پاکستان میں بنیاد پرستوں کا کیمپ ہو یا الحاد پرستوں کا کیمپ ان دونوں نے طبقاتی سوال کو جب کبھی دھندلانا ہوتا ہے تو یہ کارل مارکس کی تحریر کے ایک پیراگراف کے اندر موجود ادھورا فقرہ ‘مذہب عوام کی افیون ہے’ اٹھاتے اور اسے خوب نشر کرتے ہیں- بنیاد پرستوں کا کیمپ لوگوں کے مذہبی جذبات اکساکر طبقاتی سوال کو گم کرتا ہے تو الحاد پرستوں کا کیمپ اپنی مذہب کے خلاف جنگ کے جواز کے طور پر اور لوگوں میں الحاد کی تبلیغ کے لیے اسے پیش کرتا ہے اور آج کل ‘اسلامو فوبیا’ اور نسل پرستی کا شکار لبرل ملحدین کے ہاں اس فقرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے-

پاکستانی الحاد پرست مبلغین کے ہاں مغرب سے جن مبلغین الحاد کے نظریات کو پیش کیا جاتا ہے، ان میں سے ایک بل ماہر ہے- یہ ٹی وی ٹاک شو کرتا ہے- اس نے حال ہی ایک دستاویزی فلم’ریلجس-مذہبی’ بنائی ہے جس میں مذہب کے ماننے والوں کا مذاق اڑایا گیا ہے- دوسرا ان کا پسندیدہ مبلغ اعظم برائے الحاد ایک سابق بائیں بازو کا رکن کا بہت ہی زھریلا صحافی ہے ہچنز ہے۔اس کی تازہ کتاب کا نام ہے’خدا عظیم نہیں ہے: کیسے مذہب ہر شئے کو زھریلا کردیتا ہے’- تیسرا ان کا پسندیدہ مبلغ اعظم برائے الحاد آکسفورڈ میں بائیولوجی کا استاد رچرڈ ڈکنز ہے- یہ بھی خدا کے وجود پر تنقید پر مشتمل ایک کتاب کا مصنف ہے- چوتھا مبلغ سام حارث ہے جو حال ہی میں نیورو سائنس میں گریجویشن کرکے آیا ہے اور اس نے ‘مذہب کا خاتمہ اور کرسچن قوم کے نام ایک خط’ کتاب لکھی ہے-

ان جیسے مذہب کے کئی ایک ناقدین کی تنقید کے تناظر مختلف تو ہیں لیکن ان کے کچھ تصورات ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں- خاص طور پر یہ ناقدین اس خیال پر متفق ہیں کہ مذہب پر ایمان رکھنے والے صرف غلطی پر ہی نہیں بلکہ وہ بھولے گاؤدی بھی ہیں- ان تبصرہ کرنے والوں کا یہ یقین ہے کہ مذہب ایک طفلانہ فنتاسی ہے یا یہ عقلیت پسندی سے پسپائی ہے اور ان کا آگے خیال یہ ہے کہ مذہب دنیا کے بہت سی سنگین لڑائیوں کی جڑ ہے- مثال کے طور پر ڈاکنز نائن الیون کے دہشت گرد حملوں ،خودکش بم دھماکوں اور مشرق وسطی میں تشدد اور شمالی آئرلینڈ میں عشروں پر محیط لڑائی کا الزام مذہب پر دھرتا ہے-

ایک تیسرا مشترکہ خیال مذہب کے ان جیسے ناقدین کا یہ ہے کہ تھیوری میں تو وہ سب کے سب مذہب کی تمام اشکال کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جب وہ اس تھیوری کو مثالوں سے ثابت کرنے آتے ہیں تو ان کی تنقید کا سارا زور بس مذہب اسلام  پر صرف ہوتا ہے- ہچنز ہو کہ سام حارث ہو اس جیسے ناقدین کے نزدیک اسلام خاص طور پر خطرناک مذہب ہے اور وہ اسلام کے عقیدے اور دہشت گردی کے درمیان براہ راست لنک دکھانے کی کوشش کرتے ہیں-

