گزشتہ چار دنوں نے دکھادیا کہ ایران- امریکہ کی جنگ سارے خطے کو شدید طریقے سے متاثر کررہی ہے۔ عراق میں اس خاموش جنگ کا اثر کھل کر سامنے آگیا ہے جہاں پر پھوٹ پڑنے والے مظاہروں میں ایک سو پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں- یہ مظاہرے عراق کے صدر مقام بغداد سے جنوبی شیعہ اکثریت کے شہروں عمارہ ، ناصریہ بصرہ، نجف اور کربلا تک پھیل گئے ہیں- ایسے ہی مظاہرے بیروت اور دوسرے شہروں میں بھی پھیل سکتے ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی معاشی حالت ایک جیسی ہے۔ مڈل ایسٹ میں نازک معاشی حالت ایک ایسا مظہر ہے جو شورشوں کے لیے اسے زرخیز میدان بناتا ہے اور یہ شورشیں آگے چل کر ایک بڑی ہیجان انگیزی میں بدل سکتی ہے۔

دوہزار تین سے امریکی قبضبے کے بعد سے عراق کا ایران اور امریکہ دونوں کے اتحادی ہونے کے اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایک خاص مقام ہے۔ وزیراعظم عادل عبدالمھدی جو اپنے آپ کو آئین کے آرٹیکل آٹھ سے لیس کرچکے ہیں عراق کو اپنے تمام اتحادیوں اور ہمسایوں کے درمیان توازن کے نکتے پر رکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ میسو پوٹیمیا کو امریکہ اور ایران یا سعودی عرب و ایران کے درمیان ایک تصادموں کے لیے ایک میدان بننے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں-

عراق کی حکومت کی ان کوششوں کے باوجود، مقامی معشیت کی خراب تر ہوتی ہوئی صورت حال نے عراق میں وہی صورت پیدا کردی ہے جو نام نہاد ‘بہار عرب’ سے متاثر ہونے والے مشرق وسطی کے ممالک کی تھی۔

نوکری کے مواقع کی کمی، شدید ترین بدعنوانی جسی حقیقی شکایات سے مہمیز پائی مقامی شورشوں کو ‘رجیم بدلنے’ کے مقاصد کے تحت جارحانہ بیرونی مداخلت مسخ کرکے رکھ دیا ہے- ایسی کوششیں 2011ء سے شام میں کی جاتی رہی ہیں۔ بغداد کو یقین ہے کہ غیر ملکی طاقتیں اور علاقائی ممالک مقامی آبادی کے جائز مطالبات کا فائدہ اٹھاکر خود اپنا ایجنڈا نافذ کرتی ہیں جس کے متاثرہ ملکوں کے حق میں تباہ کن نتائج نکلتے ہیں-

عراقی وزیراعظم کے دفتر سے تعلق رکھنے والے زرایع کہتے ہیں کہ حال ہی میں ہونے والے مظاہروں کی منصوبہ بندی دو ماہ پہلے ہی کرلی گئی تھی- بغداد ملک کی حالت کو سدھارنے کی کوشش کررہا تھا خاص طور پر مقامی آبادی کے مطالبات کو جو جائز ہیں- وزیراعظم کو ورثے میں ایک بدعنوان نظام ملا جو 2003ء میں بنایا گیا تھا- اربوں ڈالر بدعنوان سیاست دانوں کی جیبوں میں منتقل ہوگئے- اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ نے نہ صرف ملک کے سارے وسائل ہڑپ لیے بلکہ عراق کو افواج کی تشکیل نو اور دوسری بنیادی ضرورتوں کو پورآ کرنے کے لیے مزید اربوں ڈالر کا قرض لے۔

” حالیہ مظاہرے پرامن اور قانون کے دائرے میں رہیں گے یہ فرض کیا گیا تھا کیونکہ عوام کو اپنی بے چینی، خدشات اور فرسٹریشن کے اظہار کا حق ہے۔ تاہم واقعات حس طریقے سے ظہور پذیر ہوئے اس سے ان کا ایک اور ہی مقصد نظر آیا- سیکورٹی فورسز کے آٹھ لوگ مارے گئے اور 1241 زخمی ہوئے جبکہ 96 سویلین مارے گئے اور 5000 زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سی سرکاری اور سیاسی جماعتوں کی املاک کو آگ لگا کر بالکل تباہ و برباد کردیا گیا- اس طرح کے رویے نے آبادی کی اصل شکایات کا رخ تباہ کن راستے کی طرف کرڈالا- اس ملک میں انتشار پیدا کرکے کون اس انتشار سے عراق میں فائدہ اٹھائے گا؟”

