شریعت ،شیعہ اور چشتیائی احیائیت   پرستی : پنجاب کے سیالوی پیروں میں  فرقہ پرستی  کی بڑھوتری کا جائزہ

تحریر: پروفیسر طاہر کامران اور ڈاکٹر  عامر خان شاہد

ترجمہ: مرتضیٰ حسین

پیر سید مہر علی شاہ ،پیر خواجہ دین محمد سیالوی کے ساتھ سیال شریف سرگودھا میں ۔ایک تاریخی تصویر ۔۔ دونوں آستانوں کا رجحان بعد ازاں کافی تبدیل ہوگیا۔۔۔ ایک صلح کل کا مرکز دوسرا کٹر پنتھی روش پر چل پڑا

اجمال

خواجہ قمر الدین سیالوی کا خاندان کے ساتھ ایک گروپ فوٹو-1947

یہ مقالہ طریقت کے چشتیہ سلسلے کی  پنجابی شاخ   کے اندر اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی میں ہونے والی تشکیلِ نو کے نتیجے میں پیدا ہونے  والی تبدیلی  پر بحث کرتا ہے۔ اس تشکیلِ نو میں شریعت پر مبنی غیر سازی کا رجحان پیدا ہوا جس نے پنجاب کے  چشتی سنیوں اور شیعوں  کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔اس  چیز نے  تیرہویں صدی کے چشتی صوفیاء کی ایجاد کردہ  برداشت  اور باہمی ہم آہنگی  کی بنیادیں  ہلا دیں۔دوسری طرف سلطنتِ اودھ میں اصولی شیعیت کے ظہور نے  اس سلسلے کو اور ہوا دی، جس کے اثرات بیسویں صدی کے آغاز تک پنجاب  پر  پڑتے   رہے ہیں۔  اس شیعہ – سنی تنگ نظری  کا اظہار  ضلع سرگودھا کی خانقاہ سیال شریف میں ہوتا ہے، جس کا ایک عکس (حضرت پیر)خواجہ قمر الدین سیالوی (رح) کی تحریر  ”مذہبِ شیعہ“میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تعارف

 اسلامی تہذیب کے مختلف مظاہر میں تصوف  ، انسان اور خدا کے تعلق کے وسیلے کے طور پر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، اور  جنوبی ایشیا ء  میں تو  یہ فرد اور معاشرے کے تعلق کا واسطہ  بھی ہے[1]۔ یہاں ثقافتی تنوع اور ہم آہنگی میں  صوفیاء کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ جنوبی ایشیا، اور خاص طور پر پنجاب جو اس مقالے کا موضوع ہے، مذہبی اور نسلی اعتبار سے مختلف گروہوں کا مسکن ہے  اور تصوف سب کو جوڑنے والی قوت ہے۔چشتیہ صوفی سلسلہ ہندوستان میں شروع ہوا اور برصغیر کی تکثیریت پسندی کا  مجسم نمونہ ہونے  کے ساتھ ساتھ اسلام کو عوام تک اور عوام کو اسلام تک لے جانے کے عامل کے طور پر اہم  رہا ہے[2]۔اس مقالے میں پنجاب میں اجنبی سازی کی ایک لڑی کا تجزیہ کیا گیا ہے جو یہاں کے  چشتی سلسلے  کی  تشکیلِ نو، جس کے پیشرو خواجہ  نور محمد مہاروی (1730ء – 1790ء) تھے،  کے نتیجے میں ابھری۔اس تحقیق سے اس عمل پر روشنی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں ان کے بعد میں آنے والے زمانے میں چشتی صوفیاء شیعیت کو اسلام کے مرکزی دھارے سے الگ قرار دینے لگے۔ اس خلیج میں شیعوں میں اصولی گروہ کے نمودار ہونے سے اضافہ ہوتا گیا، جن کا زور اپنی جداگانہ شناخت منوانے  پر تھا۔  شیعوں میں خلفائے ثلاثہ پر  تبرا کرنے کی رسم کے آغاز نے اس شیعہ سنی اجنبیت کو  ایک سماجی  مظہر بنا دیا ، جو  بڑھتے بڑھتے برفانی تودے کی  شکل اختیار کر گیا  اور  بیسویں صدی کے آخری دو عشروں میں  لڑھک پڑا(نوٹ: یہ وہی زمانہ تھا جب لکھنؤ میں عوامی سطح پر  شیعہ سنی تصادم شروع ہو رہا تھا)۔ اگرچہ چشتیہ سلسلہ  سب کو جذب کرنے والا  صوفی سلسلہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس تشکیلِ نو نے چشتی پیروں کو اپنی مرکزی صفت، یعنی  تکثیریت پسندی، کوترک کرنے اور فرقہ پسندی کو اپنانے پر مائل کیا۔ یہ مقالہ اس رجحان کو سیال شریف کے سجادہ نشینوں میں تلاش کرکے سامنے لاتا ہے[3]۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ چشتی سلسلے کی تشکیلِ نو  کے معماروں  کا  شریعت پر عمل  کو  مسلمان معاشرے کو طاقتور بنانے کے نسخے کے طور پر تجویز کرنا  ان فرقہ وارانہ رجحانات کو لانے کا سبب بنا ہے۔

برصغیر میں چشتیہ سلسلے کا ارتقاء

ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی بنیاد  خواجہ معین الدین چشتی ؒنے بارہویں صدی عیسوی میں رکھی، لیکن پنجاب میں اسکی لہریں اس وقت پہنچیں جب خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ  نے اجودھن (موجودہ پاکستان میں  پاک پتن ) میں اپنی  درگاہ بنائی۔اس طریقت کا بیشتر حصہ برصغیر میں ہی تعمیر ہوا  اور اس نے یہاں  کی ثقافتی اخلاقیات کو خود میں  جذب کیا، اور یہاں کے مقامی صوفی سلسلوں میں سب سے زیادہ انجذاب پسند سلسلے کے طور پر  اپنی شناخت بنائی۔ چشتی صوفیاء نے ذکر اور سماع جیسے اعمال کو اپنی طریقت کی پہچان بنایا، جس نے انہیں مقامی ثقافت میں مدغم ہونے میں مدد دی۔ ارنسٹ کے مطابق چشتیہ طریقت  کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے:۔

”یہ ایک عملی تجربہ بھی ہے اور ذہنی سرمایہ بھی: یہ خدا کو اتنی شدت سے یاد کرنے کا تجربہ ہے کہ روح فنا ہو کر دوبارہ پیدا ہو۔ اس کا ذہنی سرمایہ ان لوگوں کی یاد ہے جنہوں نے خدا کو یاد کیا ، جو طریقت اور دعاؤں  اور سب سے بڑھ کر خدا کی یاد  کے پابند تھے،  چاہے وہ انکے اسماء کے ذکر  شکل میں ہو  یا قوالی و سماع کی شکل میں ہو۔اگرچہ خدا کی یاد کا چشتی تجربہ حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن بہت کم لوگ اس عمل سے گزرے ہیں۔ تصوف کا مطمعِ نظر  اپنے سارے وجود کو خدا کی طرف متوجہ کرنا  اور اس کے اسم  کی معرفت اور اس کے محضر میں ہونے کا ادراک  حاصل کرنا ہے تاکہ عشق کی راہ کو پا لیا جائے“[4]۔

چشتیہ سلسلہ فضیل ابن ایازؒسے ابراہیم ابن ادھمؒ اور حسن بصریؒ سے ہوتا ہوا حضرت علی کرم الله وجہہ کے واسطے سے رسول اللہ ؐسے جا ملتا ہے[5]۔یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ حضرت علیؑ، جو چشتیہ سلسلے کے  لیے روحانی  مرشدِ اعلیٰ ہیں، شیعوں کے  لیے پہلے امام بھی ہیں۔ ان  سے منسوب  تقدس ہی چشتی سلسلے کے پیروکاروں میں تشیع کی ثقافت کو اپنانے کے رجحان کا سبب بنا۔ اسی طرح اہل بیتؑ، خاندانِ علیؑ و فاطمہؑ، چشتی صوفیوں میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے   رضوی،  صوفیوں اور شیعوں میں غیر معمولی اشتراک کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے الفاظ میں: ”تصوف میں شیخ کا مقام شیعوں میں امام کے مقام کے نزدیک ہوتا گیا، جبکہ حضرت علیؑ کو صوفیاء میں تقریباً  وہی منزلت حاصل ہو گئی جو اہل تشیع میں تھی“[6]۔پس اس مقالے کا مرکزی خیال ان اسباب کی تلاش ہے جنہوں نے  توانائی کے اس مشترکہ منبع سے وابستگی   کو آہستہ آہستہ سرد مہری میں تبدیل کیا[7]۔

ان دو گروہوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے والے واقعات کا سیاق و سباق جاننے کیلئے ہمیں پہلے ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کے ظہور اور اس کے ارتقاء کو سمجھنا ہے۔ یہ صوفی سلسلہ(شام سے)  ہجرت کر کے چشت میں بسنے  والے صوفی بزرگ     ابو اسحاق شامیؒ سے پھوٹا [8]۔ یہاں سے اس سلسلے کا آغاز ہوا۔ اس کے بنیادی نظریات وحدت الوجود کے عقیدے کے گرد گھومتے ہیں، جس کی  ابتدائی تشکیل محی الدین ابن عربی ؒ سے منسوب ہے[9]۔ جو ، رضوی کے بقول، ”تصورِ حق کے بارے میں مختلف صوفیاء کی آراء میں مفاہمت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے  اور ان کی اس انداز میں تنظیمِ نو کی تاکہ وہ مستقبل میں تصوف کے خیالات  کی ترقی کیلئے ایک بنیاد فراہم کر سکیں“[10]۔چشتیہ سلسلے کی عوام میں مقبولیت کی وجہ ہندوستانی ہونے کا عمل ہے ، جس میں صوفیاء نےاسلام کے بنیادی ارکان پر قائم رہتے ہونے  کچھ ہندوآنہ رسومات کو اپنا لیا۔ یہاں معین نظامی سے اتفاق کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تصوف کوئی ایسی روایت نہیں جو لچک دار نہ ہو اور ماضی کی روایات پر سختی سے قائم رہتی ہو[11]۔معروف چشتی صوفی نظام الدین اورنگ آبادیؒ نے ذکر کے مختلف طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاسلامی دائرہ کار میں رہتے ہوئے  یوگا  سے مستعار لیے گئے سانس روکنے   کے طریقے کی تعلیم دی، جو ان کے مطابق غیر عرب مسلمانوں کیلئے خصوصی  تاثیر رکھتا ہے[12]۔ یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر انہوں نے ”تصوف کی مقامی روایت کی تشکیل کی“[13]۔

