خطے میں سیاسی اور سیکورٹی صورت حال گرم ہورہی ہے، اور عراق کو وہ اس خطے میں گرمئی حالات کے لیے بطور ایندھن کے استعمال کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے- خطے میں عراق کو دو طرح کے کیمپ تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں- ایک کیمپ عراق کو واپس نام نہاد ‘عرب کیمپ’ میں لانا چاہتا ہے تو دوسرا اسے ‘ شیعہ پولیٹکل اسلام’ کے ساتھ جوڑے رکھنا بلکہ اسے شیعہ پولیٹکل اسلام کے آکسجین ٹینٹ میں رکھنا چاہتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ عراق کی موجودہ حکمران اشرافیہ اسے جس بھی کیمپ میں لیجائے گی، اس کی قیمت وصول کرے گی- ہم آج دنیا کو مختلف کیمپوں میں بٹا ہوا دیکھ رہے ہیں- یہ ملٹی پولر دنیا ہے- جہاں پر پچھلی نشستوں پر بھی کوئی آزاد جگہ نہیں ہے- قاہرہ میں جو مصر کے السیسی، اردن کے عبداللہ اور عراق کے عادل المھدی کا اکٹھ ہوا تو اس کے آخر میڑ سعودی عرب نے عراق کو ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کردیا- یہ ایک ارب ڈالر کی رشوت عراقی کی کوٹہ پہ مبنی حکومت کے اتحادی جماعتوں کے درمیان جو رسا کشی کو ختم کرنے میں مدد دے گی-
سعودی عرب کو اپنے فرقہ وارانہ تھیسس کی ناکام کے بعد اور اس کے فوجی پروجیکٹس جیسے القاعدہ، داعش اور اس کی دیگر ذیلی تنظیمیں تھیں کی ناکامی کے بعد سمجھ آگئی ہے کہ عراق میں داخلے کی کنجی حکومتی کرداروں کی اس رال کو ٹپکانے کا انتظام کرنا ہے جو وہاں ٹپکتی ہے جہاں ان کو پیسے کی خوشبو آنے لگتی ہے-
امریکی فوجی مشین نے عراق کی تعمیر محنت کشوں کی کھوپڑیوں پر کی ہے اور ان کے بڑے نقصان پر کی- امریکی حملے اور قبضے کے ساتھ ہی جو آج عوام کے نمائندہ ہونے کے دعوے دار ہیں وہ ان دنوں اس کی یاد منایا کرتے تھے، وہ آج اس بات کو گزرے دنوں کی یاد سمجھ کر اپنی وفاداریاں بدل رہے ہیں اور یہ بدلاؤ ان کے مفادات کے تابع ہے اور ان کے مفادات ایسا کمپاس ہیں جو ان کو ادھر ہی موڑ دیتے ہیں جہاں پر پیسہ ہوتا ہے۔

تاہم اسلامی جمہوریہ ایران اپنے معاشی اعتبار سے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ اس کے پاس وفاداریاں خریدنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ نہیں ہے۔ امریکہ آئے دن اس کا محاصرہ تنگ سے تنگ کرتا جارہا ہے۔ لیکن اس کے پاس اسلحہ ہے اور فوجی ملیشیا ہیں جو کہ اس نے بنائی اور انکی تربیت کی ہے اور اس پر ایک بڑا خرچ اس نے جنگ کے زمانے اور بعد میں بندرگاہوں اور شاہراہوں پر راہداریوں اور تیل کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کیا ہے اور اسی لوٹی ہوئی دولت سے اس نے عراق کے اندر کمپنیوں، اداروں اور بینکوں کی تشکیل میں انوسٹ کیا ہے اور ان ملیشیاؤں کی سیلف فنانسنگ کا ایک نظام وضع کرلیا ہے- اور یہی وہ سرمایہ ہے جس کے بل بوتے پر عراقی وزیراعظم نے دورہ ایران کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ہم آواز ہوکر عراق سے مریخ پر خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا- لیکن خامنہ ای جو عراقی وزیر اعظم کے منہ سے جو بیان سننا چاہتا تھا وہ بیان تو اس نے دیا نہیں- وہ چاہتا تھا کہ عراقی وزیراعظم امریکیوں کو وہاں سے نکلنے کو کہہ دے

عراق کے اپنے اندر صورت حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں امریکی افواج کو نکالنے کا جوش و خروش اس وقت سے ٹھنڈا پڑا ہوا ہے جب سے امریکہ نے عراق سے ساری تیل کی امریکی کمپنیوں کو باہر نکالنے اور معاشی ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔یہاں پر ان لوگوں کی وفاداریاں تبدیل ہوئیں جیسا کہ ہم نے پہلے زکر کیا جیسے انہوں نے اپنے اصولوں میں تبدیلیاں کی تھیں0 کوئی بھی اصول گزرے کل کے حالات میں کام کرسکتا تھا تھا لیکن آج کے حالات میں وہ کام نہیں کررہا ہے۔
اس کے متوازی، امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے ڈالا ہے- اس کا مطلب ہے کہ عراق سمیت خطے میں پاسداران انقلاب کو محدود کیا جائے۔

