آج ذوالفقار علی بھٹو کے سب سے بڑے بیٹے میر مرتضی بھٹو کی برسی ہے- کیا ستم ہے کہ دو دن پہلے 18 ستمبر کو ان کا جنم دن تھا- وہ 1951ء میں پیدا ہوئے تھے-

میر مرتضی بھٹو کے بارے میں بقول بشیر ریاض،بیگم نصرت بھٹو کہا کرتی تھیں کہ قد بت میں وہ بالکل اپنے باپ پر گیا ہے-

میر مرتضی بھٹو ہوں یا شاہنواز بھٹو ہوں یا پھر بے نظیر بھٹو ہوں یہ تینوں سیاست میں حادثاتی طور پر وقت سے بہت پہلے گھسیٹ لیے گئے- ان کو تیزی سے بدلتی ہوئی ہنگامہ خيز صورت حال نے سیاست کی وادی میں قدم رکھنے پر مجبور کیا-

پاکستان کی عوامی جمہوری تاریخ کے طالب علموں کے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی محمد مشتاق نے غلط طور پر سزائے موت سنائی تو یہ میر مرتضی بھٹو تھے جنھوں نے لندن جاکر بین الاقوامی برادری کو جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور ذوالفقار علی بھٹو کی مظلومیت کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کیا-

میر مرتضی بھٹو 1977ء کے آخر میں لندن پہنچے، ان کے ساتھ سوئٹزرلینڈ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر شاہنواز بھٹو لندن پہنچے اور وہاں پر ان دونوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی اور مارشل لاء کے خاتمے کی مہم منظم کی- درجنوں احتجاجی مظاہرے ہوئے- درجنوں پریس کانفرنسز ہوئیں- اور یہیں سے بیٹھ کر میر مرتضی بھٹو نے روزنامہ مساوات کا آپریشن سنبھالا-

چار اپریل 1979ء کو پاکستان کے بدترین آمر جنرل ضیاء الحق نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی اور اس عدالتی قتل نے میر مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے جمہوریت پسند عوامی سیاست سے وابستہ لوگوں کو سخت صدمے سے دوچار کیا-

جنرل ضیاء الحق ایک کینہ پرور اور انتہائی منتقم مزاج آمر تھا- اس نے اپنے ارد گرد جن جرنیلوں کو اکٹھا کیا وہ بھی اسی کی جیسی فطرت کے مالک تھے- بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس نے اپنے جیسے کئی اور باوردی اور بے وردی افسروں اور سیاست دانوں کی بریڈنگ کی جسے بعد ازاں بے نظیر بھٹو’ضیاء الحقی باقیات’ کہا کرتی تھیں- آمریت کی ہچری میں بریڈنگ کا یہ پروسس پاکستان کے ہر ایک ادارے کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا سبب بن گیا-

جنرل ضیاء کا کینہ اور انتقام ذوالفقار علی بھٹو کے جسمانی قتل پر بس نہیں ہوا- اس کے ہرکاروں نے میر مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کا تعاقب شروع کردیا- اور پاکستان میں بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کو نظر بند کردیا- جبکہ پورے ملک کے اندر پکڑ دھکڑ کا بازار گرم ہوگیا-

جنرل ضیاء الحق نے آمریت کے خلاف سرگرم سیاست اور صحافت دونوں کے راستے بند کردیے اور پورے ملک میں ایک حبس اور گھٹن کا سماں بن گیا- دائیں بازو کی مذہبی پیشوائیت، مذہبی و نسلی فرقہ پرست کھلے چھوڑ دیے گئے-

ایسے وقت میں میر مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو جو ظاہر سی بات ہے سیاست کے میدان میں نووارد تھے- ان کے پاس تجربہ کار،مخلص سیاسی بلوغت کے حامل ذوالفقار علی بھٹو کے معتمد ساتھیوں کا تعاون بھی نہیں تھا اور پھر اوپر سے جنرل ضیاء الحق کے ہرکارے، کرائے کے قاتل ان کا پیچھا کررہے تھے- ایسے میں میر مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو دونوں افغانستان چلے آئے- یہاں پر اس زمانے میں ببرک کارمل کی قیادت میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف افغانستان کی حکومت تھی جو کہ سی آئی اے فنڈڈ فساد سے نبردآزما تھی- اس زمانے کا کابل’بندوق کی نالی’ سے انقلاب لانے والے کئی ملکوں کے جلاوطن نوجوان جوشیلے کیڈر سے بھرا پڑا تھا- ایک تو اپنے والد کا مظلومیت میں مارے جانا، دوسرا بہن اور ماں کی قید اور اس قید میں ان پرتوڑے جانے والے مظالم نے دونوں بھائيوں کو پہلے ہی سخت رنج اور تکلیف میں رکھا ہوا تھا- دوسرا افغانستان کا مخصوص جنگی ماحول اور ریڈیکل فضا نے مسلح جدوجہد کی طرف ان کو دھکیل دیا-