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، ہندوستان میں چشتیہ سلسلے کی داغ بیل خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے ڈالی۔ان کے بعد خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، شیخ فرید الدین گنجِ شکرؒ، شیخ نظام الدین اولیاءؒاور شیخ ناصر الدین محمود چراغِ دہلیؒ نے اپنے اپنے زمانے میں اسکی سرپرستی کی۔ دہلی میں یہ سلسلہ چودھویں صدی عیسوی کے  نظام الدین اولیاءؒ کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا[14]۔  تاہم پنجاب میں شیخ فرید الدین گنجِ شکرؒ(1175ء –1265ء) کی کوششوں اور کرامات کی بدولت چشتیہ طریقت نے ایک طاقتور تحریک کی شکل اختیار کی۔ ان کی کرشماتی طاقت  اور چشتی صوفی کے طور پر ان کو ملنے والی عظمت نے پنجاب اور بالخصوص پاکپتن کو اس سلسلے میں ایک مرکز کی حیثیت دے دی ، اور ان کی درگاہ پر پورے ہندوستان سے زائرین آنے لگے[15]۔انکی پیدا کردہ موج  کو بعد میں آنے والے چشتی صوفیوں، بالخصوص جنوب مشرقی پنجاب کے  سیالوی خانوادے، نے مستحکم کیا۔ ان پر خواجہ فریدؒ کے اثرات نمایاں ہیں، جیسا کہ سیال شریف کی درگاہ کو بھی ہو بہو  انکی درگاہ کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔1265ء میں خواجہ فریدؒ کے انتقال کے بعد چشتیہ سلسلے کا مرکز دہلی میں منتقل ہو گیا جہاں نظام الدین اولیاءؒ اس کے رہبر  بن گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ چشتی سلسلہ نظامی اور صابری، دو شاخوں میں بٹ گیا۔ ضلع سہارن پور میں  روڑکی کے قریب ایک گاؤں  کلیر سے تعلق رکھنے والے  شیخ علاء الدین علی صابریؒ نے صابری شاخ کی بنیاد رکھی[16]۔ البتہ چشتی صابری شاخ کا اثر صرف اودھ اور اس کے گرد و نواح میں محدود رہا اور پنجاب  کو اس سے کوئی خاص  ربط  نہیں  رہا۔ سانیال کے مطابق خواجہ فریدؒ کے بعد پنجاب میں چشتی سلسلے کے اثر و رسوخ میں اٹھارویں صدی عیسوی تک مسلسل کمی ہوتی رہی[17]۔ ان تمام صدیوں میں پنجاب میں سہروردی اور قادری سلسلوں کے اثرات گہرے ہوتے رہے۔

اب یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ اس علاقے میں سیاسی عدم استحکام کے دور میں چشتیہ سلسلے کا احیاء کس طرح ہوا۔ اٹھارویں صدی کے آخری عشروں میں مغل سلطنت کے زوال اور اس کے بعد سکھوں اور انگریزوں کی حکومت کے آنے نے پنجاب کے مقامی چشتی صوفیوں کو بہت متاثر کیا۔ انہوں نے شریعت پر سختی سے عمل اور مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کی واپسی پر زور دینا شروع کیا، چاہے وہ مسلمانوں میں مذہبی اعمال  انجام دینے کے راستے سے ہو یا جہاد کی مدد سے حاصل ہو۔ یہ ردِ عمل صرف پنجاب کے پیروں تک محدود نہیں تھا بلکہ افریقہ، چین، قفقاز ، مشرقی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے صوفی سلسلوں نے بھی اپنے مفادات کو لاحق داخلی اور بیرونی کولونیل خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے اس سے ملتا جلتا ردِ عمل اپنایا[18]۔ نظامی اپنی کتاب ”تاریخِ مشائخِ چشت“ میں لکھتا ہے کہ خواجہ نور محمد مہاروی کے شاگرد حافظ جمال (متوفی 1811ء) نے اپنے مریدوں کے ہمراہ ملتان میں مسلمان افغانوں کی حکومت کو بچانے کیلئے نواب مظفر خان سدوزئی کی فوج میں شمولیت اختیار کی تاکہ سکھوں سے لڑ سکیں[19]۔ اسی طرح 1835ء میں میاں محمد افضل نامی ایک پیر نے جھنگ میں سکھوں کے خلاف بغاوت کی اور مارا گیا[20]۔ ویلس بھی انیسویں صدی کے مغربی افریقہ میں ایسا ہی رجحان پاتا ہے جہاں مذہب کی تشکیلِ نو کرنے والوں میں  الله کے نام پر شریعت کی سر بلندی کیلئے جہاد ہی ارتکاز کا نقطہ بن گیا تھا[21]۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی کے جنوبی ایشیا میں صوفیوں کی سیاست اور جنگ میں دلچسپی، اور سماجی اور ثقافتی رسومات پر شریعت کےعنوان سے اثر انداز ہونے کی کوشش نے مختلف مسلمان گروہوں کے مابین تعلقات کوبہت زیادہ بدل کے رکھ دیا۔ تبدیلی سے متاثر ہونے والے تعلقات میں برصغیر کے شیعوں اور سنیوں کے تعلقات بھی تھے۔ پس اٹھارویں صدی کے اواخر سے  چشتی پیروں نے، جو اسلام کی سنی تعبیر پر عمل کرتے تھے، شیعوں کو مرکزی اسلامی دھارے سے جدا کرنے کا آغاز کر دیا۔شیعہ علماء بھی سنی علماء  کے ساتھ مفاہمت پر تیار نہ تھے اور عوام میں  ان کے ساتھ مقابلہ کرتے تھے۔ چنانچہ صوفی سلسلے کی تشکیلِ جدید نے پنجاب میں مختلف مسلمان گروہوں کے بیچ خلیج پیدا کی۔  دونوں بڑے فرقوں کے درمیان خلفائے ثلاثہؓ کے بارے میں رائے کے اختلاف کا معاملہ اس مقابلہ بازی کا سب سے اہم حصہ تھا۔

سوانحِ حیات پر لکھا گیا  ادب اور کچھ تحقیقی مطالعات بھی چشتی تشکیلِ جدید کا سہرا نور محمد مہاروی کے سر باندھتے ہیں[22]۔ مہاروی کے پیروکاروں میں سیال شریف کے سجادہ نشین بھی تھے، جو ضلع شاہ پور(جسے بعد میں سرگودھا کا نام دیا گیا) کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ ان کو ایک نمونے کے طور پر لیتے ہوئے یہ مضمون اب یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ چشتی تشکیلِ جدید نے پنجاب کے اس حصے میں شیعہ سنی مکاتب فکر /گروہوں کے تعلقات میں کیوں کر  بگاڑ پیدا کیا؟

ضلع سرگودھا میں سیال شریف کا مزار سب سے زیادہ قابل ِاحترام سمجھا جاتا تھا[23]۔ انگریز دور کے آخری عرصے میں اس کے سجادہ نشین دیوبندیت کی طرف راغب ہو گئے۔ خواجہ ضیاء الدین تحریکِ خلافت کے پر زور حامیوں میں سے تھے۔ ان کے دیوبندی علماء سے گہرے تعلقات تھے، جیسا کہ 1927ء میں ان کے دار العلوم دیوبند کے دورے کے دوران ہونے والے استقبال سے ظاہر ہوتا ہے[24]۔ پہلے انہوں نے احمدیوں کو منحرف اور پھر شیعوں کو گمراہ قرار دیا۔ یہ درگاہ جغرافیائی لحاظ سے   سیاسی اور روحانی طور پر موٴثر شیعہ صوفیاءکی درگاہوں کے درمیان گھری ہوئی تھی، جیسے جھنگ میں شاہ جیونہ اور چنیوٹ میں رجوعہ سادات کی درگاہیں، اور اس کے سجادہ نشینوں میں دیوبندی افکار کے بڑھتے ہوئے نفوذ کا ایک سبب یہ جغرافیہ بھی تھا۔ کولونیل دور کے اواخر کی فرقہ واریت آزادی کے بعد کے عشروں میں شدید تر ہوتی گئی، جس کے نتیجے میں سیال شریف کی درگاہ سنی شدت پسند فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ کے قریب ہوتی رہی[25]۔ ( مترجم کا نوٹ:  لکھنؤ کے فسادات کو سمجھنے کیلئے   پروفیسر مشیر الحسن کے ،مقالے “Sectarian Strife in Colonial Lucknow”   کا مطالعہ کریں )۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کی نو صوفیت

