید عداوت رکھتے تھے،  لیکن شیعہ سنی تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے اور فسادات  کا یہ واحد سبب نہیں تھا۔ باقی اسباب کو سمجھنے کیلئے وادی میں شیعیت کے آغاز کے حالات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ جس زمانے میں افغانوں نے کشمیر میں غلبہ پیدا کیا، اس وقت تک شیعیت ایک مستقل شناخت پیدا کر چکی تھی۔ زادیبل اور حسن آباد میں  میر شمس الدین عراقیؒ کی خانقاہیں، امام بارگاہیں، محرم، وغیرہ، یہ  سب شیعیت کے استعارے تھے۔ شروع میں شیعہ عقیدہ نور بخشی صوفیا کے فلسفے اور اسلام کی نور بخشی  تشریح سے عبارت تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے کئی دوسرے نشان بھی عَلم ہو  چکے تھے۔فلسفے کی نسبت یہ نشان عوام کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کرتے تھے۔ان علامتوں کی بدولت شیعوں نے اپنے  عقیدے  کو پر کشش بنا لیا۔ اس سے پہلے نظریاتی جھگڑے صرف مذہبی یا سیاسی امراء تک محدود رہتے تھے، لیکن آخری مغلیہ دور اور اس کے بعد یہ جھگڑے عوام میں ہونے لگے جن میں ہزاروں لوگ ملوث ہو جاتے۔  اس کی وجہ یہ تھی کہ اب دشمنی کا اظہار ان علامتوں پر حملہ کر کے کیا جانے لگا اور یہ چیز پوری کمیونٹی کو جھگڑے میں گھسیٹ لیتی تھی۔ محرم، امام بارگاہیں،  خانقاہیں، وغیرہ شیعہ ثقافت اور شناخت کا ظاہری وجود تھے۔ ان پر زبانی یا عملی طور پرحملہ کر کے شیعیت کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ اس طرح ان نمایاں علامتوں پر بار بار اور پہلے سے زیادہ تباہ کن حملے ہونے لگے۔ افغانوں کی طرف سے شیعوں اور ہندوؤں کے خلاف امتیازی سلوک اور اظہارِ بیزاری نے کسی قسم کی مذہبی مفاہمت کو جنم نہ  لینے دیا۔ اسی طرح سکھ اور ڈوگرہ راج کے دوران، کم از کم ڈوگرہ راج کے پہلے آدھےحصے تک،  سب مسلمانوں کے خلاف برے سلوک نے بھی مذہبی رواداری کی فضا قائم ہونے  کو نا ممکن بنا دیا۔

[مترجم کا نوٹ: فرقہ وارانہ فسادات کے مطالعے میں ایک اہم پہلو متاثرین کی خواتین پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ ہے۔قرون وسطیٰ کے  کشمیر میں شیعہ مخالف تشدد کے اس پہلو کا تذکرہ کئے بغیر یہ مضمون نا مکمل ہو گا۔ انیسویں صدی کے کشمیری مورخ پیر غلام حسن کوئیہامی نے اپنی کتاب ”تاریخِ حسن“ کی پہلی جلد میں تاراجِ شیعہ کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے جس میں ان واقعات کی تفصیل بیان  کی گئی ہے۔تقریباً سبھی واقعات میں شیعہ محلے جلا ئے جانے اور لوگوں کے قتل  کا ذکر موجود ہے۔ 1719ء کے تاراج میں شیعہ عورتوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے کا ذکر موجود ہے۔ نیز یہ کہ جب زادیبل میں شیعہ محلے کے مکانات جلا ئے گئے تو بہت سی عورتیں اپنے بچے لے کر میر شمس الدین عراقی کی درگاہ میں پناہ گزین ہوئیں۔ بلوائیوں نے خانقاہ کو آگ لگا دی اور اندر موجود عورتیں اور بچے زندہ جل گئے۔ اسی طرح 1743ء میں کوہستان سے برکات خان نے حملہ کیا تو اس نے لوگوں کو شیعوں کے گھر لوٹنے  اور شیعہ عورتوں  کا ریپ  کرنے کی اجازت دی۔ 1801ء میں عبد الله خان کے زمانے میں بھی شیعہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ شیعہ خواتین کے خلاف سب سے بدترین جرائم کا ارتکاب 1831ء کے تاراج میں کیا گیا جب بعض  خواتین  کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد ان کی  شرم گاہیں کاٹ دی گئیں۔ شیعہ خواتین نے صرف جسمانی ظلم ہی برداشت نہیں کیا بلکہ گھر کے مرد کھو کر اس پدرانہ معاشرے میں انھیں معاشی اور نفسیاتی نقصانات بھی اٹھانا پڑے۔ فائزہ علی معاصر پاکستان میں دہشتگردی سے متاثر ہونے والی خواتین کے تجربات کو اپنے مقالے ”Experiences of Female Victims of Faith Based Violence“میں تفصیل سے زیر بحث لائی ہیں[13]۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ پیر غلام حسن کوئیہامی کے شیعہ تاراج کو بیان کرنے  کا انداز ہے  ۔ اس باب کے آغاز میں ہی کوئیہامی اس مسلسل اور    ظالمانہ  قتل عام کی وکالت  کی کوشش کرتا ہے۔ وہ  لکھتا  ہے کہ کشمیری شیعہ تعصب اور کینہ رکھنے میں معروف ہیں، اور یہ کہ ہر تیس چالیس سال بعد ان کا قتلِ عام  اصل میں مکافاتِ عمل ہے۔وہ اس بات پرکوئی اعتراض نہیں کرتا کہ اکثر واقعات میں  متاثرین کو انصاف کیوں نہیں  فراہم کیا  گیا؟ البتہ جب 1871ء کے تاراج کے بعد رنبیر سنگھ کی حکومت نے بلوائیوں کو گرفتار کیا اور  جرمانہ عائد کیا تو مصنف نے اس اقدام کو سنیوں کے خلاف ہندوؤں کا تعصب قرار دیا اور گرفتار شدگان کو” محبوسانِ مظلوم“ قرار دیا۔ یہی انداز ہمیں اکبر دور کے  ملا عبد القادر بدایونی کی کتاب ”منتخب التواریخ“ میں ملتا ہے جب وہ لاہور میں ایک شیعہ عالم حکیم احمد ٹھٹھوی کے قتل اور ان کی قبر کو آگ لگانے کے واقعے کا ذکر کرتا ہے۔ وہ  لکھتا ہے  کہ ملا احمد ٹھٹھوی کو  شیعہ طریقے پر غسل دیتے وقت ان کے مقعد میں کیل ڈالے گئے اور ان  کو کئی بار دریا میں غوطے دیے گئے اور یہ کہ ان کا منہ خنزیر  جیسا  ہو گیا تھا۔اس وقت لاہور میں شیعوں کی اچھی خاصی تعداد بستی تھی اور شیعہ فقیہ  قاضی نور الله شوستری  بھی وہاں موجود تھے،  لہٰذا  یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملا عبد القادر بدیوانی شیعہ فقہ میں تدفین کے آداب سے نا واقف تھا۔ یہ سب لکھنے سے بدایونی کا مقصد مقتول کی توہین کرنا تھا۔ وہ شہنشاہ اکبر کی طرف سے قاتل کو سزا دینے پر بھی برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ جدید دور میں بھی  پاکستان میں شیعہ مخالف تشدد کی میڈیا کوریج  کے انداز  میں زیادہ تبدیلی نہیں  آئی  ہے ۔ عبّاس زیدی نے اپنے مقالے ”Covering Faith Based Violence“ میں   پاکستانی میڈیا کے ان رویوں کا تجزیہ کیا ہے[14]  ۔]

