باغیوں کی تنہائی – عامر حسینی

0
75

تم ماؤواد ادب و موسیقی اور تاریخی ادب گھر پہ کیوں رکھے بیٹھے تھے- بامبئے ہائی کورٹ کے جج کا انقلابی دانشور ویرنن گونجالوس سے سوال؟

ایچ آر ڈی منسٹر رمیش پوکھریال نشنک نے آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے 65ویں کنووکیشن میں کہا کہ ہمالیہ ’نیل کنٹھ‘کی طرح سارا زہر پی‌کرآلودگی سےماحولیات کو بچا رہا ہے۔ ہندوستانی ایچ آر ڈی منسٹر

ارون دھتی رائے جعلی انسانی حقوق کی علمبردار ہے،میں تو اب اس سے نفرت کرنے لگی ہوں- ش زیدی

 

ہندوستان میں مذکورہ بالا تین واقعات ہوئے،جن کے بارے میں پڑھ کر مجھے بے اختیار یہ خیال آیا کہ شاید عائشہ جلال نے اپنی ایک کتاب میں ہندوستان میں جمہوریت اور پاکستان میں آمریت کے تسلسل کے باوجود دونوں ممالک کے اندر سماجی گھٹن، انتہا پسندی، کمیونل ازم کے بتدریج ابھار سمیت کئی ایک جیسے برے سماجی مظاہر کے تھوڑے یا بہت زیادہ فرق کے ساتھ ابھار کی جانب اشارہ کیا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟

ہندوستان میں ارون دھتی رائے جیسے انگلیوں پر گنے جانے والے ایسے دانشور موجود ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں فسطائیت اور اس سے ملتے جلتے دیگر عوامل کا ظہور ہندوستان میں موجود براہمن واد اور اس کا رشتہ نیو لبرل مارکیٹ سے اور لبرل سیکولر ڈیموکریسی سے جڑنے کے سبب ہے- اور اس وجہ سے ہندوستان میں آدی واسی،قبائلی، دلت،مسلمان، کرسچن اور بڑے پیمانے پر شہری و دیہی غریب اس نظام کا سارا بوجھ اور عذاب اپنی ذات پر بھوگ رہے ہیں-

بامبئے ہائی کورٹ کے جج نے ایلگار پریشد- بھیما کورے گاؤں میں مراٹھی برہمن وادیوں اور دلت کے درمیان ہوئے دنگوں کے کیس میں پکڑے گئے دانشور ورنن گونجالوس سے پوچھا کہ تم نے گھر پر ‘ جنگل محل میں جنگ و امن: عوام، ریاست اور ماؤ وادی’ نامی کتاب جو بسواجیت رائے نے لکھی ہے کیوں رکھی ہوئی تھی؟

جج نے یہ بھی سوال کیا کہ گونجالوس کے گھر سے دلت اور بائیں بازو کے شاعروں اور موسیقاروں  کے ایک گروپ ‘کبیرا کالا منچ’ کے ترتیب دیے ہوئے میوزک البم کی سی ڈی کا ان کے گھر کیا کام؟

ہندوستانی لبرل پریس نے جج کے سوال میں موجود کتاب  کو ‘وار اینڈ پیس’ از ٹالسٹائی سمجھ لیا اور انگریزی میں لکھنے والے کئی ایک بلاگرز اور مضمون نگاروں نے اسی کو لیکر زبردست شور کیا- اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ماؤوادی کتابوں اور سی ڈیز پر مشتمل مواد پر کوئی بات نہیں کی، کیونکہ لبرل نے ازخود یا تو خوفزدہ ہو کر یا زعفرانی فسطائیوں کی طرح یہ بات مان کر کہ جس چیز پر ماؤواد کا ٹیگ لگے اس کو آزادی اظہار اور جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھ کر اسے ان دیکھے سنسر کی نذر کردیا جائے۔ جیسے ہمارے ہاں لبرل کا وتیرہ ہے بلکہ وہ تو ہندوستانی لبرل سے بھی گئے گزرے ہیں کہ مجال ہے وہ کبھی پاکستانی ریاست کے جمہوری اور آمرانہ یا جعلی جمہوری ادوار میں تسلسل کے ساتھ  سرمایہ دارانہ منڈی کی معشیت اور پاکستانی سماج میں کسانوں،مزدوروں،مذہبی اقلیتوں اور عورتوں اور نسلی گروہوں کی بری حالت میں کوئی بلاواسطہ اور بالواسطہ  تعلق اور ربط تلاش کرلیں اور اس پر بلند آہنگ سے بات کریں