ان کے تنقیدی خیالات نسل پرستی اور انتہائی جہالت کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں

دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان کی تاریخ پیچیدہ ہیں- ان کی مقدس کتابوں میں اکثر اجمال اور کثرت معانی و تعبیر کی گنجائش ہمیشہ سے موجود رہتی ہے- ان مذاہب کے مانننے والے جن حالات و واقعات سے خود کو دوچار پاتے ہیں، اس کے مطابق وہ اپنی مذہبی روایت کے ایک یا دوسرے حصے کو اٹھاکر اس کو اپنے حالات و واقعات پر منطبق کرلیتے ہیں، چاہے وہ اس مخصوص اخذ اور اطلاق سے واقف ہوں یا نہ ہوں- یہی وجہ ہے کہ مذہبی روایات کے اندر بہت سارے رجحانات ہوتے ہیں اور اسی لیے ہر طرح کے اقدام کے مذہبی جواز اور توضیح و تشریح کا امکان موجود رہتا ہے- صدیوں گزرنے کے ساتھ ساتھ مذاہب کی تعبیر در تعبیر ہوتی رہی ہے اور وہ تعبیر کسی ایک خاص گروپ کے مفادات کی خدمت کرتی رہی ہے-

آج کے ناقدین کے مذہب بارے یہ خیالات اٹھارویں صدی کے یورپ میں موجود فلسفیوں کے خیالات کی جگالی ہیں- ان مغربی فلسفیوں نے مذہبی عقیدہ کو لاعلمی، توہمات اور جبر و تشدد کا نتیجہ خیال کیا- انیسویں صدی جرمنی کا فلسفیانہ جمگھٹا جس سے مارکس بھی انہی جیسے خیالات لیکر ابھرا تھا اور اس وقت اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ‘ مذہب کی تنقید ہر طرح کی تنقید کا مقدمہ ہے’ لیکن ٹھیک اسی قسم کے خیالات تھے جن کو مارکس نے بتدریج خود ہی مسترد کردیا تھا- مارکس اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ مذہب تو علامت ہے ناکہ اصل مسئلہ- اور مذہب کی یہ شکل اس وقت تک ذریعہ تسکین رہے گی جب تک لوگوں کا درد یعنی ایک غیرعادلانہ نظام معشیت قائم رہے گا-

  وہ خیالات ہیں جن کو مارکس نے 1844ء میں اپنے ایک مضمون میں لکھا اور اسے بہت زیادہ نقل کیا جاتا ہے ایک پیرا گراف سے لیے گئے جو کچھ یوں تھا

مذہبی مشکلات ایک پہلو اور بیک وقت تو حقیقی مشکلات کا اظہار اور حقیقی مشکلات کے خلاف احتجاج بھی ہیں- مذہب مظلوموں کی آہ ہے، دل نہ رکھنے والی دنیا کا دل اور بے روح حالات کی روح ہے اور عوام کے لیے افیون ہے

مذہب کا بطور لوگوں کی فریب خوردہ مسرت کے خاتمہ ان کی حقیقی خوشی کا مطالبہ ہے- ان کو اپنے حالات کے بارے میں  واہموں کو چھوڑ دینے کا کہنا ان کو ایسی حالت کو چھوڑنے کا کہنا ہے جس سے واہموں کی ضرورت پڑتی ہے۔

مارکس کا مذہب کو عوام کی افیون کے طور پر بیان کرنا اس کی سب سے زیادہ جانی جانے والی لکھی سطروں میں سے ایک بن گیا- یہ بات کچھ طریقوں سے شرمناک بھی ہے- پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ آدھا سچ ہے اور دوسری بات یہ کہ مارکس جس گہری بات کو کررہا تھا،یہ آدھی سطر اس بات سے تجہ بھٹکا دیتی ہے- یہ آدھا سچ ہے کیونکہ مذہب تو اکثر درد کش دوا کا کام کرتا ہے-

