وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ‘کونسل آن فارن ریلیشنز’ نامی امریکن تھنک ٹینک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا

‘یہ گاندھی اور نہرو کا ہندوستان نہیں ہے جو میں جانتا تھا- یہ تو وہ ہندوستان ہے جس پر ہندوتوا کی بالادستی کا جنون سوار ہے اور مجھے پاکستان سے کہیں زیادہ فکرمندی ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں ہے’

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ان کہے جملوں کی اگر ڈی کنسٹرکشن کی جائے تو مطلب یہ نکلے گا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان ہندوستان کے سیکولر چہرے کو ہمیشہ سے تحسین و تعریف کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں- اور یہ سیکولر چہرہ وہ’تھا’ جسے وہ گاندھی اور نہرو کی آئیڈیالوجی کی روشنی میں دیکھتے رہے- اب جب بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کے فلسفے کی روشنی میں ہندوستان کو ایک ہندؤ راشٹر /ہندؤ ریاست بنانا چاہتی ہے تو ان کو ہندوستان کے مستقبل کی فکر ہونے لگی- اور بقول ان کے ان کو پاکستان کے بارے میں کم تشویش ہے-

ہمارے محترم وزیراعظم کے ان جملوں سے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں

کیا پاکستان بنانے والوں کے نزدیک بھی گاندھی اور نہرو کا تصور ہندوستان قابل تحسین تھا؟ کیا ان کے نزدیک گاندھی و نہرو کا تصور ہندوستان ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت دینے والا تصور تھا؟

کیا پاکستان بنانے والے پاکستان کو ایک ایسا راشٹر/ریاست بنانا چاہتے تھے جو مذہبی شناخت کو قومیت اور وطنیت کی بنیادی اور مرکزی شناخت نہ بناتا/ بناتی ہو؟

اور کیا پاکستان کے اندر دستور سازی اور قانون سازی نے مذہبی بنیاد پر اپنے شہریوں سے امتیاز بننے کا راستا اختیار نہیں کیا تھا؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان کو ہندوستان کی حکمران جماعت کے ہندوتوا کو ہندوستان کے ماتھے پر چپکانے سے جو تشویش لاحق ہے،وہ تشویش پاکستان کے بارے میں کیوں نہیں ہے؟

ہمیں سب کو معلوم ہے کہ گاندھی ہوں کہ نہرو وہ ہندوستان کو سیکولر ریاست بنانے کے داعی تھے- ان کا ہر بھاشن ہندوستان کے سیکولر کمپوزٹ کلچر کی حمایت میں ہوا کرتا تھا- گاندھی سے کہیں زیادہ نہرو ہندوستان کو سیکولر سوشلسٹ ریاست بنانے کے علمبردار تھے- دونوں قوم کی بنیاد ہندوستانیت کو قرار دیتے تھے اور وہ ہندؤ قوم، مسلمان قوم، سکھ قوم جیسے تصورات کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے-

ان کے مدمقابل محمد علی جناح تھے- جناح کا پاکستان کی تشکیل بارے بنیادی مقدمہ کچھ یوں تھا

آل انڈیا نیشنل کانگریس ہندوستان کے سب باشندوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے- یہ ہندؤں کی نمائندہ جماعت ہے- یہ مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی ہے- ون مین،ون ووٹ پر مبنی جمہوری پارلیمانی نظام مسلمانوں کے نہ تو حقوق کا ضامن ہے اور نہ ہی یہ نظام مسلمانوں کو حقیقی آزادی دلاسکتا ہے- ہندوستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ہندؤ اور دوسری مسلمان- ہندوستان کو اگر متحد رکھنا ہے تو اس کے لیے ایک ایسے آئین کی ضرورت ہے جو صوبوں کو مکمل طور پر خودمختاری دیتا ہو اور وفاق کے پاس سوائے تین سے چار چیزوں کے اور کچھ اختیار نہ رکھتا ہو- وفاق مسلمانوں کے بارے میں کوئی قانون سازی مسلمانوں سے پوچھےبغیر اور ان کی رضامندی حاصل کیے بغیر نہ بناسکتا ہو- اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر مسلمانوں کو اکثریتی مسلمان آبادی کے علاقوں پر مشتمل وطن بناکر دیا جائے- ہندؤ اور مسلمان الگ قوم ہیں اور ان کے الگ الگ کلچر ہیں اور دونوں میں کوئی شئے مشترک نہیں ہے- ہندوستان میں مسلمانوں کے الگ وطن ہونے کی شروعات اسی وقت ہوگئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا یا جب پہلا ہندؤ مسلمان ہوگیا- ہندؤ اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں ہوسکتے-