چشتیہ طریقت کے بجھتے ہوئے چراغ کی لو  کو جدید صوفیوں نے دوبارہ بھڑکا دیا۔ جو  جدید صوفی تصوف میں نئے رجحانات لے کر آ ئے ، ان میں فخر الدین دہلوی(1717ء – 1785ء) اور شاہ کلیم الله(1650ء–1729ء )بھی تھے[26]۔جیسا کہ گلمارٹن نے کہا ہے، چشتیہ احیاء  کی لہر کی شدت سب سے زیادہ دہلی میں تھی کیوں کہ وہیں مغل سلطنت کے زوال کو سب سے زیادہ محسوس جا رہا تھا، اور ان دو نوں  صوفیوں کی فکر اور کردار  پر اس کا بہت گہرا اثر پڑ رہا تھا[27]۔ پنجاب میں  یہ احیاء  فخر الدین دہلوی کے شاگرد خواجہ نور محمد مہاروی (1730ء – 1790ء)کے ذریعے پہنچا، جنہوں نے اٹھارویں صدی کے وسط میں  بہاولپور کے قریب مہار نامی ایک چھوٹے سے گاؤں  میں خانقاہ قائم کی۔بعد ازاں چشتیہ تشکیلِ نو کا یہ  رجحان  تونسہ، گولڑہ اور سیال شریف میں اوج کو پہنچا[28]۔ خواجہ نور محمد مہاروی کے اثرات کے نتیجے میں جنوبی پنجاب اور سندھ میں  سانگھڑ، احمد پور، چچراں، مکھڈ، جلال پور، بہاولپور، ملتان، پاک پتن، ڈیرہ غازی خان، حاجی پور، راجن پور، نروالہ، محمد پور، فیروز پور، کوٹ مٹھن اور سلطان پور، چشتی   طریقت  کے مراکز کے طور پر نمایاں ہوئے[29]۔ضمیر الدین صدیقی خواجہ نور محمد مہاروی کو پنجاب اور سندھ میں چشتیہ سلسلے کی نظامی شاخ کا بانی سمجھتا ہے ، جنہوں  نے اس کو اتنی ترقی دی کہ تصوف کی دوسری اصناف ،جنہوں نے اٹھارویں صدی عیسوی تک پنجاب پر راج کیا تھا جیسے قادری اور سہروردی، کو پردے کے پیچھے دھکیل دیا[30]۔

 چشتیہ نشاۃِ ثانیہ  کا کام  خواجہ مہاروی  کیلئے بہت مشکل تھا  ، اور اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مغل سلطنت کے زوال کے آغاز کے ساتھ ہی پنجاب سکھوں، افغانوں اور مرہٹوں کی مہم جوئی کا اکھاڑا بن گیا[31]۔ پنجاب کے سماجی تار و پو بکھر کے رہ گئے۔ اخلاقی زوال اور معاشرتی بد نظمی  یہاں کے مسلمانوں کی ایک مہیب تصویر پیش کرتی تھی[32]۔ صدیقی نے خواجہ مہاروی کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں لکھی گئی  ملفوظات کی کتابوں، خلاصۃ الفوائد اور خیر الافکار، میں  سے ان کی اخلاقی اور سماجی تعلیمات کا ایک خاکہ پیش کیا ہے۔ ان تعلیمات کے مطابق دستور العمل میں  بنیادی اہمیت ”اخلاقی اقدار اور دین کے معیارات“  کو دی گئی تھی[33]۔اس طرح خواجہ مہاروی کی تعلیمات  مذہبی علماء کی سوچ کے قریب تھیں۔ نقل و احادیث پر تکیہ کرنے  کے راستے اور عشق و قلبی تعلق کی راہ ، جو اگر متضاد راستے نہ تھے تو بھی مختلف ضرور تھے، میں امتزاج پیدا کرتے ہوئے  وہ نقل کو واردات ِقلبی پر فوقیت دے رہے تھے۔ خواجہ مہاروی شریعت پر شدت سے عمل کرنے کو ہی طریقت کے حصار میں داخل ہونے کا راستہ سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق وحدت الوجود کا مکتب فکر صرف اخص الخواص، یعنی چنے ہوئے خاص لوگوں کیلئے تھا اور اس کو عام لوگوں میں زیرِ بحث لانا ممنوع تھا[34]۔ خواجہ مہاروی نے علم اور عرفان میں فرق جیسے  مسئلے  پر بحث کی بھی حوصلہ شکنی کی[35]۔ایک ایسی فضا میں کہ جہاں مسلمانوں کے درمیان مذہب کی  اصلاح کی نیت سے قربت  بڑھانے کی کوشش ہو رہی ہو، وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے نظریات میں ملاپ  کو ضروری سمجھا گیا[36]۔  اس ملاپ نے شہری علاقوں کے احادیث اور ظواہر پر زور دینے والے احیاء پسند مذہب اور دیہی علاقوں کے تکثیریت پسند اور زندہ دل مذہب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا[37]۔

پس  مذہبی علماء اورچشتی صوفیاء قریب آنے لگے، اور ان کو جوڑنے والی قوت مذہب کی اصلاح کی سوچ تھی۔ معین نظامی کے الفاظ میں اس تازہ  تعلق، یا صوفی –مولوی مفاہمت، کی وجہ  چشتی پیروں کی طرف سے روحانیت کی تشکیلِ نو کیلئے شریعت کی پابندی کو سیڑھی بنانا تھا[38]۔ مٹکاف ایسا کہنے میں بالکل برحق ہے کہ انیسویں صدی کے دوران مذہبی کٹر پن علماء کے علاوہ پنجاب کے چشتی نظامی شیوخ میں بھی بڑھتا گیا اور آخر کار یہ پیر بھی شریعت کے ماہرین سمجھے جانے لگے، ایک ایسا شعبہ جو پہلے صرف علماء سے مخصوص تھا[39]۔ چنانچہ  نقل و حدیث پر زور دئیے جانے کو قبولیت ملی ، اور انیسویں صدی کے اوائل میں چشتیہ تشکیلِ نو کے علمبردار اس رجحان کو اپنانے میں آگے آگے تھے۔ ایک مرتبہ  خواجہ مہاروی نے  آخرت سے سرو کار رکھنے اور سیاستِ دوراں سے لاتعلقی کے پرانے تصورات   کی  عملی مخالفت اس وقت کی جب انہوں نے  ملتان پر حملے کے دوران  سکھوں کے خلاف لڑنے والے مسلمانوں کی حمایت کی[40]۔

تونسہ اور سیال شریف

شمس الدین سیالوی (1799ء–1883ء)، جو خواجہ مہاروی کے نمایاں ترین وصی اور تونسہ شریف کے شاہ سلیمان تونسوی (1770ء–1850ء) کے روحانی شاگرد تھے، نے سیال شریف میں اپنی خانقاہ قائم کی اور مسلمانوں کو شریعت سے جڑ جانے اور اپنے اخلاق و آداب کی اصلاح کرنے کا درس دیا[41]۔ 1800ء کے عشرے میں سلیمان تونسوی کے تونسہ میں ایک مدرسہ  ”دار العلوم“  قائم کیا جہاں شریعت اور طریقت، دونوں  کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس دار العلوم میں فقہ کی تعلیم پر خصوصی زور دیا جاتا تھا[42]۔ یہ در حقیقت مسلمہ چشتی طریقت سے انحراف تھا،کیوں کہ یہاں ظاہری  علوم کو علومِ باطنیہ پر فوقیت دی جانے لگی تھی۔لہذا شہری علاقوں کے علماء میں اسلام کی خالص تفسیر کے عنوان سے  مذہب کی تشریح کو   احادیث تک محدود کرنے کی سوچ چشتی سلسلے میں بھی  سرایت کرنے لگی۔اس نے عوامی اسلام کو بہت نقصان پہنچایا، جو روایتی طور پر بہت روادار اور لچکدار تھا اور جسے ابتدائی  قرون وسطیٰ کے  چشتی صوفیاء نے پھیلایا  تھا[43]۔

خواجہ سلیمان نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پر امن اور مل جل کر رہنے  کی وکالت کی لیکن راہِ سلوک پر چلنے والے کیلئے” بد مذہبوں“ سے دوری کو لازمی قرار دیا[44]۔رضوی کے خیال میں بد مذہبوں سے مراد معتزلہ اور شیعہ تھے[45]۔ اگر رضوی کے دعوے کو تسلیم کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی بدولت  چشتی پیروں میں فرقہ پرستی قدم جمانے  لگ گئی تھی۔اس فضا میں(عقلی اور قلبی رجحان کے برعکس) نقلی اور احادیث تک محدود فکری رجحان نے ان کے خاص خلیفہ شمس الدین سیالوی پر گہرا اثر ڈالا۔ شمس الدین نے پنجاب میں رنجیت سنگھ کے دور(1798ء –1839ء)کے استحکام سے اس کی وفات کے بعد کے سیاسی عدم استحکام اور پھر انگریز راج کا حصہ بن جانے تک(1849ء) کے دور میں زندگی گزاری ۔ مسیحی مبلغین کی لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش اور اس کے مقابلے میں مذہبی اصلاح کی مختلف تحریکوں ، خصوصاً اسلام کی خالص شکل کے احیاء کی بات کرنے والے دیوبندیوں، کے جواب نے بھی شمس الدین اور ان کے ورثاء کو متاثر کیا ہو گا[46]۔ وہ شرعی احکام کی پابندی کرتے اور شریعت کے خلاف سمجھے جانے والے  سماع باالمزامیر (موسیقی کے ساتھ قوالی) کو باطل قرار دیتے تھے[47]۔شمس الدین نے عرس پر علماء کو تقریریں کرنے کی دعوت دینے کا آغاز کیا۔ انہوں نے چلہ کاٹنے (چالیس روزہ روحانی ریاضت)کو بھی شریعت کے مخالف پایا اور ہدفِ تنقید قرار دیا[48]۔ چنانچہ پنجاب کی باہمی ہم آہنگی کی ثقافت میں پیوست رسومات، جو قرونِ وسطیٰ میں چشتیوں کی نمایاں خصوصیت ہوا کرتی تھیں، کو غیر اسلامی کہہ کر صفایا کیا جا رہا تھا۔ اس طرح  کٹھ ملائیت  کا رجحان رینگتا ہوا  چشتیوں کے قلب میں داخل ہو گیا، اور  بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں دیہی پنجاب چشتی سلسلے میں آنے والی اس بنیادی تبدیلی سے شدید متاثر ہوا۔