عراق کے شہروں میں بے چینی اتفاق سے ایران کے القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل سلیمانی کے قتل کی کوشش سے ٹکراتی ہے۔ زرایع اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل کی سازش محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ عراق میں رونما واقعات سے اس کا تعلق بنتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے زرایع کا کہنا تھا

” سلیمانی عراق میں حکومت کے لیے اہم ترین مناصب کے لیے لوگوں کے چناؤ کے وقت میں موجود تھے- ان کا کافی اثر و رسوخ ہے اور امریکیوں کی طرح ان کے بندے بھی عراق میں کافی ہیں- اگر سلیمانی ہٹ جاتا تو جو موجودہ بے چینی کے پیچھے ہیں وہ سوچ سکتے تھے کہ اس سے عراق اور ایران میں کافی غلط فہمی پھیل جائے گی اور اس سے فوجی مارشل لاء آئے گا اور اس مارشل لاء کو غیر ملکی طاقتوں،سعودی عرب کی حمایت مل جاتی- سلیمانی کا قتل، غیر ملکی کرداروں کے دماغ کے مطابق ایک بڑے انتشار کی طرف ملک کو لیکر چلا جاتا اور اس سے عراق پر ایرانی اثر میں کمی لائی جاسکتی تھی۔”

عبدل مہدی کے حال میں کیے گئے فیصلوں نے ان کو امریکہ میں انتہائی غیرمقبول بناڈالا ہے ۔ انھوں نے عراقی سیکورٹی فورسز، حشد الشعبی کے پانچ گوداموں کی تباہی اور عراق-شام سرحد پر ایک فوجی کماندار کے قتل کی ذمہ داری اسرائیل پر ڈالی- انھوں نے عراق اور شام کے درمیان کراسنگ القطیم کو کھول دیا جس نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو سخت ناراض کیا ہے اور اس کے حکام نے عراقی حکومتی اہلکاروں کے سامنے اس ناراضگی کا اظہار کیا- اس نے روس سے ایس 400 اور دیگر فوجی ساز و سامان خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ عبدل مھدی نے چین کی جانب سے تیل کے بدلے عراق کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کی پیشکش کو قبول کرنے کہ عندیہ دیا ہے۔ انھوں نے کسی امریکن کمپنی کو 284 ملین ڈالر کی بجلی سپلائی کا ٹھیکہ دینے کی بجائے ایک جرمنی کی کمپنی کو دے دیا- عراقی وزیراعظم نے ایران سے کاروبار کرنے کی امریکی پابندی کو ٹھکرا دیا اور ابھی تک وہ ایران سے بجلی خرید کررہا ہے اور تجارتی مبادلے کی اجازت دیے ہوئے ہے جس سے ایران کے خزانے میں غیر ملکی کرنسی جمع ہورہی ہے اور اس سے ایرانی معشیت کو طاقت مل رہی ہے۔ عبدال مہدی نے امریکہ کی طرف سے ‘ صدی کی ڈیل’ کی پیشکش ٹھکرادی ہے۔ وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کررہے ہیں- ان اقدامات سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مڈل ایسٹ میں امریکی مقاصد اور پالیسیوں سے دور رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔

امریکی حکام نے کئی عراقی حکام سے عبدل مہدی کی پالیسی پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے- امریکن کا خیال ہے کہ عراق کو ایران کے خلاف کام کرنے سے محرومی ان کی ناکامی ہے۔ اور تہران کے لیے یہ کامیابی ہے۔ لیکن عراقی وزیر اعظم کا مقصد صرف یہی نہیں ہے بلکہ وہ امریکہ- ایران کے درمیان جنگ کو رکوانے کی کوشش کررہے ہیں- لیکن اس راستے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

عبدل مہدی نے جب اقتدار سنبھالا تو معشیت مکمل انتشار کے دھانے پر کھڑی تھی- اپنی حکومت کے پہلے سال سے ہی وہ گورننس کے ایشو سے نبرد آزما ہیں حالانکہ عراق تیل کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ عراق میں چار کروڑ لوگ سطح غربت پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں-

نجف میں شیعہ مراجع نے مداخلت کرکے حالت کو معمول پر لانے کی کوشش کرکے ہجوم کو قابو کرنے کی اہلیت کا اظہار کیا ہے۔ کربلا میں ان کے نمائندے سید احمد الصافی نے کرپشن کے خلاف لڑائی کرنے اور ملک کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے ایک آزاد کمیٹی کی تشکیل دینے پر زور دیا- الصافی کا کہنا تھا سنجیدہ کوششون کے زریعے اصلاحات کی شروعات بہت ضروری ہیں- اور پارلیمنٹ کو عام طور پر اور اس کے اندر سب سے بڑے اتحادی حکمران گروہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس لازم ہے۔