اوپر ذکر کردہ جناح کے مقدمہ پاکستان کا خلاصہ کیا پاکستان کو اسی راستے کی طرف گامزن کرنے والا راستا نہیں ہے جس راستے پر آج نریندر مودی ہندوستان کو لے جانا چاہتا ہے؟

پاکستان مسلم راشٹر کے طور پر حاصل کیا گیا اور جناح نے مسلم راشٹر کی تھوڑی سی سیکولر پچی کاری کرنے کی کوشش اگست 1948ء میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران کی تھی اسے ریڈیو پاکستان میں نشر کرنے سے روکا گیا

جب جناح پاکستان کو ایک ایسے مسلم راشٹر کے طور پر پیش کررہے تھے جس میں ہر کسی کو اس کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی اور وقت گرنے کے ساتھ ساتھ نہ ہندؤ ہندؤ رہے گا، نہ مسلمان مسلمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہبی معنوں میں نہیں بلکہ سیاسی معنوں میں اور یہ کہا جارہا تھا کہ ہندؤ کو مندر میں،مسلمان کو مسجد میں اور مسیحی کو گرجا گھر میں جانے کی پوری آزادی ہوگی تو اس وقت ستمبر 1947ء میں یعنی پاکستان بننے کے ایک مہینے بعد ہی جنم اشٹمی کا تہوار آگیا- ڈھاکہ میں جنم اشٹمی کے جلوسوں پر حملہ ہوا- جبکہ راٹھ میلہ جو کہ ڈھاکہ کے نواحی گاؤں ڈھمری میں صدیوں سے منعقد ہورہا تھا پر بھی پابندی لگادی گئی- ڈھاکہ جو ہزاروں ہندؤں کا مسکن تھا وہاں پر جنم اشٹمی کے جلوس ماضی کا قصہ بن گئے-

جناح کی موت کے بعد لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد کو لاکر ایک خالص مسلم راشٹر کو سب سے بڑا نصب العین/ آدرش قرار دے ڈالا تھا- اگرچہ اس وقت احمدی اس مسلم راشٹر کے اندر رہنے والے مسلمانوں میں شامل تھے۔

جس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پیش کی گئی تو اسی سال ڈھاکہ شہر کی دیواروں پر درگا پوچا کے خلاف پوسٹر آویزاں ہوئے اور درگا پوجا بھی ڈھاکہ شہر کے اندر سکڑ کر کونے کھدروں میں ہی محدود ہوکر رہ گئی- اور درگا پوجا کے تہوار کے آخری دن ‘وجے ڈشمی ڈے’ جو سارے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بھائی چارے کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا، اس دن ڈھاکہ میں کم از کم 750 ہندؤ خاندانوں کے گھروں پر بلوائی حملہ ہوا اور یہ گھر جلاکر راکھ کر دیے گئے جبکہ باریسال کے علاقے پٹوکھلی میں سرسوتی پوجا کے جلوسوں پر حملے ہوئے-

مارچ کی 12 تاریخ، سن تھا 1949ء جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد پاکستان منظور کی جس کے بعد جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی نے پاکستان کو ایک مسلم ریاست تسلیم کرتے ہوئے اپنی جماعت کے لوگوں کو ریاست کے ملازم ہونے کی اجازت دے ڈالی تھی اور اس قرارداد کو پاس کروانے میں سارا زور لگانے والے وزیراعظم لیاقت علی خان اور اس کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر تقریر کرنے والے احمدی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے دستور ساز اسمبلی کے ہندؤ،سکھ اور دلت ہندؤں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اس قرارداد کی منظور سے ان کی مذہبی آزادی اور بطور پاکستانی شہری ہونے کے حقوق میں کوئی فرق نہیں آئے گا-

