لکھنؤ میں نخاس بازار کو شہر کا سب سے قدیم ترین بازار کہا جاتا ہے- اور اس ایک بازار میں کئی بازار جمع ہیں- اسی کے اندر ایک بازار ‘چڑی بازار’ کہلاتا ہے- اس بازار میں پالتو پرندوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ہوتا ہے- یہیں پر ایک قبر ہے جسے سب ‘ٹیڑھی قبر’ کے نام سے جانتے ہیں- اور اسے ‘مرد شہید’ کا مزار بھی کہا جاتا ہے- اور جہاں سب ہی مذاہب کے ماننے والے حاضری دیتے اور اظہار عقیدت کرتے ہیں- پروفیسر مظہر نقوی کے بقول یہ قبر اصل میں مشہور و معروف مرثیہ نگار( لالہ )چھنو لال دلگیر کی ہے-

اکبر حیدری نے ‘منظومات میاں دلگیر’ میں لکھا ہے کہ میاں دلگیر کے نام سے مشہور ہونے والے معروف شاعر اور مرثیہ نگاری میں نام پیدا کرنے والے میاں دلگیر کا نام لالہ چھنولال تھا،والد کا نام رسوا رام اور جات کے لحاظ سے وہ کائستھ سکسینہ تھے- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ محسن لکھنوی نے ان کا نام چھنگولال اور نصراللہ خویشگی نے جھبولال لکھا ہے(مظہر نقوی جھنولال لکھتے ہیں) لیکن ترجیح مصحفی کے بیان کو ہے جنھوں نے ریاض الفصحاء میں ذہین کے تذکرے میں ان کا پورا نام چھنولال تخلص طرب اور پھر دلگیر لکھا ہے-

ڈاکٹر اکبر حیدر کاشمیری کی کتاب ‘منظومات میاں دلگیر’ مطبوعہ 1970 انڈیا صفحہ آٹھ اور نو پر میاں دلگیر کی تاریخ پیدائش بارے ایک مدلل تحقیق موجود ہے- ان کی تحقیق کے مطابق میاں دلگیر کا سن پیدائش بمطابق ھجری تقویم کے گیارہ سو پچانوے(1195) اور شمسی تقویم کے سترہ سو اسی (1780ء) بنتا ہے جبکہ ان کی وفات پر کسی کو اختلاف نہیں ہے اور وہ شمسی تقویم کے مطابق 1848ء بنتی ہے- گویا میاں دلگیر کی جب وفات ہوئی تو ان کی عمر اڑسٹھ (68) سال کی تھی-

میاں منشی دلگیر جس زمانے کے لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے، وہ زمانہ ریاست اودھ میں میں بالخصوص اور لکھنؤ میں بالعموم کمپوزٹ کلچر کے عروج کا زمانہ تھا- نواب شجاع الدولہ جنھوں نے ریاست اودھ کی بنیاد رکھی وہ شیعہ مسلمان تھے لیکن انھوں نے اپنی ریاست میں کسی دوسرے مذہب کے تیوہاروں کے منائے جانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی- اور یہی روش نواب آصف الدولہ کے زمانے میں بھی رہی اور بعد کے نوابین نے بھی اس ہی طریق کار کو اختیار کیے رکھا- بلکہ یہ سب نواب ہند‎ؤ مائتھالوجی سے جڑے تیوہاروں کو بھی تزک و احتشام سے منایا کرتے تھے-

راکیش بھیسن کی کتاب ‘ داستان اودھ: فیض آباد تا لکھنؤ ایک یادگار سفر’ اس حوالے سے بہت ہی تاریخی اہمیت کی حامل ہے- وہ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں

نواب واجد علی شاہ کے دور حکومت میں ایک بار ایسا ہوا کہ عاشورا محرم اور ہولی کا تیوہار ایک ہی دن آگئے- تعزیہ کا جلوس لکھنؤ میں نکالا گیا اور اسے  کربلا میں دفنا دیا گیا- واجد علی شاہ جب واپس ہورہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ شہر میں کہیں کوئی ہولی کا تیوہار نہیں منا رہا تھا- واجد علی شاہ کا حیرانی ہوئی اور انھوں نے اپنے مصاحبوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا،’ہولی خوشی کا تیوہار ہے- محرم سوگ اور ملال کا- ہندؤ برادری نے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہولی نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے-‘ نواب واجد علی شاہ ہندؤ برادری کے اس بھائی چارے کے عظیم الشان مظاہرے سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ وہ ہندؤ برادری کے ساتھ مل کر خود ہولی کھیلیں گے اگرچہ محرم کا مہینہ ہے- یہ واقعہ اودھ کی سیکولر روح کو زندہ کرتا ہے، جو نسلوں میں منتقل ہوئی ہے-

