میں کہانیاں لکھنے کی مشق کرنے والا،ایک زیر تعمیر فکشن رائٹر ہوں۔ اور میں حقیقت اور فنتاسی کے درمیان کبھی توازن برقرار رکھ نہیں پاتا۔ میں ہمیشہ کہانی لکھنے لگوں تو حقیقت کا بیانیہ اپنانے کا جرم وار ٹھہر جاتا ہوں اور کہانی ہمیشہ درمیان میں کہیں معلق رہ جاتی ہے۔ اور تو اور کبھی مجھے طلسمی حقیقت نگاری کرنی ہو تو بھی حقائق کی سنگلاخ چٹانیں میرے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں اور میں فنتاسی کے تیشے سے ان کو تراش کر ‘کہانی’ کے نیے راستا بنانے میں ناکام ہوجاتا ہوں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ اب سے ایک ہفتے پہلے مجھے ایک مقامی رپورٹر سے ملنے کا موقعہ ملا جو یہاں لاہور سے 20 کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ مجھے ملنے لاہور آیا۔ اسے یہاں ایک صوبائی محکمے کے سیکرٹری سے کام تھا۔ رات میرے ہاں ٹھہرا۔  اور انگور کی بیٹی کے نشے کے اثر میں وہ مجھے ایسی بتاتیں بتا گیا جس کو کہانی کا روپ دینے کے لیے میں نے کئی پلاٹ سوچے اور پھر ان کو ترک کردیا اور سوچا صیغہ واحد متکلم میں اسے بیان کردیتا ہوں۔

میں وسطی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہوں۔ ایک ٹی وی چینل کا رپورٹر جس کا بڑا نام ہے مگر وہاں سے مجھے تنخواہ نہیں ملتی ۔ اس ٹی وی چینل کے انچارج نمائندگان کو میں نے 25 ہزار روپے کی رشوت دی تو اس نے مجھے اس ٹی وی چینل کا رپورٹر بنا ڈالا۔ مجھے جو اتھارٹی لیٹر جاری کیا اس پر مجھے ‘اعزازی رپورٹر’ لکھا گیا ہے۔ ایک لوگو وہاں سے مجھے ملا ہے۔ بس یہی دو چیزیں مجھے اس ٹی وی چینل کی انتظامیہ سے ملی ہیں۔

میں نے بھی ایک کیمرہ مین ہائر کررکھا ہے۔ جسے میں کوئی تنخواہ نہیں دیتا۔ پھر میرا اور اس کیمرہ مین کا گزارہ کیسے ہوتا ہے؟ اس چھوٹے سے شہر میں سڑکوں پر ڈیوٹی دیتے ہوئے ٹریفک سارجنٹ موٹر سائیکل سواروں، خشت بھٹوں سے اینٹیں لاد کر لانے والی ٹرالیوں،ریت بھرکر لانے والے ریڑھوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے افسران کے دیے گئے ہدف کو پورا کرتے ہیں۔ میں اور میرا کیمرا مین ان پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے شکار پر جھپٹنے کے منظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ کبھی کبھار سب کو کان ہوں تو کسی ایک ایسے منظر کو ٹی وی چینل پر آن ائر بھی کروادیتے ہیں بس نیوز ڈیسک انچارج کو اس کا حصّہ پہنچانا پڑتا ہے۔ صرف ایسی ایک مشق مجھے اور میرے کیمرہ مین کو چھوٹے موٹے خرچوں سے بے پرواہ کرڈالتی ہے۔ اس چھوٹے سے شہر میں جو ضلعی ہیڈکوارٹر بھی ہے صوبائی محکمہ جات سے بھی باقاعدہ منتھلی آتی ہے اور بدلے میں وہاں چل رہے معاملات پر کیمرے گی آنکھ کو شٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہوٹل،غیر قانونی طور پر قائم تیل کی ایجنسیاں،بلدیہ کی کئی ایک برانچ،بغیر نقشے کے بنی ہوئی عمارتیں الغرض کہ کوئی بھی غیرقانونی دھندا جو کسی بھی محکمے کے اہلکاروں کی رشوت ستانی کے سبب چل رہا ہو اور میری یا میرے کیمرہ مین کی نظر میں آجائے تو اس میں سے ہمارے رز‍ق کا سامان نکل آتا ہے۔