اصلاح اور کٹھ ملائیت کی یہ لہر شمس الدین سیالوی کے بعد آنے والوں میں طاقت پکڑتی گئی۔ شمس الدین کا پوتا ضیاء الدین سیالوی بھی شریعت کا کٹر پیرو کار تھا، اور یہ عنصر  اس دور کی خانقاہِ نظامیہ کے انتظام و انصرام میں نمایاں تھا۔یہاں اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اس زمانے میں(حقیقی دنیا میں انگریزوں کے سامنے بے بسی کی وجہ سے)  مذہبی کٹر پن اور اصلاح کی سوچ سبھی گروہوں میں پائی جاتی تھی، چاہے وہ مسلمان ہوں، ہندو  یا سکھ ہوں۔ اس جذبے نے عوامی مذہب کے رہنماؤں  پر  انمٹ نقوش چھوڑے۔اس کا اظہار 1887ء میں لاہور میں دار العلوم نعمانیہ کے قیام سے ہوا۔بعد ازاں 1920ء کی دہائی میں دار العلوم حزب الاحناف کی بنیاد رکھی گئی جس نے اہلسنت میں اسی قسم کا نکتہٴ نظر پیدا کیا جو اس زمانے میں امام احمد رضا خان بریلوی سکھا رہے تھے[49]۔ یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ روایتی قسم کے اسلام کے مدافعین خود وہی ڈھانچہ  اپنانے لگے جو ان کے مخالف (وہابی)لوگ  اصلاحِ مذہب  کے نام پر اپنائے ہوئے تھے[50]۔اسی طرز کو اپناتے ہوئے سیالوی پیروں نے بھی بیسویں صدی کے پہلے حصے میں دار العلوم ضیاء شمس الاسلام قائم کیا۔ وہ جدید  طرز پر بنایا گیا تھا  لیکن اس میں شریعت کا فن سکھایا جاتا تھا(جیسا کہ دار العلوم دیوبند بھی دہلی میں  انگریز وں کے کالج کی طرز پر بنایا گیا تھا)۔ضیاء الدین تسلسل سے مولانا حضرات کو سیال شریف میں اپنے شاگردوں کو شریعت کا سبق پڑھانے کیلئے بلایا کرتے تھے ، جیسا کہ مولانا معین الدین اجمیری کو، جو حدیث، فقہ اور منطق کے عالم تھے[51]۔ پیروں اور مولویوں میں پل بنانے کی کوششوں نے انکے شاگردوں کے خیالات کی صورت گری کی، جن میں ان کے بیٹے خواجہ قمر الدین سیالوی(1906ء – 1981ء) اور  انکے خلیفہ، گولڑہ شریف کے پیر مہر علی شاہ(1859ء–1937ء) اہم ہیں۔ یہ دونوں آگے چل کر شریعت کے پیروکار ثابت ہوئے اور قرون وسطیٰ کے چشتیہ سلسلے کی تکثیریت پسند اور برداشت والی اقدار پر اسکو ترجیح دی۔کٹر پن کا یہ رجحان اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا جب چشتیوں نے 1889ء میں سامنے آنے والی ( ایک اور کٹر پن کی تحریک )احمدی جماعت  کو سختی سے تنبیہ کی[52]۔ پیر مہر علی شاہ نے احمدیوں کی تکفیر کا فتویٰ جاری کیا[53]۔ ماضی کے چشتی صوفیاء میں کسی کے کفر کا فتویٰ دینے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔  اسی طرح سیالوی پیروں نے بھی احمدیوں کی مذمت کی اور 1950ء کی دہائی کی تحریکِ ختمِ نبوت کا حصہ بنے[54]۔ پس مذہبی اختلاف کی بنیاد پر دوسروں کو غیر قرار دینا سیالوی پیروں کیلئے شریعت کا ایک اہم جزو قرار پایا، جو اب طریقت کے روایتی بندھن سے زیادہ اہم ہو چکی تھی۔

یوں  صوفی–مولوی  کا  روایتی فرق مٹ گیا ،کیونکہ دونوں رجحانات قریب لائے جا رہے تھے۔ بنیادی متون اور ان کے ظاہری معنوں  پر زور دئیے جانے سے  اسلامی طرزِ زندگی کی صورت گری ان کے مطابق ہونے لگی۔ چشتیہ تشکیلِ  نو کے دور میں چشتی تعلیمات کو  حدیث اور فقہ میں گم کر دیا گیا۔ امامت کے عقیدے پر اختلاف  کے علاوہ یہ مصادر بھی شیعوں اور سنیوں میں رگڑ پیدا کر کے ان کو الگ کرنے کا باعث تھے۔ مثال کے طور پر کسی حدیث کو پرکھنے کے طریقے پر شیعہ سنی اختلاف بہت واضح ہے: اکثر شیعہ صرف انہی احادیث کو صحیح مانتے ہیں جو اہل بیتؑ کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہوں[55]۔ ہندوستان میں  اٹھارویں صدی کے بعد سے احادیث کو اسلامی علم ِکلام اور شرعی احکام کے ماٴخذ کے طور پر اہمیت دی جانے لگی تھی۔جمال ملک نےدین کے مرکزی محور کے  فقہ و تقلیدِ آئمہ  سے علمِ  حدیث  کی طرف منتقل ہونے  کے عمل کی تفصیل بیان کی ہے،  جو اٹھارویں صدی میں شاہ ولی الله(1704ء–1762ء) اور ناصر عندلیب(1697ء–1758ء)  جیسے علماء کے ہاتھوں انجام پایا[56]۔دیوبندیوں کے ہاں  صحاحِ ستہ کو  درسِ نظامی  کے نصاب کا حصہ بنانا شاہ ولی الله سے منسوب کیا جاتا ہے[57]۔محمد قاسم زمان نے مولانا مناظر احسن گیلانی، جو بیسویں صدی میں تاریخ کو مذہبی آئینے سے لکھنے والوں میں سب سے نمایاں ہیں، کے مطالعے  میں دیوبندیوں کے خود کو عوامی طریقت سے الگ کر نے  اور علمِ حدیث پر زور دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فن کو قدیم ہندوستانی علماء کے ہاں  رائج عقلی علوم، جیسے منطق اور فلسفہ، کی جگہ لے آ ئے[58]۔اسی طرح رابنسن بھی  اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں کے فکری رہنماؤں میں آنے والی  دو تبدیلیوں کا تعین کرتا ہے: ایک عقلی علوم سے نقلی علوم کی طرف سفر  اور دوسری تبدیلی جو پہلی سے زیادہ اہم تھی وہ ماضی کے ثقافتی  ورثے کو مکمل طور پر رد کر دینا ہے[59]۔ رابنسن کے الفاظ میں ہندوستان کا مسلم تمدن اپنی عظیم میراث سے دور ہو گیا  جو ایرانی ، تیموری اور مغل دنیاؤں میں پروان چڑھی تھی، اور عربی تمدن اور حجاز کے ابتدائی دور کی طرف کھنچا چلا گیا[60]۔ یہاں پیر اور مرید کے تعلقات میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرنا بھی اہم معلوم ہوتا ہے: پیروں اور حدیث کے عالموں میں قریبی تعلقات بننے سے تصوف کے معتقدات پر دباؤ بڑھ گیا[61]۔ اس تبدیلی کا سب سے روشن نتیجہ احادیث کی تشریح پر موجود اختلاف کی وجہ سے شیعہ سنی خلیج میں  ہونے والا  اضافہ تھا۔اس کا تفصیلی جائزہ موجودہ مطالعے کی حدود سے باہر ہے لیکن اتنا کہنا کافی ہو گا کہ حدیث اور فقہ پر زور دئیے جانےنے اسلامی عقائد کی ظاہری تفسیر کو رواج دیا ، اور جیسا کہ آنے والے واقعات نے ثابت کیا، اس سے سنیوں کے ساتھ ساتھ شیعوں کے مکتب میں بھی دوسرے کو اجنبی سمجھنے کی سوچ پیدا ہو گئی[62]۔ ایک اور نکتہ جو رابنسن اٹھاتا ہے یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان رسول اللهؐ کی سیرت کی اپنی اپنی تشریح کو تمام انسانوں کیلئے نمونۂ عمل قرار دینے لگے [63]۔ بریلوی روحانیت میں احمد رضا خان کا نورِ محمدیؐ کے ازلی ہونے اور خدا کے نور کا پرتو ہونے والے عقیدے نے رسول اللهؐ کے علاوہ کسی اور کو اطاعت کے قابل نہ چھوڑا، اور اس کے نتیجے میں پیر اپنا مقام کھو بیٹھے۔

پس حدیث اور سیرت کے دین کا واحد ماخذ قرار پانے (اور عقل اور قلب سے روگردانی)کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر میں اسلام کا ایک نیا نقش  سامنے آیا جس میں صوفی اور درگاہ کیلئے بہت کم جگہ تھی۔  بنیادی نمونے کی تبدیلی نے ہی مسلمانوں کے درمیان  فرقہ وارانہ حدود  کو اور نمایاں کر دیا۔اس سے پہلے شیعہ سنی اختلاف کا سبب  خلفائے ثلاثہؓ، حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ، کے بارے میں اختلاف رائے تھا۔پہلے تین خلفاء کے حقِ حکومت کے بارے میں یہ دوستانہ اختلافِ نظر دشمنی میں کیسے تبدیل ہوا، یہ بات مقالے کے اگلے حصے میں زیرِ بحث لائی جائے گی۔