ہمارا مطلب ہے کہ داعش کے خلاف جنگ کے نام پر جو ملیشیائیں بنیں جن میں سے ایک حشد الشعبی بھی ہے کو محدود کرنا امریکہ کا مقصد ہے۔ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ وہ ان ملیشیاؤں کے درمیان اور خود حشد الشعبی کے اپنے اندر جو مختلف یونٹس ہیں ان کے درمیان موجود تقسیم اور تنازعے کو گہرا کریں اور اس سے یہ تضادم سیاسی اسلام کی آئیڈیالوجی رکھنے والی ان جماعتوں اور قوتوں کے اندر تک جائے گا جنھوں نے ان کی تشکیل کی تھی- اور لامحالہ یہ تصادم سرکاری حکومتی اداروں کے اندر بھی سرایت کرے گا-

عراق ایک ایسا ملک ہے جہاں پر ریاست سیاسی و قانونی فہم کے اعتبار سے ابھی تک مستحکم ہی نہیں ہوسکی، وہاں پر عراق کو علاقائی اور بین الاقوامی قطبین/کیمپوں سے محفوظ رکھنا جیسے پہلے مالکی و عابدی اور اب عادل عبد المھدی کررہے ہیں ایک خام خیالی کے کچھ بھی نہیں ہے اور ایسی باتیں نشہ دے کر عارضی طور پر لوگوں کے ذہن کو پرسکون کرنے جیسی ہیں یا یہ پروپیگنڈا اور میڈیا اسکینڈل کے ضمن میں کی جانے والی ان باتوں کا حصّہ ہے جو کوٹہ سیاست دان اکثر کرتے رہتے ہیں-

عراق کے محنت کشوں اور عوام کا علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جو تصادم اور لڑائیاں ہیں ان میں کوئی مفاد نہیں ہے- ایران، خامنہ ای، امریکن ٹرمپ، عبدالمھدی العراقی اور سلمان السعودی جس امداد یا سرمایہ کی جو پیشکش کرتے ہیں وہ ہمیں تصادم کا حصّہ بننے پر ہی ملے گا-

امریکی قبضے کےدس سالوں میں اور پندرہ سال شیعیت پولیٹکل اسلام کے دوران ہمارا شئیر بارودی سرنگیں، دھماکہ خیز مواد اور بم دھماکے، اغواء، داخلی و خارجی ہجرتیں، باہمی جنگ میں مصروف گروہوں کی خاطر شناخت کی موت ہی رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔

عراق کے سیاسی ادب میں آج کل جن سیاسی نظریات کا چلن ہے وہ واہیات اور بے مقصد ہیں- چاہے وہ عراق کو عرب نیشنل ازم کی طرف پلٹانے کے نام پر ہوں یا شیعہ پولیٹکل اسلام کے نام پر ہوں- عراق میں ستر اور اسی کی دہائیوں میں صہیونیت و کالونیل ازم اور سامراجیت کے خلاف جو جدوجہد کے تحت جو سیاسی ادب تشکیل پایا تھا یہ نیا ادب اس کا متبادل بناکر بھی خود کو پیش کرتا ہے- عروبیت/عرب نیشنل ازم اور شیعہ پولٹیکل اسلام کے نام پر جتنے سیاسی نعرے اور نظریات ہیں یہ خالی خولی ڈھکوسلے اور ہمارے بازاروں میں آگ لگانے کے لیے ہیں- جب یہ جنگیں لڑکر زخمی ہوجاتے ہیں اور ایک گروہ دوسرے گروہ کو اسلحے کے زور پر دبا نہیں پاتا اور جنگوں کی گرد جب بیٹھ جاتی ہے تو یہ سارے ملکر ایک میز پر اکٹھے بیٹھ کر مال کی تقسیم کرنے لگتے ہیں- بالکل ویسے ہی جیسا لبنان میں ہوا-

جبکہ اس دوران ہم اپنے پیاروں کی لاشیں ڈھونڈنے کے لیے اجتماعی قبریں کھود رہے ہوتے ہیں اور لاکھوں بچے کوڑا کرکٹ میں اپنی روزی تلاش کررہے ہوتے ہیں تاکہ گھر چل سکے لیکن ان میں سے کئی ایک بچے انسانی اسمگلروں ، جنسی کے بیوپاریوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں یا اگر وہ تھوڑے سے خوش قسمت ہوں تو گھریلو کام کے غلام بن جاتے ہیں- یہ زندگی داعش پروجکیٹ مکمل ہوجانے کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں پڑے آئی ڈی پیز سے کم خوفناک نہیں ہے۔

خامنہ ای اور ٹرمپ کی لڑائی ہماری لڑائی نہیں ہے۔ ہمیں اپنا آپ ان سے ہٹ کر تعمیر کرنا ہے۔

سمیر عادل سیکرٹری جنرل ورکرز کمیونسٹ پارٹی آف عراق

 

سمیر عادل ورکرز کمیونسٹ پارٹی آف عراق کے جنرل سیکرٹری ہیں- یہ مضمون ان کی پارٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر عربی میں شائع ہوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here