میں نے دسویں تک تعلیم حاصل کی ہے۔ جب میں آٹھویں کلاس میں تھا تو مجھے شعر و شاعری کا شوق چرایا۔ میرے محلے میں ایک معروف شاعر رہا کرتے تھے تو میں اصلاح لینے ان کے پاس چلا گیا۔ وہ کہچریوں میں عرضی نویس تھے۔ میں نے اپنے اسکول میں ایک مشاعرہ رکھا تو ان کو مہمان خصوصی بنایا۔ انھوں نے صرف میرے اشعار کی اصلاح نہیں کی بلکہ مجھ میں ‘نوابی ذوق’ بھی پیدا کیا۔ اور اس ‘نوابی ذوق’ کے سہارے میں اپنےشہر کی بابوشاہی،تاجر اور پروفیشنل کمیونٹیز کے ‘صاحبان ذوق’ کی انجمن تک جا پہنچا۔ اسی انجمن کی ایک محفل میں مجھے ایک بہت پڑھے لکھے شخص سے شناسائی کا موقعہ ملا اور اس کے کاندھوں پر سوار ہوکر میں اپنے شہر سے 20 کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت میں بیٹھی ٹاپ کی بیوروکریسی کے ‘نوابی شوق’ رکھنے والوں کے اندر کے سرکل تک جاپہنچا۔ وہیں پر ایک صحافی مجھے ملا اور اس نے مجھے کہا کہ میں اپنے شہر سے ایک ہفت روزہ شروع کروں اور صحافی بن جاؤں۔ میں نے اس طرح سے صحافت کا آغاز کیا اور پھر ایک قومی روزنامے کا رپورٹر بنا اور پھر ٹی وی رپورٹر بن گیا۔ اس دوران ایک مہربان کمشنر نے مجھے پانچ مرلے کا ایک پلاٹ دے دیا،جس کی تعمیر گورنمنٹ کنٹریکٹرز نے مجھے کرکے دی اور میں اپنے باپ اور بھائیوں کے مشرکہ تین مرلے کے مکان سے اٹھ کر اس پانچ مرلے کے مکان میں منتقل ہوگیا۔

اس چھوٹے سے شہر میں ایک باخبر رپورٹر ہونے کا مطلب ‘خوشحال’ ہونا ہے اور اس کے سامنے کسی ڈیسک پر بیٹھے رپورٹر کی ماہانہ تنخواہ اونٹ کے منہ میں زیرہ لگتی ہے۔ اس لیے میرے شہر میں مجھ سمیت اکثر اعزازی رپورٹرز اس شہر کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا حصّہ بن گئے ہیں۔

 اس شہر میں کاروباری طبقے ہوں یا ملازم پیشہ طاقتور عہدوں پر فائز افراد یا ٹھیکے داروں کا ایک بڑا حلقہ سب کے سب کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی سطح پر قانون اور ضابطوں کو دھوکا دینے میں ملوث ہیں اور ان کے ٹاٹھ باٹھ کے پس پردہ کہیں نہ کہیں کوئی بے ضابطگی ضرور ہے۔ اس میں بڑے بڑے مدارس اور مساجد، چرچ کے مولوی اور پادری بھی شامل ہیں اور ان سب کی بے ضابطگیوں کی بھنک سے رپورٹرز کا گھر چلتا ہے۔ بلکہ اب تو اچھے بھلے مستحکم کاروباری لوگ بھی میرے شہر سے ‘اعزازی رپورٹرز’ کی صف میں شامل ہورہے ہیں۔ اور میرے چھوٹے سے شہر میں بھی ٹریڈر چیمبرز ہو یا پھر ڈاکٹرز،وکلاء کی ٹریڈز باڈیز ہوں یہ سب کی سب عملی طور پر ایک بڑے پریشر گروپ میں بدل چکی ہیں اور ان سب کے ہم اعزازی رپورٹرز مجبوری۔ شہر کے یہ معززین ‘زرد صحافت’ پر نجی محفلوں میں بیٹھ کر خوب تبرا کرتے ہیں لیکن اپنی بے ضابطگیوں کا بھانڈا پھوٹ جانے کے خوف سے ہم جیسے رپورٹرز کو اپنے ‘ ہذا من فضل ربی’ سے باقاعدگی سے حصّہ بھی پہنچاتے ہیں۔