 شیعہ مناظرین اور خلفائے ثلاثہ

بیسویں صدی میں فرقہ واریت کی بڑھی ہوئی حدت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ شمالی ہندوستان میں  سنی تشکیلِ نو کے متوازی چلنے والی شیعہ تشکیلِ نو  اور اس کے پنجاب پر اثرات کو بھی سمجھا جائے۔اٹھارویں صدی میں اودھ کے شیعہ گورنر سید  محمد امین برہان الملک  کومغل شہنشاہ کی طرف سے  مستقل اور  موروثی نوابی ملی، جس کا دار الحکومت پہلے فیض آباد اور پھر لکھنؤ بنا جو شیعی فکر کی  تشکیلِ نو کا مرکز بھی بن گیا[65]۔ اس کے علاوہ، جیسا کہ رضوی لکھتا ہے، شیعیت دہلی اور پانی پت میں بھی پھیلی ہوئی تھی اور پنجاب اور سندھ میں بھی اس مکتب فکر کے متعدد پیروکار  موجود تھے[66]۔ لہٰذا اودھ نے پنجاب کی شیعہ آبادی پر گہرا اثر ڈالااور پنجاب کے بہت سے شیعہ علماء تعلیم حاصل کرنے اودھ گئے۔ درحقیقت اودھ میں شیعہ حکومت کے قیام اور وہاں اصولی علماء کی موجودگی میں اضافے اور اس کے پنجاب میں نفوذ نے چشتی تشکیلِ نو کو تیز تر کر دیا، جس نے پہلے ہی شیعہ مکتب فکر کی بنیادوں پر تنقید شروع کر دی تھی۔ اس کا الٹ بھی شروع ہو چکا تھا۔ نوابی اودھ کے اہم ترین شیعہ عالم، آیت الله سید  دلدار علی نقوی  نصیر آبادی، نے انیسویں صدی کے شروع میں صوفیاء کے نظریات اور رسومات؛ جیسے وحدت الوجود، کشف، وجد اور اعمال جیسے قوالی ،دھمال اور ڈھول بجانا  وغیرہ؛  کا رد کرنا شروع کر دیا تھا[67]۔ دلدار علی کی تنقید کا  اودھ کے صوفیوں کی طرف سے فوری جواب آیا جس سے دونوں کے تعلقات خراب ہو گئے۔ ایسی بحث کا اثر پنجاب پر بھی پڑا۔ اس کے علاوہ جس چیز نے سنی علماء اور پیروں کو پریشان کیا وہ شیعیت اختیار کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔ پنجاب کے گجرات میں، جیسا کہ رضوی بیان کرتا ہے، مخدوم جہانیاں سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ (1308ء–1387ء) کی نسل سے تعلق رکھنے والے گھرانوں نے شیعیت اختیار کر لی[68]۔ اسی طرح اچ شریف کے گدی نشین بھی شیعہ ہو گئے۔ پنجاب کے بہت سے سادات اور تفضیلی لوگوں نے اپنا مسلک بدل لیا [69]۔ ستم ظریفی یہ کہ رضوی ان تبدیلیوں کے واقع ہونے کا زمانہ بیان کرنے سے قاصر رہا ہے۔ برصغیر میں اثنا عشری شیعیت کے بارے میں اسکی بے مثال اور مفصل حکایت سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تبدیلیاں انیسویں صدی کے وسط میں کی گئی ہوئی ہوں گی [70]۔ضلع جھنگ کے نمایاں سید گھرانے، شاہ جیونہ اور رجوعہ سادات، نے اس وقت تک شیعیت قبول کر لی ہو گی۔ اسی طرح انیسویں صدی کے آخری عشروں میں لکھنؤ کے آصف الدولہ مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ شمالی ہندوستان میں پھیل گئے اور اصولی شیعیت کی تبلیغ کی۔ ایسے ایک اصولی عالم،  سید ابو القاسم رضوی (1833ء–1906ء) ، نے شیعیت کو لاہور اور اسکے گرد و نواح  میں ترقی دینے کیلئے  کافی محنت کی۔  انہوں نے متعدد جامع مساجد کے قیام کے ساتھ ساتھ 1879ء میں نواب علی رضا خان قزلباش کی مالی مدد سے ایک امامیہ مدرسہ بھی قائم کیا[71]۔  انیسویں صدی کے آخری حصے میں قزلباش، فقیر خاندان اور ملتان کے گردیزیوں جیسے با اثر گھرانوں نے پنجاب میں شیعہ مسلک کی اشاعت میں بہت حصہ ڈالا[72]۔

ان حالات میں جب شیعہ حلقے پھیلتے جا رہے تھے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیالوی پیروں کو اپنے روحانی اقتدار والے علاقے میں شیعیت کا نفوذ ایک بڑھتی ہوئی  تکلیف دہ مداخلت  محسوس ہوا ہو گا۔ سید محمد غوث، سید چراغ شاہ، سردار حسین شاہ اور سید غلام عبّاس ضلع جھنگ کی تحصیل چنیوٹ  میں رجوعہ کے برطانوی حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے والے     سادات  تھے۔ 1883ء–1884ء کے جھنگ کے  سرکاری گزیٹئر میں 1881ء کی مردم شماری کی بنیاد پر جو اعداد و شمار دئیے گئے ہیں ان کے مطابق ضلع جھنگ میں  مسلمانوں کی کل تعداد  سوا تین لاکھ کے لگ بھگ تھی جن میں سے بارہ ہزار کے قریب شیعہ اور آٹھ وہابی تھے[73]۔

[مترجم کا نوٹ: 1857ء کی جنگ آزادی میں اگرچہ انگریز فاتح بن کر نکلے لیکن اس کے بعد انہوں نے جہاں مقامی آبادی میں دہشت پھیلانے کیلئے بڑے پیمانے پر موت کی سزائیں دیں وہیں اس ملک گیر قیام کے اسباب پر غور کیا  اور آئندہ ایسی کسی تحریک سے بچنے کیلئے  حکمت عملی بنائی۔ اس حکمت عملی کا ایک حصہ مردم شماری کرتے ہوئے لوگوں سے ان کی ذات، مذہب اور مسلک کے بارے میں سوال کرنا تھا  تاکہ ان میں باقی ہم وطنوں  سے اجنبیت کا احساس پیدا کیا جائے۔ شیعہ چونکہ بنگال، اودھ اور سندھ میں اقتدار سے ہاتھ دھو چکے تھے اور سید احمد بریلوی نے اودھ اور بنگال میں تعزیے جلا کر شیعوں پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا، لہذا اس خوف سے کہ انکی تفصیلات مخالفین کے ہاتھ نہ لگ جائیں، تقیہ کرنے لگے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ لکھنؤ میں عزاداری پر ہونے والے حملوں نے تقیہ کے رجحان میں اضافہ کیا۔ چنانچہ نارمن ہولسٹر اپنی کتاب ”دی شیعہ آف انڈیا“  مطبوعہ 1953ءکے صفحہ  181 پر لکھتا ہے کہ:۔

”کچھ عشروں تک مردم شماری میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کو الگ الگ گنا جاتا رہا۔ 1911ء اور 1921ء کی مردم شماری میں اکثرریاستیں اور  صوبے شامل تھے، لیکن نتائج غیر تسلی بخش تھے۔ مثال کے طور پر 1921ء میں بہار اور اڑیسہ کی مردم شماری میں صرف تین ہزار سات سو افراد نے خود کو شیعہ ظاہر کیا جبکہ مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ : یقینی بات ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں کیوں کہ بہت سے شیعوں نے اپنا مسلک ظاہر کرنے سے اجتناب برتا۔  پٹنہ کی قانون ساز کونسل میں مردم شماری سے ایک دن پہلے ایک شیعہ رکن اسمبلی نے یہ اعلان کیا کہ شیعہ مسلکی بنیادوں پر اپنا الگ اندراج نہیں کروائیں گے۔ اس وقت لگائے گئے اندازے کے مطابق شیعہ آبادی  کم از کم سترہ ہزار، یعنی مردم شماری میں ظاہر ہونے والی تعداد سے پانچ گنا زیادہ تھی۔پٹنہ شہر میں اندازہ دس ہزار کا تھا جبکہ مردم شماری میں صرف ایک ہزار افراد نے اپنا شیعہ ہونا ظاہر کیا۔چنانچہ 1931ء اور 1941ء کی مردم شماری میں شیعوں کا الگ اندراج کرنے کی کوشش ترک کر دی گئی“۔]

 جھنگ کے سرکاری گزیٹئر میں اس علاقے میں شیعوں کی موجودگی کے بارے میں معلومات موجود ہیں، جو سیالوی پیروں کیلئے تشویش کا سبب رہی ہو نگی:۔

”شور کوٹ  اور حسن بلیل کے شیعہ قریشیوں،  ضلع جھنگ کے شاہ جیونہ اور رجوعہ سادات اور اچ شریف سے تعلق رکھنے والے سیدوں، جوڈیرہ اسماعیل خان کے مشہور بلوٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، کی بدولت جھنگ میں شیعہ غیر معمولی تعداد میں ہیں۔ وہ اپنے عقیدے میں بہت پکے ہیں۔ محرم میں عزاداری کا بھرپور انتظام کرتے ہیں۔ پہلے عشرے میں زندگی کی تمام آسائشوں سے دوری اختیار کرتے ہیں، اور دسویں محرم کو وہ تعزیہ کے ساتھ ننگے پاؤں اور ننگے سر چلتے ہیں۔ وہ اپنے سروں میں خاک ڈالتے ہیں اور شدید سینہ کوبی کرتے ہیں۔ وہ دوسرے مسلمانوں اور ہندوؤں کو بھی پاؤں سے جوتے اور سر سے پگڑی اتارے بغیر تعزیے کے پاس نہیں جانے دیتے“[73]۔

1929ء کے سرکاری گزیٹئر میں بھی ضلعے میں  شیعیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کا تذکرہ  موجود ہے:۔

”ضلعے میں شیعہ مسلک پھیل رہا ہے۔ نہری آبپاشی کے نظام کی تعمیر سے پیدا ہونے والی دولت نے کچھ سید خاندانوں کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہےاور شیعیت کو پھیلنے میں مدد دی ہے“[74]۔

شاہ جیونہ خاندان کے سید خضر حیات، جو اہم لوگوں میں سے تھے، کو برطانوی دربار میں کافی توجہ دی جاتی تھی۔ انکا چھوٹا بھائی مبارک شاہ، اور سید راجہ شاہ کے بیٹے عابد حسین، بہت جلدی شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے جو آج بھی موٴخر  الذکر کی بیٹی سیدہ عابدہ حسین اور انکے کزن فیصل صالح حیات کی صورت میں جلوہ گر ہے[75]۔ چونکہ یہ لوگ پکے شیعہ تھے، اس لیے قمر الدین سیالوی سمیت ایسے لوگ بہت تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ اپنی مسلکی وابستگی سے سیاسی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ان خاندانوں نے جھنگ اور اسکے گرد و نواح میں  شیعوں کی سرپرستی کی۔ قمر الدین نے سیال شریف کے قریبی علاقوں، جیسے شاہ جیونہ، چنیوٹ اور جھنگ میں، ایسے شیعوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے دیکھا جو سنیوں کے ساتھ مناظرے کیا کرتے تھے[77]۔جیسا کہ کتاب ”مذہبِ شیعہ“ مطبوعہ 1957ء میں آیا ہے، ان مناظروں کا بنیادی موضوع مسئلہٴ خلافت ثلاثہ ؓ ہوا کرتا تھا۔ اس کتاب میں قمر الدین سیالوی شیعوں کی طرف سےپیش کئے  جانے والے خلفائے ثلاثہؓ کے کردار، جسے وہ توہین آمیز سمجھتے تھے،  کا تجزیہ انکی اپنی کتابوں جیسے کشف الغمہ، ناسخ التواریخ، اصولِ کافی، اور نہج البلاغہ  کی روشنی میں کرتے ہوئے خلفاء اور حضرت علی کرم الله وجہہ میں مکمل ہم آہنگی کا دعوی ٰکرتے ہیں۔

