(تجزیہ: انجنئیر ذوہیب سید) پاکستانی اور ترک حکام نے تصدیق کی ہے کہ 23 اکتوبر،2019ء کو ترک صدر طیب رجب اردوگان پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ترک صدر کا دورہ پاکستان ایک ایسے موقعہ پر ہورہا ہے جب ترک صدر کے حکم سے ترک افواج نے شامی کردستان پر ‘آپریشن بہار امن’ کے نام سے حملہ شروع کررکھا ہے۔ اس حملے میں اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق درجنوں شامی کرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں- ایک لاکھ سے زیادہ شام کے صوبوں رقہ اور حسکہ سے لوگ فرار ہوچکے ہیں۔
یورپ، روس ، ایران، شام سمیت پوری دنیا ترکی کی شامی کردستان پر حملوں کی مذمت کررہی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک اور باہر کی دنیا سے شامی کردستان سے افواج کو نکالنے کے اعلان پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
پوری دنیا میں آباد کرد باشندے ترکی کی شامی کردستان پر جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ ترکی میں کمیونسٹ پارٹی کے احتجاج کو ترک سیکورٹی فورسز نے بری طرح سے کچل دیا اور درجنوں ترک کمیونسٹ مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
پاکستان میں ترکی کی شامی کردستان پر بمباری اور زمینی آپریشن پر تاحال کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے باقاعدہ کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اس کاروائی کے جواز اور خلاف بحث شروع ہوچکی ہے۔

پاکستانی لیفٹ

پاکستانی لیفٹ کی روایت یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ دنیا بھر میں مجبور و محکوم اقوام کی تحریکوں کی حمایت کی ہے۔ اور کردوں کی تحریک کی حمایت بھی اس کا ہمیشہ سے وصف رہا ہے۔ لیکن جب سے لیفٹ کمزور ہوا ہے تب سے اس حوالے سے شہروں میں احتجاج کی روایت کمزور پڑتی جارہی ہے۔

جدوجہد ڈاٹ کام کے نام سے چل رہے ایک سوشلسٹ ویب جریدے نے ترکی کے کردوں کے خلاف اقدام کی مذمت کی ہے۔ لیکن اس جریدے کو چلانے والی ٹیم جس نے حال ہی میں لیفٹ کی ایک چھاتہ سیاسی پارٹی ‘عوامی ورکرز پارٹی’ سے الگ ہوکر ‘انقلابی سوشلسٹ موومنٹ’ کے نام سے گروپ بنایا ہے جس میں زیادہ تر وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیفٹ اور این جی اوز کے لوگ شامل ہیں نے ابتک اس حوالے سے کسی مظاہرے اور احتجاج کا اعلان نہیں کیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے نام سے کام کرنے والے ایک گروپ نے جو سندھ مں چھوٹی سی پاکٹ رکھتا ہے ترک جارجیت پر ردعمل دیا ہے لیکن احتجاج کی خبر ابتک نہیں ملی۔
دیکھنا یہ ہے کہ آیا پاکستان میں لیفٹ اور سوشلزم کے نام پر کام کرنے والے درجن بھر چھوٹے بڑے گروپ ترک صدر کی پاکستان آمد پر کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔

سنٹر لیفٹ، سیکولر لبرل اور قوم پرست

پاکستان میں سنٹر لیفٹ کی سب سے بڑی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔ اس کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے اپنے زیر کنٹرول کشمیری علاقوں میں کرفیو لگانے اور انسانی حقوق کی پامالی پر کافی جارحانہ بیانات دیے ہیں اور اس حوالے سے کشمیر جاکر جلسے جلوس بھی کیے – لیکن شامی کردستان پر ترکی کے حملوں کے بعد سے ابتک ان کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتیں جو کردوں کو اپنا حصّہ خیال کرتی ہیں نے بھی ابتک اس معاملے پر زبان بند کر رکھی ہے۔ جبکہ صوبہ خیبرپختون خوا میں سیکولر پشتون قوم پرست جماعت اے این پی اور بلوچستان میں پختون پٹی پر سرگرم پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نے بھی اس معاملے پر کوئی باقاعدہ سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے۔ اور یہی پوزیشن پختون حقوق کے لیے سرگرم تحریک پی ٹی ایم کی ہے۔