اس چھوٹے سے شہر میں جسم فروشی، جواء اور منشیات کا نظام ہموار طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ چھوٹے موٹے دلالوں کے اڈوں پر کبھی کبھار چھاپے ڈالے جاتے ہیں۔ منشیات فروشوں میں سے چھوٹی مچھلیوں کو وقفے وقفے سے اندر کردیا جاتا ہے۔چھوٹے موٹے جواء ڈیلر کبھی کبھار اندر ہوجاتے ہیں لیکن ان دھندوں کے بڑے کھلاڑی کبھی ہاتھ نہیں آتے اور وہ بھی شہر کے ‘معززین’ کی صف میں شامل ہیں۔ بلکہ ان میں سے کئی ایک نے تو اپنے خرچے پر گھر میں ہی وکیل،پولیس افسر،رپورٹر،ڈاکٹر، تاجر پیدا کرلیے ہیں اور یہ ‘سول سوسائٹی’ کے نام پر ان کے دھندوں کا تحفظ کرتے ہیں۔

ایک باخبر رپورٹر کے طور پر میں یہ سب کچھ دیکھتا بھی ہوں اور جب کوئی ‘معزز’ کپڑوں سے باہر ہونے کی کوشش کرے اسے اس کی اصل شکل دکھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

اس شہر کی سول سوسائٹی اور بیوروکریسی پر مجھ جیسے رپورٹر کی دھاک اس لیے بھی زیادہ بیٹھی ہوئی ہے کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں زمانہ طالب علمی سے ‘ففتھ کالمسٹوں’ کے خلاف اپنے ملک کی سب سے بہادر اور نمبرون ایجنسی کے لیے ‘مخبری’ کا فریضہ بھی سرانجام دے رہا ہوں۔ اس چھوٹےسے شہر میں ضیاء آمریت کے دور میں ایم آر ڈی کے ورکرز کی جاسوسی کرنے کے انعام میں مجھے محب وطن نمبرون ادارے نے ہمیشہ تحفظ فراہم کیا ہے۔ لیکن یہاں تو اب ہر دوسرا،تیسرا رپورٹر، سماجی ورکر اور سیاسی کارندہ خود کو کسی نہ کسی ادارے سے منسوب کرتا اور دوسروں پر رعب ڈالتا نظر آتا ہے۔ آج کل میں ‘ففتھ جنریشن وار’ کا حصّہ بنا ہوا ہوں۔مجھے روز ٹوئٹر پر سو پچاس ٹوئٹ کرنا ہوتے ہیں،فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا ہوتے ہیں اور جہاں جہاں جاؤں مجھے ملک دشمن صحافیوں،سیاست دانوں،ادیبوں،دانشوروں، شاعروں،سماجی ورکروں کی نشاندہی اور ان کی سازشوں کا پردہ چاک کرنا ہوتا ہے۔

 شہر میں اگر میں ‘ففتھ جنریشن وار’ کا حصّہ ہوں تو یہاں ایسے چند ایک رپورٹرز بھی ہیں جو خود کو لبرل کہتے ہیں اور میرے ملک کی نام نہاد سول سوسائٹی اور میڈیا کے بڑے ناموں کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ورکشاپس،ٹریننگ سیشنز اور ریفرشر کورسز کے نام پر وہ ملک بھر میں گھومتے پھرتے اور کئی ایک تو بیرون ملک کے دورے کرچکے ہیں۔ ہیں وہ بھی ‘اعزازی’ لیکن پھر بھی ہر مہینے ان کو ‘لبرل ازم’ سے وابستگی کا نعرہ مالی فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ اور یہ اپنے آپ کو روشن خیال،ترقی پسند اور جمہوریت پسند قرار دیتے ہیں۔

