ترک افواج کے نام نہاد’بہارامن آپریشن’ سے شمالی شام کے دو صوبوں رقہ و حسکہ سے ایک لاکھ افراد بے گھر ہوگئے

امریکی فوجی دستوں کی رخصتی اور ترک افواج کی آمد

 

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے شمالی شام میں کرد ملیشیاء ‘سیرین ڈیموکریٹک فورسز'(ایس ڈی ایف) کو ختم کرنے کے نام پر فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے۔ اس فوجی کاروائی کو ترکی نے ‘بہار امن آپریشن’ کا نام دیا ہے۔ آج ترکی کی شمالی شام میں کرد اکثریتی علاقوں پر ہلکے توپ خانے، آرٹلری اور جیٹ طیاروں کے ساتھ کاروائی کا چوتھا روز ہے۔

اب تک ترکی کے اپنے سرکاری زرایع کے مطابق 313 افراد اس کاروائی میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں-

ایک کرد خاتون اپنے بیٹے کی لاش پر بیٹھی نوحہ کناں ہے-راس العین شمالی شام کا سرحدی شہر

ترک افواج شمالی شام کے دو بڑے صوبوں الحسکہ اور الرقہ کے اندر ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں کو زمینی اور فضائی حملوں کے زریعے نشانہ بنارہی ہیں۔

 

برطانوی روزنامہ گارڈین کے نمائندے مارٹن شولوف جوکہ نارتھ-ایسٹ شام میں کردوں کے خلاف ترک افواج کی کاروائی پر رپورٹنگ کررہے کے مطابق شمالی شام میں ترک سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر رآس العین اور اس کے گرد و نواح میں ترک افواج کی کاروائی سے نہ صرف ایس ڈی ایف کے لوگ بشمول مرد اور عورتیں نشانہ بنے ہیں بلکہ عام سویلین بھی اس کاروائی کی زد میں آئے ہیں۔

 

 

یواین ورلڈ فوڈ پروگرام نے دعوی کیا ہے کہ ترک افواج کی  کاروائی کے آغاز سے حسکہ اور الرقہ سے 70 ہزار لوگ اب تک بے دخل ہوکر جنگ سے محفوظ علاقوں کی طرف گئے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر داخلی ہجرت سے ایک نیا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔

 

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی انگریزی آفیشل ویب سائٹ پر ظاہر ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک لاکھ لوگوں کے شمالی شام کے صوبوں رقہ اور حسکہ سے فرار ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔

 

ترک افواج کی شمالی شام کے علاقوں پر حملے کی عالمی سطح پر سخت تنقید ہورہی ہے۔ لیکن ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپ نے تنقید بند نہ کی تو وہ ترکی میں پڑے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ جانے کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں گے۔

 

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے ‘بہارامن آپریشن’ کے نام سے شمالی شام میں فوجی کاروائی کرنے کا اعلان اس وقت کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ کے زریعے شامی کرد اکثریت کے علاقوں سے اپنی افواج نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس اعلان کو پوری دنیا میں شامی کردوں سے غداری سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ خود امریکہ میں کانگریس اور سینٹ کے ڈیموکریٹ اور ری پبلکن اراکین کی جانب سے بھی سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے حمایتی  سینٹرز لنڈسے گراہم اور مارکو روبیو نے بھی اسے غداری اور بے وفائی سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن روسی جریدے سپوتنک کی آفیشل ویب سائٹ پر معروف برٹش صحافی فینان کننگ ہام جوکہ سیرنا شم ایوارڈ برائے 2019ء کے لیے بھی اہل قرار پائے ہیں نے ایک مضمون میں لکھا ہے

‘امریکی عزت و وقار کو صدر ٹرمپ کے شام سے افواج بلانے کے اعلان سے داغ لگ جانے والی تنقید بے کار ہے،کیونکہ امریکہ نے تاریخ میں کئی بار کردوں سے دغا اور بے وفائی کی ہے۔’

 

کننگ ہام لکھتا ہے

 

تاریخی اعتبار سے امریکہ کو جو حکومتیں پسند نہیں ہوتی تھیں، ان کے خلاف کردوں کو اس نے کئی بار اپنی پراکسیز کے طور پر درج کیا، اور جیسے ہی اس کے نزدیک امریکن مفادات کے اعتبار سے وہ بے کار ہوگئے تو ان کو بے حسی سے اپنے سے الگ کردیا۔