بہت سے لوگوں کا یہ خیال کہ موت کے بعد وہ اور ان کے پیارے پھر اکٹھے ہوجائیں گے روز زندگی میں جن ناانصافیوں اور مایوسیوں کا وہ سامنا کرتے ہیں سے کہیں بہتر ہے- لیکن اس سے بھی گہری بات یہ ہے کہ مذہب، سماج کے دیگر نظریاتی اور فکر بالائی ڈھانچے کی طرح اس کی تہہ میں موجود مادی حقیقتوں کی پروڈکٹ ہے-

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائیکالوجی کے پروفیسر ڈین پی میک ایڈم کی ایک تحقیق شگاگو کے علاقے میں مذہب پر ایمان رکھنے والوں سے پوچھے گئے سوال پر استوار ہے کہ ان کا خیال میں زندگی کیسی ہوگی اگر خدا کا وجود نہ ہو؟ کنزرویٹو مسیحیوں نے خدا کے بغیر دنیا کو نہ ختم ہونے والی لڑائی اور خلفشار کی آمجگاہ تصور کیا اور ان کا پختہ خیال تھا کہ لوگ نہ تو اپنے جذبات پر کنٹرول کرپاتے اور سماجی تعلقات و سماجیاتی اداروں کا بھی بریک ڈاؤن ہوجاتا- لبرل کرسچن کے خیال میں دنیا بنجر، زندگی سے عاری، رنگ و بو سے محروم اور ایک خالی بے آب و گیاہ خرابہ ہوتا جو ان کو زندہنہ رکھ پاتی-

تو دونوں مذہبی گروہوں نے خدا کے بغیر زندگی کو خوف،اداسی، شخصی تعلق سے عاری تنہائی اورمعانی و امید کے زیاں سے تعبیر کیا-

مارکس کے اوپر ذکر کردہ پیراگراف سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ مارکس  براہ راست مادی محرومی کے معانی سے مذہبی عقیدے کی وضاحت نہیں دیتا بلکہ وہ جبر اور ایک دل سے عاری  دنیا اور روح سے خالی حالات میں رہنے والے عوامل  پر زور دیتا ہے- اور یہ ان چند عوامل میں سے ایک ہیں جو میک ایڈم کی تحقیق کے لیے کیے جانے والے انٹرویوز میں ذکر ہوئے ہیں-

تاہم مارکس کے نزدیک یہ عوامل نہ تو بالکل آزادانہ خدشات ہیں اور نہ ہی  انسانی حالت زار کے کبھی نہ ختم ہونے والے پہلو ہیں بلکہ بالواسطہ یہ مادی حالات سے جڑے ہوئے ہیں- اگرچہ وہ اوپر نقل ہوئے پیراگراف میں یہ لفظ استعمال نہیں کرتا، مارکس ایسا لگتا ہے کہ یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ عقیدہ  انسان کی ایک خاص حالت بیگانی کا عکس ہے، یہ محض مادی محرومی کا شاخسانہ نہیں ہے- 1840ء میں اس نے اپنی ابتدائی تحریروں میں سرمایہ داری کے اندر بے گانگی بارے بہت زیادہ لکھا اور اس نے اس کے معنی بتانے میں زیادہ سیاہی خرچ کی- اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ لوگ اس وقت بے گانگی کا شکار ہوتے ہیں جب ترقی اور ان کی بنیادی انسانی اہلیتوں کے استعمال میں لانے کی مشق  کو منظم اور مربوط طریقوں سے منتشر کیا جاتا ہے- سیدھے سبھاؤ مادی محرومی ایک طریقہ تو ہے جس میں ایک آدمی اپنے صلاحیتوں کو پروان چڑھانے یا ترقی دینے سے محروم رہ جاتا ہو لیکن یہی واحد طریقہ نہیں ہے- مثال کے طور پر،کوئی شخص  بنیادی مادی ضرورتوں سے فیض یاب ہو لیکن وہ سماج جس طریقے سے تشکیل پایا ہو، اس میں وہ دوسروں کے ساتھ بامعانی رشتوں کی تشکیل کرنے سے قاصر رہ جائے-

