سولہ ستمبر 2019ء کو آصفہ ڈینٹل کالج کی فائنل ائر کی طالبہ نمرتا کماری کی لاش ہاسٹل کے کمرے میں پائی گئی- ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں نمرتا کماری کے موت کا سبب گلا دب جانا بتائی گئی اور اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گلے کا دب جانا ڈوپٹے کے سبب ہے یا رسی کے سبب- فائنل رپورٹ لیبارٹری سے آنا باقی ہے-
حکومت سندھ نے اس واقعے کے فوری بعد سیشن جج لاڑکانہ کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کمیشن مقرر کیا ہے- اس کمیشن کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے-

لاڑکانہ پولیس نے نمرتا کماری کے گہرے دوست مہران ابڑو کو اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے- دونوں کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے لاک آج کھول لیے گئے ہیں جس کے حوالے سے پولیس نے ابھی تفصیل بتانا ہے-

ایسٹرن ٹائمز نے نمرتا کماری کے قتل کے حوالے سے حیدرآباد پریس کلب کے سابق صدر،ایڈیٹر روزنامہ سندھ حیدرآباد مھیش کمار سے جب رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا

” میرے لیے سردست یقین سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ قتل ہے یا خودکشی ہے –کیونکہ اس وقت تک نہ تو پولیس نے نمرتا کیس میں اپنی تحقیقات سے کسی کو باقاعدہ طور پر کچھ نہیں بتایا اور فائنل میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک مرتب نہیں ہوئی اور نہ ہی ابھی تک جوڈیشل انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے-‘

ایک سوال کے جواب میں کمار کا کہنا تھا

نمرتا کماری اور مہران ابڑو پانچ سال سے ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے- اور ان کے درمیان تعلق دوستی سے بھی کہیں بڑھ کر بتایا جاتا ہے- دونوں کے گھر والے ان کے ایک دوسرے سے تعلق سے واقف تھے- اور ایسے گہرے تعلقات میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمہ قسم کا لین دین خارج از امکان نہیں ہوا کرتا- اے ٹی ایم ایک دوسرے کا استعمال ہوسکتا ہے- اور مہران ابڑو کا تعلق بھی اپر مڈل کلاس خاندان سے ہے- یہ تاثر غلط ہے کہ وہ غریب گھرانے کا لڑکا ہے- اس کے والد ایک بینک سے اے وی پی ریٹائر ہوئے،والدہ ایک اسکول کی ہیڈمسٹریس ہیں جن کی پگار کافی اچھی ہے- اور میں نہیں سمجھتا کہ بنا کسی ثبوت کے نمرتا کماری کی موت کو قتل کہا جائے اور اس کا الزام مہران ابڑو پر لگادیا جائے- اگر مہران پر نمرتا کے گھر والوں کو شک ہوتا تو وہ پہلے ہی اسے نامزد کردیتے-

مھیش کمار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا

ایسے شواہد موجود ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ نمرتا کماری اور مہران ابڑو کی شادی کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا تھا جب مہران ابڑو نے مبینہ طور پر لڑکی کے سامنے شرط رکھی کہ وہ شادی کرنے کے لیے مسلمان ہوجائے جس پر مبینہ طور پر نمرتا کے گھر والے تیار نہ تھے لیکن ان کو دونوں کی شادی پر اعتراض نہیں تھا بشرطیکہ نمرتا تبدیلی مذہب سے نہ گزرے- لیکن نمرتا اور مھران ابڑو کے گھر والے اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں-

ایڈیٹر روزنامہ ایکسپریس سندھ فاروق سومرو کا کہنا ہے کہ

بادی النظر میں یہ معاملہ خودکشی کا لگتا ہے- لیکن حتمی بات تو جوڈیشل انکوائری اور پولیس انوسٹی گیشن کے سامنے آنے سے پتا چلے گی-

سندھ یونیورسٹی کی پروفیسر امر سندھو نے ایسٹرن ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا

نمرتا کا بھائی پہلے اسے قتل کہہ رہا تھا اور نمرتا کی والدہ اور دادی نے بھی قتل کا شبہ ظاہر کیا لیکن بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ نمرتا کے گھر والے کچھ بھی کہنے سے انکاری ہوئے- نمرتا کے خاندان کی کچھ عورتوں نے مجھے بتایا کہ ان کو اس پر کچھ بھی کہنے سے روک دیا گیا ہے- وہ روکنے والے کون ہیں؟

پروفیسر امر سندھو کا کہنا تھا،

یونیورسٹی انتظامیہ نے کرائم سین کو خراب کیا اور وی سی نے تحقیقات سے پہلے ہی اسے خودکشی قرار دیکر اور نمرتا کماری کے گھر جاکر نمرتا اور مہران ابڑو کے تعلقات بارے جو باتیں کیں اس نے معاملات پر افواہوں کو طاقت بخشی اور بعد ازاں نمرتا کماری کے کردار بارے غلط سلط خبریں لیک کیں اور مہران ابڑو کو چھپاکر رکھا گیا- اس سارے معاملے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے باقاعدہ پی پی پی کو زبردستی اس کیس میں قصوروار ٹھہرایا جارہا ہو-

پروفیسر امر سندھو نے ایک سوال کے جواب میں کہا

لاڑکانہ کا اے ایس پی اور پولیس افسر عرفان دونوں سندھ حکومت کی بجائے کہیں اور جواب دے ہیں اور ان پر دباؤ ‘کہیں’ اور سے آسکتا ہے،سندھ حکومت کا ان پر کوئی زور نہیں ہے- ہوسکتا ہے پولیس انوسٹی گیشن میں طوالت ‘کہیں’ اور سے اور کسی اور کے حکم پر کی جارہی ہو-

پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے چند ایک رہنماؤں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایسٹرن ٹائمز کو بتایا پاکستان پیپلزپارٹی کو بڑی شدت سے لاڑکانہ پولیس کی تحقیقات اور جوڈیشل انکوائری رپورٹ کا انتظار ہے- یہ دونوں چیزیں نمرتا کماری مرگ کیس میں پی پی پی کے خلاف مبینہ پروپیگنڈے کو آشکار کردے گی-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here