پاکستان میں ایک بات تو اچھے سے طے ہے کہ حکمران طبقات کی باہمی لڑائی میں کوئی اصول نہ تو مستقل ہے اور نہ ہی ابدی ہے سوائے ایک اصول کہ کیسے اپنے حریف کو گرانا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو اسے 17 جون سن2014 میں ماڈل ٹاؤن میں پنجاب پولیس کا پاکستان عوامی تحریک کے چودہ افراد کو قتل کرنا اور 250 سے زائد افراد کو زخمی کرنا بربریت،لاقانونیت اور فسطائیت نظر آتا تھا۔ اور یہی موقف اس کی اتحادی جماعتوں کا بھی تھا۔ اس موقف کے ساتھ انصافیوں کا حامی سوشل اور مین سٹریم میڈیا کھڑا تھا۔ آج جب یہ حکومت میں ہے تو اسے سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے اور ملزمان کے بری ہوجانے پر کوئی لاقانونیت اور بربریت کا احساس نہیں ہے۔

سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن میں بیٹھی مسلم لیگ نواز اور اس کا انتہائی طاقتور حامی مین سٹریم اور سوشل میڈیا کا حامی سرکل اول دن سے حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت پر شدید تنقید کررہے ہیں اور اس سانحہ پر ان کے ہر ایک حامی نے سوشل میڈیا پر درجنوں ٹوئٹ اور درجنوں فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کیے ہیں۔ خاص طور پر مسلم لیگ نواز کے حامی لبرل سیکشن نے اس سانحہ پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تند و تیز مہم کا آغاز کیا ہے۔ لیکن جب مسلم لیگ نواز اقتدار میں تھی تو اس زمانے میں نواز شریف کا حامی لبرل سیکشن اور ساتھ ساتھ ان کا حامی دائیں بازو کا مولوی سیکشن سوشل میڈیا پر خاموش تھا بلکہ وہ سارے کا سارا اس واقعے کا کہیں نہ کہیں جواز تلاش کرنے میں لگا ہوا تھا۔

میں نے سانحہ ماڈل کے واقعے کے وقت سے لیکر مسلم لیگ نواز کے دور حکومت پورا ہونے تک مسلم لیگ نواز کے نمایاں حامی لبرل سیکشن بشمول انسانی حقوق کے اشراف رضاکاروں کے ٹوئٹ ہینڈل اور فیس بک اکاؤنٹس اور ساتھ ساتھ ان کی صحافتی اور سماجی سرگرمیوں کے ریکارڈز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بارہا اپنے پڑھنے والوں کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کیسے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر یہ سب لوگ کس طرح سے ٹھنڈے نظر آتے ہیں اور ان کا یہ رویہ ان کی پیروی کرنے والوں کے اندر اس واقعے کی بنیاد پر حکمران جماعت نواز لیگ کو واک اوور دینے کی روش پیدا کررہا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے عاصمہ جہانگیر کے ٹوئٹ ہینڈل کی سترہ جون سے لیکر ان کی وفات تک آخری ٹوئٹ تک کی ٹائم لائن اور اس دوران ان کے پریس میں آنے والے بیانات کی روشنی میں بھی یہ بتایا تھا کہ کیسے انھوں نے اس واقعے پر اظہار افسوس تک نہ کیا اور لاہور ہوتے ہوئے بھی وہ مقتول عورتوں تک کے گھر نہ جاسکیں۔

پاکستان میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف،شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو مہم چلی ان میں ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بہت سرگرم نظر آئے جن کے بارے میں یہ گمان ہے کہ ان کو پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ یہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سانحہ ساہیوال پر ‘سرد’ نظر آئے۔

پاکستانی جیلوں میں بند سیاست دانوں کی بیماری کے باوجود ان کو درکار صحت کی سہولتوں کے سوال پر بھی ہمارے سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے اوپر خود کو انسانی ہمدردی کا مدار دکھانے والے ایک لبرل سیکشن کے امتیازی رویے صاف نظر آئے۔

اگست 2019ء سے پاکستان پیپلزپارٹی یہ بتارہی تھی کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو مختلف قسم کی نو بیماریوں میں درکار جس نگہداشت کی ضرورت ہے،وہ ان کو نہ تو نیب کے لاک اپ میں فراہم کی گئی اور نہ ہی وہ ان کو اڈیالہ جیل میں فراہم کی گئی۔ حالانکہ نیب کورٹ نے جیل حکام کو واضح ہدایات دیں تھیں کہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔ لیکن میں نے پاکستان کے بڑے بڑے نامور صحافیوں کے ٹوئٹ ہینڈل دیکھے جو پاکستان کے ایسے بڑے میڈیا گروپوں سے وابستہ ہیں جو اپنے آپ کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مدار المہام بتلاتے ہیں۔ ان کے ہاں آصف علی زرداری کی صحت کے ایشو کے حوالے سے سوائے ضمنی حوالوں کے اور کچھ نظر نہیں آیا لیکن نواز شریف ہو یا مسلم لیگ نواز کا جیل یا نیب لاک اپ میں بند کوئی اور رہنماء ان کی بیماری اور اس حوالے سے حکومتی غفلت پر وہ بہت باقاعدگی سے حکومت کو لتاڑتے اور لیگی رہنماؤں کی کمپئن کو پروجیکٹ کرتے نظر آئے۔