اگر مارکس کے مذہب کے بارے خیال کی یہ تعبیر درست ہے، تو اس کا یہ مفروضہ تجرباتی آزمائش کے لیے کھلا ہے- ہم توقع کرسکتے ہیں کہ معاشروں اور ملکوں میں جہاں مذہبی اعتقاد کی سطحیں زرا کم ہیں وہاں پر آبادی کم بے گانگی کا تجربہ کرتی ہیں- بہرحال مارکس کا یہ یقین تھا کہ بے گانگی سارے طبقاتی معاشروں کا مستقل پہلو ہے لیکن بے گانگی درجہ وار وارد ہوتی ہے- لوگ کم یا زیادہ وقت میں اپنی ضروری صلاحیتوں کو ترقی دے سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں پر کم یا زیادہ کنٹرول کرسکتے ہیں- ممالک جہاں پر کوئی بے گانگی کی سطح کم ترین ہونے کی توقع رکھے گا تو وہاں پر کم سماجی اور معاشی عدم مساوات، کم سطح غربت بھی ہوگی، اور وہاں پر ورکرز نے ریاست سے زیادہ سے زیادہ رعایات بھی جیتی ہوں گی جس میں مفت علاج، مفت بچوں کی پرورش، تعلیم تک زیادہ رسائی، تنخواہ کے ساتھ زیادہ لمبی چھٹیاں، زیادہ تحفظ روزگار اور کام کی جگہ پر زیادہ سے زیادہ حقوق بھی شامل ہوں گے-

تاریخی طور پر وہ سماج جو تیزی سے اس سمت بڑھے وہ شمالی یورپ کی سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں تھیں جہاں پر گزشتہ کئی عشروں سے بہت ساری محنت کشوں کی کامیابیاں ختم کی جاچکی ہیں- سیکنڈے نیوین ممالک کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے-

ان ممالک میں پروٹسنٹ ازم اور دیگر مذہبی عقیدوں کے منابع کم ہوئے اور ان ممالک میں ڈرامائی طور پر یہ زوال پذیر ہوگئے- ایک ماہر سماجیات فل زکرمان  نے اپنی کتاب ‘ بے خدا سماج: کم مذہبی اقوام ہمیں قناعت بارے کیا بتاتی ہیں؟’ نے بیان کیا ہے کہ جبکہ 90 فیصد امریکن کہتے ہیں کہ وہ شخصی خدا پر یقین رکھتےہیں  تو ڈنمارک  میں ایسے 24 فیصد اور سویڈن میں 16 فیصد ہيں- ڈینش اور سویڈش کی ایک تہائی سے بھی کم آبادی موت کے بعد زندگی پر یقین رکھتی ہے جبکہ امریکہ میں ایسے لوگ 80 فیصد ہیں- سیکنڈے نوین ممالک میں مشکل سے 10 فیصد کا جہنم پر یقین ہے جبکہ امریکن آبادی کا 60 فیصد اس پہ یقین کرتا ہے-

یہ ایک قائل کردینے والا ثبوت ہے جو مارکس کے مذہب بارے تجزیے کے ٹھیک رخ پر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے- لیکن جیسا کہ میں نے مذہب کے افیون ہونے کے ابتدائی موازنے میں کہا تھا کہ یہ جزوی طور پر ٹھیک ہے تو مذہب ایک درد کش دوا کے طور پر ہی کام نہیں کرتا بلکہ افیم تو مسکن آور بھی ہوتی ہے اور میرے پاس جو لغت ہے ا کے مطابق یہ حواس کو سست کرتی اور سکون و تسکین بھی پہنچاتی ہے اور آپ کو سلا بھی دیتی ہے- مذہب یہ سارے کام کرسکتا ہے لیکن یہ اکثر عمل کے آگے ڈھال بھی بن جاتا ہے- حکمران اشرافیہ مذہب کو اپنے مقاصد کی خاطر لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے- دوسری طرف، مذہ نے سماجی انصاف کے لیے غریبوں اور کچلے ہوئے لوگوں کی تحریکوں میں مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے۔جیسے 1950ء اور 1960ء میں امریکہ کے اندر سول رائٹس کی تحریک اس کی ایک مثال ہے-( قرون وسطی میں پہلی صدی ہجری کے اندر بنوامیہ اور بنو عباس کے خلاف اکثر تحریکوں نے خلیفہ چہارم حضرت علی اور ان کی اولاد کے ساتھ اپنی شناخت بناکر سماجی انصاف کی تحریکیں چلائیں اور آج کچھ مارکس واد اسے حکومت و اقتدار کے لیے دو قبیلوں کے درمیان جنگ سے تعبیر کرکے اپنے فکری بانجھ پن کا ثبوت دیتے ہیں)