مین سٹریم ہندوستانی دانش،صحافت اور ادب کی اکثریت نے پہلے والے واقعے میں موجود انقلابی مزاحمت اور احتجاج کے خلاف ریاست کی مشنیری کی طرف سے صفر برداشت کے عنصر کو غائب کرکے اسے محض روشن خیالی بمقابلہ رجعت پرستی کا عکس بناکر دکھایا اور اسی عکس کے اوپر سارا شور مچایا-

دوسرے واقعے میں اس نے رائے سے اپنے کھوکھلے پن،منافقت پر مبنی رویوں اور خاص طور پر سرمایہ داری اور اس کے نیولبرل معاشی اقدامات کو چھپانے کے طرز عمل پر تنقید اور جارحانہ انداز فکر کا بدلہ لیا-

جبکہ تیسرے واقعے کو لیکر انھوں نے پھر یہ دکھانے کی کوشش کی کہ ہندوستان میں بڑھ رہی فسطائیت کا بنیادی رشتہ صرف اور صرف بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پسندی پر مبنی سوچ سے جوڑا جائے اور اس کا رشتہ جو منڈی کی معشیت اور براہمن واد سے بنتا ہے اسے یا تو بالکل چھپا جائے یا اس پہ سرے سے زور ہی نہ دیا جائے-

ہندؤستان میں مین سٹریم  لبرل دانش ،صحافت اور ادب میں ایسی رجحان ساز آوازوں کی کمی نہیں ہے جو اپنے لبرل بلکہ یہاں تک کہ بعض کیسز میں لیفٹ چہرے کے باوجود براہمن واد سوچ کے زیر اثر ہیں اور وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کارپوریٹ سرمایہ داری کے ماڈل میں مکمل تباہی اور بے دخلی کا شکار شہری اور دیہی غریبوں جن میں آدیواسی،قبائلی، بے زمین اور چھوٹے کسان بڑی تعداد میں شامل ہیں کے ایشوز کو مین سٹریم نہیں کرتے اور ان کی مزاحمت اور لڑائی کو دہشت گردی، انتہا پسندی بناکر دکھاتے ہیں- یہ مین سٹریم لبرل دانش اس وقت زیادہ تر کانگریس جیسی جماعتوں کے کیمپ سے تعلق رکھتی ہے-

دانش کی ایک قسم اور بھی ہے جو اپنے آپ کو سوشلسٹ، کمیونسٹ کہتی ہے لیکن یہ لوگ کسانوں،دلت، آدی واسیوں اور غیر منظم محنت کشوں کے بارے میں زیادہ تر لاتعلقی کی فضا میں رہتے ہیں اور یہ ان کے مسائل پر اصلاح پسندانہ رویوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور یہی وجہ ہے جہاں جہاں آدی واسی، قبائلی، بدترین حالات کا شکار کسان اور شہری و دیہی غریب براہ راست قومی اور بین الاقوامی کارپوریٹ سرمایہ دار کمپنیوں کی مار کھارہے ہیں اور ان میں مزاحمت و احتجاج کی لہر ہے ان میں پارلیمانی سوشلسٹ و کمیونسٹ روایت سے زرا ہمدردی نہیں ہے اور وہاں پر انقلابی  کرانتی کاریوں کا زور ہے اور بھارت کی پوری ریاستی مشینری اس زور کو توڑنے میں لگی ہوئی ہے-

دلت سوال پر بھی پارلیمانی کانگریسیوں، مارکس وادیوں اور سماج وادیوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے کیونکہ بھارت کی جمہوریت کا منڈی کی معشیت سے نکاح اور اس کے براہمن واد کے اندر سے نکلی ہندوتوا کے ساتھ سمبندھ  نے بھارت کے سیکولر نعرے بازی کو بے کار بناکر رکھ دیا ہے-