جب پاکستان پیپلزپارٹی کے مٹھی بھر سوشل میڈیا ایکسٹوسٹ اور چند ایک سیکولر نیوز ویب سائٹس اور بلاگرز نے اس لبرل سیکشن کے اس امتیازی رویے کی نشاندہی کی تو اس سیکشن نے مظلومانہ کارڈ کھیلنے کی کوشش کی اور اس جائز تنقید کرنے والوں پر الزام دھر دیا کہ وہ نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک پاکستانی فلم ساز نے اپنے ٹوئٹس میں انکشاف کیا کہ نو سال پہلے اسے اس کے ایک دوست نے جو ایک بڑی میڈیا شخصیت ہے اور ایک کتاب کی رونمائی میں بھی بڑا سرگرم ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس پر ٹوئٹر اور فیس بک پر ایک بڑے حلقے نے یہ کہا کہ وہ شخص دیے گئے اشاروں کی بنیاد پر ڈان میڈیا گروپ کا سی ای او حمید حارون ہوسکتا ہے۔جب حمید ہارون کا نام سامنے آنے لگا تو ڈان میڈیا گروپ نے اپنی آفیشل ویب سائٹس سے اس بارے میں موجود خبر کو ہٹادیا۔اس دوران کارٹونسٹ فیکا کو پسند کرنے والے لوگوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ایسے گمنام اور مبہم الزامات پر ڈان میڈیا گروپ نے فیکا کو ہٹادیا تھا تو اب سی ای او حمید ہارون کو بھی مستعفی ہوجانا چاہئیے۔ ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں پر لبرل سیکشن میں سے کچھ لوگوں نے یہ الزام لگانا شروع کردیا کہ اس طرح کے مطالبات کے پیچھے اسٹبلشمنٹ ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے حامی لبرل سیکشن کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے باب میں امتیازی پوزیشن اور رویوں کا مظاہرہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں اور مولانا فضل الرحمان کے دھرنے بارے موقف اور پوزیشن میں گہرا تضاد اور دوہرا معیار اپنانے کے زریعے بھی ہوا ہے۔

پاکستانی لبرل مذہبی سیاست کو ویسے تو رجعت پرستانہ قرار دیتے نہیں تھکتے لیکن جب بھی وہ اس نعرے کے تحت کسی مذہبی جماعت اور شخصیت کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو وہ کبھی بھی نواز شریف کیمپ میں کھڑی کوئی مذہبی جماعت یا شخصیت نہیں ہوتی۔

نوازشریف کے حامی لبرل سیکشن میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو 2008ء سے 2012ء تک عدلیہ ،فوج اور نیب کی وفاق اور صوبائی حکومتوں  (جہاں نواز شریف کی پارٹی برسراقتدار نہ تھی) کے کاموں میں مداخلت کو قانون کی حکمرانی، بیڈ گورننس کے خاتمے اور یہاں تک کہ ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے رہے۔ ان میں سیرل المیڈا، طلعت حسین، مطیع اللہ جان، احمد نورانی سمیت کئی  اینٹی اسٹبلشمنٹ آئیکونز شامل ہیں۔ سیرل المیڈا نے تو ایک آرٹیکل میں کیانی کو حکومت کا تختہ الٹانے تک کا مشورہ دے ڈالا تھا۔ لیکن یہی لوگ 2013ء سے 2018ء میں نواز شریف حکومت کے خلاف عدلیہ، نیب، ایف آئی اے کے ایکٹوازم کو جمہوریت، وفاق اور ملکی سالمیت کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی سازش قرار دیتے پائے گئے۔

نواز شریف کا حامی میڈیا سیکشن 2008ء سے 2012ء تک پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف میڈیا ٹرائل کرتا رہا اور پھر 2013ء سے 2018ء تک یہ پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں بیڈ گورننس کے نام پر میڈیا ٹرائل میں مصروف رہا لیکن نواز شریف کے باب میں تحریک انصاف کے حامی میڈیا کے بیڈ گورننس کے نام پر میڈیا ایکٹو ازم کو اس نے اسٹبلشمنٹ کی سازش قرار دے ڈالا۔ جبکہ سندھ حکومت کے خلاف میڈیا ایکٹو ازم میں یہ دونوں کیمپ شیر وشکر نظر آئے۔

پاکستان میں نواز شریف کے حامی لبرل سیکشن کی اکثریت کا یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ جب ان انسانی حقوق، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی کے باب میں امتیازی رویوں اور امتیازی سیاسی و سماجی پوزیشن اور موقف کی نشاندہی کی جائے اور ان سے سوالات کیے جائیں تو وہ فوری طور پر نشان دہی کرنے والے پر اسٹبلشمنٹ کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کر ڈالتے ہیں۔

حکمران طبقات کی حمایت اور مخالفت میں تقسیم مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے کئی طاقتور سیکشن جمہوریت، انسانی حقوق، انصاف کی بالادستی اور معاشرے کمزور،کچلے ہوئے مظلوم و محکوم نسلی و مذہبی گروہوں کے حقوق جیسے مسائل کو ایک یا دوسرے حاکم طبقے کے مفادات کی عینک کے زریعے سے دیکھتے ہیں اور آج ضرورت جمہوری اقدار پر اس طرح کے امتیازی رویوں کو بے نقاب کرنے کی ہے تاکہ صحافت میں عوامی حقوق کے تحفظ کی روایت کو جاری و ساری رکھا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here