”روافض“ اور ”مذہبِ شیعہ“

اس پس منظر کو بیان کرنے کے بعد اب ہم شمس الدین سیالوی کی کتاب ”ملفوظات مراۃ العاشقین“میں موجود باب ”روافض“ کو زیر بحث لا سکتے ہیں  جس کا فارسی سے اردو میں ترجمہ غلام نظام الدین مارولوی نے   اور تدوین انکے مرید محمد سعید نےکی۔ اس کے ضابطہ تحریر میں لائے جانے کا زمانہ معلوم نہیں لیکن بظاہر انیسویں صدی کے آخری عشروں کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ کتاب شمس الدین سیالوی کی وفات کے نوے سال بعد 1970ء میں پہلی بار عوام کیلئے چھاپی گئی۔ ایک اور تحریر جس کا جائزہ لینا مقصود ہے، قمر الدین سیالوی کی کتاب ”مذہبِ شیعہ“ ہے جو 1957ء میں شائع ہوئی۔ شیعیت کے پھیلاؤ کے علاوہ ایک اور نکتہ جس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے وہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے حالات کا فرق ہے، اور انگریز دور اور پاکستانی حکومت کے دور میں فرق ان تحریروں میں بھی جھلکتا ہے، جس کا ایک نمونہ بعد میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔انگریز دور ایک ایسا دور تھا جس میں مذہبی احیاء کی تحریکوں میں مقابلہ بازی جاری تھی، جس پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاست کی چھاپ تھی اور اس نے پہلے سنیوں کو احمدیوں کے خلاف لڑایا اور پھر شیعوں کے خلاف، کہ جس کے پس منظر میں اجتماعی زندگی میں مذہب کے کردار کے موضوع  پر زوردار  کشا کش جاری تھی۔

شمس الدین سیالوی کی سیرت پر لکھی گئی کتب، مثلاً”فوز المیقال فی خلفائے پیر سیال“ میں ان کی شیعوں پر تنقید کا ذکر موجود نہیں۔ البتہ انکی ملفوظات میں ”روافض “ کے عنوان سے ایک باب موجود ہے، جو کہ نفرت پر مبنی عنوان ہے۔ عنوان ہی یہ جاننے کیلئے کافی ہے کہ اندر کیا ہو گا، جو بظاہر اصولی شیعوں کی خلفائے ثلاثہؓ پر تنقید کے جواب میں لکھا گیا۔ روافض، رافضی کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے وہ سپاہی  جس نے اپنے سالار کو چھوڑ دیا ہو۔ تاریخی طور پر یہ شیعوں کی اس مخصوص جماعت کے بارے میں استعمال ہوا جنہوں نے حضرت زید بن علی زین العابدینؓ کا ساتھ چھوڑا جب انہوں نے بعض صحابہؓ کے خلاف بولنے سے منع کیا۔ اس کے بعد سے یہ نام ہر اس شخص کو دیا جانے لگا جو اس قسم کا تجاوز کرتا[78]، اور یوں یہ اصطلاح کچھ سنی علماء کی طرف سے شیعوں کیلئے استعمال کی جانے لگی۔ عمومی طور پر رافضہ ان لوگوں کو کہا جانے لگا جو خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا انکار کرتے ہوں۔

ہمارے زیرِ بحث باب کا انداز ہی متنازعہ ہے:شمس الدین اپنے مریدوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں۔ وہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک انسان سب صحابہؓ کو بر حق اور سچا نہ مانے[79]۔ اسی طرح وہ حضرت علی کرم الله وجہہ، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کے حوالے دے کر  ان صحابہ ؓ کے بارے میں اہل تشیع کے منفی موقف کو بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ شمس الدین کے مطابق یہ (شیعہ آئمہ )خلفائے ثلاثہؓ کو محترم سمجھتے تھے۔ انکی جرح کے مطابق  سب صحابہؓ کے تعلقات دوستانہ اور مثالی تھے۔ وہ حضرت علی کرم الله وجہہ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان ہونے والی جنگِ جمل میں حضرت علی کرم الله وجہہ اور حضرت زبیرؓکے درمیان کسی دشمنی کے وجود سے انکاری ہیں[80]۔ اس جنگ میں ان کے کردار  پر شیعہ سخت تنقید کرتے تھے، جس میں حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ نے حضرت عائشہؓ کا ساتھ دیا تھا۔ شمس الدین سیالوی شیعوں کی اس تنقید کو ناجائز سمجھتے ہیں اور حضرت علی کرم الله وجہہ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ طلحہؓ اور زبیر ؓان کے ساتھ جنت میں ہوں گے[81]۔ جب ان سے اس شیعہ عقیدے کے بارے میں سوال کیا گیا کہ حضرت علی کرم الله وجہہ باقی خلفاء ؓ سے افضل ہیں، تو انہوں نے کہا کہ خلفاءؓ میں فضیلت کا درجہ ان کی خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے۔یہ تاکید دراصل چشتی سلسلے میں حضرت علی کرم الله وجہہ کو حاصل مرکزی مقام کو زیرِ سوال لے آتی ہے۔

اس جگہ ہم شروتی کپلا کی طرف سے تشدد کے بارے میں ”برادرانہ عداوت“ کی تعبیر  کے ذریعے   پیش کی گئی نمونہ کاری  کو بروئے کار لا کر شیعہ چشتی عداوت کا معمہ حل کر  سکتے ہیں[82]۔ چشتی اور شیعہ، دونوں حضرت علی کرم الله وجہہ اور اہلبیتؑ سے غیر معمولی لگاؤ کی مشترکہ قلبی میراث رکھنے والے بھائی  تھے۔ چشتیوں کی روحانیت  میں حضرت علی کرم الله وجہہ کا مقام رسول الله ؐکے بعد سب سے بلند تھا۔شمس الدین نے ان کو چوتھے درجے پر گرا کر”معنوی تشدد“ یا  ”خشونتِ مفہومی“ کا ارتکاب کیا ۔ جیسا کہ مراۃ العاشقین میں دعویٰ کیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں  احمد خان بلوچ جیسے کچھ شیعوں کو خواجہ تونسوی نے حنفی مسلک قبول کروا یا[83]۔ یہاں سے پتا چلتا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط تک شیعوں اور چشتیوں میں خلیج کس قدر بڑھ چکی تھی۔ چشتی سلسلے میں حضرت علی کرم الله وجہہ کو دی جانے والی اہمیت اب بہت کم ہو چکی تھی۔ بہر حال، شیعوں کا رد کرنے کے باوجود شمس الدین سیالوی نے ان کو کافر قرار نہیں دیا۔ ان کے ہاں شیعوں کے روافض قرار پانے کی بنیادی وجہ کچھ صحابہؓ کو کم تر رتبہ دینا ہے۔

1957ء میں چھپنے والی  ایک سو پچیس صفحات پر مشتمل خواجہ قمر الدین سیالوی کی کتاب ”مذہبِ شیعہ“ اپنے آپ میں ایک استثناء ہے۔ ملفوظات کے برعکس، یہ سیالوی پیر کی اپنی تحریر تھی۔ اس کا  مرکزی خیال بھی  شیعوں کی طرف سے خلفائے ثلاثہؓ کی گستاخی ہے۔ تاہم وہ بر سبیلِ تذکرہ شیعوں میں تقیہ کی روایت اور ان سے منسوب کئے جانے والے  عقیدۂ تحریف ِقرآن پر جرح کرتے ہیں[84]۔ قمر الدین سیالوی کہتے ہیں کہ شیعہ مسلک کی بنیادیں منتخب احادیث پر قائم ہیں: وہ اکثر صحابہؓ کو صحیح راوی نہیں مانتے اور ان سے روایت کردہ احادیث کو ضعیف سمجھتے ہیں۔ پیر صاحب  کے مطابق شیعی کتب، کچھ  احادیث اور تاریخی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شیعی حدیث یہ کہتی ہے کہ شیعہ عقیدہ نہ رکھنے والے لوگ منافق ہیں۔ اسی طرح ایک روایت یہ ہے کہ جبرائیلؐ سترہ ہزار آیات لے کر آ ئے مگر سنیوں کے نزدیک قرآن کی آیات چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ ہیں[85]( یہاں پیر صاحب بھی آیات کے شمار میں غلطی کر گئے)۔ پھر وہ متعدد آیات اور احادیث کا حوالہ دے کر شیعوں کے مبینہ  موقف کی تردید میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ شیعہ مسلک پر ان کی تنقید،  ان کے شیعیت کے بارے میں گہری دلچسپی  اور سنیوں میں چلنے والے کٹھ ملائیت  کے رجحان سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ بعض اوقات شیعہ کتب سے حوالے دے کر ان کو غلط ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک قول کو پیش کرتے ہیں جس میں  ان کے مطابق حضرت علی کرم الله وجہہ  روافض کے آنے اور ان کے صحابہؓ پر تنقید کرنے کی خبر دیتے ہوئے ان سے جنگ کا حکم دیتے ہیں کیوں کہ وہ  کافر  ہوں گے[86]۔ خواجہ قمر الدین سیالوی کے بیانیے میں جس بات کی   تکرار ہوتی ہے وہ خلفائے راشدین ؓ کا خصوصی اورر صحابہؓ کا عمومی ذکر بار بار کیا جانا ہے۔اس طرح چشتیوں اور شیعوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کا بنیادی نکتہ  صحابہؓ کے بارے میں  شیعوں کا موقف  ہے۔ (مترجم کا نوٹ: یہ کتاب 1790ء میں شاہ ولی الله محدث دہلوی صاحب کے بیٹے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی صاحب  کی جانب سے لکھی گئی  بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب ”تحفہٴ اثنا عشریہ“ میں اٹھائے گئے اعتراضات کی تلخیص معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ انگریز  دور کی اکثر شیعہ مخالف کتب کا معاملہ تھا۔  البتہ خواجہ صاحب کے ہاں بھی  تحفہ اثنا عشریہ کے اعتراضات کے  جواب میں شیعوں کی طرف سے لکھی گئی کتب، مثلاً نزھۃ اثنا عشریہ اور عبقات الانوار ، کے مطالعہ کی کمی صاف ظاہر ہے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارویں صدی میں  دہلی  میں شروع ہونے والے  شیعہ سنی تعصب  کے اثرات پنجاب میں آ چکے تھے۔ نیز یہ کہ اعتراضات اور الزامات  کے جواب میں دوسرے فریق کی طرف سے دی گئی وضاحت کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔  اس قسم کی کتابوں کا مقصد علمی مکالمہ نہیں بلکہ دوسرے فریق کے خلاف نفرت کی  تبلیغ  کرنا معلوم ہوتاہے)۔

