انگریزی لفظ ‘بگ’ (کئی اضافتوں کے ساتھ) خوبصورت نہیں لگتا 

جیسے  بڑی دوائی کی کمپنی، پڑی تیل کی کمپنی، بڑی ٹیک کمپنی ، بڑی ٹوبیکو کمپنی ۔

 یا  اس لفظ کا اضافہ اس کمپنی کے ساتھ لگایا جائےجو پرائیویٹ ٹریڈنگ کارپوریشن  ہو اور اس  کا ہیڈکوارٹر تو لندن میں ہو تجارت اس کی 1600ء میں ہندوستان کے ساحل پر ہو۔  اور وہ اتنی بڑی ہوجائے کہ اس کا انجام  ہندوستان کے بڑے حصّوں پر کنٹرول حاصل کرنے، جنوب ایشیاء کے کئی علاقوں کو نوآبادی بنانے اور چین کے ساتھ ایک جنگ کی صورت میں ہانگ گانگ پر قبضے پر ہو۔ پھر یہ عظیم الشان مغلیہ سلطنت کی پیش رو بن جائے۔

ولیم ڈلرمپل کی نئی کتاب ‘انارکی’ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عروج و زوال کا نقشہ کھینچتی ہے اور اس خیال کی رد تشکیل کرتی ہے کہ ہندوستان کا نوآبادی بن جانا آغاز سے ہی برطانیہ کا کوئی منصوبہ تھا۔ ہندوستان کا نوآبادی بننا ایک پرائیویٹ جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا کارپوریٹ منافع کی انتہاؤں کو چھونے کا عمل تھا جو آخرکار اس کے نوآبادی بن جانے پر انجام پذیر ہوا۔ ولیم ڈلرمپل مجھے وہ بتاتا ہے جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں-

ماہرین تاریخ پر  یا تو مغل دور آسیب کی طرح چھایا ہوا ہے۔ اور پھر آزادی کی جدوجہد ان کے اعصاب پر سوار ہے۔  ان دونوں کے درمیان کا دور، جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں اپنی دکان بنائی اور اپنے کام بنگال کے ماواڑی اور جین ساہوکاروں  کے ساتھ ساتھ بنارس و پٹنہ کے ساہوکاروں کی مدد سے بڑھایا اس پہ ان کی توجہ نہیں جاتی ۔ اس دور  کی کہانی ہندوستانی ساہوکاروں کے اشتراک سے کمپنی کی ترقی کی داستان ہے۔ جگت سیٹھ، اپنے وقت کا امیر ترین ساہوکار بنگال کے سراج الدولہ کا تختہ اکھاڑ پھینکنے کے لیے کمپنی کو ہلہ شیری دیتا ہے اور کلائیو کو اس کام کے لیے اس زمانے میں 20 لاکھ پاؤنڈ دینے کی پیشکش کرتا ہے

کمپنی جانتی تھی کہ وہ مغلوں کو ہندوستانی سپاہیوں اور ہندوستانی پیسے سے ہی شکست دے سکتی ہے۔

کیا یہ ہندؤں ساہوکاروں کی مسلمانوں سے نفرت تھی تھی جس نے مغل حکمرانی کا خاتمہ کرنے کے لیے کمپنی کو پیسہ دینے کا راستا دکھایا؟

ڈلرمپل کہتا ہے

ایسا کہنا درست نہ ہوگا۔ جگت سیٹھ مغلوں سے کہیں زیادہ کمپنی کے کنٹرول میں اپنا پیسہ محفوظ سمجھتا تھا