ایسے وقت میں جب  پارلیمان نواز لبرل اور لیفٹ دونوں کے ہاں ہندوستان میں بدترین حالات کا شکار پرتوں کے لیے آگے جانے اور نجات کی امید کا کوئی راستا نظر نہیں آتا تووہ جو مزاحمت کررہے ہیں اور وہ جو اس پورے سسٹم کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے حقیقی مزاحمت کا پالن کررہے ہیں، انہی کے ساتھ مجبور و مقہور و مظلوم کا کنکشن بنتا ہے اور انھی کو سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے- یہ بات پارلیمانی اصلاح پسندی کے دعوے دار لبرل اور لیفٹ کی اشرافیہ کو غصہ دلاتی ہے- وہ برطلا اس کا اظہار تو نہیں کرتے لیکن جب موقعہ مل جائے تو وہ ارون دھتی رائے جیسے دانشوروں، ادیبوں،  سیاسی کارکنوں اور استادوں پر حملہ کرنے سے باز نہیں آتے- ایسی دانش ہندوستان کے موجود سیاسی-معاشی اور سماجی-معاشی نظام کے ڈھانچے کے اندر بالائی سطح  پر ابھرنے والی چیزوں پر ہی بحث بناتے رہتے ہیں اور وہ ان چیزوں کے پیچھے اصل مادی بنیاد کو کھوجنے سے یا دکھانے سے معذور رہتے ہیں-

پاکستان میں جب سیکورٹی فورسز بلوچستان کے شہروں اور علاقوں میں کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مار کر کارل مارکس، لینن، چے گوارا، اور یہاں تک کہ لالہ رام داس اور ڈاکٹر شاہ محمد مری کی بلوچستان پر لکھی کتابوں کو ضبط کرتی ہیں اور مالک و سیلز مین پر 124 اے سمیت کئی ایک سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتی ہیں جیسے 2011ء میں گوادر میں البدر بکس سنٹر پر چھاپے کے دوران کیا گیا تھا اور اس دوران وہ جہادی و فرقہ وارنہ لٹریچر بشمول کثیر تعداد میں لبرل اور لبرل لیفٹ لٹریچر کو شایع ہونے اور بکس سنٹرز پر پڑا رہنے کی اجازت دیتی ہیں تو اس طرح کے اقدامات سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ اندھا دھند بس روشن خیالی کے آڑے آرہی ہیں اور ریاست ساری روشن خیالی اور ہر طرح کی آزاد فکری کو دبانا چاہتی ہے- بلکہ معاملہ اس کے الٹ ہے-

بھارت میں بلوچستان یا سابقہ فاٹا میں بالترتیب بلوچ اور پشتون مزاحمت پر لکھنے اور بولنے سے پرابلم صفر اور کتاب لکھیں تو اس کی تقسیم میں روکاوٹ بھی صفر ہے لیکن اگر منی پور، تری پورہ، چھتیس گڑھ وغیرہ پر انقلابی/باغیایانہ طرز پر لکھیں یا بولیں تو مشکل ہی مشکل اور کتاب لکھی تو اس کا بیچنا،اور اس گھر پہ رکھنا آپ کو قید میں ڈالنے کے لیے کافی ہے- تھوڑے یا زیادہ فرق کے ساتھ آپ اسی بات کو اوپر فقرے کے شروع میں بھارت کی جگہ پاکستان لگائیں تو پھر مشکل ہی مشکل اور مقدمات،جبری گمشدگی اور ماورائے عدالتی قتل کے لیے تیار رہیں-

جب آپ جمہوریت، روشن خیالی، آزادی اظہار اور اس جیسی دیگر لبرل اقدار کے منڈی کی معشیت پر مبنی پروجیکٹس کے اطلاق کے لیے ریاست کی مشینری کے جابرانہ و ظالمانہ اور کچل ڈالنے والے پہلوؤں سے صرف نظر کرنے بلکہ ان حقائق کو بری طرح سے مسخ کرنے جیسے عمل کی نشاندہی کرتے ہیں تو ایک دم سے آپ لبرل اشراف سیاسی تجزیہ کاروں،صحافیوں،دانشوروں اور ادیبوں کی حمایت سے محروم ہوجاتے ہو اور سخت تنہائی کا سامنا کرتے ہو- یہ ایک ایسا سچ ہے جسے پاکستان میں بیان کریں تو لبرل پریس اچانک سے آپ کو بھول جاتا ہے اور ریاست کے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے والے تو پہلے ہی آپ سے نالاں رہتے ہیں۔

  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here