اٹھارویں صدی عیسوی سے آگے شیعہ چشتی خصومت ان دونوں فرقوں کے ہاں خلفائے ثلاثہؓ کے بارے میں موقف کے اختلاف پر منحصر رہی ہے۔ چشتی پیروں نے شیعوں کی مخالفت میں اپنے بنیادی نظریات سے انحراف کیا، جو اپنی اصل میں فرقہ وارانہ مقاصد سے بلند تھے۔ چشتی تشکیلِ نو کے آغاز کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بڑوں نے ہمہ گیریت کو ترک کر کے  بنیادی متون کی نئی تفہیم کی روشنی میں اپنے نظریات تبدیل کئے۔سیالوی پیر اس رجحان کا ایک نمونہ ہیں کہ جس میں(طریقت کے بجائے)  شریعت نے  چشتی نظامِ اعتقاد میں مرکزی حیثیت حاصل کر لی۔پنجاب میں اصولی شیعیت کے پھیلاؤ نے فرقہ وارانہ اختلاف کو بھڑکایا۔ یہ پیشرفت کئی طریقوں سے ہوئی، جن میں سے ایک قمر الدین سیالوی کا شیعوں کے خلاف تعصب ہے جو کہ مذہبِ شیعہ نامی کتاب میں بیان ہوا۔

نتیجہ

اس مقالے میں بارہویں صدی  عیسوی سے ماضی قریب تک کے  شیعہ – چشتی  تعلقات کی مشکل پہیلی کو حل کرنے  کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کہانی مشترکہ سرچشمے سے وابستگی سے شروع ہو کر مکمل اجنبیت پر ختم ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان سرد مہری کا آغاز انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ اٹھارویں صدی میں شروع ہونے والے  مذہب کی تشکیلِ نو کے رجحان نے دونوں فرقوں کو متاثر کیا، اور فرقہ وارانہ پہچان  کے نمایاں ہونے کا باعث بنا۔ سیالوی پیروں کی شریعت سے مصمم وابستگی نے انھیں بنیادی متون کو اپنی درگاہوں پرپڑھائے جانے والے  نصاب کا حصہ بنانے پر مجبور کیا۔ یہ چشتی پیروں کو مذہب کی پاک سازی کرنے والوں  (وہابیوں) کے قریب لانے والے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تھا۔ لہذا یہ  ظاہرپسند تطہیرِ مذہب کا جذبہ تھا جس نے چشتی نظریے کو  متاثر کیا اور باطنی ہم آہنگی  پر توجہ دینے والے وحدت الوجود کے فلسفے سے دور کیا۔

       (Title of Original Research Paper is :

  1. Kamran and A. K. Shahid, “Shari’a, Shi’as and Chishtiya Revivalism: Contextualising the Growth of Sectarianism in the Tradition of the Sialvi Saints of the Punjab“, Journal of the Royal Asiatic Society, 24(3), 477–492, ((2014.