زیادہ دلچسپ بات یہ جاننا ہے کہ کیسے کارپوریٹ نے ‘سطلنت میں لوٹ مار’ کو فروغ دیا

ڈلرمپل لکھتا ہے

سترھویں صدی کے پہلے سال کے آخری دن یعنی 31 دسمبر 1600ء کو، 238 افراد کے ایک گروپ پر مشتمل ایسٹ انڈیا میں تجارت کرنے والے سوداگروں کی ایک کمپنی اور اس کے گورنر کو رائل چارٹر ملا۔ اس چارٹر نے درخواست گزاروں کی توقع اور امید سے کہیں زیادہ اختیارات دے ڈالے تھے۔  پہلی چھے تجارتی سفری مہم میں سارے کسٹم محصولات کی چھوٹ کے ساتھ ساتھ، اس چارٹر نے ایسٹ انڈیز میں ان کو تجارت پر پندرہ سال کے لیے مکمل اجارہ داری دے ڈالی تھی اور اس میں علاقوں کا تعین بھی مبہم سا تھا۔ اس چھوٹ نے ان کو  کیپ آف گڈ ہوپ اور میگلان کی ساحلی پٹی کے درمیان تجارت اور بحری سفر پر بھی مکمل اختیار دے ڈالا تھا اور ان کو ان علاقوں میں نیم خود مختارانہ حکمرانی اور اپنی فوجیں قائم کرنے کی اجازت بھی دے ڈالی تھی- اس چارٹر میں حدود کے تعین بارے ہدایات اتنی مبہم تھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسروں کی جو آنے والی نسل تھی اس نے اس ابہام کو ایشیاء میں ساری برٹش کے زیر تصرف محکوم رعایا، رقم چھاپنے، قلعوں کی تعمیر، قوانین سازی،جنگ کرنے، ایک آزاد خارجہ پالیسی چلانے، عدالتیں لگانے، سزائیں دینے، انگریزیوں کی محکوم رعایا کو قید کرنے اور فرنگیوں کی آبادیاں قائم کرنے کا اختیار رکھنے کا دعوی کرنا آسان بنادیا

‘انارکی’ کا مصنف دعوی کرتا ہے کہ ہندوستان سے انگریزی زبان میں جو پہلا لفظ شامل ہوا وہ’لوٹ’ تھا۔

آج کے مورخ شاید کمپنی پر کم فوکس کرتے ہیں۔(اگرچہ ڈلرمپل ہندوستانی مورخوں کے آگے سرجھکاتا ہے کیونکہ انھوں نے تاریخ کے اس دور پر کافی قابل قدر کام کیا ہے) لیکن اس زمانے کا انگلیڈ ابھی اس کے بڑھتے ہوئے خطرے سے واقف تھا۔

اگر آپ پڑھیں کہ اس زمانے کے برطانوی پریس میں کیا چل رہا تھا، تو آپ کو لگے گا جیسے آپ (آج کا معروف برطانوی اخبار) گارڈین پڑھ رہے ہیں۔ اس زمانے میں ہونے والی تنقید کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ برطانیہ لوٹ کر آنے والے نوابوں کی ہندوستان میں قسمت کی یاوری کے سبب بے پناہ دولت سمیٹنے کو قطعی پسند نہیں کرتے تھے اور ان دنوں برطانوی پارلیمنٹ میں اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ تاجروں کا ایک ٹولہ  اتنے بڑے علاقے کا کنٹرول کیسے سنبھال سکتا تھا۔

آخرکار کمپنی پارلیمنٹ کا اعتماد بالکل کھو بیٹھی اور 1858ء میں ریاست برطانیہ نے ہندوستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

‘ کارپوریٹ ہوس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو مار دیا۔ انسانوں کے ڈی این اے میں منافع کمانے، اسے حرز جاں بنانے اور پھر جین میں منتقل کرنے کے جرثومے موجود رہتے ہیں۔ کارپوریشن کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی معاملہ ہے؛ یہ منافع کی ہوس زیادہ سے زیادہ کرتی جاتی ہیں اور یہاں تک کہ ریاست سے ٹاراجاتی ہیں۔ جیسے کانگریس کی قیادت میں بنے حکمران اتحاد یو پی اے کے دور میں 2جی اور کول فراڈ کے ساتھ ہوا۔

ان معنی میں، انارکی صرف تاریخ کی ایک کتاب ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو اس نقصان کی یاد دہانی بھی ہے جو کارپوریٹ طاقت کا نشہ کرڈالتا ہے۔ یہ بہت ضخیم کتاب ہے، لیکن تیزی سے پڑھی جانے والی ہے۔ یہ ایسی شئے ہے جسے پاکستانی وزیراعظم جہاز میں سفر کے دوران پڑھ سکتے ہیں۔ ٹوئٹر سے عمران خان کا شغف جاری تھا، جبکہ وہ واقعی نہ تو اپنے جغرافیہ سے اور نہ ہی اپنی تاریخ سے زیادہ واقف ہیں – بلکہ وہ تو اس مسئلے پر اپنی سیاست سے بھی واقف نہیں ہیں لیکن وہ جہاز میں جدہ جاتے ہوئے ‘انارکی’ کو پڑھ رہے تھے۔ اس پر ڈلرمپل نے ٹوئٹ کیا تھا

‘ شلوار قمیص پہنے ایک شخص ‘انارکی’ پڑھ رہا ہے’

 

میں ‘جنوں کا شہر’ جیسی کتاب کے لکھاری سے یہ پوچھنا تو بھول گیا کہ اس نے خان کی بیوی ‘پیرنی’ شیشے میں دکھائی نہ دینے کی خبر بارے کیا کیا تھا۔ اگلی مرتبہ شاید پوچھ لوں۔

دیپ ہیڈلر انڈیا ٹوڈے کے سٹاف رپورٹر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here