کننگ ہام 70ء کی دہائی میں شاہ ایران کے ایما پر عراق میں صدر عبدالکریم کے خلاف کردوں کو استعمال کرنے اور پھر جب عراق اور ایران کے درمیان 1975ء میں باہمی مفاہمت ہوئی تو دونوں ممالک کے رحم و کرم پر کردوں کو چھوڑ دیا گیا۔ ایسے ہی 1990ء میں جب بش سینئر نے عراق پر اپنے سابقہ حلیف صدام حسین پر حملہ کیا تو کردوں کو ایک بار پھر ٹشو پیپر کی طرح استععمال کیا اور بعد ازاں ان کو صدام حسین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور اس نے کردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیا۔

 

کننگ ہام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک عشرے تک شام میں بشار الاسد کی حکومت کو ہٹانے اور اس کی جگہ اپنی کٹھ پتلیوں کو لانے کے لیے جو پراکسی وار شروع کی تھی، شامی کردوں کو بھی بطور آلہ کار استعمال کیا اور ان کو شام کے اندر ایک خودمختار یا بطور ایک آزاد ملک کے جو سپنے دکھائے تھے وہ فریب اور جھوٹ تھے۔

 

خطے میں ‘جنگ مخالف’ قوتیں شامی کردوں کو مشورہ دے رہی ہیں کہ ان کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی غداری اور بے وفائی سے سبق سیکھتے ہوئے ایک طرف تو شام کے صدر بشار الاسد سے آبرومندانہ تصفیہ کی تلاش کرنی چاہئیے اور دوسری طرف خطے سمیت پوری دنیا میں امریکی اسٹبلشمنٹ کی دوسرے ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی فوجی مداخلتوں کی مخالفت کرنے والی قوتوں کے ساتھ اشتراک بڑھانا چاہئیے۔ شام کے کرد اگر شام میں بسنے والے دیگر نسلی و مذہبی گروہوں کے ساتھ اپنی جڑت بناکر چلنے کا فیصلہ کرلیں گے تو ان کی نسل کشی اور ان پر قومی جبر کا جاری سلسلہ رک جانے کا بہت امکان ہے۔

 

ترک صدر رجب طیب اردوگان کی طرف سے شامی کردوں کے خلاف حالیہ فوجی جابرانہ کاروائی شام میں امن اور شام کی قومی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ ترک صدر شام کے خلاف امریکی رجیم بدلو پالیسی کے تحت پراکسی جنگ کے نہ صرف حامی تھے بلکہ انہوں نے ترکی کی سرحد سے دنیا بھر سے آئے تکفیری جہادی دہشت گردوں کو شام میں داخل کیا اور ان کو اسلحہ و دیگر وسائل بھی فراہم کیے۔ پاکستان سے جو چار ہزار کے قریب لوگ مختلف شہروں سے شام میں داعش کے ساتھ ملکر جنگ میں شریک ہوئے، انہوں نے بھی شام میں داخلے کے لیے ترکی کا انتخاب کیا تھا۔ ترک صدر امریکہ کے خلاف اس وقت ہوئے جب ان کے خلاف ہونے والی ناکام فوجی سازش میں امریکی سی آئی اے کے مبنیہ ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے اور ترک صدر کو یہ احساس ہوا کہ امریکہ ان کے خلاف فتح اللہ گولن کی تحریک کو سپورٹ کررہا ہے۔

 

ترک صدر سمیت ترکی کی جتنی بھی سیاسی و فوجی غالب حکمران اشرافیہ ہے وہ شامی کرد ملیشیا ایس ڈی ایف کو کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کا حصّہ خیال کرتی ہے جو ترکی کے کرد اکثریت علاقوں میں آزاد کردستان کے قیام کے لیے برسر پیکار ہے اور اسے ترکی نے دہشت گرد تنظیموں میں شامل کررکھا ہے۔ ترک علاقوں میں کردوں پر جبر اور ظلم کی ایک طویل داستان ہے۔

 

کرد عوام ترکی،شام، عراق اور ایران میں واصخ قومیتی تشخص کے حامل علاقوں میں بستے ہیں اور ان کی سیاسی جماعتوں کا حتمی آدرش اور نصب العین آزاد کرد ریاست یا ریاستوں کا قیام ہے۔

 

سلطنت عثمانیہ کی پہلی جنگ عظیم کے بعد تقسیم کے لیے ہونے والے سکائی-پائیکوٹ معاہدے سے لیکر معاہدہ سیورز تک میں عالمی سامراجی قوتوں بشمول برطانیہ، فرانس، اٹلی، روس  نے کردوں کو آزادی دینے اور ان کا الگ ملک بنانے کے وعدے کیے لیکن معاہدہ لاوزین 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کی حتمی تقسیم کے وقت اتا ترک کمال کی قیادت میں چل رہی ترک نیشنلسٹ تحریک کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور کردوں کی آزاد ریاست کا منصوبہ ترک کردیا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here