راکیش بھیسن کی یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے جو بتاتی ہے کہ کیسے کثیر تعداد میں ہندؤں کو ایودھیا میں آکر بسنے کی اجازت ملی، ان کو زمنیں عطیہ کی گئیں اور ان زمینوں پر مندر اور دھرم شالائیں(یاتریوں اور مسافروں کے ٹھہرنے کی جگہیں) بنائے گئے- پانچ تاریخی جین مندر نواب کے دیوان کیسری سنگھ نے تعمیر کیے- اور نواب شجاع الدولہ کے حکم پر بھائی ہمت رام بیراگی نے ایک دھرم شاہا تعمیر کی جو آج بھی موجود ہے- راکیش بھیسن کے مطابق نوابین اودھ کی رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی عملی کاوشیں اسقدر موثر تھیں کہ جہاں مسلمان ہولی،دیوالی وغیرہ کے تیوہار کا بے صبری سے انتظار کرتے وہیں ہندؤ بھی عید الفطر کے منتظر رہتے اور یہ دن ان کے لیے طرح طرح کے میٹھے پکوانوں کو کھانے کا تیوہار ہوتا اور ایسے ہی ان کے ہاں تعزیہ،تابوت،شبہیں، محرم کے ایام تقدس اور احترام والے ہوا کرتے تھے- اور تیوہار، ایام یہ کسی کے نزدیک تقسیم کرنے، جھگڑے پیدا کرنے والے نہ تھے-(جیسا کہ ڈاکٹر مشیر الحسن نے لکھنؤ میں فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان محرم ایک مشترکہ ثقافتی تیوہار تھا اور یہ پہلی بار شیعہ- سنی تقسیم کا نشان کالونیل دور میں آکر بنا)

اکبر حیدری کاشمیری سمیت کئی ایک تذکرہ نگاروں نے راجہ جھاؤ لال بہادر اور میوہ رام کا بھی ذکر کیا ہے- راجا جھاؤ لال بہادر نواب آصف الدولہ کے نائب وزیراعظم تھے-  میوہ رام کے والد کا نام نول کشن تھا- اور یہ غازی نصیرالدین کے دربار سے وابستہ تھے- عشرہ محرم اور آئمہ اہل بیت اطہار کی یاد منانے کے لیے سالانہ دو لاکھ روپے خرچ کیا کرتے تھے- یہ سب کائستھ سکسینہ برادری سے تعلق رکھتے تھے-

برادر میاں دلگیر راجا جھاؤلال نے ٹھاکرگنج میں امام باڑہ اور مسجد بنوائی جو آج بھی موجود ہے- اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ معروف ایرانی اخباری شیعہ ملّا باقر مجلسی کے خاندان کی ایک شاخ مرشد آباد بنگال سے لکھنؤ منتقل ہوئی تو راجا جھاؤلال اور اس مجلسی شاخ کے درمیاں شادیاں بھی ہوئیں اور اس کا احوال جوان ریکارڈو کول کی کتاب ‘مقدس مقامات اور مقدس جنگ: شیعی اسلام کی سیاست،تاریخ اور ثقافت’ میں تفصیل سے موجود ہے-

اگرچہ اکبر حیدری کاشمیری  راجا جھاؤ لال کے مذہب تادم مرگ کچھ نہیں بتایا لیکن جوان ریکارڈو اور دیگر تذکرہ نگاروں سے پتا یہ چلتا ہے کہ راجا جھاؤ مل نے بھی شیعی اسلام قبول کرلیا تھا جبکہ میوہ رام بھی شیعہ مسلمان ہوگیا تھا اور انھوں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا- اور پھر نوجوانی میں ہی میاں دلگیر بھی مسلمان ہوگئے تھے اور انھوں نے بھی اپنا نام تبدیل نہیں کیا- ہاں میوہ رام نے اپنا نام بدلا اور ہدائت علی رکھا اوران کو غازی نصیر الدین نے افتخار الدولہ کا خطاب دیا لیکن لوگ ان کومیوہ رام کے نام سے ہی یاد کرتے رہے-