لیکن 20 دسمبر1949ء میں کھلنا ضلع کے علاقے بجیرہٹ کے گاؤں کالشیرا میں پولیس اور کمیونسٹوں کے درمیان ہوئے ایک تصادم میں ایک پولیس والے کی ہلاکت کے بعد پولیس اور ملٹری نے جو بدلے میں آپریشن کیا، اس آپریشن میں (کھلنا جو ہندؤ دلت اکثریت کا علاقہ تھا) دلت ہندؤں کے گھروں کو آگ لگادی گئی- لوٹ لیا گیا- دلت عورتوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے اور ہزاروں گرفتار ہوگئے- اور یہ سلسلہ 1950ء میں مشرقی بنگال میں ہندؤ اکثریت کے اضلاع چٹاگانگ (ہندؤ دلت کے ووٹوں سے یہ شہر پاکستان کا حصّہ بنا تھا) کھلنا، مھیمن سنگھ اور سلہٹ میں ہندؤں پر ریاستی سیکورٹی اداروں اور مسلمان بلوائیوں کے حملوں میں تبدیل ہوگیا- ڈھاکہ میں ہندؤ-مسلم فسادات پھوٹ پڑے جن میں سب سے زیادہ نقصان ہندؤں کا ہی ہوا اور اس دوران بڑے پیمانے پر ہندؤ آبادی بھاگ کر مغربی بنگال چلی گئی-

قرارداد مقاصد کے منظور ہونے کے ایک سال بعد ہی یعنی 1950ء کے آخر تک مشرقی بنگال کے جو ممتاز ہندؤ بااثر سیاست دان تھے جن میں جوگندرناتھ منڈل، ستندر ناتھ سین (باریسال ڈسٹرکٹ مشرقی بنگال)، دھریندر ناتھ دتہ، کامنی کمار دتہ( کامیلا ڈسٹرکٹ ایسٹ بنگال)، بسنت داس ڈسٹرکٹ سلہٹ ایسٹ بنگال) اور پرابھاس چندر لہری(راجشاہی ڈسٹرکٹ) کو نہ صرف خاموش ہونا پڑا بلکہ وہ مشرقی بنگال سے چلے جانے پر مجبور کردیے گئے-(جوگندر ناتھ منڈل کا استعفا پر مشتمل خط جو لیاقت علی خان کو بھیجا گیا پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے)

جناح کے مسلم راشٹر کی سیکولر پچی کاری پر مبنی 1948ء کی تقریر کے محض پانچ سال بعد اور قرارداد مقاصد کی منظوری کے محض چار سال بعد فروری 1953ء میں احمدی برادری کے خلاف لاہور سے مجلس احرار پاکستان کی جانب سے مظاہروں کا آغاز ہوا جو بعد ازاں قریب قریب سبھی فرقوں کی مذہبی قیادت کی شمولیت کے ساتھ احمدی مخالف تحریک میں بدل گئی اور پھر یہ تحریک پرتشدد ہنگاموں میں بدل گئی جس کے دوران احمدی برادری کے گھروں،دکانوں، کارخانوں کو لوٹ لیا گیا اور آگ لگادی گئی اور اس دوران 200 سے 1000 درمیان لوگ صرف لاہور میں مارے گئے اور ان پرتشدد ہنگاموں کو روکنے کے لیے لاہور میں 6 مارچ 1953ء کو مارشل لاء لگادیا گیا-

اور قرارداد مقاصد کو پاس ہوئے ابھی چھٹا سال جاری تھا یعنی 1956ء میں جب پنجاب کے اندر سے شیعہ مسلمانوں کے محرم میں جلوسوں اور عوامی مقامات پر مجالس عزاداری پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا- اس حوالے سے کافی سردی گرمی شیعہ اور سنی دونوں طرف سے دیکھنے کو ملی-
گویا پاکستان بننے کے آٹھ سالوں کے درمیان ایک طرف تو بڑے پیمانے پر مشرقی بنگال میں خاص طور پر ہندؤ آبادی کو نقل مکانی کرنے اور ان کے مذہبی شعار کو ختم کرنے کا عمل انتہا کو پہنچا تو دوسری طرف احمدی کمیونٹی کے خلاف تشدد شروع ہوگیا تو تیسری طرف شیعہ کی اپنے شعائر مذہبی کی عوامی مقامات پر ادائیگی پر پابندی کا مطالبہ سامنے آگیا-