انصاف کی بات یہ ہے کہ مارکس اور ان کا ساتھی فریڈرک اینگلس دونوں مذہب کے بعض اوقات ادا کیے جانے والے ترقی پسندانہ کردار سے بخوبی آگاہ تھے اور اسی لیے مذہب پر اپنی بعد کی تحریروں میں انھوں نے یادگار مگر گمراہ کن افیون کے استعارے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نظر انداز کردیا- اسے بہت زیادہ سنجیدگی سے لینے کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے اس سے مذہب بذات خود ایک دشمن کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے جیسے ڈاکنز،ہچنز جیسے مبلغین تحریک الحاد دیکھتے ہیں اور وہ اس پر یقین بھی کرنے لگتے ہیں- لیکن مارکس اس سے کہیں زیادہ عملی طریقہ کار تجویز کرتا ہے- 1960ء کے سوشلسٹ کا یہ کام نہیں تھا کہ وہ مارٹن  لوتھر کنگ جونئیر یا ملیکم ایکس کو ملحد بنادیں بلکہ ان کا کام تو ان کو نسلی برابری کی لڑائی میں اپنے ساتھ متحد رکھنا تھا- دوسری طرف جب مذہبی تنظیمیں اپنے اراکین کو رجعت پرستانہ سیاسی اہداف کے لیے منظم کریں جیسے پاکستان میں 1948ء میں بنگالیوں کی اپنی زبان سمیت دیگر حقوق کے لیے تحریک چلائی تو اس کے خلاف اسلام کے نام پر مذہبی جماعتوں نے رجعتی تحریک چلائی یا 1950ء میں انھوں نے مشرقی بنگال میں دلت ہندؤں پر مذہبی جبر کیا یا لاہور میں اینٹی قادیانی تحریک چلی اور 77ء میں ایک منظم رجعت پسندانہ تحریک چلائی گئی تو اس وقت ایسے مذہبی عناصر کے خلاف احتجاج ضروری اور ناگزیر ہوجاتا ہے-

آج بھی جب پاکستان میں ہندؤ، کرسچن، احمدی ،شیعہ اور دیگر جب مذہبی احتساب کا شکار ہیں تو ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان پر جبر کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنا بائیں بازو کا اولین فریضہ بنتا ہے-

پولش سوشلسٹ انقلابی روز لکسمبرگ  نے اپنی اٹھارویں صدی کی ابتدائی تحریروں میں ایک جگہ لکھا تھا

سوشلسٹ تحریک کسی بھی طرح مذہبی عقیدوں کے خلاف نہیں لڑتی- اس کے برعکس وہ، ہر شخص کے ضمیر کے لیے مکمل آزادی اور ہر مذہب اور رائے  کے لیے وسیع ممکنہ برداشت کا مطالبہ کرتی ہے- لیکن جس لمحہ مذہبی پیشوا/پادری منبر کو محنت کش طبقات کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ورکرز کو اپنے حقوق اور آزادی کے دشمنوں کے خلاف لڑنا چاہئیے- وہ جو استحصال کرنے والوں کا دفاع کرتا ہو اور وہ جو موجودہ قابل رحم حالت کو اور طوالت دینا چاہتا ہو وہ پرولتاریہ کا جانی دشمن ہوتا ہے چاہے وہ مذہبی چوغہ پہنے ہوئے ہو یا پولیس کی وردی میں ہو۔

(یہ مضمون سوشلسٹ فل گسپر کے مضمون مارکس اور مذہب سے ماخوذ ہے اور اس میں پاکستانی تناظر بارے تبصرے میرے اپنے ہیں- عامر حسینی)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here