راجا جھاؤ مل کی شہدائے کربلا سے بے انتہا عقیدت نے میاں دلگیر پر بھی اثر کیا اور شیفتہ کے مطابق انھوں نے واقعات کربلاء کا انتہائی گہرائی میں جاکر مطالعہ کیا اور ان واقعات کا ان پر انتہائی اثر ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے کے لکھنؤ کی جو فضا تھی اس نے بھی میاں دلگیر کو متاثر کیا ہوگا تو وہ بھی اپنے آپ کو مکمل طور پر اس ساری داستان سے وابستہ خیال کرنے لگے-

عام طور پر تذکرہ نگاروں نے جھاؤلال، میوہ رام اور چھنولال دلگیر کی اس تبدیلی کو تبدیلی مذہب کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے- اور اسے تھالوجیکل/اللہیاتی مابعدالطبعیات  کے اندر محدود کرکے دیکھنے کی کوشش کی ہے- لیکن زیادہ گہرائی میں اتر کر اور اسے ریاست اودھ کی خاص طور پر کمپوزٹ کلچر میں کربلاء سے جڑی ثقافتی چیزوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں یہ منظر عقیدت اور وابستگی کے کسی اور رنگ کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے جہاں پر شیعہ مذہب کی سنّی مذہب سے اختلافی روش اہم نہیں ہے بلکہ وہاں واقعات کربلا اور خانوداہ اہل بیت کی زندگیوں کا فسوں اہم ہوجاتا ہے- اور یہی رنگ  ہمیں دلگیر کے ساری رثائی، مناقب پر مبنی شاعری م؛ں غالب دکھائی دیتا ہے- اور ہمیں اس پر مناظرانہ یا وہ فرقہ وارانہ رنگ تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا جو ہمیں میر انیس ،میر دبیر اور پھر غالب کے ہاں کئی ایک اشعار میں دیکھنے کو مل جاتا ہے- ابھی تک شاید کسی نے میاں دلگیر کے رثائی کلام کو اس نظر سے پرکھنے کی کوشش نہیں کی ہے-

میاں دلگیر نے اپنی شاعری کا آغاز رومانوی غزلیں اور اشعار کہنے سے کیا تھا لیکن پھر تیس(30) سال کی عمر میں انھوں نے اپنا کلام موتی جھیل لکھنؤ میں بہا دیا اور خود کو واقعات کربلاء اور مدح اہل بیت اطہار کے لیے وقف کرلیا- پروفیسر ادیب الحسن کےبقول ان کے رثائی کلام کی سات جلدیں مرتب ہوئیں- اور ان کا کلام چار دانگ عالم میں پھیل گیا-

جس زمانے میں دلگیر نے تعزیہ خریدا اور مجلس عزا برپا کرنا شروع کی وہ زمانہ غازی حیدر کا تھا- اور وہ مرزا خلیق و مرزا ضمیر اور مرزا فصیح تھے- جبکہ ان کے پہلے استاد مرزا خانی نوازش اور دوسرے ناسخ تھے-

چھنولال دلگیر کی زبان میں ہکلاہٹ تھی تو وہ خود تو اپنا کلام سناتے نہیں تھے بلکہ اپنے شاگرد یا اوروں سے پڑھوایا کرتے تھے- ان کے کلام کو ریاست اودھ میں سب سے زیادہ عام اور مشہور اس زمانے کے معروف سوز خواں میر علی صاحب نے کیا-

چھنولال دلگیر اپنی نوعیت کے منفرد مرثیہ نگار تھے اور ان کی مرثیہ نگاری کے سامنے ان کے ہم عصر مرثیہ نگاروں کی رثائی شاعری کو وہ شہرت نہ مل سکی جو چھنولال دلگیر کو ملی- اور سچ تو یہ ہے کہ آج بھی اس عصر کے مرثیہ نگاروں میں چھنو لال دلگیر کی رثائی شاعری سب سے زیادہ مجالس عزا اور جلوس ہائے عزاداری میں پڑھی اور سنی جاتی ہے- ان کے کئی مرثیوں کو لا زوال شہرت ملی –

قید سے چھوٹ کر جب سید سجاد آئے

۔۔۔۔۔۔

گھبرائے گئے زینب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکبر ہےنہ قاسم نہ عباس_دلاور

یہ مری رہائی تو ہے اب قید سے بدتر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here