جون کے مہینے میں سن 1963ء کو خیرپور کے گوٹھ ٹھیری میں عاشورا محرم کے جلوس پر حملہ ہوا اور ایک سو کے قریب شیعہ اس میں مارے گئے- 1964ء میں لاہور میں میں شیعہ جلوس پر حملہ ہوا- اس کے بعد شیعہ محرم کے جلوسوں کے نئے لائسنس کے اجرا اور امام بارگاہوں کی تعمیر کی اجازت کا طریفہ کار سخت کردیا گیا اور جلوس کے روٹ بھی محدود کیے گئے-

اور پھر 1974ء میں مئی سے اکتوبر کے مہینے میں بڑے پیمانے پر اینٹی احمدی فسادات شروع ہوئے- بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، آتش زنی املاک کے واقعات پیش آئے اور اس سخت دباؤ کی فضا میں دوسری ترمیم 73ء کے آئین میں لائی گئی جس نے احمدیوں کو غیرمسلم برادری قرار دے ڈالا-

ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم راشٹر کے قیام کا سفر پہلے ہندؤں سے خود کو الگ کرنے سے شروع ہوا اور یہ دوسرے مرحلے میں یہ احمدیوں کو مرکزی دھارے سے نکال باہر کرنے سے شروع ہوا اور تیسرے مرحلے میں یہ شیعہ برادری کو مرکزی دھارے س نکال باہر کرنے کی کوشش میں داخل ہوگیا ہے- بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مسلم راشٹر کا نصب العین خود سنّی اسلام کے اکثریتی صوفی رنگ کو بھی نکال باہر کرنے کی کوشش بنتا جارہا ہے- اگر جنم اشٹمی کے جلوس نشانہ بنے تو محفوظ پھر محرم ،میلاد کے جلوس بھی نہ رہے- اگر راٹھ کا میلا بند ہوا تو صوفی درویشوں کے نام پر لگنے والے عرس میلے بھی بڑی تعداد میں بند ہوئے ہیں- اب تو محرم میں پانی ودودھ و شربت کی سبیل اور غازی عباس کا علم لہرانے پر بھی اعتراض آتا ہے اور ویلنٹائن ڈے، سال نو کی تقریبات پر بھی حملے ہوتے ہیں-

پاکستان میں مندر،کلیسا،مسجد، امام بارگاہ،مزار،احمدی عبادت گاہیں کچھ بھی محفوظ نہ رہا اور سب پر حملے ہوئے- اور مسلم راشٹر کا پیورٹن ازم سنّی مسلمانوں میں اعتدال پسند خیال کیے جانے والے بریلویوں کے اندر سے تحریک لبیک جیسے جنونی ابھار لیکر آگیا ہے جو کمپوزٹ کلچر کی ہر نشانی مٹانا چاہتے ہیں-

ایسے میں اگر پاکستانی وزیراعظم یہ کہیں کہ ان کو پاکستان سے کہیں زیادہ ہندوستان کے اندر ہندوتوا کے ابھار پر تشویش ہے تو اس بیان کو مسلم راشٹر کا کوئی پیورٹن پیروکار تو مان سکتا ہے مگر پاکستان کے مسلم راشٹر کی زمین پرتجسیم کے تاریخی ارتقا سے واقف کوئی شخص اسے بھوںڈے مذاق سے ہی تعبیر کرے گا-

حوالہ جات

http://www.asiantribune.com/index.php?q=node/6606
Rieck, ‚The Struggle for Equal Rights As a Minority
http://www.sciencespo.fr/mass-violence-war-massacre-resistance/en/document/thematic-chronology-mass-violence-pakistan-1947-2007
https://ctc.usma.edu/app/uploads/2011/05/CTC-OP-Abbas-21-September.pdf
https://youtu.be/1YSfE5kJwDk
https://www.academia.edu/37296899/%D8%AC%D9%88%DA%AF%D9%86%D8%AF%D8%B1_%D9%86%D8%A7%D8%AA%DA%BE_%D9%85%D9%86%DA%88%D9%84_%DA%A9%D8%A7_%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%D8%A7_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%AF%D9%84%D8%AA_%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%A4.pdf
http://www.sujagbeta.com/nuktanazar/jogendra-nath-mandal-law-minster-resignation

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here