میر مرتضی بھٹو ہوں یا شاہنواز بھٹو یا ان کے قریب رہنے والے دوسرے ساتھی ہوں- ان کو نہ تو مسلح جدوجہد کا کوئی تجربہ تھا- نہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ایسی کوئی روایت تھی- ایسی صورت حال میں ان کے پاس یہ بھی تجربہ نہیں  تھا کہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو گھسنے سے کیسے روکیں- انفرادی مسلح بغاوت ایک منظم ریاستی مشنیریسے لیس آمریت کے خلاف کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتی تھی- لیکن اس زمانے میں جب حبس اور گھٹن بہت بڑھ گئی تھی اور پاکستان میں سیاسی میدان میں جو کچھ کرسکتے تھے وہ جیلوں میں بند تھے تو ایسی صورت حال میں ایک طرف میر مرتضی نے مسلح جدوجہد کا ڈیل ڈول ڈالا تو دوسری طرف پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ اور جابرانہ مشینری سے ایسے نوجوان ٹکرا گئے جن کی عمریں محض 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں اور ان کی اکثریت کبھی ذوالفقار علی بھٹو سے ملی تک نہیں تھی-

مسلح جدوجہد کا راستا خطرات سے بھرا ہوا تھا اور اس راستے میں کئی ایک کالی بھیڑوں نے ضیاء الحق کو پوری جمہوری جدوجہد اور تحریک کو دہشت گردی قرار دیکر کچلنے کا موقعہ فراہم بھی کیا-

سلام اللہ ٹیپو نےمارچ 1981ء میں پشاور سے دہلی جانے والے پی آئی اے کے طیارے کو اغواء کرکے کابل ائرپورٹ پر اتارا-

سلام اللہ ٹیپو کے بارے میں بشیر ریاض اور دیگر باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس نے خود اٹھایا تھا اور اغلب یہ ہے کہ اس کے پیچھے خود آمر ضیاء الحق کا شاطر ذہن تھا- یہی وجہ ہے کہ مرتضی بھٹو نے سلام اللہ ٹیپو کو الذوالفقار میں شامل بھی نہیں کیا تھا-

راجہ انور نے سستی شہرت اور اغلب یہ ہے کہ ضیاہ الحقی باقیات(نواز شریف اینڈ کمپنی جس سے انہوں نے بے پناہ مراعات بھی سمیٹیں) کے کہنے پر میر مرتضی بھٹو کو خون خوار، دہشت گرد بناکر پیش کیا اور پی آئی اے ہائی جیکنگ کیس کو بھی میر مرتضی بھٹو کا منصوبہ بتایا-

دونوں بھائیوں نے کابل میں دو پشتون بہنوں سے شادی کی- اور شاہنواز بھٹو کے لیے وہ شادی ان کی جان لینے کا سبب بن گئی-

 جنرل ضیاء الحق کے ہرکاروں نے شاہنواز بھٹو کو ان کی بیوی ریحانہ کے ہاتھوں مروایا اور ایک بار پھر 50 صدی ھجری میں ہوئے ایک عظیم قتل کی یاد تازہ کردی، وہ قتل جس نے واقعہ کربلا کی بنیاد رکھ دی تھی-

کتنی عجیب بات ہے کہ 50 ھجری میں ہوئے قتل پر بھی جھوٹ اور تہمت کے تومار باندھے گئے اور شاہنواز بھٹو کے 1985ء میں زھر سے قتل کو بھی ضیاء الحق کا کنٹرولڈ پریس شراب اور منشیات کی زیادتی سے ہونے والی موت بتلاتا رہا- لیکن عوام نے اس پروپیگنڈے کو قبول نہ کیا اور لاڑکانہ کے اسپورٹس گراؤنڈ میں شاہنواز بھٹو کے جنازے میں سخت پہرے اور پابندیوں کے باوجود 25 ہزار لوگ شریک ہوئے-

میر مرتضی بھٹو بھی زیادہ دیر کابل میں نہ ٹک سکے اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے معتمد ساتھی شام کے صدر حافظ الاسد  کے سایہ عاطفت میں دمشق شہر میں جابسے –

مرتضی بھٹو جنرل ضیاء کی آمریت کو مسلح جدوجہد کے زریعے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے- بے نظیر بھٹو کے خیال میں تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے-

میر مرتضی بھٹو وہ شخص تھے جو ضیاء کے مرجانے کے بعد اور ملک میں آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے باوجود فوری طور پر ملک نہ آسکے-

ان پر قائم مقدمات جن میں سے  طیارہ کیس میں ضیاء کی فوجی عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں ان کو سزائے موت سنا رکھی تھی کو اسحاق خان نے ختم کرنے سے انکار کیا- حالانکہ ان دنوں ہزاروں کارکنوں کو عام معافی کے تحت رہا کیا گیا تھا-

بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو چاہتی تھیں کہ میر مرتضی بھٹو کو پہلے مقدمات سے نجات دلائیں اور پھر ان کو ملک میں لائیں- ضیاء الحق کی باقیات ایک طرف تو بے نظیر بھٹو کو یہ باور کراتی رہی کہ وہ میر مرتضی بھٹو کو ملک آنے کے بعد زندہ نہیں چھوڑے گی تو دوسری طرف اپنے زرخرید میڈیا سے یہ پروپیگنڈا کرایا جاتا رہا کہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نہیں چاہتے کہ میر مرتضی ملک واپس آئیں- اسٹبلشمنٹ نے ممتاز علی بھٹو سمیت کئی لوگوں کو میر مرتضی بھٹو کے پاس بھیجا اور ااس حوالے سے ایتھنیز میں 1990ء میں ممتاز بھٹو کی میر مرتضی سے ملاقات ہوئی جو تین سال بعد کہیں جاکر نیویارک ٹائمز میں شایع ہونے والے ایک متنازعہ مضمون  کے زریعے سے پتا چلیں-

میر مرتضی بھٹو بے نظیر بھٹو اور پارٹی کے دیگر کئی ساتھیوں کی نصحیت کو نظر انداز کرکے جب پاکستان چلے آئے تو یہاں بھی ان کو بے نظیر بھٹواور خاص طور پر آصف علی زرداری کے بارے میں مسلسل فیڈ کیا جاتا رہا- اس زمانے کا کیا اردو اور کیا انگریزی پاکستانی پریس آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کے لیے ایک ولن کے روپ میں پیش کررہا تھا- کہانیاں گھڑنے میں نجم سیٹھی، کامران خان اور شاہین صہبائی جیسے صحافی بھی سب سے آگے تھے-

ان تمام تر سازشوں کے باوجود مرتضی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے درمیان اختلافات کے ختم ہونے اور خاندان کے یک جا ہونے کی خبریں ستمبر 1996ء کے پہلے ہفتے میں ہی آنا شروع ہوگئیں- 18 ستمبر 1996ء کو میر مرتضی بھٹو کی سالگرہ تھی جس کی تقریب میں میں بے نظیر بھٹو کے پریس سیکرٹری بشیر ریاض بھی شریک تھے- اس دن بے نظیر بھٹو نے اسلام آباد سے ان کو فون کیا اور ستمبر میں ہی سارا خاندان کراچی میں 70 کلفٹن پر اکٹھا ہونے کا پروگرام بنائے ہوئے تھا-

یہ خبریں ضیاء الحقی باقیات کے لیے انتہائی تشویش ناک تھیں- ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دینے والی تھیں- حامد میر نے بھی اس حوالے سے ایک بڑا انکشاف کیا ہوا ہے- بہرحال 20 ستمبر کا واقعہ ایک منصوبہ بند واقعہ تھا جس میں میر مرتضی بھٹو شہید ہوئے-

پچیس ستمبر 2016  کو بے نظیر بھٹو نے لیاقت باغ میں میر مرتضی بھٹو کی شہادت کے حوالے سے ایک جلسے خطاب کیا- لیاقت باغ  پورا بھرا ہوا تھا- بے نظیر بھٹو جیسے ہی سٹیج پر تقریر کرنے کے لیے آئیں تو مجمع نعرے لگا رہا تھا

سن لو بے نظیر ۔۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں

محترمہ بے نظیر بھٹو نے تقریر کرتے ہوئے کہا

“گواہ رہنا ،اس ملک کو میرے والد اور اس کے بھائیوں کے خون سے سینچا ہے- گواہ رہنا، پاکستان کو بے نظیر بھٹو اور اس پارٹی کے کارکنوں کے خون کی ضرورت پڑی تو دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا –”

اور پھر بے نظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کرکے دکھایا-

بلاول بھٹو نے 18 ستمبر 2019ء کو پاکستانی پریس کو جاری کیے گئے بیان میں بالکل ٹھیک کہا ہے

Murtaza Bhutto was killed under a “Kill A Bhutto to Get A Bhutto” plot to dislodge people’s government led by his sister Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and initiate fabricated cases against former President Asif Ali Zardari.

“مرتضی بھٹو کا قتل ‘ ایک بھٹو کو مار کر اس کے الزام میں دوسرے بھٹو کو گرانے’ کا منصوبہ تھا اور اس قتل کے زریعے ان کی بہن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرائی گئی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات کا آغاز کیا گیا-“

میر مرتضی کی قبر پر تین آنسو بہاتی عورتوں کی تصویر میر مرتضی کے قتل کے فوری بعد قریب قریب ہر اخبار میں چھپی تھی- یہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر ہے اور بھٹو خاندان کی پرآشوب کہانی بیان کرتی ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here