عراقی پارلیمان میں 53 نشتوں کے ساتھ سب سے بڑا گروپ سید مقتدی الصدر کا ہے۔ مقتدی الصدر نے پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا کہنے کی بجائے پارلیمنٹ کو ہی برخاست کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یہ موقف شیعہ مراجع آیت اللہ سیستانی کے موقف کے برعکس ہے۔ مقتدی مڈ ٹرم الیکشن کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ اگر یہ الیکشن ہوئے تو اسے 12 سے 15 نشستیں مل پائیں گی- الصدر نے ایران اور سعودی عرب کے دورے بنا کسی تزویراتی مقصد کے کیے اور اب وہ مظاہرین کی جائز مانگوں کے گھوڑے پر سواری کرکے ان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ مقتدی الصدر ہوں یا وہ سارے شیعہ، کرد اور سنّی گروہ جو اس وقت حکومت میں ہیں ان کو تو عوام کی جائز مانگوں کو پورا کرنے کی طرف قدم بڑھانا چاہیے ناکہ وہ کرپشن کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور حالات زندگی میں بہتری لانے کے پیچھے چھپ کر اپنی سیاست چمکانے لگ جائیں۔

وزیراعظم عبد المہدی کے بقول ان کے پاس جادوئی چھڑی نہیں ہے اور عوام بہت زیادہ دیر صبر نہیں کرسکتے- جائز مطالبات کے باوجود،عوام صرف گلیوں میں ہی نہیں تھے بلکہ بہت سارے سوشل میڈیا ہیش ٹیگ سعودی بھی تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ عبدل مہدی کے سعودی عرب کے دورے اور اس کے ریاض و تہران کے درمیان ثالثی نے سعودی کے حمایت یافتہ ‘رجیم بدلاؤ’ منصوبے سے ان کو محفوظ نہیں کیا- عراق کے پڑوسیوں نے وزیراعظم کو مضبوط اشارے دیے ہیں کہ عراق کے ایران سے تعلقات صحت مند ہیں اور ہمسایہ ملکوں میں سب سے زیادہ مستحکم ہیں- تہران نے اس کے خلاف کوئی سازش نہیں کی جبکہ یہ واحد ملک تھا جس کے جھنڈے بعض مظاہرین نے جلائے اور شورش کے دوران بغداد کی گلیوں میں ان کو پیروں تلے روندا گیا-

عراق کے نازک معاشی حالات مڈل ایسٹ کو کسی بھی بے چینی کے لیے آسان ہدف بنارہے ہیں۔ زیادہ تر ممالک امریکہ کی ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں اور امریکی ہتھیاروں پر ہونے والے بے پناہ خرچ سے اکثر ممالک بدترین متاثر ہورہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ عرب لیڈروں کی جیبوں کو خالی کرانے اورخلیج فارس کے ممالک کو معاشی طور پر خالی کرنے کا الزام مرکزی طور پر ایران کو دے رہا ہے۔ یمن پر سعودی جنگ مڈل ایسٹ میں ایک دوسرا عدم استحکام کا دوسرا عامل اور اس خطے میں تناؤ اور محاذ آرائی کو بڑھاوا دینے کی وجہ بنا ہوا ہے۔

عراق کا عدم توازن کی طرف  بڑھتے چلے جانا امریکہ و ایران کی ہمہ جہتی جنگ کا ایک پہلو ہے؛ امریکہ گلف اور عرب ممالک سے اپنے منصوبوں کے پیچھے کھڑے ہونے کا مطالبہ کررہا ہے۔ عراق امریکہ کے سارے مطالبات نہں مان رہا- عراقی پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں آبادی کی اکثریت کی نمائندہ ہیں؛ رجیم بدلنے کا مطالبہ صرف عراق تک نہیں رکے گا بلکہ یہ ہمسایہ ممالک میں بھی بلند ہوگا اور امریکہ ان ملکوں کے مقامی ایشوز کو لیکر ایسے ہی اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا- ابھی یہ بات صاف نہیں ہے کہ عبدل مھدی عراق میں استحکام لا پائیں گے کہ نہیں۔ جو بات صاف اور واضح ہے وہ ایران-امریکہ کی کشیدگی ہے جو مڈل ایسٹ میں کسی کو چھوڑ نہیں رہی۔

 

(مترجم: عامر حسینی)

“Elijah J. Magnier is a veteran war-zone correspondent and political analyst with over 35 years of experience covering the Middle East and North Africa (MENA). He specialises in real-time reporting of politics, strategic and military planning, terrorism and counter-terrorism; his strong analytical skills complement his reporting. His in-depth experience, extensive contacts and thorough political knowledge of complex political situations in Iran, Iraq, Lebanon, Libya, Sudan and Syria make his writings mandatory reading for those wishing to understand complicated affairs that are routinely misreported and propagandised in the Western press.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here