حوالہ جات

  1. Francis Robinson, “Islam and Muslim History in South Asia” (New Delhi, 2000), p. 234.
  2. Athar Abbas Rizvi, “A History of Sufism in India (New Delhi, 1975)”, i, p. 115; M. Mujeeb, The Indian Muslims (London, 1967), p. 116.
  3. The literal meaning of sajjada nashin is the one who sits on the prayer carpet. Generally, it denotes the hereditary heir of a pir who ipso facto assumes the role of a denomination’s spiritual head. David Gilmartin, “Empire and Islam: Punjab and the Making of Pakistan” (London, 1988), p. 42.
  4. Carl W. Ernst and Bruce Lawrence, “Sufi Martyrs of Love: The Chishti Order in South Asia and Beyond” (New York, 2003), p. 2.
  5. Tanvir Anjum, “Chishti Sufis in the Sultanate of Delhi: 1190–1400” (Karachi, 2011), p. 7.
  6. N. R. Rizvi, “Shi’ism and Sufism: Polemics and Identity Formation under the Nawabs of Awadh”, in The Islamic Path: Sufism, Society and Politics in India, (eds.) Saiyid Zaheer Husain Jafri and Helmut Reifeld (New Delhi,  2006), p. 382.
  7. Justin Jones, “Shi‘a Islam in Colonial India: Religion, Community and Sectarianism” (Cambridge, 2012), p. 5.
  8. Khawja Abu ‘Ishaq Shami originally belonged to Syria but moved to Chisht near Herat in Khurasan province at the behest of his spiritual guide Khwaja Alu of Dinawar. On the advice of his spiritual guide, ‘Ishaq Shami adopted the soubriquet ‘Chishti’. Anjum, “Chishti Sufis in the Sultanate of Delhi”, pp. 93–94.
  9. For Shaikh-al Akbar’s life and thoughts, see William Chittick, “The Sufi Path of Knowledge: Ibn-al Arabi’s metaphysics of imagination”, (Albany, 1989).
  10. Rizvi, “A History of Sufism in India”, i, p. 103.
  11. Moin Nizami, “Reform and Renewal in South Asian Islam: The Chishti-Sabris in 18th to 19th Century North India”, unpublished PhD Thesis, 2010, University of Cambridge, p. i.
  12. It is noteworthy that he cites zikr formulas in Punjabi and Hindi, such as the following, attributed to Farid-ud-din: “Say wuhi hi upwards, hi hi to the left side of the breast, hin hi toward the heart”. See Nizam al-Din Awrangabaadı, “Nizam-al-qulub” (Delhi, 1309/1891–2), p. 30, cited in ibid., pp. 32–34.
  13. Raziuddin Aquil, “Music and Related Practices in Chishti Sufism: Celebrations and Contestations”, Social Scientist 40, (March-April 2012), p. 19.
  14. For Nizam-ud-din Auliya’s life sketch, see Rizvi, “A History of Sufism in India”, i, pp. 154–163.
  15. Richard Eaton, “The Political and Religious Authority of the Shrine of Baba Farid”, in India’s Islamic Traditions:711–1750, (ed.) Richard Eaton (Delhi, 2003), p. 264.
  16. Moin Nizami, “Reform and Renewal in South Asian Islam”, p. 57.
  17. Usha Sanyal, “Devotional Islam and Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barewli and his Movement,1870–1920” (Delhi,1996).
  18. Fazlur Rahman, “Islam” (Chicago, 1979 [1966]), pp. 205–211; Julia A. Clancy-Smith, “Rebel and Saint: Muslim Notables, Populist Protest, Colonial Encounters (Algeria and Tunisia, 1800–1904)” (Berkeley, 1997).
  19. Khaliq Ahmed Nizami, “Tarikh-i Masha’ikh-i Chisht”, (Karachi, 2007),v, pp. 278–280.
  20. Muhammad Suhbat Khan Kohati, “Faroog-i ‘ilm main Khanwada-i Siyal Sharif aur un ke Khulfa ka Kirdar” (Karachi, 2010), pp. 60–61.
  21. John Ralph Willis, “Jihad fi Sabil Allah: Its Doctrinal Basis in Islam and Some Aspects of Its Evolution in Nineteenth-Century West Africa”, The Journal of African History 8, 3 (1967), pp. 395–415.
  22. With Sulaman Taunsawi, Khawja Muhammad ‘Aqil of Kot Mithan and Hafiz Muhammad Jamal of Multan, Chishti pirs came to epitomise the Islamic revivalist streak, which seemed to have lent an exclusionary character to Taunsawi and his successors despite their Chishtiya denomination. The pirs of Golra Sharif and Sial Sharif were disciples of Taunswi.
  23. James Wilson, “Shahpur District Gazetteer (Lahore, Government of the Punjab Printing, 1897)”, p. 87.
  24. Khwaja Zia-ud-din was an ardent supporter of the Khilafat movement. Hence he had extremely cordial relations with Deobandi ‘ulama, as was evident from the welcome accorded to him by several ‘ulama including Anwar Shah Kashmiri on his visit to Deoband in 1927. See Murid Ahmad Chishti, “Fauz-ul-Miqal fi Khulfa-i Pir-i Siyal”, (Jhelum, n.d), iii, p. 245.
  25. Sipah-i-Sahabah Pakistan came into existence in September 1985 in District Jhang. Local cleric Haq Nawaz Jhangvi was its first leader. Campaigning against Shi‘ism was the central postulate of the SSP. For a detailed account of the SSP, see Vali Reza Nasr, “The Rise of Sunni Militancy in Pakistan: The Changing Role of Islamism and the Ulama in Society and Politics”, Modern Asian Studies, 34, 1, (Feb., 2000), pp. 139–180; Muhammad Qasim Zaman, “Sectarianism in Pakistan: the Radicalization of Shi‘i and Sunni Identities”, Modern Asian Studies, 32,3, (Jul., 1998), pp. 689–716.
  26. Fakhir-ud-din Dehlavi was born at Aurangabad. He was a khalifa of Shah Kalim Ullah Shahjahanabadi (1650–1729), a much acclaimed protagonist of Chishtiya revivalism. For his biographical account, see S. Athar Abbas Rizvi, “Shah Waliullah and His Times (Canberra, 1980)”, p. 376; Nizami, “Tarikh-i Masha’ikh-i Chisht”, pp. 451–496; Ernst and Lawrence, “Sufi Martyrs of Love”, p. 109.
  27. David Gilmartin, “Religious Leadership and the Pakistan Movement in the Punjab”, Modern Asian Studies13, 3 (1979), p. 488.
  28. Khwaja Noor Muhammad was the prominent khalifa of Fakhir-ud-din Dehlavi. He received his early instruction at Lahore and then proceeded to Delhi for higher esoteric learning from Fakhir-ud-din. Later on, at the persuasion of his teacher (murshid) he came to Muhar (Bahawalpur) and settled there. Muhar in due course became the centre of Chishtiya activity. For further details, see Nizami , “Tarikh-i Masha’ikh-i Chisht” (Lahore, 2007), v, pp. 210–234, and Qazi Javaid, “Punjab ke Sufi Danishwar” (Lahore, 2005), pp. 201–219.
  29. Nizami, “Tarikh-i Masha’ikh-i Chisht”, v, p. 211.
  30. Zammer ud din Siddique, “The Resurgence of the Chishti Silsilah in the Punjab during the Eighteenth Century”, Proceedings of the Indian History Congress 1970 (New Delhi, 1971), i, p. 408. Also see Liyaqat Hussain Moini, “Devotional Linkages of Punjab with the Chishti Shrine at Ajmer: Gleanings from the Vikalatnamas”, in Sufism in Punjab, (eds.) Surinder Singh and Ishwar Dayal Gaur, pp. 379–382; Sanyal, “Devotional Islam”, pp. 46–47.
  31. Siddiqi, “The Resurgence”, p. 410.
  32. Nizami, “Tarikh-i Masha’ikh-i Chisht”, pp. 26–48.
  33. Siddiqi, “The Resurgence”, p. 409.
  34. Zakir Hussain, “Tazkira-i Chishtiya Shamsiya”, (Lahore,2003), p. 511.
  35. Siddiqi, “The Resurgence”, p. 409.
  36. Qazi Javed, “Hindu-Muslim Tehzib”, (Lahore, 1983), pp. 354–356.
  37. Ayesha Jalal, “Post-Orientalist Blues: Cultural Fusion and Confusion”, The Indian Economic and Social History Review, 27, (Jan-March 1990), p. 113.
  38. Sanyal, “Devotional Islam”, p. 46.
  39. Barbara Daly Metcalf, “Islamic Revival in British India: Deoband 1860–1900”, (New Delhi, 1986), p. 140.
  40. He therefore exhorted his disciples to play their part in the political situation of the Punjab when Multan was threatened by successive Sikh attacks. Siddiqi, “The Resurgence”, p. 410.
  41. Such texts as Ahya-ul-‘Ulum, Fatuhat-i Makkiya, Awari-ul Mu‘arif, Kanz-ud-Daqa’iq and Kafiya were being taught there. Rizvi, “A History of Sufism in India”, ii, p. 312.
  42. Nader Hashemi, “Islam, Secularism and Liberal Democracy: Toward a Democratic Theory for Muslim Societies”, (New York, 2009), p. 39.
  43. Rizvi, “A History of Sufism in India”, ii, p. 314.
  44. For overall impact of reform movements, see Kenneth Jones, “Socio-Religious Reform Movements in British India”, (Cambridge,1989), and for particular reference to the Punjab see Ian Talbot, “Punjab and the Raj”, (New Delhi, 1988).
  45. Sayyed Muhammad Saeed, “Mira’t-ul ‘Ashiqeen”, (Lahore, 2006), p. 18.
  46. Zakir Hussain, “Tazkira-i Chishtiya Shamsiya”, p. 511.
  47. Gilmartin, “Religious Leadership”, p. 492.
  48. Ghulam Ahmad Sialvi, “Anwar-i Qamariya”, (Lahore, 2002), pp. 278–279.
  49. For the Ahmadiya Movement, see Spencer Lavan, “The Ahmadiya Movement: A History and perspective” (New Delhi, 1974), and Yohanan Friedmann, “Prophecy Continuous: Aspects of Ahmadi Religious Thought and its Medieval Background”, (New Delhi, 1988).
  50. Shorish Kashmiri, “Tarikh-i Khatam-i Nubuwwat”, (Lahore, 1972), pp. 48–60.
  51. Mureed Ahmad Chishti, “Fauz al-Miqal fi Khulf-i Pir Siyal”,v (Karachi, 2008).
  52. Shi‘as consider only those hadith authentic that have been transmitted through the members of ahl-i bait (family of the Prophet) whereas for Sunnis numerous close companions of the Prophet are legitimate transmitters, such as Abu Hurairah, ‘Abdullah bin ‘Umar and Ayesha, the Prophet’s wife. However, Shi‘i tradition rejects the authenticity of these ahadith, accepting them only when their text is similar to that narrated by any member of ahl-i bait whom Shi‘as regard the only legitimate source. See Jasser Auda, “Maqasid Al-Shariah as Philosophy of Islamic Law: A Systems Approach”, (London, 2008), p. 86.
  53. Jamal Malik, “Muslim Culture and Reform in Eighteenth-Century South Asia”, Journal of Royal Asiatic Society Series 3, 13 (2003), pp. 230–235.
  54. Azam Qasmi, “Sufism and the Founders of Deoband: A Study of Their Understanding and Responses”, in The Islamic Path: Sufism, Society and Politics in India, (eds.) Saiyid Zaheer Husain Jafri and Helmut Reifeld (New Delhi, 2006), p. 346.
  55. Muhammad Qasim Zaman, “Studying Hadith in a Madrasa in the Early Twentieth Century”, in Islam in South Asia in practice, (ed.) Barbara D. Metcalf (New Delhi, 2009), p. 226.
  56. Francis Robinson, “Strategies of Authority in Muslim South Asian in the Nineteenth and Twentieth Centuries”, Modern Asian Studies, 47 (January 2013), pp. 1–21.
  57. Moin Nizami, “Reform and Renewal in South Asian Islam”, p. 265.
  58. In the late nineteenth and early twentieth century, administrators in religious schools stressed the study of hadith. For more on this, see Zaman, “Studying Hadith”, pp. 225–239.
  59. Robinson, “Strategies of Authority”, p. 4.
  60. Nur-i Muhammadi is the idea that there was a light of Muhammad, derived from God’s own light, which had existed from the beginning of creation. Metcalf, Islamic Revival in British India, pp. 300–312.
  61. An Iranian émigré Mir Muhammad Amin Nishapuri Sa‘adat ‘Ali Khan Burhan-ul-Mulk (died in 1739) founded Shi‘i rule in Awadh in 1722 with Faizabad as its capital. Mirza Muhammad Muqeem Abul Mansur Khan Safdarjang (died in 1753) and Shujah-ud Daula became Nawabs respectively. For details, see Juan R.I. Cole, “Roots of North Indian Shi’ism in Iran and Iraq: Religion and State in Awadh, 1722–1859” (Berkeley, 1988), pp. 40–55.
  62. Athar Abbas Rizvi, “A Socio-Intellectual History of the Isna-Ashari Shi‘is in India”, ii (New Delhi, 1986), p. 72.
  63. Rizvi, “Shi’ism and Sufism”, p. 382; Cole, “Roots of North Indian Shi’ism”, pp. 152–157.
  64. Makhdum Jahaniyan Shaikh Jalal-ud-din Bukhari was Suhrwardiya Sufi. He settled in Uch, a town in South Punjab. He had taken an oath of allegiance with Baha-ul-Haq Zakariya Multani (died in 1335 A.D). See for further detail, Javed, “Punjab Key Sufi Danishwar”, pp.102–119.
  65. Rizvi, “A Socio-Intellectual History of the Isna-Ashari Shi‘is”, ii, p. 72. Tafdiliya refers to those Sunnis who proclaim their belief in Imam ‘Ali’s superiority (tafdil) over the other claimants to the Caliphate while not disputing the legitimacy of the three leaders who preceded ‘Ali in the office.
  66. Ibid, pp. 332–334.
  67. Hasan, “Sectarianism in Indian Islam”, p. 224. For Abu Qasim, see Akhter Rahi, “Tazkira-i ‘Ulama-i Punjab”, I (Lahore, 1998), pp. 51–52.
  68. Rizvi, “A Socio-Intellectual History of the Isna-Ashari Shi‘is”, ii, p. 333.
  69. Gazetteer of Jhang District 1883–84, p. 50. Drawing on the Census of 1881, it states that the total number of Muslims in the district was 326,919, among whom 11,835 were Shi‘i and only eight Wahhabis.
  70. Gazetteer of Jhang District 1929 (Lahore, 2000), p. 69.
  71. Siddiq Sadiq, “Jhang: The Land of Two Rivers” (Jhang,2002), pp. 217–218.
  72. Shi‘i activists were sent to Lucknow at the behest of Mubarak ‘Ali Shah, a leading member of the Shah Jiwana clan. Bilal Zubairi, “Tarikh-i Jhang” (Jhang, 1973), p. 371; Siddiq Sadiq, “Jhang”, pp. 237–238.
  73. Mureed Ahmad Chishti, “Fauz al-Miqal fi Khulf-i Pir Siyal”, iv (Karachi, 1989), pp. 560–561.
  74. Edward William Lane, “An Arabic-English Lexicon”, iii (Beirut, 1968), p. 1121. According to Qamar-ud-din Sialvi, Zeyd was the son of Zain-ul ‘Abideen. See Qamar-ud-din Sialvi, “Mazhab-i Shi‘a” (Lahore,2011), p. 39.
  75. Saeed, “Mira’t-ul‘Ashiqeen”, p. 183.
  76. Jang-i-Jamal took place in 656 AD, in Basra. Talha and Zubair were close companions of the Prophet and sided with Ayesha in the battle of Camel against ‘Ali; both were killed.
  77. This conception of ‘fraternal enmity’ invokes the primacy of violence as a means of transformation of the meaning and practices of the political in India and asserts that violence, whether conceptual or otherwise, was of meaning only when directed against the intimate. See Shruti Kapila, “A History of Violence”, Modern Intellectual History,7, 2 (August 2010), pp. 437–457.
  78. Saeed, “Mira’t-ul‘Ashiqeen”, pp.183–184.
  79. Sialvi, “Mazhab-i Shi‘a”.
  80. , pp. 20–26.
  81. , p. 41.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here