Original Reference:Zaheen Maqbool, “Shi’ism in Kashmir, 1477-1885”, Intl. Res. J. Social Sci., Vol. 4 (4), pp. 74 to 80, (2015).

حوالہ جات:

 

  1. 1. Mirza Haider Dughlat, “A History of the Mughals of Central Asia (Tarikh-i-Rashidi)”, Ed. by N. Elias and tr. by E. Denison Ross, Curzon, London, 434-45, (1898).
  2. 2. Mohammad Ashraf Wani, “Islam in Kashmir (Fourteen to Sixteenth Century)”, OPH, Srinagar, 58-63, (2005).
  3. 3. P.N. Koul Banzai, “Cultural and Political History of Kashmir”, M.D. Publication, Jammu and Kashmir, 536, (1994).
  4. 4. Anonymous, “Baharistan-i-Shahi: A Chronicle of Medieval Kashmir”, Firma KLM Limited, Calcutta, 21, (1991).
  5. 5. Farhad Daftary, “A History of Shi’a Islam”, I. B. Tauris and Co. Ltd, New York, 27-54, (2013).
  6. 6. Pir Ghulam Hasan Koihami, “Tarikh-i-Hasan”, vol. II. Urdu tr. by Mohammad Ibrahim, Kashmir, 220.
  7. 7. Haider Malik, “Tarikh-i-Kashmir”, Urdu tr. and ed. by Razia Bano, Delhi, 37-38, (1991).
  8. 8. Mushtaq Ahmad Kaw, “The Agrarian System of Kashmir: 1586 to 1819 AD”, Aiman Publications, Srinagar, 197-215, (2001).
  9. 9. Abdul Majid Mattoo, “Kashmir Under the Mughals: 1586 to 1752”, Golden Horde Enterprise, Srinagar, 150, (1988).
  10. 10. Mohammad Azam Diddamari, “Waqiat-i-Kashmir” Urdu tr. Munshi Ashraf Ali, Delhi Madrassa, Delhi, 165, (1846).
  11. 11. Nawab Shams-ud-daula Shah Nawaz Khan, Abdul Hayy, “Ma’asir-ul-Umara”, Being Biographies of the Muhammadan and Hindu Officers of the Timurid Sovereigns of India From 1500 to about 1700 AC. English tr. By H. Beveridge and Baini Prasad. Vol I., Janaki Prakashan, Patna, 761-765, (1979).
  12. 12. Sufi G.M.D., Kashir, “Being a History of Kashmir from the Earliest Times to Our Own”, 2 vols, Light and Life Publishers, New Delhi, 722, (1974).
  13. F. Ali, “Experiences of Female Victims of Faith-Based Violence in Pakistan”, in: J. Syed, E. Pio, T. Kamran, A. Zaidi (eds), Faith-Based Violence and Deobandi Militancy in Pakistan. Palgrave Macmillan, London, (2016).
  14. A. Zaidi, “Covering Faith-Based Violence: Structure and Semantics of News Reporting in Pakistan”, in: J. Syed, E. Pio, T. Kamran, A. Zaidi (eds), Faith-Based Violence and Deobandi Militancy in Pakistan. Palgrave Macmillan, London, (2016).

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here