گزشتہ 48 گھنٹوں میں 11 ہزار فوجیوں اور کاربینرو پولیس نے پورے چلی میں تشدد کا بازار گرم کررکھا ہے۔ مظاہرین پر سیدھا فائر کھولا گیا اور مظاہرین کو رائے گئے ان کے گھروں سے گھسیٹ کر نکالا گیا اور جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ریاستی دہشت گردی نے 1973ء میں جنرل پنوشے کے فوجی شب خون کی یاد تازہ کردی ہے۔

اب تک کی موصول اطلاعات کے مطابق 11 لوگ ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ زیادہ مرنے والوں اور زخمی ہونے والوں کا تعلق چلی کے دارالحکومت سنتیاگو سے ہے۔ چلّی کے صدر سیبسٹین پنرا نے 21 ہزار لوگوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر کا کہنا ہے کہ ان کو وکلاء تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ فوج اور پولیس کے اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ طالبات کے ایگ گروپ نے ‘سوشلسٹ ورلڈ’ کے نمائندے کو بتایا کہ فوجیوں نے انھیں کپڑے اتارنے پر مجبور کیا اور ان پر تیز ٹھنڈے پانی کی بوچھاڑ کی اور ان سے کہا کہ وہ چلا کر کہیں،’ہم کمیونسٹوں سے نفرت کرتے ہیں’

 

کریک ڈاؤں کا حکم ریاست چلی کے صدر کی جانب سے دیا گیا۔ اتوار کی رات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر چلی کی آواز میں آمر پنوشے کی باز گشت سنائی دی- اس نے کہا،’ہم ایاک طاقتور دشمن سے حالت جنگ میں ہیں جس نے تشدد و دہشت کے بے انتہا استعمال کی تیاری کر رکھی ہے۔’

گزشتہ کل احتجاجی تحریک محنت کشوں کے وسیع حلقوں تک پھیل گئی،جنھوں نے فوجیوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں طلباء پر اندھادھند فائرنگ کی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد احتجاج شروع کردیا۔ ہزاروں لوگ چلی کے دارالحکومت سنتیاگو کے معروف اسکوائر پلازہ اطالیہ میں گزشتہ کل بعد از دوپہر اکٹھے ہوئے اور انہوں نے نعرے لگائے

‘فوج کے سپاہیو! دفع ہوجاؤ’

چلی کے دارالحکومت سنتیاگو اور دوسرے شہروں میں اتوار کے روز اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے،جب حکومت نے میٹرو بس اور ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے پورے چلی میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا اور کئی شہروں میں رات کے وق کرفیو نافذ کردیا۔ جبکہ کچھ علاقوں میں شام چھے بجے ہی کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرڈالا۔

پورے ملک میں عام ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور اس ہڑتال میں کئی شہروں سے بندرگاہوں پر کام کرنے والے مزدور بھی شامل ہوگئے۔ 20 بندرگاہیں ہڑتال کے باعث مکمل طور پر بند ہیں۔ جہازیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

بدھ کے روز تانبے کی صعنت سے وابستہ مزدور یونینوں نے بھی احتجاج اور ہڑتال میں شریک ہونے کا اعلان کردیا ۔ تانبے کی صنعت کے مزدور چلی کے محنت کش طبقے کا سب سے زیادہ انقلابی طور پر متحرک حصّہ ہیں اور تانبے کی صعنت ملک کی برآمدات کا سب سے بڑا حصّہ پیدا کرتی ہے۔

چلی میں عوام کی اکثریت موجودہ حکومت پر عدم اعتماد ظاہر کرچکی ہے۔ چلی کی کمیونسٹ پارٹی سمیت اکثر اپوزیشن جماعتیں صدر چلی سے مستعفی ہوکر نئے الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کررہی ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here