شہر میں کچھ رپورٹر ایسے ہیں جو ‘محب وطن رپورٹرز’ اور ‘لبرل رپورٹرز’ دونوں پر ہمہ وقت لعن طعن کرتے رہتے ہیں۔ یہ اصل میں سوویت یونین کے سابقہ ایجنٹ ہیں جو سوویت یونین کے تباہ ہوجانے کے باوجود بھی ‘انقلاب’ کے خواب دیکھتے ہیں۔ان کی سیاسی جدوجہد کا تو انت ہوچکا لیکن یہ اپنے آپ کو صحافی کے روپ میں کرانتی کاری بنائے بیھٹے ہیں۔ان میں سے کئی ایک تو میری رپورٹوں پر ضیا دور میں چیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلےگئے۔ ان کے کئی ایک ساتھی تو وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ گئے اور ‘لبرل’ ہوگئے۔ اب ان کی وفاداریاں نئے نئے اینٹی اسٹبلشمنٹ ہوئے نواز شریف کے ساتھ استوار ہیں۔ وہ بھوک اور ننگ سے بچ گئے ہیں۔ این جی اوز کے زریعے سے حاصل پیسے نے بھی ان کو تباہ ہونے سے بچایا ہے۔ لیکن یہ’انقلابی رپورٹر’ جن کو اپنے علم اور خبر دونوں پر بہت ناز ہے نہ ‘وطن پرست رپورٹرز’ کے کیمپ میں آتے ہیں اور نہ ہی ‘لبرل رپورٹرز’ کے کیمپ میں جاتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار،جاگیردار مقامی سیاست دانوں اور ان کے حواریوں کے لتّے بھی لیتے ہیں اور ساتھ ساتھ ضلع کی بابوشاہی اور تاجر و ٹھیکے دار اور پروفیشنل کلاس کے مافیاز کو بھی نہیں بخشتے۔ ان رپورٹرز کا سارا گھر کام کرتا ہے تو ان کے گھر چلتے ہیں اور تو اور یہ جن اداروں میں کام کرتے ہیں،ان اداروں کے مالکان کو بھی نہیں بخشتے اور ان کے خلاف میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے’انقلابی رپورٹرز’ کے لیے ہم سب نے ‘خبطی، ہلے ہوئے’ لکھاریوں کا خطاب چنا ہوا ہے۔ ایک بات ہے کمبخت اس دور میں سفاکی کی حد تک سچ بولتے اور ایمانداری کا علم اٹھائے رکھتے ہیں۔ ان جیسے کئی ایک مرے تو کفن دفن کا انتظام بھی دوستوں کو کرنا پڑا اور ان کے گھروالوں کی امداد آج تک کی جاتی ہے۔ مگر یہ ایک ایسی نسل کے جانور ہیں جو اپنی روش بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔

سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ایک طرف تو ہمارے جہاد اور رد ارتداد کرنے والے مجاہدین اسلام کے خلاف میدان میں اترے ہوتے ہیں اور شہر میں جو بچی کچھی اقلیتیں ہیں ان کی سپر بنتے ہیں ساتھ ساتھ یہ ‘لبرل کیمپ’ کو بھی بدمعاش،منافق اور سرمایہ داروں کے سب سے بڑے محافظ قرار دیتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا ان کو کس کیمپ میں رکھا جائے۔ یہ نہ سعودی عرب کے ساتھ ہیں،نہ ایران کے ساتھ ہیں نہ امریکہ کے ساتھ ہیں۔ میرے مربی ادارے کے افسران کہتے ہیں کہ یہ پاگل،سنکی لوگ ہیں ان کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔ وہ بھی ان کو سبق سکھا سکھا کر تنگ آچکے ہیں۔ ویسے ایک بات ہے کہ جس انداز سے یہ ‘لبرل کیمپ’ کے جغادریوں کو گراتے ہیں ہمارے’محب وطن رپورٹر کیمپ’ کے لوگوں کے وہ بس کی بات نہیں ہے کیونکہ وہ استدلال تو ہمارے کیمپ کی جڑیں بھی اکھاڑ سکتا ہے۔ اس لیے ان کو مین سٹریم ہونے سے روکنے پر ہمارا اپنے مخالف ‘لبرل کیمپ’ سے بھی مکمل اتفاق ہے۔

۔۔۔۔۔۔

پس نوشت

یہ سب بیان کرکے وہ مقامی وطن پرست رپورٹربیٹھے بیٹھے سوگیا اور میں جو اس دوران سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جارہا تھا (جسے دختر انگور سے دور ہوئے عرصہ بیت گیا تھا) سوچنے لگا کہ میرے شمار رپورٹروں کی کون سی قسم میں ہوتا ہے۔

   

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here