دایاں بازو

پاکستان میں دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعتیں اور سنٹر رائٹ کی جماعتوں کا عام طور پر ترک سیکولر نیشنل ازم کے خلاف تو رویہ معاندانہ رہا ہے لیکن انھوں نے جس طرح سے پاکستان میں قومیتوں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری کی تحریکوں اور ان کے حقوق کے مطالبات کے خلاف اپنا وزن اکثر وبیشتر سخت گیر مرکزیت کی حامی قوتوں کے حق میں ڈالا،ویسے ہی انھوں نے مڈل ایسٹ، افریقہ سمیت مسلم اکثریت کے علاقوں میں قومیتی حقوق کی تحریکوں کو کبھی سپورٹ نہیں کیا۔
جماعت اسلامی پاکستان نجم الدین اربکان سے لیکر رجیب طیب اردوگان تک ترکی میں پان اسلامسٹ تحریک اخوان المسلمون کے فرنٹ کو سپورٹ کرتی آئی ہے اور اس نے ترکی کے اندر اور باہر مظلوم و مجبور اقوام پر ترک جارحیت پر کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ اور اب بھی اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی۔
جمعیت العلمائے اسلام- ف بلوچ اور پختون قوم پرستوں اور وہاں کی بائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ 60ء اور 70ء کی دہائی میں عراق میں بعث ازم، مصر میں ناصرازم کو تو سپورٹ کرتی رہی لیکن اس نے کبھی کردوں کی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردانہ رویہ نہیں دکھایا۔ اور آج بھی اس سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس جماعت کے سربراہ نے نواز شریف دور میں یمن پر پاکستانی عوام کے اندر سعودی اقدام کے لیے چلائی جانے والی مہم کے دوران سعودی حکام کی شرکت کو خوش آمدید قرار دیا تھا اور سعودی جنگ کی حمایت بھی کی تھی۔
دیوبندی فرقے کی دیگر سیاسی مذہبی جماعتیں بشمول سمیع الحق گروپ، قادری گروپ، نظریاتی گروپ ، سپاہ صحابہ وغیرہ بھی ترک صدر رجب طیب اردوگان اور سعودی وہابیت کے فرقہ وارانہ رنگ کی حامی رہی ہیں اور یہ کھل کر سعودی عرب کی عراق، یمن اور شام میں مداخلت کی حامی رہی ہیں۔
پاکستان میں شیعہ مذہبی سیاسی جماعتیں بشمول مجلس وحدت المسلمین، تحریک جعفریہ و دیگر اگرچہ شام میں بیرونی مداخلت کے خلاف رہیں اور یمن پر سعودی جنگ کے خلاف ان کا موقف واضح رہا ہے لیکن ان کی طرف سے شامی کردستان پر ترک افواج کی جارحیت کے خلاف کوئی باقاعدہ سرکاری موقف دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ بلکہ اس کے حامی ترک جارحیت سے بچنے کے لیے شامی کردوں کو اپنے حقوق کے مطالبات سے دست بردار ہوکر اپنےعلاقے شامی صدر بشار الاسد کے حوالے کردینے کی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔
دائیں بازو کی سنٹر رائٹ بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور سربراہ میاں شہباز شریف تو ترک صدر رجیب طیب اردوگان کے زبردست فین اور ان کے معاشی ماڈل کو پاکستان کے اندر نافذ کرنے والوں میں سے ہیں۔ ان کی جانب سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ترک صدر کی کردوں کی نسلی صفائی کے منصوبے پر کوئی حرف مذمت نکالیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے نزدیک ترک صدر سے بڑا مسلم امہ کا بڑی خیر خواہ موجود نہیں ہے۔ وہ ایک طرف سعودی ولی عہد شہزادے کی پاکستان آمد پر ان کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہیں تو اب وہ کیا کریں گے؟

پاکستان میں مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بڑی سپانسر شپ کے ساتھ سیکولر ازم اور لبرل ازم کے جملہ حقوق اپنے نام ہونے کے بڑے دعوے دار جن کی اکثریت نواز شریف کو لبرل آئیکون اور امریکیوں کی بڑی مداح ہے مڈل ایسٹ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی اور تکفیری و جہادی اور نام نہاد لبرل پراکسیوں کے زریعے سے ممالک کو عدم توازن، خانہ جنگی، فرقہ واریت، نسل پرستانہ قسادات کی طرف دھکیلنے کے عمل کو ‘انقلاب اور جمہوریت’ کی طرف پیش رفت قرار دیتی آئی ہے اور پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی موقعہ پرستیوں اور جنگ کی حمایت کرنے کے عمل کو اچھا بناکر دکھاتی رہی ہے کردوں کے سوال پر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ممالک کی منافقت کو چھپاتی رہی ہے۔ آج بھی اس کا یہی رویہ ہے۔

مسلم امہ کا نعرہ لگانے والی دائیں بازو کی جماعتوں کے نزدیک امہ کی تعریف سے یمن کے حوثی قبائل، شام اور ترکی میں بسنے والے سنّی کرد خارج ہیں جبکہ دیوبندی اور سلفیوں میں نام نہاد جہاد پرستوں کے نزدیک تعریف میں جہاں کرد اور یمنی سنّی خارج ہیں وہیں اس تعریف سے شیعہ مسلمان بھی خارج ہیں۔ بلکہ وہ دیوبندی اور سلفی سنّی بھی خارج ہیں جو تکفیریوں اور نام نہاد جہادیوں کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here