نیوز ڈیسک: روسی جریدے سپوتنک نے جرمن نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بیس ہزار کردوں نے جرمنی کے مختلف شہروں میں مظاہرے کرتے ہوئے ترک افواج کے شام میں کردوں کے خلاف جارحیت پر سخت احتجاج کیا۔
زیڈ ڈی ایف کے مطابق ہفتے کے روز دس ہزار لوگوں کی احتجاجی ریلی کولون میں، چار ہزار افراد کی فرینکفرٹ میں اور تین ہزار سے زائد ہمبرگ اور ہانور میں ہوئی۔ جبکہ بریمن، برلن اور ساروبریکن میں چھوٹے پیمانے پر احتجاج ہوا۔
احتجاجی مظاہرین نے ترکی پر حملے روکنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا اور شامی کردستان کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔
جرمن پولیس نے مظاہرین کو تبنیہ کی تھی کہ ریلیوں کے دوران کردستان ورکرز پارٹی کے جھنڈے لیکر مت آئیں جو کہ ترکی اور جرمنی میں کالعدم جماعت ہے۔ جبکہ کالعدم جماعت کے بانی سربراہ عبداللہ اوکلان کی تصاویر لانے سے منع کیا تھ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here